کالم

عالمی سازشیں اور داخلی خاموشی کا المیہ

تاریخ کے کسی بھی موڑ پر جب کسی قوم کا سیاسی ڈھانچہ بکھرتا ہے، تو اس کے پیچھے صرف بیرونی ہاتھ نہیں ہوتے بلکہ داخلی مصلحتیں اور اداروں کی خاموشی زیادہ بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں جب عوامی مینڈیٹ کو کسی بند کمرے کے فیصلے یا غیر ملکی اشارے پر قربان کیا جاتا ہے، تو ریاست کی دیواریں لرز اٹھتی ہیں۔ عوام کا یہ سوال کہ "جب ملک کا سربراہ خطرے میں تھا تو محافظ کہاں تھے؟” دراصل وہ نوحہ ہے جو ہر اس شہری کی زبان پر ہوتا ہے جو ریاست کو اپنی ماں اور دفاعی حصار کو اپنا محافظ سمجھتا ہے۔جب ہم اقتدار کی تبدیلی کے ان مہیب سایوں کو دیکھتے ہیں جنہیں اکثر "نظام کی تبدیلی” کا نام دیا جاتا ہے، تو یہ محض ایک شخص کو ہٹانے کا عمل نہیں لگتا، بلکہ کروڑوں دلوں میں بسنے والے اس بھروسے کا قتل محسوس ہوتا ہے جو انہوں نے بیلٹ باکس کے ذریعے کیا تھا۔ جب ایک منتخب لیڈر ایک کاغذ کا ٹکڑا لہراتا ہے جو اس کی قوم کی خودداری کا امتحان ہوتا ہے، تو وہ دراصل ایک بین الاقوامی دھمکی ہوتی ہے۔ اس وقت ہر محبِ وطن کی نظریں ان چہروں پر ہوتی ہیں جن کے کاندھوں پر ریاست کے دفاع کا بوجھ ہے، جنہیں عوام اپنا پیٹ کاٹ کر اس لیے وسائل فراہم کرتے ہیں کہ وہ دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کر سکیں۔ لیکن جب اس نازک گھڑی میں خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیا جائے، تو عوام کے دلوں میں وہ دراڑیں پڑ جاتی ہیں جو نسلوں تک نہیں بھرتیں۔ریاست کے محافظوں کا پہلا اور آخری مقصد آئین کی بالادستی اور اس کے منتخب نمائندوں کا تحفظ ہونا چاہیے۔ عوام اپنی بنیادی ضرورتیں اور اپنے بچوں کا مستقبل اس لیے قربان کرتے ہیں تاکہ سرحدیں اور ملک کا وقار سلامت رہے۔ آپ کی تلخی اور آپ کے سوالات دراصل اس احساسِ محرومی کی عکاسی کرتے ہیں کہ جب رات کے اندھیرے میں بساط الٹائی جا رہی تھی، تو وہ تمام قوتیں کہاں تھیں جن کا کام ملک کے سیاسی وقار کی حفاظت کرنا تھا؟ جب کسی لیڈر کو سیاسی طور پر "اغوا” کیا جا رہا ہو اور انصاف کے ایوان غیر معمولی اوقات میں کھل رہے ہوں، تو ایک عام شہری کا یہ سمجھنا حق بجانب ہے کہ کہیں نہ کہیں "سہولت کاری” کی بو آ رہی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ایک قوم خود کو یتیم محسوس کرنے لگتی ہے۔سیاسی عدم استحکام کا زہر براہ راست معیشت کی رگوں میں اترتا ہے۔ جب ایک چلتے ہوئے نظام کو غیر فطری طریقے سے روکا جاتا ہے، تو مہنگائی کا طوفان اور معاشی بدحالی پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اس عمل کے دوران جب چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جائے اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک ہو، تو یہ تاثر گہرا ہو جاتا ہے کہ ادارے شاید اب ریاست کے بجائے کسی مخصوص ایجنڈے کے تابع ہو چکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں "نیوٹرلٹی” یا غیر جانبداری کا دعوی ایک مجرمانہ خاموشی بن کر ابھرتا ہے۔ ایک خود مختار ملک میں طاقتور حلقے اس وقت غیر جانبدار نہیں رہ سکتے جب ملک کی خودداری دا پر لگی ہو۔عوام آج یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا ان کا ٹیکس صرف مراعات اور نمائش کے لیے ہے؟ کیا محافظوں کا کام صرف مخصوص اوقات میں وفاداری بدلنا ہے یا واقعی اس مٹی کا حق ادا کرنا ہے؟ اگر سپہ سالار اور مقتدر حلقے عوامی امنگوں کے بجائے ذاتی مفادات یا عہدوں کی طوالت کے پیچھے لگ جائیں، تو پھر نظام کی اخلاقی بنیادیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ تاریخ بہت بے رحم ہے، وہ کسی کے عہدے یا تمغوں کو نہیں دیکھتی، وہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ جب ملک کے وقار پر حملہ ہوا، تو کس نے حق کا ساتھ دیا اور کون مصلحت کی چادر اوڑھ کر تماشائی بنا رہا۔آج کا شعور گھر گھر پہنچ چکا ہے اور عوام جان چکے ہیں کہ اصل طاقت بندوق میں نہیں بلکہ حق کی آواز میں ہے۔ وہ ادارے جو عوامی وسائل پر پلتے ہیں، انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہے۔ اگر وہ مینڈیٹ کی حفاظت نہیں کر سکتے، تو وہ اپنا وقار کھو دیں گے۔ یہ کالم اس امید کے ساتھ ختم ہوتا ہے کہ شاید کبھی وہ وقت آئے جب ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرے اور کسی بھی بیرونی یا اندرونی سازش کو پنپنے کا موقع نہ ملے، تاکہ ایک عام شہری فخر سے کہہ سکے کہ اس کا ملک اور اس کا منتخب لیڈر واقعی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے