کالم

روحِ رمضان

روزہ محض ایک مذہبی فریضہ یا بھوک پیاس کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی تہذیب کی اس قدیم جبلت کا اظہار ہے جو مادیت کے بوجھ تلے دبی روح کو دوبارہ بیدار کرنے کے لیے ظہور پذیر ہوتی ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فاقہ کشی کے ذریعے نفس کو لگام دینے کا تصور اسلام سے قبل بھی تمام بڑے مذاہب اور مکاتبِ فکر میں موجود رہا ہے۔ مسیحیت میں ‘لنٹ’ کے ایام ہوں یا یہودیت میں ‘یومِ کپور’ کا کڑا روزہ، بدھ مت کے ماننے والوں کی مخصوص اوقات میں خوراک سے دوری ہو یا قدیم یونانی فلسفیوں جیسے سقراط اور افلاطون کے ہاں ذہنی جلا کے لیے فاقہ مستی کا فلسفہ.ان سب کے پیچھے ایک ہی بنیادی ارادہ کارفرما تھا کہ جسم کو تھکا کر روح کو توانا کیا جائے۔ ان قدیم دانشوروں کا ماننا تھا کہ پیٹ کی بھوک انسانی عقل کو وہ تیزی اور شفافیت عطا کرتی ہے جو آسودگی اور شکم سیری کے عالم میں ناممکن ہے۔ گویا روزہ انسان کے حیوانی تقاضوں اور ملکوتی صفات کے درمیان ایک ایسا پل رہا ہے جس پر چل کر انسان اپنی حقیقت سے آشنا ہوتا ہے۔اسلامی تاریخ میں روزے کا باقاعدہ آغاز ہجرت کے دوسرے سال یعنی 624 عیسوی کے لگ بھگ ہوا۔ مدینہ کی سادہ زندگی میں جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو اس کا مقصد محض جسمانی مشقت نہ تھا بلکہ ایک ایسی معاشرتی اور روحانی ریاست کی بنیاد رکھنا تھا جہاں امیر اور غریب کی تمیز مٹ جائے۔ نبوی عہد میں رمضان کی تصویر انتہائی سادہ اور پروقار تھی۔ افطار چند کھجوروں اور پانی کے گھونٹ پر محیط تھا، جس کا مقصد جسم کو اتنی توانائی فراہم کرنا تھا کہ وہ رات کی طویل عبادت اور فکرِ آخرت میں سہارا دے سکے۔ اس دور میں روزہ ایک ‘ڈھال’ تھا.وہ ڈھال جو انسان کو غصے، جھوٹ اور لایعنی گفتگو سے بچاتی تھی۔ صحابہ کرام کے نزدیک یہ مہینہ سستی کا نہیں بلکہ بلند ہمتی کا استعارہ تھا، جہاں نفس پر قابو پا کر عظیم فتوحات اور اخلاقی بلندیوں کے سفر طے کیے جاتے تھے۔وقت بدلا اور اسلام کا دائرہ عرب کے ریگزاروں سے نکل کر بغداد، قاہرہ اور قرطبہ کے علمی مراکز تک پھیل گیا، تو رمضان کے حوالے سے ایک نیا علمی اور سائنسی شعور بیدار ہوا۔ آٹھویں سے دسویں صدی کے دوران، جسے ہم اسلامی تاریخ کا سنہری دور کہتے ہیں، علمِ فلکیات اور علمِ طب کے ماہرین نے روزے کے طبی اور کائناتی پہلوں پر گراں قدر کام کیا۔ ابوریحان البیرونی جیسے عظیم ہیئت داں نے چاند کی رویت اور قمری کیلنڈر کی ریاضیاتی باریکیوں کو اس طرح واضح کیا کہ رمضان کا آغاز محض ایک روایتی مشاہدہ نہ رہا بلکہ ایک سائنسی حقیقت بن گیا۔ البیرونی کے نزدیک چاند کی گردش اور افق پر ہلال کی نموداری خالقِ کائنات کے نظامِ عدل اور وقت کی پابندی کا وہ عظیم سبق تھا جسے ہر سال مسلمان دہراتے ہیں۔ دوسری طرف، ابنِ سینا نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ‘القانون فی الطب’میں روزے کے طبی فوائد پر بحث کرتے ہوئے اسے جسم کی ‘اندرونی صفائی’ کا بہترین ذریعہ قرار دیا۔ ابنِ سینا کا ماننا تھا کہ فاقہ کشی کے دوران جسم کی ‘حرارتِ غریزی’ فاسد مادوں کو جلا کر انسانی صحت کو ازسرِ نو بحال کرتی ہے، بشرطیکہ افطار میں بدہضمی سے بچا جائے۔خلافتِ عباسیہ اور بعد ازاں عثمانیہ کے ادوار میں رمضان کی سماجیات نے ایک باقاعدہ تہذیبی شکل اختیار کر لی۔ مختلف مسلم حکومتوں نے اس ماہ کی تقدیس کو برقرار رکھنے کے لیے عجیب و غریب اور دلچسپ روایات ایجاد کیں۔ مصر میں فاطمی حکمرانوں کے دور میں پہلی بار ‘موائد الرحمن’ یعنی عوامی دسترخوانوں کا تصور ابھرا جہاں شاہ و گدا ایک ہی جگہ بیٹھ کر افطار کرتے تھے۔ بغداد کی گلیوں میں ‘مسحرانی’ (سحری میں جگانے والے) ڈھول کی تھاپ پر مخصوص اشعار پڑھ کر لوگوں کو نیند سے بیدار کرتے تھے، جو محض ایک پکار نہیں بلکہ ایک سماجی وحدت کا پیغام تھا۔ عثمانی سلاطین نے مساجد کے میناروں کے درمیان ‘ماہیا’ (روشن چراغوں سے لکھے گئے پیغامات) کی روایت ڈالی، جس نے راتوں کی تاریکی کو روحانی روشنیوں میں بدل دیا۔ ان ادوار میں حکمران اپنی رعایا کی معاشی حالت کا جائزہ لینے کیلئے رمضان کو ایک پیمانہ بناتے تھے اور بیت المال کے دروازے عام آدمی کیلئے کھول دیے جاتے تھے ۔ روحانیت کے اعتبار سے امام غزالی جیسے مفکرین نے روزے کے تین درجات بیان کر کے اس کی اصل روح کو واضح کیا۔ ان کے نزدیک عام لوگوں کا روزہ صرف پیٹ اور شرمگاہ کو روکنے کا نام ہے، لیکن خواص کا روزہ وہ ہے جہاں انسان کی آنکھ، کان، زبان اور ہاتھ پاں بھی گناہوں سے روزہ رکھیں۔ اور بلند ترین درجہ ‘خاص الخاص’کا روزہ ہے، جہاں دل ماسوا اللہ سے روزہ رکھ لے۔ یعنی انسان کا ذہن اور قلب دنیاوی فکر سے مکمل کٹ کر صرف اپنے خالق کی طرف متوجہ ہو جائے۔ قدیم علمائے کرام کا اصرار تھا کہ اگر روزے نے آپ کے اخلاق میں تبدیلی نہیں لائی اور آپ کی زبان کی کڑواہٹ کم نہیں ہوئی، تو آپ نے روزے کی روح کو پایا ہی نہیں، بلکہ صرف بھوک اور پیاس کی زحمت اٹھائی ہے۔ جو آدمی افطار سے پہلے ایک گھونٹ پانی کیلئے تڑپتا ہے ، وہ اگر ذرا ٹھہر کر سوچے تو اسے معلوم ہو کہ دنیا میں کتنے چہرے ایسے ہیں جن کیلئے یہ تڑپ کسی ایک گھڑی کی نہیں، پوری زندگی کی ہے۔ یہی حیثیت روزے کو صرف انفرادی عبادت نہیں رہنے دیتی وہ اسے اجتماعی شعور میں بدل دیتا ہے ۔ یہ مہینہ معاشرے کی رگوں میں ایک خاص طرح کی حرارت دوڑا دیتا ہے: کچھ دیر کیلئے سب کو ایک ہی تجربے میں کھڑا کر دیتا ہے.امیر بھی، غریب بھی؛ طاقتور بھی، کمزور بھی۔مگر افسوس کہ جیسے جیسے ہم جدیدیت کی چکا چوند میں کھوتے گئے، رمضان کی وہ سادہ اور پرتاثیر روح کہیں گم ہو گئی۔ آج کا رمضان ایک ‘روحانی تجربے’ کے بجائے ایک ‘تجارتی میلے’ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔جدید دور کے اشیائے خورونوش کے اشتہارات، ٹیلی ویژن پر چلنے والے رنگا رنگ شوز اور افطار پارٹیوں میں اسراف کی انتہا نے اس ماہ کے اصل فلسفے یعنی ‘تزکیہ نفس’ کو بری طرح مجروح کیا ہے جس مہینے کا مقصد غریب کی بھوک کا احساس کرنا تھا، آج اسی مہینے میں خوراک کا ضیاع اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ سحر و افطار کے دسترخوانوں پر انواع و اقسام کے کھانوں کی موجودگی نے اس ‘مقدس خلا’ کو ختم کر دیا ہے جو روح کی بیداری کیلئے ضروری تھا۔ ہم سارا دن بھوکے تو رہتے ہیں لیکن شام ہوتے ہی جس طرح مادیت پر ٹوٹ پڑتے ہیں، وہ ابنِ سینا کے طبی مشوروں اور امام غزالی کے روحانی اسباق کا تمسخر اڑاتا معلوم ہوتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم رمضان کو محض کیلنڈر کی ایک تبدیلی کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے ایک ‘اندرونی انقلاب’ کا ذریعہ بنائیں۔ قدیم عرب کی سادگی، سنہری دور کے علما کی سائنسی بصیرت اور صوفیا کے بتائے ہوئے اخلاقی ضابطوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑا سوال شاید یہ نہیں کہ روزہ رکھا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ روزہ نے مجھے کیا بنایا؟ کیا میں زیادہ سچا ہوا، زیادہ نرم ہوا، زیادہ باحیا ہوا، زیادہ منصف ہوا؟ کیا میں نے اپنے گھر میں رحم بڑھایا، اپنے بازار میں دیانت بڑھائی، اپنے دفتر میں برداشت بڑھائی؟ کیا میں نے غریب کیلئے دسترخوان پھیلایا یا صرف اپنی راتوں کیلئے؟ کیا میں نے اللہ کی خاطر بھوک سہی یا لوگوں کی نگاہوں کیلئے؟ روزہ ہمیں یہ سکھانے آتا ہے کہ ہم مٹی کے بنے اس ڈھانچے کے غلام نہیں ہیں، بلکہ ہم اس روح کے امین ہیں جس نے ایک دن اپنے خالق کے حضور پیش ہونا ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں صبر، قناعت اور دوسروں کے دکھ کا حقیقی احساس پیدا کر لیں، تو شاید ہم اس قدیم اور مقدس فریضے کی اس اصل روح کو دوبارہ پا سکیں جو صدیوں پہلے اسلام نے ہمیں عطا کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے