کالم

بھارتی یومِ جمہوریہ اور کشمیریوں کا یومِ سیاہ

دنیا کی کوئی بھی جمہوریت کسی قوم کے جمہوری اور انسانی حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ مگر کشمیری عوام کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ نہ صرف انہیں حقِ خودارادیت کبھی دیا ہی نہیں گیا بلکہ جو بنیادی حقوق انسان ہونے کے ناتے ملنے چاہییں تھے، وہ بھی طاقت کے زور پر چھین لیے گئے۔ جب کسی قوم کی زندگی تنگ کر دی جائے، اس کی آواز دبائو اور اس کے مستقبل پر پہرے بٹھا دیے جائیں تو اس کے دن اور رات، دونوں سیاہ ہو جاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ عالمی ضمیر، جو انسانی حقوق کے نام پر بلند دعوے کرتا ہے، اس ناانصافی پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ یہی وہ دوہرا معیار ہے جو آج کے عالمی نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ 26 جنوری کو بھارت پورے ریاستی جاہ و جلال کے ساتھ اپنا یومِ جمہوریہ مناتا ہے۔ فوجی پریڈز، تقاریر اور جمہوریت کے بلند بانگ دعوے اس دن کی پہچان ہیں۔ مگر اسی دن دنیا بھر کے کشمیری اسے یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ محض تاریخ کا اتفاق نہیں بلکہ دو متضاد حقیقتوں کا عکس ہے ایک طرف جشنِ جمہوریت، دوسری طرف ایک محکوم قوم کا کرب ۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے یا آئینی دستاویزات تک محدود نہیں ہوتی۔ جمہوریت عوام کی حکمرانی، قانون کی بالادستی، اظہارِ رائے کی آزادی، مذہبی رواداری اور انسانی حقوق کے عملی تحفظ کا نام ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، ان اصولوں پر پورا اترتا ہے؟ اگر غیر جانبدارانہ نظر سے دیکھا جائے تو اس کا جواب نفی میں ہی ملتا ہے۔ 26جنوری 1950 کو بھارت نے اپنے آئین کا نفاذ کر کے جمہوری ریاست ہونے کا اعلان کیا۔ مگر افسوس کہ آٹھ دہائیوں بعد بھی وہ اپنے ہی آئین میں درج بنیادی اصولوں پر عملدرآمد میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ آئینِ ہند اقلیتوں کو مذہبی آزادی، مساوی حقوق اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور ریاست کو سیکولر قرار دیتا ہے، مگر زمینی حقائق ان دعوں کی صریح تردید کرتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں طویل فوجی محاصرہ، اظہارِ رائے پر پابندیاں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی منظم کوششیں اور شہری آزادیوں کا خاتمہ کسی بھی جمہوری ریاست کیلئے باعثِ شرم ہونا چاہیے۔ اگست 2019 میں کشمیر کی محدود خودمختاری کا یکطرفہ خاتمہ کر کے نہ صرف کشمیری عوام کی رائے کو نظرانداز کیا گیا بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی تھی۔ یہ مسئلہ صرف کشمیر تک محدود نہیں۔ بھارت میں مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کیخلاف بڑھتی ہوئی عدم برداشت، مذہبی تشدد اور امتیازی قوانین نے اس کے سیکولر ہونے کا تشخص کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ گجرات سے لیکر دہلی تک کے واقعات اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ بھارت میں جمہوریت عملی نظام کے بجائے صرف نعرہ ہے۔ایسے میں عالمی برادری کا کردار بھی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔اس سال بھارتی یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں یورپی کمیشن کی پہلی خاتون صدر ارسولا وان ڈیر لائن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا بطور مہمانِ خصوصی نئی دہلی میں موجودہونگے۔ یہ شرکت محض سفارتی روایت نہیں ایک اخلاقی پیغام بھی رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عالمی رہنما مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے لاعلم ہیں، یا پھر معاشی و سیاسی مفادات نے جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے؟ کشمیری عوام کا 26جنوری کو یومِ سیاہ منانا دراصل اسی تضاد کے خلاف خاموش مگر توانا احتجاج ہے۔ یہ دن دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ جہاں ایک ریاست جمہوریت کا جشن منا رہی ہوتی ہے، وہیں لاکھوں انسان بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہوتے ہیں۔ جب تک کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت نہیں دیا جاتااور انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق نہیں ملتا، تب تک بھارت کا یومِ جمہوریہ کشمیریوں کیلئے یومِ سیاہ ہی رہے گا۔تاریخ شاہد ہے کہ طاقت کے زور پر دبائی گئی آوازیں ہمیشہ کیلئے خاموش نہیں ہوتیں۔ کشمیری عوام کی قربانیاں اور ان کی جدوجہد اس سچ کا اعلان ہیں کہ جمہوریت دعوئوں سے نہیں بلکہ انصاف سے زندہ رہتی ہے ۔ اگر بھارت واقعی جمہوری ریاست بننا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے آئین، بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کا احترام کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعوی محض ایک دعوی ہی رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے