دنیا کے نقشے پر بہت سے ممالک ایسے بھی ہیں جو صدیوں جنگوں میں الجھے رہے مگر آخرکار انہوں نے امن کا راستہ اختیار کیا۔ مگر افسوس کہ پاکستان اور بھارت آج بھی ایک ایسی نفسیاتی اور سیاسی جنگ میں بندھے ہوئے ہیں جس کا انجام نظر نہیں آتا سوال یہ بھی ہے کہ آخر یہ نفرت کیوں ہے کب تک رہے گی اور اس کا نقصان کس کو کتنا ہورہا ہے؟
یہ کہانی صرف سرحدوں کی نہیں تاریخ، سیاست، زخموں اور خوف کی کہانی ہے۔ تقسیمِ ہند کے وقت جو خون بہا، جو ہجرتیں ہوئیں، جو خاندان بچھڑے وہ صرف تاریخ کی کتابوں کا حصہ نہیں بنے بلکہ نسلوں کے ذہنوں میں بیٹھ گئے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ زخم مندمل ہونے کے بجائے سیاست کے ایندھن بھی بن گئے۔ حکمرانوں کیلئے دشمنی ایک آسان نعرہ ہے کیونکہ دشمن کا خوف عوام کو اندرونی مسائل سے اوجھل کردیتا بلکہ توجہ ہٹا دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کی بنیادی ضروریات ایک ہی جیسی ہیں۔دونوں طرف نوجوان روزگار چاہتے ہیں کسان اچھی فصل اور مناسب قیمت چاہتے ہیں غریب علاج اور تعلیم چاہتے ہیں۔ مگر وسائل کا بڑا حصہ دفاعی اخراجات میں چلا جاتا ہے۔ اگر ہم اعداد و شمار دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کشیدگی کی قیمت اربوں ڈالر سالانہ ہے۔ یہ رقم اسکولوں، اسپتالوں، تحقیق اور ترقی پر خرچ ہو سکتی تھی۔
سوال یہ بھی ہے کہ فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ سب سے زیادہ فائدہ ہتھیاروں کی عالمی منڈی کو ہوتا ہے ان طاقتوں کو ہوتا ہے جو جنوبی ایشیا کو ہمیشہ ایک کشیدہ خطہ دیکھنا چاہتی ہیں تاکہ ان کا اثر و رسوخ ان ممالک پر قائم رہے۔ اس کے علاوہ داخلی سیاست میں بھی بعض حلقوں کو فائدہ ہوتا ہے کیونکہ جب عوام جذباتی نعروں میں الجھ جائیں تو احتساب اور کارکردگی کے سوال بالکل پیچھے رہ جاتے ہیں۔اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک بہت بڑی مثال سامنے آتی ہے جیسا کہ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی نے لندن پر مسلسل بمباری کی یورپ کے کئی ممالک پر قبضہ کر لیا شہر تباہ ہوئے، لاکھوں لوگ مارے گئے اور پورا براعظم یورپ خون میں نہا گیا۔ اس وقت شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ یہی ممالک ایک دن ایک دوسرے کے اتحادی بن جائیں گے۔مگر آج یورپ کے ممالک مشترکہ مفادات، تجارت اور امن کیلئے اکٹھے کھڑے ہیں۔ وہ ماضی کی خون ریزی کو بھولے نہیں مگر انہوں نے اسے مستقبل کی دشمنی کی بنیاد بھی نہیں بنایا۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے خطے میں نفرت اب صرف سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ کھیل، ثقافت اور فنونِ لطیفہ بھی اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ کرکٹ، جو کبھی دونوں ملکوں کے عوام کو قریب لانے کا ذریعہ تھی اب ایک ایسا میدان بن گئی ہے جہاں مقابلے سے زیادہ دشمنی کا تاثر دیا جاتا ہے۔ کھلاڑی ہاتھ ملانے سے گریز کرتے ہیں جیسا کہ حالیہ جاری ٹی ٹونٹی کے ایک میچ میں دیکھا گیا ۔ مشترکہ سیریز معطل ہو جاتی ہیں اور مداحوں کے دلوں میں کھیل کی خوشی کے بجائے سیاسی تلخی بھر دی جاتی ہے۔فنکاروں اور اداکاروں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ وہ لوگ جن کا کام ہی دلوں کو جوڑنا ہوتا ہے پابندیوں اور دبائو کا شکار ہو جاتے ہیں۔ موسیقی، فلم اور ادب سرحدوں سے آزاد ہونے چاہئیں مگر یہاں انہیں بھی سیاست کی دیواروں میں قید کر دیا گیا ہے لیکن اگر ہم ذرا سرحدوں سے باہر نکل کر دیکھیں تو ایک حیران کن حقیقت سامنے آتی ہے۔ برطانیہ، امریکہ اور مشرقِ وسطی سمیت دنیا کے کئی خطوں میں پاکستانی اور بھارتی ایک ساتھ کام کرتے ہیں ایک دوسرے کے گھروں میں جاتے ہیں ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہوتے ہیں۔ وہاں نہ کوئی نفرت ہے نہ کوئی جھگڑا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ عوام کے دلوں میں نہیں بلکہ سیاسی بیانیوں اور ریاستی ترجیحات میں ہے۔یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو سو سال بعد کون ہوگا جو ان ملکوں کو قریب لائے گا؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دشمنیاں ہمیشہ نہیں رہتیں مگر انہیں ختم کرنے کیلئے جرات مند قیادت اور باشعور معاشرہ ضروری ہوتا ہے۔ یورپ کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں صدیوں کے خونریز تنازعات کے بعد ممالک نے اتحاد اور تعاون کا راستہ اپنایا۔برصغیر میں بھی یہی راستہ ممکن ہے مگر اس کیلئے پہل سول سوسائٹی کو کرنی ہوگی ۔ دانشوروں، صحافیوں، اساتذہ، طلبہ اور عام شہریوں کو اپنے اپنے دائرے میں یہ آواز بلند کرنی ہوگی کہ نفرت کا کاروبار بند ہونا چاہیے۔ حکمرانوں سے یہ مطالبہ کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کریں خاص طور پر کشمیر سمیت تمام تنازعات کو سنجیدگی اور خلوص سے حل کرنے کی کوشش کریں ۔ امن کا مطلب یہ نہیں کہ اختلافات ختم ہو جائیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلافات کو جنگ کے بجائے بات چیت سے حل کیا جائے۔ اگر دونوں ممالک تجارت، ثقافت اور تعلیم کے میدان میں تعاون بڑھائیں تو نہ صرف غربت کم ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں استحکام بھی آ سکتا ہے۔آخر میں ایک سادہ سا سوال ہے کیا نفرت نے کبھی کسی قوم کو ترقی دی ہے؟ تاریخ کا جواب نفی میں ہے۔ قومیں اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب وہ اپنے ماضی کے زخموں کو یاد رکھتے ہوئے بھی مستقبل کی طرف دیکھنا سیکھتی ہیں ۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ برصغیر کے عوام یہ فیصلہ کریں کہ وہ نفرت کی سیاست کے اسیر رہیں گے یا امن اور ترقی کے راستے پر چلیں گے۔ کیونکہ اگر عوام بدلنے کا فیصلہ کر لیں تو تاریخ کا دھارا بھی بدل جاتا ہے ۔ ابتدائی طور پر کرکٹ سیریز دونوں ملکوں کے درمیان کھیلی جائے فنکاروں ،اداکاروں موسیقاروں ،شاعروں اور صحافیوں کے درمیان باہم روابط کھولے جائیں پھر آہستہ آہستہ دیگر بڑے ایشوز پر بات چیت کا آغاز کیا جائے نفرتوں قتل و غارت گری جنگوں کے کئی ادوار گزر گئے نہ پاکستان دنیا کے نقشے سے خدانخواستہ کہیں ایک سیکنڈ غائب ہوا نہ ہندوستان کو پاکستان فتح کرسکا ہاں البتہ جانی و مالی نقصان بہت ہوا یہ وقت ہے امن کا دور دورہ شروع ہو ۔
کالم
نفرتوں کی جنگیں اور دو ہمسایہ ممالک
- by web desk
- فروری 19, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 6 Views
- 1 گھنٹہ ago

