کالم

روزے کے حیران کن فوائد ۔۔۔!

روزہ محض عبادت نہیں بلکہ انسانی جسم کے لیے ایک مکمل نظمِ حیات بھی ہے۔ صدیوں سے انسان مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں کسی نہ کسی صورت میں روزے کو اختیار کرتا آیا ہے مگر امت مسلمہ کا روزہ اپنی ترتیب، توازن اور مقصد کے اعتبار سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور دیگر نفسانی خواہشات سے اجتناب انسان کو صرف روحانی بالیدگی ہی نہیں دیتا بلکہ جسمانی اعتبار سے بھی حیران کن فوائد عطا کرتا ہے۔ انسانی جسم ایک نہایت منظم مشین کی مانند ہے جو مسلسل خوراک کے استعمال سے تھک بھی جاتا ہے۔ جب ہم دن بھر کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے ہیں تو معدہ، جگر، لبلبہ اور آنتیں مسلسل کام میں مصروف رہتی ہیں۔ روزہ ان اعضا کو آرام کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جب کھانے کا سلسلہ چند گھنٹوں کے لیے رک جاتا ہے تو جسم اپنی توانائی محفوظ چربی سے حاصل کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہی عمل وزن میں کمی، اضافی چکنائی کے خاتمے اور میٹابولزم کی بہتری کا باعث بنتا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزے سے جسم میں خودکار صفائی کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ اس عمل میں پرانے اور کمزور خلیات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر نئے خلیات کی تشکیل کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ اس قدرتی عمل کو خود صفائی کا نظام کہا جاتا ہے۔ روزہ اس نظام کو متحرک کرتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم سے زہریلے مادے خارج ہونے لگتے ہیں اور مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔روزے کا سب سے نمایاں اثر نظامِ ہضم پر پڑتا ہے۔ مسلسل خوراک کی فراہمی معدے پر بوجھ ڈالتی ہے جبکہ روزہ معدے کو وقفہ دیتا ہے۔ اس وقفے کے دوران معدہ اپنی اندرونی جھلی کی مرمت کرتا ہے اور تیزابیت کی مقدار متوازن ہو جاتی ہے جو افراد بدہضمی، گیس، تیزابیت یا معدے کے دیگر مسائل میں مبتلا ہوتے ہیں، وہ اگر سحری اور افطار میں اعتدال اختیار کریں تو نمایاں بہتری محسوس کرتے ہیں۔جگر انسانی جسم کی کیمیائی تجربہ گاہ ہے۔ یہ خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے اور زہریلے مادوں کو صاف کرنے کا کام انجام دیتا ہے۔ جب روزہ رکھا جاتا ہے تو جگر کو چربی کے ذخائر کو استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس عمل سے جگر کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور خون میں چکنائی کی مقدار کم ہونے لگتی ہے۔ نتیجتاً دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔روزہ بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جب انسان کھانے سے پرہیز کرتا ہے تو جسم میں انسولین کی سطح کم ہو جاتی ہے اور خلیات توانائی کیلئے ذخیرہ شدہ چربی کو استعمال کرنے لگتے ہیں۔ یہ عمل انسولین کیخلاف مزاحمت کو کم کرتا ہے تاہم ذیابیطس کے مریضوں کو طبی مشورے کے بغیر روزہ نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ ہر مریض کی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔دل کی صحت پر روزے کے مثبت اثرات بھی نمایاں ہیں۔ چکنائی میں کمی، بلڈ پریشر میں اعتدال اور وزن میں کمی دل کے امراض کے امکانات کو کم کرتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مناسب طریقے سے رکھا گیا روزہ کولیسٹرول کی سطح کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ روزہ انسانی دماغ پر بھی مثبت اثر ڈالتا ہے۔ جب جسم چربی کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے تو بعض ایسے کیمیائی مادے پیدا ہوتے ہیں جو دماغی افعال کو بہتر بناتے ہیں۔ یادداشت میں بہتری، توجہ میں اضافہ اور ذہنی یکسوئی انہی اثرات کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے روزے کی حالت میں عبادت اور غور و فکر کی کیفیت زیادہ گہری محسوس ہوتی ہے۔ دماغ کو وقتی طور پر خوراک کی فراوانی سے ہٹا کر ایک منظم ترتیب دینا اعصابی نظام کو متوازن رکھتا ہے۔مدافعتی نظام کی مضبوطی روزے کا ایک اور اہم فائدہ ہے۔ جب جسم کو وقفہ ملتا ہے تو وہ خراب اور کمزور خلیات کو ختم کر کے نئے خلیات بناتا ہے ۔ اس عمل سے بیماریوں کے خلاف مزاحمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ روزہ جسم کی اندرونی مرمت کا موقع فراہم کرتا ہے۔وزن میں کمی بھی روزے کا ایک عام مگر اہم فائدہ ہے۔ اگر سحری اور افطار میں توازن برقرار رکھا جائے تو جسم اضافی چربی کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ تاہم اگر افطار کے وقت حد سے زیادہ تلی ہوئی اور میٹھی اشیا استعمال کی جائیں تو فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔ اصل مقصد اعتدال ہیکیونکہ روزہ نفس کی تربیت کے ساتھ ساتھ خوراک میں میانہ روی کا درس بھی دیتا ہے۔روزے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ انسان کو خوراک کی قدر سکھاتا ہے۔ جب انسان بھوک اور پیاس کا تجربہ کرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ جسم کو کتنی محدود مقدار میں خوراک درکار ہے۔ یہی شعور غیر ضروری کھانے سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔ اس طرح معدے پر غیر ضروری بوجھ کم ہو جاتا ہے اور جسم فطری حالت میں واپس آتا ہے۔جلد کی صحت پر بھی روزے کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب جسم میں زہریلے مادے کم ہوتے ہیں اور خون صاف ہوتا ہے تو جلد پر نکھار آتا ہے۔ پانی کی مناسب مقدار اور سادہ غذا جلد کو تروتازہ رکھتی ہے۔ کئی افراد روزے کے دوران چہرے کی چمک میں اضافہ محسوس کرتے ہیں، جس کی وجہ اندرونی صفائی اور متوازن نظامِ ہضم ہے۔روزہ بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں معاون ہو سکتا ہے۔ نمک اور چکنائی کے استعمال میں کمی، وزن میں اعتدال اور ذہنی سکون مل کر فشارِ خون کو متوازن رکھتے ہیں تاہم جن افراد کو شدید فشارِ خون کا مسئلہ ہو انہیں معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔نفسیاتی سکون بھی جسمانی صحت سے جڑا ہوا ہے۔ روزہ صبر، برداشت اور نظم و ضبط سکھاتا ہے۔ جب ذہن پرسکون ہوتا ہے تو جسم پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔ تنا میں کمی دل اور دماغ دونوں کیلئے مفید ہے۔ روزہ انسان کو غصے اور بے چینی سے بچنے کی تربیت دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ہارمونز کا توازن برقرار رہتا ہے ۔ روزے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ معدے کی گنجائش کو فطری حد تک واپس لے آتا ہے۔ عام دنوں میں مسلسل کھانے سے معدہ پھیل جاتا ہے مگر روزہ اسے سکڑنے اور معمول پر آنے کا موقع دیتا ہے۔ نتیجتاً انسان کم کھانے پر بھی سیر ہو جاتا ہے اور موٹاپے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔خواتین کیلئے بھی روزے کے فوائد نمایاں ہیں۔ ہارمونز کا توازن، وزن میں اعتدال اور جلد کی بہتری ان میں شامل ہیں۔ روزے کے فوائد اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب سحری اور افطار میں اعتدال ہو۔ ضرورت سے زیادہ کھانا یا چکنائی سے بھرپور اشیا کا استعمال روزے کے جسمانی فوائد کو کم کر دیتا ہے۔ پانی کی مناسب مقدار، پھل، سبزیاں اور متوازن غذا روزے کو صحت بخش بناتے ہیں۔دنیا کے کئی طبی مراکز میں اب وقفے دار فاقہ کشی پر تحقیق ہو رہی ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مناسب وقفے سے کھانا چھوڑ دینا جسمانی نظام کو از سرِ نو ترتیب دینے میں مددگار ہے۔ روزہ اسی اصول پر قائم ہے مگر اس کے ساتھ روحانی تربیت بھی شامل ہے جو اسے مکمل نظام بنا دیتی ہے۔ روزہ انسانی جسم کیلئے ایک جامع تربیت گاہ ہے۔ یہ معدے کو آرام دیتا ہے، دل کو مضبوط کرتا ہے، دماغ کو یکسو کرتا ہے، مدافعتی نظام کو بہتر بناتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے