مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ خلیج کی فضاؤں میں بے یقینی کی ایک دبیز چادر تنی ہوئی ہے۔ بحرین کی بندرگاہوں پر امریکی فوجی ساز و سامان کی آمد، ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی صف بندیاںیہ سب اس خطے کو ایک نئے امتحان کی طرف دھکیلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بحرین میں واقع امریکی بحریہ کے اڈے، یعنی "یونائیٹڈ اسٹیٹس ففتھ فلیٹ”کے قریب بندرگاہوں پر سینکڑوں بکتر بند گاڑیاں اور بھاری عسکری سامان اتارا گیا ہے۔ دفاعی ماہرین اسے دوہزارتین کے بعد سب سے بڑی عسکری نقل و حرکت قرار دے رہے ہیں، جب عراق وار نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ یہ محض فوجی ساز و سامان کی منتقلی نہیں، بلکہ ایک علامت ہے ایک پیغام کہ عالمی طاقتیں کسی بڑے تصادم کے امکان کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔ اسی دوران امریکہ کے دو بحری بیڑے، جن میں طیارہ بردار جہاز بھی شامل ہیں، خلیجی پانیوں کی طرف روانہ کیے گئے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کی ایران کے بارے میں سخت بیانات اور جوہری پروگرام پر کشیدگی نے ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ ایران کا نام آتے ہی خطے کی سیاست میں ایک ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے، اور خلیج کی ریاستیں فوری طور پر اپنی سفارتی اور دفاعی حکمت عملیوں پر نظرِ ثانی شروع کر دیتی ہیں۔ قطر، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سفارتی حلقے اسے ایران پر دبائو بڑھانے کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دبا ہمیشہ نتائج دیتا ہے، یا کبھی کبھی آگ کو مزید بھڑکا دیتا ہے؟ مشرقِ وسطی کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں ایک چنگاری بھی شعلہ بننے میں دیر نہیں لگاتی۔اسی پس منظر میں، میں پچھلے ایک ماہ سے دبئی میں مقیم ہوں۔ میں نے اس شہر کی ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ بلند و بالا عمارتیں، وسیع و عریض شاہراہیں، منظم بازار اور ایک ایسا نظام جس میں قانون کی بالادستی نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ وہ شہر ہے جو صحرا کی ریت سے اٹھ کر عالمی تجارت اور سیاحت کا مرکز بن گیا۔ اس ترقی کے پیچھے محنت، نظم و ضبط اور سخت قوانین کا ہاتھ ہے۔ایک روز میں خروج کے مقام پر تھا کہ ایک انگلینڈ سے آئی ہوئی بھارتی خاتون سخت پریشان دکھائی دیں۔ ان کا پرس ان کی نشست کے اوپر رہ گیا تھا، اور وہ نیچے اتر کر گھبراہٹ میں اِدھر ادھر دیکھ رہی تھیں۔ میں نے وہ پرس ان کے حوالے کیا اور مسکراتے ہوئے کہا: محترمہ!یہ ایک اسلامی ملک ہے، یہاں اگر آپ اپنا قیمتی موبائل بھی کہیں رکھ کر بھول جائیں تو کوئی نہ کوئی اسے آپ تک پہنچا دے گا۔ یاد رکھیے، یہ امریکہ نہیں، یہ دبئی اور ابوظہبی ہیں۔میری اس بات پر وہ خاتون حیران بھی ہوئیں اور مطمئن بھی۔ یہ اعتماد محض جذباتی دعوی نہیں، بلکہ یہاں کے سماجی نظم کا نتیجہ ہے۔ ابوظہبی ہو یا دبئی، قانون کی گرفت مضبوط ہے۔ یہاں خطرہ اگر ہے تو سڑک حادثات کااور وہ بھی عموماً تیز رفتاری یا رمضان کے مصروف اوقات میں۔ چوری، ڈکیتی یا راہزنی کا خوف تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اگر میں اپنا سیمسنگ موبائل، جس میں سم بھی موجود ہو، کسی عوامی مقام پر رکھ کر چلا جاں، تو بڑی حد تک امکان یہی ہے کہ وہ مجھے واپس مل جائے گا۔ یہ بات محض تعریف نہیں، بلکہ اس سماجی اعتماد کی عکاسی ہے جو یہاں کے نظام نے پیدا کیا ہے۔ ایک روایت میں ذکر آتا ہے کہ ایسا وقت آئے گا جب ایک عورت حجاز سے یمن تک تنہا سفر کرے گی اور اسے کوئی خوف نہ ہوگا۔ جب میں یہاں کی فضا دیکھتا ہوں تو وہ روایت یاد آتی ہے امن اور تحفظ کا وہ تصور جو اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کو سلامت رکھے، متحدہ عرب امارات کو امن کا گہوارہ بنائے رکھے، سعودی عرب کو استحکام عطا کرے، اور پورے خطے کو جنگ کی آگ سے محفوظ رکھے۔لیکن دل کے کسی کونے میں ایک خدشہ بھی ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنی سیاسی برتری کے کھیل میں حد سے آگے بڑھ گئیں، اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کھلی محاذ آرائی میں بدل گئی، تو اس کے اثرات صرف عسکری اڈوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ خلیج کی معیشت، تیل کی رسد، عالمی منڈیاں، اور سب سے بڑھ کر یہاں بسنے والے کروڑوں انسان سب اس کے اثر سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین پہلے ہی بہت زخم سہہ چکی ہے۔ عراق، شام، یمن ہر جگہ جنگ نے نسلوں کو متاثر کیا۔ ایسے میں بحرین میں امریکی عسکری تعیناتی اور بحری بیڑوں کی آمد محض دفاعی اقدام نہیں، بلکہ ایک بڑے جغرافیائی کھیل کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کھیل میں عام انسان کی سلامتی کو بھی کوئی اہمیت دی جائے گی؟ دبئی کی چمکتی سڑکوں اور منامہ کی بندرگاہوں کے درمیان ایک فاصلہ ضرور ہے، مگر تقدیر کا دھاگا ان سب کو جوڑتا ہے۔ اگر جنگ کے بادل گہرے ہوئے تو ان کا سایہ پورے خطے پر پڑے گا۔ اور اگر امن کی بارش ہوئی تو یہی خطہ ترقی، استحکام اور خوشحالی کی نئی مثال بن سکتا ہے ۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ طاقت کے مظاہرے کے بجائے حکمت اور تدبر کو ترجیح دی جائے۔ خطے کے ممالک کو چاہیے کہ سفارتی راستوں کو مضبوط کریں، مکالمے کے دروازے کھلے رکھیں اور عالمی قوتوں کو یہ باور کرائیں کہ مشرقِ وسطیٰ مزید جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔میں نے دبئی میں جو امان اور ترقی دیکھی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو صحرا بھی گلزار بن سکتا ہے لیکن اگر ضد، انا اور سیاسی مفادات غالب آ جائیں تو گلزار بھی ویران ہونے میں دیر نہیں لگتی۔اللہ کرے کہ بحرین کی بندرگاہوں پر اترا ہوا اسلحہ کبھی استعمال کی نوبت تک نہ پہنچے۔ اللہ کرے کہ خلیج کے پانیوں میں چلنے والے بحری بیڑے محض طاقت کا توازن برقرار رکھنے تک محدود رہیںاور اللہ کرے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر امن، ترقی اور بھائی چارے کی مثال بن کر دنیا کے سامنے آئے۔اللہ ہمیں شیطان کے شر سے بچائے۔

