کالم

غیرمسلموں کے حقوق کاتحفظ….!

khalid-khan

اللہ رب العزت نے اس کائنات کو بہت خوبصورت تخلیق کیا۔دنےا کی ہر جگہ کا اپنا منفرد حُسن ہے۔اس جمال کو محسوس کرنے کےلئے آپ کا درومدار نگاہ و قلب پر ہے۔مکھڈ شرےف ہزاروں سال پرانا شہر ہے۔ےہاں پر اولیا ءکرام کے مزارات ہیں اور ساتھ کچھ فاصلے پر مندر ہیں۔ ان مندروں پر تحرےرےں درج ہیں لیکن مقامی لوگ ان تحرےروں کو پڑھ نہیں سکتے ہیں۔ےہ مندر دو تےن صدی پرانے معلوم ہوتے ہیں۔ ےہ مندر اب بھی تقرےباً اصلی حالت میں موجود ہیں۔ان مندروں میں ہندو نہیں آتے ہیں لیکن کوئی بھی شہری ان کو گذندنہیں پہنچاتا ہے۔ الحمد اللہ مکھڈ شرےف کے سبھی لوگ مسلمان ہیں اور ےہاں کے لوگ مہذب اور ملنسار ہیں ۔ ےہاں پر اےک بڑی لائبرےری ہے جس میں ہزاروں کتابےں ہیں اوران میں سے بعض کتابےں قدےم اورناےاب ہیں ۔ ےہاں پر متعدد دےنی مدارس بھی ہیں ۔ مکھڈ شرےف سمےت وطن عزےز پاکستان میں متعدد مقامات پر مندر اصلی حالت میں موجود ہیں کیونکہ مسلمان کسی غےر مسلم کی عبادت گاہ کو نقصان نہیں پہنچاتے ہیں۔ صرف وہی لوگ غےرمسلموں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے ہیں جن کے پاس علم کا فقدان ہوتا ہے ۔کسی مذہب کی عبادت گاہ ےا نشانی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہےے۔ عصر حاضر میں خصوصاً مودی حکومت مذہبی سےاست کررہی ہے بلکہ مذہب کے نام پر اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانا ان کا پسندیدہ شےوا ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آےا ۔ اسلام میں سب کےلئے سلامتی ہے ۔ پاکستان اےک اسلامی ملک ہے، اس لئے اقلیتوں سے بھی بہترےن روےہ اور سلوک کرنا چاہےے۔اس سلسلے میں عہدِرسالت مآبﷺ اور عہد خلفائے راشدےنؓ سے رہنمائی حاصل کرنی چاہےے۔غےر مسلموں کے حقوق کا تحفظ جس انداز میںدور نبوی ﷺ اور دور خلفائے راشدےنؓ میں کیا گےا ، اس کی نظےر پوری انسانی تارےخ میں نہیں ملتی۔عہد رسالت مآب ﷺ میں اہل نجران سے معاہدہ مذہبی تحفظ اور آزادی کیساتھ جملہ حقوق کی حفاظت کی بہترےن مثال ہے۔نبی کرےم ﷺ نے تحرےری فرمان جاری کیاکہ”اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ، اہل نجران اور ان کے حلیفوں کےلئے ان کے خون، ان کی جانوں، ان کے مذہب ، ان کی زمینوں ،ان کے اموال،ان کے راہبوں اور پادرےوں ، ان کے موجود اور غےر موجود افراد، ان کے موےشےوں اور قافلوں اور ان کے استھان (ےعنی مذہبی ٹھکانے اور عبادت گاہیں) وغےرہ کے ضامن اور ذمہ دار ہیں ۔ جس دےن پر وہ ہیں ،اس سے ان کو نہ پھےرا جائے گا۔ انکے حقوق اور ان کی عبادت گاہوں کے حقوق میں کوئی تبدےلی نہ کی جائے گی۔نہ کسی پادری کو ، نہ کسی راہب کو ،نہ کسی سردار کو اور نہ کسی عبادت گاہ کے خادم کو ، خواہ اس کا عہدہ معمولی ہو ےا بڑا،اس سے نہیں ہٹاےا جائے گا اور ان کو کوئی خوف و خطر نہ ہوگا ۔ "فتح خیبر کے موقع پر سرور کائنات ﷺ نے فرماےا کہ” اے لوگو ! تم جلدی میں ےہود کے بندھے ہوئے جانور بھی لے گئے ہو۔ خبر دار ! سوائے حق کے غےر مسلم شہرےوں کے اموال سے لینا حلال نہیں ہے۔ (احمد بن حنبل) ۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدےقؓ کے دور خلافت میں جب اسلامی لشکر روانہ ہوتا تو آپؓ ان کو ہداےت جاری کرتے کہ”خبردار !زمین میں فساد نہ مچانا اور احکامات کی خلاف ورزی نہ کرنا ، کھجور کے درخت نہ کاٹنا اور نہ انہیں جلانا، چوپاےوں کو ہلاک نہ کرنا اور نہ پھلدار درختوں کو کاٹنا، کسی عبادت گاہ کو مت گرانا اور نہ ہی بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا، تمہیں بہت سے اےسے لوگ ملیں گے ، جنہوں نے گرجا گھروں میں اپنے آپ کو محبوس کر رکھا ہے اور دنےا سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے،انہیں ان کے حال پر چھوڑدےنا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے حضرت ابوبکر صدےقؓ کے حکم پر دمشق اور شام کی سرحدوں سے عراق اور اےران کے جانب گئے تو راستے میں لوگوں کیساتھ معاہدہ کیا کہ "(الف) ان کے گرجے اور خانقاہیں منہدم نہیں کی جائےں گی۔(ب) وہ ہماری نماز پنجگانہ کے سوا ہر وقت اپنا ناقوس بجاسکتے ہیں ، ان پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔(ج) وہ اپنی عےد پر صلیب نکال سکتے ہیں۔”اسی طرح حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں بھی غےرمسلموں کے ساتھ اچھے برتاﺅ کی مثالیں ملتی ہےں۔آپ ؓ نے شام کے گورنر کو فرمان تحرےر کیا کہ آپ بحےثےت گورنر مسلمانوں کو غےر مسلم شہرےوں پر ظلم کرنے اور انہیں ضرر پہنچانے اور ناجائز طرےقہ سے مال کھانے سے سختی کے ساتھ منع کرو۔ ©” حضرت عمر بن خطابؓ نے اےک غےر مسلم بوڑھے شخص کو دےکھا جو بھےک مانگ رہا تھا ، آپ ؓ نے فرماےا کہ ہم نے تمہارے ساتھ انصاف نہیں کیا کہ ہم نے تمہاری جوانی میں تم سے ٹےکس وصول کیا ، پھر بڑھاپے میں تمہیں بے ےارو مددگار چھوڑ دےا۔اس کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ نے اس غےر مسلم کی ضرورےات کےلئے بےت المال سے وظےفہ جاری کیا۔”حضرت عثمان غنی ؓ نے فرمان جاری کیا تھا کہ ©”میں تمھیں ان غےر مسلم شہرےوں کے ساتھ حسن سلوک کی نصےحت کرتا ہوں ۔ ےہ وہ قوم ہے جنہیں جان و مال ، عزت و آبرو اور مذہبی تحفظ کی مکمل امان دی جاچکی ہے۔”حضرت علی مرتضیٰؓ نے اےک موقع پر فرماےا کہ ہماری شرےعت کا اصول ےہ ہے کہ©” جو ہماری غےر مسلم رعاےامیں سے ہے،اس کا خون اور ہمارا خون برابر ہیں اور اس کی دےت بھی ہماری دےت کی طرح ہے ۔” عہد نبویﷺ اور عہد خلفائے راشدےن ؓ کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزےز ؓ نے بھی اپنے ماتحت افسران کو حکم دےتے تھے کہ "کسی گرجا، کلیسا اور آتش کدہ کو مسمار نہ کرو۔” بر صغےر پاک و ہند میں اسلام تلوار سے نہیں بلکہ صوفےا کرام ؒ کی سےرت مبارکہ سے پھےلا ہے۔ اللہ رب العزت قرآن مجےد فرقان حمےد میں فرماتے ہیں کہ”دےن میں کوئی جبر نہیں ہے ۔ ” الغرض اللہ رب العزت اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات پر من وعن عمل کرنا چاہےے۔اسی میں کامےابی اور شانتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے