امام خمینی کی شہادت کسی ایک مسلک، فرقے یا نظریاتی حلقے کا سانحہ نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کے لیے ایک گہرے صدمے اور غم کا لمحہ ہے۔ ایسے عظیم مذہبی و سیاسی رہنما کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار ہر مسلمان کا فطری ردِعمل ہے۔ دنیا بھر میں مسلمان، چاہے وہ کسی بھی مسلک یا خطے سے تعلق رکھتے ہوں، اس واقعے کی مذمت کر رہے ہیں اور اسے امتِ مسلمہ کیلئے ایک بڑا نقصان قرار دے رہے ہیں۔ اس سانحے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، کیونکہ شخصیات ختم ہو جاتی ہیں مگر ان کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔لیکن یہ حقیقت بھی اتنی ہی اہم ہے کہ غم اور احتجاج کا حق صرف اسی وقت قابلِ احترام رہتا ہے جب وہ آئین اور قانون کی حدود کے اندر ہو۔ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے، مگر جیسے ہی احتجاج قانون شکنی، تشدد، جلا گھیرا اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے میں بدل جائے تو وہ احتجاج نہیں رہتا بلکہ شرپسندی اور دہشتگردی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ افسوسناک طور پر امام خمینی کی شہادت جیسے حساس سانحے کو بنیاد بنا کر بعض عناصر نے احتجاج کو فساد میں تبدیل کرنے کی کوشش کی، جو کسی طور قابلِ قبول نہیں۔یہاں ایک واضح فرق کرنا ناگزیر ہے، ایک طرف وہ پرامن شہری ہیں جو غم اور احتجاج کے جمہوری حق کو استعمال کرتے ہیں، اور دوسری طرف وہ تخریبی عناصر ہیں جو اسی جذباتی ماحول کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ قانون کا تقاضا ہے کہ دونوں کو ایک نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ شرپسند عناصر کی نشاندہی کر کے ان کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے ۔ خاص طور پر گلگت بلتستان میں امام خمینی کی شہادت کو جواز بنا کر مقامی سیاسی یا ذاتی مفادات کیلئے لوگوں کو اکسانا انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانا، سڑکیں بند کرنا، اور حد تو یہ کہ سکولوں کو نذرِ آتش کرنا کسی احتجاج کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ سوال یہ ہے کہ سکول میں پڑھنے والے معصوم طلبہ کیا امریکی یا اسرائیلی تھے؟ ان تعلیمی اداروں کو جلانے سے کس دشمن کو نقصان پہنچا؟ حقیقت یہ ہے کہ اس کا نقصان صرف پاکستان کے بچوں اور ان کے مستقبل کو ہوا ۔ ایسے عناصر دراصل احتجاج کے نام پر معاشرے میں انتشار،ریاست اور عوام کے درمیان بد اعتمادی اور اداروں کیخلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کالی بھیڑیں نہ صرف قانون بلکہ قومی یکجہتی کے بھی دشمن ہیں۔ ان کی نشاندہی کرنا اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانا ریاست کی ذمہ داری بھی ہے اور عوام کا مطالبہ بھی ہونا چاہیے۔یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ کیا ایران سمیت دنیا کے کسی اور ملک میں اس سانحے کے ردِعمل میں تعلیمی ادارے جلائے گئے یا قومی املاک تباہ کی گئیں؟ اگر نہیں، تو واضح ہے کہ یہ احتجاج نہیں بلکہ منظم قانون شکنی تھی۔ احتجاج کی آڑ میں ریاست پر دبا ڈال کر من پسند فیصلے کروانے کی سوچ ایک خطرناک غلط فہمی ہے، کیونکہ ریاستی فیصلے ہمیشہ قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں، نہ کہ ہجوم کے دبا ئوپر۔پاکستان کی حکومت اور افواج ہمیشہ عوام کے اجتماعی اور قومی مفاد کو مقدم رکھتی ہیں۔ عوام، ریاست اور افواج کے درمیان تقسیم پیدا کرنا دراصل دشمن کے بیانیے کو تقویت دینا ہے۔ ایسے عناصر کسی رعایت یا نرمی کے مستحق نہیں، کیونکہ ان کا عمل قومی وحدت کیخلاف ہے۔امام خمینی کی شہادت ایک عالمی سانحہ ہے، اس پر غم، اتحاد اور سنجیدگی کا اظہار ہونا چاہیے تھا، نہ کہ انتشار اور تباہی کا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ پرامن احتجاج کو تحفظ دیا جائے، مگر قانون شکنی، جلا ئوگھیرا اور دہشتگردی میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ آئندہ کوئی بھی قومی یا مذہبی سانحہ فساد کا بہانہ نہ بن سکے بلکہ اتحادِ امت کا سبب بنے۔

