رحمان عباس کا آٹھواں ناول کامکھیا؛ بدن کا چست اور کیفیت کا مست ناول شمار کیا جا سکتا ہے۔ چستی سے مراد اس کی ضخامت اور مستی سے مراد اس کی کیفیت ؛ یعنی اس کے معنی کی رنگا رنگی اور گہرائی ہے۔ رحمان عباس نے الجھی سلجھی شہری زندگی کے ایک مثالی نمونے بمبئی کے نیم تاریک کونوں کھدروں میں رہنے والی اور زندگی سے ہار نہ ماننے والی ایک لڑکی کامکھیا کی "ٹپوری اردو” میں خود بیان کردہ سرگذشت کو ناول کی صورت پیش کیا ہے۔اس خود بیان کردہ سرگذشت کے ذریعے رحمان عباس نے ناول کو عورت،بدن اور موکش عنوانات کے تین حصوں میں منظم کر کے خود معاملہ و خود مختار عورت بننے کی جرات دکھانے والی جفا کش کامکھیا کے ان بدنی ،سماجی،رواجی ، معاشی اور ذہنی تجربات کو موضوع بنایا ہے،جنہوں نے دیوی نام کی عام عورت کامکھیا سے جینے ،اور حصول مسرت کی منہ مانگی قیمت وصول کی۔ کامکھیا یہ راز جان چکی تھی کہ؛ دیوی ہونا آسان اور اسی نام کی عام عورت ہونا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔دیوی تو علامت بن کر امر ہو جاتی ہے جبکہ عام عورت حقیقت کو جھیلتے جھیلتے جھلی نہ بھی ہو ، خرچ ضرور ہو جاتی ہے۔ اردو ادب میں طوائف یا بیسوا یا رنڈی کے موضوع پر بہت کچھ لکھا اور نچوڑا گیا ہے۔بیشتر اوقات اسے ایک معیوب و معتوب موضوع سمجھتے ہوئے سنجیدگی کے عوض ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ عورت کے اس جبری طور پر تشکیل دیئے گئے کردار کی پیچیدگیاں سمجھنے اور ہمہ جہت الجھا کو سلجھانے کی نیت اور کوشش کم کم دکھائی دیتی ہے ۔ہمارے یہاں عمومی طور پر طوائف پر لکھے گئے ناول یا افسانے اس کے انفرادی معاملات و مسائل اور کرداری تنازعات کو موضوع بناتے ہیں۔ لیکن کامکھیا کی خود بیان کردہ سرگذشت اپنی انفرادیت کے جملہ حوالوں میں مستور اجتماعی سماجی، معاشی صنفی ، نفسیاتی اور جنسی تناظرات کو موضوع بناتی ہے۔ دراصل ؛کامکھیا کوٹھے کی بیسوا نہیں ، وہ سماج کی ستائی، مقدر کی ٹھکرائی اور محبت کی بہکائی ہوئی عورت ہے، لیکن کامکھیا کی طرف متوجہ کرنے والی بات یہ ہے کہ ؛وہ سہنے ، کڑھنے اور مرنے کی بجائے لڑنے ، جینے اور جیتنے پر یقین رکھتی ہے ۔ کامکھیا اپنی سماجی حیثیت اور معاشی بے معنویت پر قناعت کرنے پر آمادہ و تیار نہیں ہے۔وہ سب سے پہلے اپنی طبقاتی حیثیت کا صحیح صحیح ادراک حاصل کرتی ہے۔وہ اپنے باپ اور اپنی ماں کے تعلق سے سیکھتی ہے، اسکی ماں اسکے باپ پر شک کرتی تھی کہ اسکے کامکھیا نام کی ایک عورت سے خفیہ تعلقات ہیں۔ایسے لڑائی جھگڑوں کی حقیقت سمجھنے کی عمر سے پہلے ہی اس کا باپ دنیا سے چلتا بنا۔ اسکی ماں نے بھی زندگی بڑی محنت ،مشقت اور اذیت میں گزاری۔بچپن کے ان مناظر کے حوالے سے کامکھیا مردانہ فوقیت پر اساس کرنے والے سماج میں ایک بے بس عورت کی بقا کے امکانات کو شمار کرتی ہے ۔وہ اپنے پیٹ ، اپنے جسم اور اپنی روح کی ضروریات تک کی حساب بندی بھی کر لیتی ہے۔یہ سب کرنے کے بعد وہ ایک بنیادی فیصلہ کرتی ہے اور وہ یہ کہ ؛ اب اسکی اپنی بیٹی ان حالات و مشکلات کا شکار نہیں ہو گی ،جن کا سامنا اسے کرنا پڑا۔وہ اپنی تمام تر جدوجہد ،چاہے بدنی ہو ،چاہے ذہنی، کا پھل اپنی بیٹی کی خوشحالی اور کامیابی کی صورت میں سمیٹنا اور سینچنا چاہتی ہے ۔اس ناول کی کامکھیا مردوں کے جنگل میں اگنے والی بیل نہیں ،کہ جسے بلند ہونے کیلئے کسی تناور درخت کے تنے کی ضرورت ہو، وہ خود اپنی من مرضی سے خود کو نازک اور پھولدار بیل کے کردار سے نکال کر از خود تناور درخت بننے کو ترجیح دیتی ہے۔اور اسکی پوری قیمت بھی ادا کرتی ہے۔اس نے خود کو اپنی بیٹی کی شکل میں بچایا، پرورش کیا،سنبھالا اور اپنے سے بہتر زندگی دینے کی سعی کی۔ اس اعتبار سے کامکھیا کی سرگذشت ایک عام لیکن مضبوط عورت کی کتھا ہے ۔اس کامکھیا نے زندگی میں جو کچھ بھی حاصل کیا، نقد قیمت ادا کر کے حاصل کیا اور دوسری خاص بات یہ کہ ؛ مرد سے محبت اور وفا کے نام پر التفات اور کفالت کی بھیک نہیں مانگی ۔وہ انسانی زندگی میں جنس کی ضرورت واہمیت اور طاقت کا اندازہ بھی قائم کرتی ہے ،لیکن ضرورت کو اپنی کمزوری اور فریق مخالف کی شہ زوری نہیں بننے دیتی۔وہ لینے اور دینے میں توازن کا اہتمام کرنا سیکھ لیتی ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے من کی مرضی اور دل کی رضا کو اپنا سب سے بڑا مشیر بھی بنا لیتی ہے ۔یہ سب کچھ اس کی شخصیت کا لازمی حصہ بن جاتاہے۔وہ اپنے اس ذہنی ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوے بتاتی ہے کہ؛اب دل سے فالتو کا ڈرنکل گیا تھا۔ جو کام پہلے پیار کے واسطے کی ، اب اپنے واسطے کرنے لگی۔ شرمیلی عورت کی کینچلی میں نے اتار کر پھینک دی ۔ وہ کینچلی میری ماں کی لائف کا میرے اوپر اثر تھا۔میں جان گئی تھی قربانی کا بکرا بننا پاگل پنتی ہے ۔ یہ سماج ویسے بھی ایک پاگل خانہ ہے اس سے خود کو الگ کر کے اپنی مرضی سے جینا لائف ہے۔ اداس اور دکھی رہ کر مرنے سے اچھا رہتا ہے آدمی خوش رہ کر مرے،کم سے کم بھوت تو نیں بنے گا۔”
کامکھیا کا ایک خاص پہلو عورت کی خواہش فروشی بھی ہے۔ اس عمل کا باعث مجبوری بھی ہو سکتی یے اور مرضی بھی۔ کامکھیا خواہش کو اپنی معاشی تگ ودو کا حصہ بناتی ہے؛ ایک قصائی کے گھر بھی میں دودھ ڈالتی تھی ۔ اسکا نام رمضان تھا۔ ایک دن اس نے دروازہ کھولا اور میرا ہاتھ پکڑ کر میرے کو اندر کھینچ لیا۔دو تین مہینے سے رمضان ہفتے میں ایک بار میرے کو آدھا کلو گوشت فوکٹ دے را تھا۔ کبھی کبھی تھوڑی سی کلیجی بھی مارتا تھا۔ میرے کو معلوم تھا آج وہ بکرے کا گوشت دے را ہے کل میرا گوشت مانگے گا۔ اس لیے جب اس نے میرا ہاتھ پکڑا میرے کو شاک نہیں لگا لیکن عورت حج پر گئی ہے سن کر یہ لگا تھا کچھ نہ کچھ کالا کانڈی ہے۔ دوسرے ٹائم میں خود اس کے پاس گئی۔ تب وہ بہت سیڈ تھا۔ دل کا راز کھولا اور بتایا اس کی عورت مسجد میں اذان دینے والے بھیا لڑکے کیساتھ بھاگی ہے۔ اس دن میرے کو شیام کا غائب ہونا یاد آیا، سوچی کیا وہ بھی کسی عورت کے ساتھ رفو چکر تو نہیں ہوا ہے؟ ایک بار رمضان بولا، کامکھیا ، مذہب بدل اور میرے سے شادی کر روز تو مٹن چکن کھائے گی۔ میں بولی راستہ ناپ مٹن چکن کے واسطے دھرم بدلنا پاپ ہے کوئی رنڈی بھی اپنا دھرم نہیں بدلے گی۔ اس نے واپس ایسی کوئی بات نہیں کی، الٹا میرے کو زیادہ گوشت دینے لگا۔یہاں ایک فرق کو سمجھنا ضروری ہے؛ پیشہ کرنے کا تعلق مجبوری اور مرضی کرنے کا تعلق خواہش سے ہوتا ہے۔ یہ عورت کے وہ مسائل ہیں ، جنہیں پیدا تو مرد کرتے ہیں،لیکن حل عورت کو خود کرنے پڑتے ہیں۔ کامکھیا کا تجربہ دیگر ہے ،وہ اپنے بدن کی فزکس اور کیمسٹری اور فیزیالوجی میں سو میں سے سو نمبر حاصل کرنے کے بعد دیگر امتحانات کی طرف رجوع کرتی ہے۔ہمارا ادب پیشہ کرنے والیوں پر لکھ لکھ کر سانس پھلائے بیٹھا ہے۔کامکھیا نے عورت کی اپنی رضامندی کے حق کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش ہے۔اس عمل میں من اور تن کیساتھ ساتھ مرضی بھی شامل ہوتی ہے۔ کامکھیا وضاحت کرتی ہے کہ؛ عورت ماں کے پیٹ سے رنڈی بن کر پیدا نیں ہوتی ہے بلکہ سوسائٹی اسکو بناتی ہے۔۔ اصل میں گناہ محبت کا ناٹک کرنا ہے محبت کے نام پر یوز کرنا اور شینڈی لگا کر چلے جانا ہے کسی سے شادی کر کے بولے بغیر سٹک جانا ہے ، کسی کے پیٹ کی بھوک کا فائدہ اٹھانا گناہ ہے۔ گھر میں کام کرنے والی عورت کو دال اور روٹی دے کر اس کی عزت پر ہاتھ ڈالنا گناہ ہے۔ صرف گناہ نہیں بلکہ یہی پورن ہے اور اس پورن سے یہ سوسائٹی بھرے لی ہے۔” مردوں کی شجاعت اور دلیری کو اگر مردانگی کہا جاتا ہے تو عورت کی بہادری و بے باکی اور من مرضی کو کیا کہا جائے گا؟ صنفی فرق کو عورت کی کمزوری اور اسی وجہ سے اسکی بزدلی کی بنیاد قیاس کیا جاتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ تسلیم شدہ معاشرتی حقیقت یہ یے کہ عزت اورآبرو صرف عورت کی ہوتی ہے ۔مردوں کیساتھ ایسا کوئی تصور وابستہ نہیں کیا گیا۔
کالم
رحمان عباس کا ناول کامکھیا
- by web desk
- جون 2, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 5 Views
- 1 گھنٹہ ago

