میں اگرچہ میں امریکہ کے حوالے سے اقبال کے اس تاثر کا اکثر حوالہ دیا کرتا ہوں،جس میں انہوں نے اپنی خوش گمانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”امریکہ مغربی تہذیب کے عناصر میں ایک صحیح عنصر معلوم ہوتا ہے اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ ملک قدیم روایات کی زنجیروں سے آزاد ہے اور اس کا اجتماعی وجدان نئے اثرات و افکار کو آسانی سے قبول کر سکتا ہے۔” یہ خوش گمانی کچھ ایسی غلط بھی نہ تھی، امریکہ نے علم و تحقیق کے میدان میں خود کو دنیا کا موزوں ترین ملک بنایا، لیکن سرمایہ داری اور سرمایہ پرستی کے بے رحم تسلط نے اس ”انسان” کو محض ایک ذرہ بے نشان بنا کر رکھ دیا،بظاہر جس کے حقوق کا نعرہ لگا کر وہ ایک مدت سے روس اور چین کو مطعون کرتا رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام سراسر غیر انسانی، غیر جذباتی، بے رحم اور خون آشام اور ہلاکت پسند ہوتا ہے۔اس کے مینیجرز ایک حد تک ذہنی مریض بھی ہوتے ہیں۔ امریکی ابھی تک اپنے نظام کے اندر موجود ان درندہ صفت ”انسانوں” کے خلاف متحد اور متحرک نہیں ہو سکے تھے۔مگر اب بقول اقبال
آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر
تدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا مات
میخانے کی بُنیاد میں آیا ہے تزَلزُل
بیٹھے ہیں اسی فکر میں پِیرانِ خرابات
تو اسرائیلی صیہونیوں کی طرف سے فلسطینوں کی بلا امتیاز نسل کشی پر امریکی تعاون و حمایت نے دنیا بھر کے انسانوں سمیت خود امریکی رائے عامہ کو بے چین اور مضطرب کر دیا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے عقلی اور جسمانی مظاہر سے خود کو ایک مہذب و متمدن انسان کی بجائے صیہونی چابی سے چلنے والا روبوٹ ثابت کر دکھایا ہے۔انتہا یہ ہے کہ جس روز اسرائیل نے تمام تر جنگی قوانین کو بھاڑ میں جھونکتے ہوئے غزہ کے ایک ہسپتال کو ہلاکت خیز نشانہ بنایا تھا اور دنیا بھر میں اسرائیل کے اس جنگی جرم پر لعن طعن ہو رہی تھی،اور اسرائیلی حکومت قدرے دبا¶ میں تھی،تو عین اگلے روز جو بائیڈن تل ابیب پہنچ کر جہاز سے روبوٹک انداز میں نکلتے ہی لرزتے لرزتے نیتن یاہو سے جا گلے ملے۔ان کا وزیر خارجہ انٹونی بلنکن پہلے سے خطے میں موجود اور علاقے کی مختلف ممالک کے درختوں کے بیچ بندر چھلانگیں مارنے میں مصروف تھا۔ اسرائیلی وحشت اور جنگی درندگی نے بلا امتیاز مذہب و ملک عالم انسانیت کو یک زبان کر دیا ہے۔اسرائیلی وحشت و درندگی نے جہاں عالم عرب کی بے حسی، اور بے حمیتی کو طشت از بام کیا ہے،وہیں ”عالم اسلام” ، ” ملت اسلامیہ” اور ”امت مسلمہ” جیسی خود فریبیوں کا بھانڈہ بھی بیچ چوراہے کے پھوڑ دیا ہے۔ پاکستان جیسے کرایے کے مذہبی ماحول کے زیر اثر اچھل کود کرنے والے ملک کے ملا اور ان کے سدھائے ہوئے خالی الذہن ہجوم بالکل پرسکون اور لاتعلق ہیں۔وجہ شاید یہ ہے کہ کسی عرب ملک نے ابھی تک درہم و دینار و ریال کی ترسیل کا وعدہ نہیں کیا۔ایسے میں دنیا کے مختلف ممالک کے ہمدرد انسانوں کے ردعمل نے امید کے دیئے روشن کر دیئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ کی حکمران اور دفاعی اشرافیہ کے رخ ضعیف پر سیاہ رنگ کی لکیریں بھی کھینچ کر دی ہیں۔ امریکہ کے زائد العمر صدر جو بائیڈن پر غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی،بے گناہ شہریوں کے بہیمانہ قتل، ہسپتالوں پر گولہ باری روکنے کے لیے دبا¶ بڑھتا جا رہا ہے۔اس وقت خود جو بائیڈن کے قریبی ساتھیوں کی بے چینی بھی عروج پر نظر آرہی ہے۔ (جاری )
وجہ یہ ہے کہ جو بائیڈن سے جس تدبر، جس حکمت اور انسانیت کے حوالے سے جس غیرت کی توقع تھی، وہ ان کے کسی عمل، کسی پالیسی یا کسی حرکت سے سامنے نہیں آئی۔امریکی انتظامیہ کی آنکھوں کے مخفی اشاروں سے اپنی ملکی پالیسیاں بنانے والے عرب ممالک بھی سکتے کے عالم میں ہیں۔صرف دنیا کے آزاد انسان اکیسویں صدی میں فلسطینیوں کی صیہونیوں کے ہاتھوں نسل کشی پر معترض اور حالت احتجاج میں ہیں۔جتنے بڑے مظاہرے دنیا کے غیر مسلم شہروں میں ہوئے ہیں، کسی ایک مسلم ملک کے کسی شہر میں ہونے والے احتجاج میں اس کی مثال نظر نہیں آتی۔گویا ہم مذہب ہونے سے زیادہ اہمیت انسان ہونے کی ہے۔اسرائیلی سفاکیت پر عالمی ردعمل نے ثابت کر دکھایا ہے کہ؛ انسانوں کو جوڑنے اور انسانی احساس کو فروغ دینے میں مذاہب سے زیادہ انسانیت کردار ادا کرتی اور کر سکتی ہے۔امریکی ایما اور ڈیزائن پر بیسویں صدی سے برطانیہ نے عالم عرب کے غلام بادشاہوں کے ذریعے مذہب کو افتراق اور انتشار کا عنوان بنا کر رکھ دیا تھا،اور اپنی اس حماقت کے عوض اسلام جیسے پرامن اور ہر ایک کی سلامتی چاہنے والے مذہب پر ”دہشت گردی” تک کا الزام لگوا لیا۔شاید اسی لیے اقبال کو بھی یہ کہنا پڑا تھا کہ؛
حرم رُسوا ہُوا پیرِ حرم کی کم نگاہی سے
اب عرب ملوک و سلاطین تو اسرائیل کی قیادت و سیادت تسلیم کیے بیٹھے خود کو اور اپنے بچھڑے ہوئے معاشروں کو جدید بنانے میں مشغول ہیں،اور منتظر ہیں کہ امریکہ کی تائید و حمایت کے ساتھ اسرائیل اپنے پا¶ں میں چبھا کانٹا اچھی طرح سے نکال لے۔اب ایسی صورت، کوشش اور خواہش پر جو بائیڈن، رشی سوناک اور عرب ملوک و سلاطین کے پاس عزت و آبرو کا صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے،اور وہ یہ کہ سبھی اپنے اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کر لیں۔امریکی صدر جو بائیڈن پر اپنے سسٹم کے اندر سے بھی دبا¶ بڑھ رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے غیر مختتم التفات کو سمیٹ کر سختی سے کام لیں۔جنگ بند کروائیں، غزہ میں ہمہ قسم انسانی امداد کی فراہمی کو ممکن بنائیں۔لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ امریکیوں کو پنجہ یہود سے آزاد کرانا اتنا آسان نہیں رہا۔ دراصل مسلہ یہودیوں کا نہیں، مذاہب کو ایک منصوبہ بندی کے تحت،ان کے اندر تخلیق کیے گئے انتہا پسندوں کے حوالے سے بدنام کرنے کی دیرینہ پالیسی کا ہے۔یہ پالیسی پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے ترتیب دی تھی۔اس پالیسی کا تجربہ انگریزوں نے ہندوستان کی لیبارٹری میں کیا اور پھر سلطنت عثمانیہ کو بھکیرنے کے عمل میں اسی حکمت عملی سے کام لیا گیا تھا۔کس قدر حیرت کی بات ہے کہ آزاد و خودمختار جمہوریہ ترکیہ کے قیام کی جدوجہد میں ترکیہ کے روایتی ملا¶ں اور خانقاہ نشینوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا،بلکہ انگریزوں کے ہوائی جہازوں کے ذریعے مصطفی کمال پاشا کے خلاف فتاوی تکفیر بھی شہروں پر گرائے جاتے تھے۔یہی وہ وقت تھا جب سلطنت عثمانیہ کے عرب گورنرز نے لاہور کے تربیت یافتہ لارنس آف عریبیہ نامی جوکر کی مساعی سے ترکوں سے غداری کی اور انعام کے طور پر ”بادشاہ” قرار پائے۔اب اس پس منظر کے ساتھ ان عرب ملوک و سلاطین سے کیا توقع کی جا سکتی ہے،سوائے رضاکارانہ خود کشی کے۔جہاں تک فساد کی جڑ امریکہ کا تعلق ہے تو حماس کے حملے کے بعد صدر بائیڈن نے فوری طور پر پہلے سے تیار شدہ انتہائی جذباتی اور لرزاں تقریر کے ساتھ ہی اسرائیل کی جنگی بے راہ روی کا آغاز ہو گیا تھا۔اگر اس وقت بزرگ صدر اپنے اعصاب پر قابو رکھتا اور سوچے سمجھے بغیر عقل اور توازن سے عاری تقریر نہ کرتا،اور اگر برطانوی وزیراعظم رشی سوناک اسلحہ بردار جہاز پر سامان کے ساتھ کھڑے ہو کر تل ابیب نہ پہنچتا،تو اسرائیل اپنے جنگی جرائم میں اتنا تجاوز ہرگزز ہرگز نہ کر پاتا۔لیکن کیا کیا جائے،اب ان جنگی جرائم کے مجرموں کے پاس بجز خودکشی،کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔ستم ظریف کا اندازہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے چہرے پر اسے پریشانی اور خفت کے آثار نظر آ رہے ہیں۔اس کا سنجیدہ چہرہ متفکر دکھائی دیتا ہے۔شاید وہ انسان کشی کی اس شرمناک اور ہولناک مہم کا ساتھ نہ دے پائے،اور احتجاجاً مستعفی ہو کر جو بائیڈن کو لرزنے کے لیے اکیلا چھوڑ دے۔
میں نے اسے سمجھایا ہے کہ امریکیوں کے بارے میں خود امریکی بھی کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتے، یہ بات درست ہے کہ امریکی رائے عامہ نے اس بار بڑی شدت سے امریکی حکومت کے موقف اور اسرائیلی جنگی جرائم میں جو بائیڈن انتظامیہ کے جرائم پر اپنے طریقہ کار کے مطابق سخت احتجاج بھی کیا ہے۔وقت قریب ہے کہ صدر جو بائیڈن کی قیادت میں امریکی انتظامیہ امریکی رائے عامہ کی طرف سے سرعام تذلیل اور ملامت کا نشانہ بننے لگے، ہاں مگر؛ اگر جو بائیڈن ٹی وی پر خطاب کر کے اپنی قوم اور دنیا سے اپنی اسرائیل پرستی اور فلسطینیوں کی نسل کشی میں معاونت پر معافی طلب کر کے مستعفی ہو جائے۔دوسرا راستہ سیاسی خود کشی کا ہے، یہ وہی راستہ ہے جس پر امریکی انتظامیہ اپنے نادان صدر کے ساتھ پہلے ہی سے چل رہی ہے۔
کالم
خودکشی کے علا¶ہ دستیاب راستے
- by web desk
- نومبر 29, 2023
- 0 Comments
- Less than a minute
- 290 Views
- 2 سال ago

