مبصرین کے مطابق *آپریشن ہیروف ٹو* بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کی جانب ایک اہم اور فیصلہ کن پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف کالعدم تنظیم بی ایل اے کی عملی کمزوریوں کو آشکار کیا بلکہ اس کے پسِ پردہ کارفرما بیرونی عناصر کے عزائم کو بھی بے نقاب کر دیا۔ واضح رہے کہ یہ آپریشن انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر، ہدفی اور بروقت انداز میں کیا گیاجس کا بنیادی مقصد دہشتگردوں کے نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور رابطہ نظام کو مؤثر طریقے سے توڑ کر ریاستی رٹ کو مضبوط بنانا تھا۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ **امریکہ پہلے ہی بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشتگرد تنظیمیں قرار دے چکا ہے جبکہ سعودی عرب، ترکی، قطر، برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک نے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین اور خاران سمیت 12سے زائد مقامات میں منظم حملے کیے، جن کا واضح مقصد شہری آبادی کو نشانہ بنا کر صوبے میں خوف، عدم استحکام اور انتشار پھیلانا تھا۔ تاہم سیکیورٹی فورسز کی فوری اور بھرپور جوابی کارروائی نے ان مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔ دو روزہ کارروائی کے دوران 133 دہشتگرد مارے گئے جن میں تین خودکش خواتین بمباربھی شامل تھیں ۔ ان حملوں میں اگرچہ 15 جوان اور 18 شہری شہید ہوئے ، جن میں گوادر اور خاران میں خواتین، بچے اور مزدور بھی شامل تھے، لیکن مجموعی طور پر ریاستی اداروں نے دشمن کے منصوبے خاک میں ملا دیے۔ جان کاروں کے مطابق اب یہ بات کسی ابہام کی محتاج نہیں رہی کہ بلوچستان میں سرگرم بی ایل اے ایک ایسی لاحاصل، بے سمت اور شکست خوردہ جدوجہد میں الجھ چکی ہے جس کا نہ کوئی واضح نظریاتی جواز باقی رہا ہے اور نہ ہی عوامی حمایت۔ آپریشن ہیروف ٹو نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ دہشتگردی کے ذریعے نہ تو ریاست کو کمزور کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی بلوچستان کے باشعور عوام کو طویل عرصے تک گمراہ رکھا جا سکتا ہے۔سیکیورٹی اور سلامتی کے ماہرین کے بقول بی ایل اے کے موجودہ عناصر اب کسی سیاسی یا نام نہاد آزادی کی تحریک کے تحت سرگرم نہیں رہے، بلکہ وہ محض اپنے بیرونی ہینڈلرز کی ایما پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ یہ عناصر خود بھی ایک گہری غلط فہمی کا شکار ہیں اور بلوچستان کے سادہ لوح عوام کو دانستہ یا نادانستہ طور پر گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی نام نہاد”جدوجہد”اب غیر ملکی ایجنڈوں، بالخصوص افغانستان، فتنہ لہدوستان، اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے مفادات کی تکمیل کا ایک ناکام ہتھیار بن چکی ہے، جس کا بلوچستان کے حقیقی مسائل، ترقی اور عوامی مفادات سے کوئی تعلق نہیں رہا۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ ہیروف ٹو کے نتائج اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دہشتگرد عناصر نہ صرف بروقت نشاندہی کے بعد ہدف بنائے جا رہے ہیں بلکہ ان کے سہولت کار نیٹ ورکس، محفوظ ٹھکانے اور رابطہ چینلز بھی تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔غیر جانبدار تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہ سوال بھی اہم ہوتا جا رہا ہے کہ بی ایل اے اور اس کی ذیلی تنظیم مجید بریگیڈ کے سرپرست اور ہینڈلرز آخر کب تک ان ناکام، غیر مؤثر اور مسلسل نقصان اٹھانے والے مہر وں پر سرمایہ کاری جاری رکھیں گے؟ زمینی حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شاید مسلسل ناکامیوں، بھاری جانی نقصان اور کسی بھی اسٹریٹجک کامیابی کے فقدان کے بعد اب ان عناصر پر ان کے ہینڈلرز کا اعتماد بھی تیزی سے متزلزل ہو رہا ہے۔ یہ تنظیم اب کسی بھی سطح پر قابلِ استعمال اثاثہ نہیں رہی بلکہ اپنے بیرونی آقاؤں کیلئے بوجھ بنتی جا رہی ہے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بلوچستان کے وسیع جغرافیائی پھیلاؤ اور دور افتادہ علاقوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی ایل اے کے دہشتگرد وقت کے ساتھ ساتھ خالصتاً مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق دہشتگرد اور ڈاکو کے درمیان فرق اب تقریباً مٹ چکا ہے ۔ ریاستی رٹ کو براہِ راست چیلنج کرنے کی صلاحیت سے محروم یہ عناصر اب عام شہریوں، مزدوروں، مسافروں اور غیر مسلح افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ان کی بزدلی، کمزوری اور اخلاقی دیوالیہ پن کا واضح ثبوت ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ کسی بھی نظریاتی یا آزادی کی تحریک میں عام شہریوں کو نشانہ بنانا ہمیشہ اس تحریک کی اخلاقی موت ثابت ہوا ہے۔ بی ایل اے بھی اسی انجام کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بلوچستان کے عوام اب بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ ان عناصر کی کارروائیوں کا مقصد نہ صوبے کی ترقی ہے، نہ حقوق کا حصول اور نہ ہی کسی محرومی کا ازالہ، بلکہ محض خوف، انتشار اور بدامنی پھیلانا ہے، جس کا خمیازہ عام بلوچ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔دوسری جانب قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے ایک مرتبہ پھر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، انٹیلی جنس ہم آہنگی اور آپریشنل برتری ثابت کر دی ہے۔ ہیروف ٹو جیسے کامیاب آپریشن اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاستی ادارے نہ صرف دہشتگردوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں بلکہ بروقت، مؤثر اور ہدفی کارروائی کی مکمل صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ کامیابیاں اس امر کا دوٹوک پیغام ہیں کہ ریاست دشمن عناصر کیخلاف زیرو ٹالرینس پالیسی پر پوری قوت سے عمل پیرا ہے۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ بی ایل اے کیلئے افرادی قوت، مقامی حمایت اور مالی وسائل کا دائرہ مسلسل سکڑ رہا ہے ۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تنظیم کے اندر بددلی، خوف، باہمی عدم اعتماد اور قیادت پر سوالات بڑھتے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں یا تو عناصر ہتھیار ڈال رہے ہیں، روپوش ہو رہے ہیں یا پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہے ہیں۔آخر میں سفارتی اور سلامتی کے ماہرین کے بقول ہیروف ٹو محض ایک آپریشنل کامیابی نہیں بلکہ ایک واضح اسٹریٹجک پیغام ہے۔ یہ پیغام بی ایل اے کے دہشتگردوں کیلئے بھی ہے اور ان کے بیرونی ہینڈلرز کیلئے بھی کہ تشدد، تخریب اور دہشتگردی کے راستے پر چلنے والے بالآخر انجام سے نہیں بچ سکتے۔ ایسے میں امید کی جانی چاہیے کہ بلوچستان کے عوام ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر ان دہشتگرد عناصر کے مکمل خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں گے کیونکہ بلوچستان کا مستقبل ترقی، امن ، سیاسی شعور اور معاشی استحکام سے وابستہ ہے ، نہ کہ بندوق اور بارود سے۔ یہ حقیقت اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ بی ایل اے کی نام نہاد اور خود ساختہ جدوجہد ایک لاحاصل خواب بن چکی ہے، اور سیکیورٹی فورسز کی مسلسل، منظم اور مؤثر کارروائیاں اس خواب کو تیزی سے خاک میں ملا رہی ہیں۔

