کالم

عالمی انتشار اور امریکی ساکھ کا بحران

امریکہ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے مگر اس بار وجہ قیادت کی طاقت نہیں بلکہ پالیسیوں کا بوجھ ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے اور امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ تقریباً 60فیصد عوام کی ناراضی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ داخلی سطح پر اعتماد متزلزل ہو چکا ہے لیکن اس کہانی کا اصل پہلو صرف داخلی سیاست نہیں بلکہ وہ عالمی اثرات ہیں جو ٹرمپ کی پالیسیوں نے پیدا کئے ہیں۔خاص طور پر ایران کیخلاف فوجی کارروائی جس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ہم آہنگی شامل ہے نے دنیا کو ایک نئے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ یہ حملہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کئے جا رہے ہیں۔ توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھائو، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹوں نے عالمی معیشت کو سست روی بلکہ کساد بازاری کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔اس صورتحال نے دنیا کو واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں جو امریکہ کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ دوسری جانب وہ ریاستیں ہیں جو اس پالیسی کو جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار امریکہ کو روایتی امن کے داعی کے بجائے ایک جارح طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ تاثر نہ صرف مخالفین بلکہ بعض اتحادی ممالک میں بھی بڑھ رہا ہے ۔ ٹرمپ کی خود ساختہ جارحانہ پالیسیوں نے امریکہ کی وہ اخلاقی برتری بھی ختم کر دی ہے جس پر دہائیوں سے امریکی خارجہ پالیسی قائم تھی۔ ماضی میں امریکہ خود کو جمہوریت، انسانی حقوق اور عالمی استحکام کا علمبردار قرار دیتا تھا مگر موجودہ اقدامات نے اس بیانیے کو کمزور کر دیا ہے۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا امریکہ واقعی عالمی امن کا ضامن ہے یا محض اپنے مفادات کیلئے طاقت کا استعمال کر رہا ہے؟اس کے نتیجے میں پرانے عالمی اتحاد بھی کمزور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یورپی ممالک، جو کبھی امریکہ کے مضبوط اتحادی سمجھے جاتے تھے اب محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ نیٹو جیسے اتحادوں کے اندر بھی اختلافات بڑھ رہے ہیں جبکہ چین، روس اور دیگر علاقائی طاقتیں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا رہی ہیں۔ یوں دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں کوئی واضح عالمی نظام یا گلوبل آرڈر موجود نہیں۔یہ خلا عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہا ہے۔ جب کوئی واضح قیادت یا اصولی ڈھانچہ نہ ہو تو چھوٹے تنازعات بھی بڑے بحرانوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ کشیدگی اسی کی ایک مثال ہے جو کسی بھی وقت مزید وسیع جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔داخلی سطح پر بھی ٹرمپ حکومت کو سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ مہنگائی میں اضافہ ایندھن کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ اور معاشی دبا نے عام امریکی شہری کو متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی ناراضی میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ حکومتی فیصلوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا یہ جنگ اور سخت پالیسیاں واقعی ان کے مفاد میں ہیں یا صرف سیاسی مقاصد کیلئے اختیار کی گئی ہیں۔آبنائے ہرمز کا مسئلہ بھی اس بحران کا ایک اہم پہلو ہے جہاں سینکڑوں جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ ٹرمپ حکومت کا یہ اعلان کہ وہ ان جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرے گی بظاہر ایک مثبت اقدام ہے مگر اس میں فوجی موجودگی کا عنصر مزید کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔ اس طرح کے اقدامات وقتی ریلیف تو دے سکتے ہیں، مگر طویل المدت استحکام کیلئے سفارتکاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری جانب امریکی حکومت کے اندرونی معاملات بھی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ پینٹاگون میں تبدیلیاں، سیاسی تنازعات اور سیکورٹی خدشات نے حکومتی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاس کے ایک پروگرام میں ٹرمپ پر حملے کی کوشش کی خبریں بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکی معاشرہ اندرونی طور پر تقسیم اور بے چینی کا شکار ہے۔انتخابی نظام اور ڈیٹا کے غلط استعمال کے خدشات نے جمہوریت کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اگر عوام کا اعتماد انتخابی عمل سے اٹھ جائے تو جمہوری نظام کی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ خطرہ ہے جس کا سامنا اس وقت امریکہ کو ہے۔مجموعی طور پر، ٹرمپ کی پالیسیاں امریکہ کو ایک ایسے راستے پر لے آئی ہیں جہاں داخلی عدم استحکام اور عالمی سطح پر تنہائی دونوں بڑھ رہے ہیں۔ ایران پر حملہ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی تقسیم نے نہ صرف معیشت کو متاثر کیا بلکہ امریکہ کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ دنیا اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں پرانے اصول اور اتحاد کمزور ہو رہے ہیں اور ایک نیا عالمی نظام ابھی تشکیل نہیں پا سکا۔آنے والے دنوں میں یہ طے ہوگا کہ آیا امریکہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتا ہے یا اسی جارحانہ راستے پر چلتا رہتا ہے۔ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کو اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کا بے جا استعمال وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر طویل المدت استحکام ہمیشہ توازن، حکمت اور سفارتکاری سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے