پاکستان میں اگر کسی چیز کی سب سے زیادہ فراوانی ہے تو وہ مسائل نہیں بلکہ مسائل پر ہونے والی گفتگو ہے اور اگر کسی چیز کی سب سے زیادہ کمی ہے تو وہ گفتگو کے نتیجے میں پیدا ہونے والا حل ہے، ہر طرف شور ہے، ہر طرف دعوے ہیں، ہر طرف بیانیے ہیں اور ہر بیانیے کے اندر ایک نیا پاکستان آباد ہے مگر زمین پر رہنے والا پاکستان وہی پرانا ہے جس میں عام آدمی مہینے کے آغاز میں صبح اٹھتا ہے تو بجلی و گیس کا بل اس کا استقبال کرتا ہے، اور یہ بل اب صرف کاغذ نہیں رہے بلکہ ایک باقاعدہ سوال بن چکے ہیں کہ تم نے اس مہینے جینا کیسے ہے، دن چڑھتا ہے تو مہنگائی اس کے راستے میں کھڑی ہوتی ہے جو اب کسی پالیسی یا ماضی کی غلطی نہیں لگتی بلکہ ایک مستقل مسلط کردہ نظام محسوس ہوتی ہے، اور رات ہوتی ہے تو وہ اس حساب کتاب میں الجھ جاتا ہے کہ کل کا دن کیسے گزارنا ہے، سیاسی اسٹیج پر روشنی اتنی زیادہ ہے کہ حقیقت کا چہرہ دھندلا گیا ہے اور ہر مقرر ایسے بولتا ہے جیسے ملک ابھی وجود میں آیا ہو اور وہ پہلے شخص ہوں جو اسے چلانا جانتے ہیں، مگر عام آدمی کے لیے یہ سب تقاریر ایسے ہیں جیسے کوئی شخص بھوک کے عالم میں فلسفہ سمجھانے بیٹھ جائے اور سامنے روٹی غائب ہو، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ روٹی کی غیر موجودگی پر بحث کم اور روٹی کے نام پر تقاریر زیادہ ہو رہی ہیں، کبھی کہا جاتا ہے اصلاحات آ رہی ہیں، کبھی کہا جاتا ہے نظام بہتر ہو رہا ہے، اور کبھی کہا جاتا ہے قربانی دینی ہوگی، مگر عام آدمی کے لیے قربانی اب مذہبی اصطلاح سے زیادہ معاشی حقیقت بن چکی ہے جس میں وہ ہر روز کچھ نہ کچھ چھوڑ رہا ہے مگر حاصل کچھ نہیں کر رہا، حالیہ مہنگائی کے دور میں جب بجلی کے نرخ ایک عام خاندان کی آمدن کے حساب سے نہیں بلکہ اس کے صبر کے حساب سے بڑھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ریاست نے حساب کتاب کا ایک نیا فارمولا ایجاد کر لیا ہو جس میں آمدن نہیں بلکہ برداشت دیکھی جاتی ہے، گیس کا بل آتا ہے تو سردیوں کی خوشی پہلے ہی کم ہو چکی ہوتی ہے کیونکہ اب سردی صرف موسم نہیں بلکہ ایک معاشی خطرہ بن چکی ہے، پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو سفر صرف جسمانی نہیں رہتا بلکہ ذہنی بھی مہنگا ہو جاتا ہے، اور ٹیکس کا نظام اس قدر پیچیدہ ہو چکا ہے کہ عام دکان دار اب یہ نہیں پوچھتا کہ نفع کتنا ہوا بلکہ یہ سوچتا ہے کہ نقصان کتنا سرکاری ہے، سیاسی ترجیحات کا حال یہ ہے کہ ہر دور میں بدل جاتی ہیں مگر عام آدمی کی آزمائش کا کیلنڈر وہی رہتا ہے، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں طنز خود بخود حقیقت میں بدل جاتا ہے، مثال کے طور پر ایک عام شہری جب صبح اٹھتا ہے تو اسے بجلی کا بل، گیس کا بل اور موبائل ریچارج تینوں ایک ہی سطح کے معاشی فیصلے محسوس ہوتے ہیں، اور یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ترقی کے اعداد و شمار اور عام زندگی کے تجربات ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ ہو جاتے ہیں، ریاستی رویہ عام آدمی کے ساتھ ایک مسلسل امتحان کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں ہر دن ایک نیا پرچہ ہوتا ہے اور ہر پرچے کا سوال پہلے سے زیادہ مہنگا ہوتا ہے، شناختی کارڈ بنوانا اب ایک سادہ عمل نہیں رہا بلکہ ایک پورا انتظامی سفر ہے جس میں وقت، صبر اور اکثر تو عزت بھی خرچ ہو جاتی ہے، پاسپورٹ بنوانا ایک ایسا تجربہ ہے جس میں انسان کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ سفر کرنا شاید حق نہیں بلکہ ایک رعایت ہے، تھانے جانا اب انصاف کی تلاش نہیں بلکہ صبر کی آخری حد کا امتحان بن چکا ہے، اور ہسپتال جانا دعا اور مایوسی کے درمیان ایک ایسی جگہ ہے جہاں مریض سے پہلے اس کے لواحقین تھک جاتے ہیں، اور یہ سب اس ملک میں ہو رہا ہے جہاں ہر تقریر میں سہولت اور آسانی کے وعدے سب سے زیادہ دہرائے جاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت میں آسانی صرف ان دستاویزات میں رہ گئی ہے جو ابھی تک پرنٹ نہیں ہوئیں، اگر عام آدمی کی زندگی کو دیکھا جائے تو وہ اب صرف مہنگائی کا شکار نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی دبا کے نیچے سانس لے رہا ہے، دکان دار دن بھر محنت کرتا ہے مگر شام کو حساب لگاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ حصہ کرایہ، بجلی اور ٹیکس نے لے لیا ہے اور اس کے پاس صرف تھکن بچی ہے، کسان کے لیے کوئی ریلیف نہیں بلکہ اس کی محنت اکارت ہوتی جا رہی ہے، رکشہ ڈرائیور صبح سے شام تک سڑک پر ہوتا ہے مگر اس کی کمائی ایندھن کے نرخوں کے ساتھ دوڑتے دوڑتے پیچھے رہ جاتی ہے، مزدور اینٹیں اٹھاتا ہے مگر اس کے ہاتھ میں صرف درد اور اگلے دن کی فکر بچتی ہے، اور نوجوان تعلیم مکمل کر کے بھی اس سوال کے سامنے کھڑا رہ جاتا ہے کہ اب جانا کہاں ہے کیونکہ مواقع اب زیادہ تر اعلانات میں دستیاب ہیں، زمینی حقیقت میں کم، ریاست جب ٹیکس بڑھاتی ہے تو اسے نظام بچانے کا نام دیا جاتا ہے، جب مہنگائی بڑھتی ہے تو اسے عالمی دبا کہا جاتا ہے، جب عوام پریشان ہوتی ہے تو اسے وقتی ردعمل کہا جاتا ہے، اور جب عوام خاموش ہو جاتی ہے تو اسے استحکام کہا جاتا ہے، گویا ہر حالت میں تشریح ریاست کے حق میں اور برداشت عوام کے حصے میں آتی ہے، حالیہ معاشی پالیسیوں نے عام آدمی کی زندگی کو ایک ایسے حساب میں بدل دیا ہے جہاں ہر چیز کا وزن ہے مگر آمدن کا توازن نہیں، بجلی کے یونٹس اب صرف توانائی نہیں بلکہ خوف کی پیمائش بن چکے ہیں، گیس کا بل صرف بل نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ سہولت اب ایک محدود شے ہے، اور پیٹرول کی قیمت ایک ایسا روزانہ کا ریفرنس بن چکی ہے جس کے مطابق پورا دن پلان کیا جاتا ہے، اگر سیاسی شور کو دیکھا جائے تو وہ اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ اصل مسائل اس کے نیچے دب کر رہ گئے ہیں، ہر چینل پر بحث ہے، ہر جلسے میں دعوے ہیں، ہر بیان میں یقین ہے مگر اس یقین کا عام آدمی کی زندگی سے کوئی عملی رابطہ نظر نہیں آتا، کبھی کہا جاتا ہے معیشت بہتر ہو رہی ہے مگر بازار میں قیمتیں اس کی تردید کرتی ہیں، کبھی کہا جاتا ہے نظام درست ہو رہا ہے مگر دفاتر میں قطاریں اس کی نفی کرتی ہیں، اور کبھی کہا جاتا ہے حالات بہتر ہیں مگر عام آدمی کے چہرے پر تھکن اس کے برعکس کہانی سناتی ہے، ریاستی مظالم اگر نرم لفظوں میں بیان کیے جائیں تو وہ صرف پولیس یا عدالت تک محدود نہیں بلکہ ایک پورا معاشی اور انتظامی ڈھانچہ ہے جو عام آدمی کو ہر طرف سے دباتا ہے، فیسوں کا نظام اس کے خوابوں کو مہنگا کر دیتا ہے، ٹیکس اس کی آمدن کو مشکوک بنا دیتا ہے، اور مہنگائی اس کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیتی ہے، اور اس سب کے باوجود اسے ہر روز یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ بہتر حالات میں جی رہا ہے، جیسے کوئی شخص پانی میں ڈوب رہا ہو اور اوپر سے کہا جائے کہ دریا ترقی کر رہا ہے، طنز یہ ہے کہ یہاں ترقی کے اعداد و شمار اتنے خوبصورت ہیں کہ غربت کو بھی اپنی تعریف بدلنی پڑی ہے، پہلے غربت کا مطلب فاقہ تھا اب غربت کا مطلب مہینے کے آخری دنوں میں زندہ رہنے کی مہارت ہے، اور یہ مہارت اب ایک پورا طبقہ سیکھ چکا ہے، آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا ہم واقعی اپنی قومی ترجیحات جانتے ہیں یا صرف ان پر بات کرنا ہی ہماری اصل ترجیح بن چکا ہے کیونکہ جب شور ترجیح بن جائے تو سمت خود بخود گم ہو جاتی ہے اور پھر قومیں ترقی نہیں کرتیں صرف باتیں کرتی رہتی ہیں اور باتوں کے درمیان عام آدمی اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

