کسی بھی ریاست کیلئے نوجوان سب سے بڑا اثاثہ ہوتے ہیںلیکن جب ریاست اپنی ترجیحات کھو بیٹھے یا اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ زمینی سچائی سے کٹ جائیںتو یہی اثاثہ آہستہ آہستہ بوجھ بنا دیا جاتا ہے۔آج کا نوجوان اِسی سانحے کی چلتی پھرتی تصویر ہے۔اُس کے ہاتھ میں ڈگری ہے۔آنکھوں میںبکھرے خواب ہیں۔دل مایوسی و بے چینی سے دوچار ہے اور سامنے ایک ایسا مستقبل ہے جو اندھیرے کے سوا کچھ نہیں دکھاتاہے۔یہ وہی نوجوان ہے جو صبح یونیورسٹی جاتا تھا۔شام کو کتابیں کھولتا تھا۔رات کو مستقبل کے نقشے بناتا تھا۔ماں اُس کیلئے دعائیں مانگتی تھی۔باپ اُس کیلئے خواب دیکھتا تھا۔بہن اُس کی کامیابی کو اپنی خوشی سمجھتی تھی۔گھر کے سب چراغ اُس ایک اُمید پر جلتے تھے کہ بیٹا پڑھ لکھ کر کچھ بن جائے گااور گھر محرومی سے نکل آئے گا۔ماں نے سجدوں میں آنکھیں بچھا دیں۔صبح و شام ایک ہی دعا”یا اللہ میرے بیٹے کو کامیاب کر دے۔اِسے عزت والی روزی دے ۔ اِسے مایوسی سے بچا لے”ماں کو کیا خبر تھی کہ ڈگری کے بعد دعاؤں کا امتحان شروع ہو جائے گا۔وہ ماں جو کبھی بیٹے کے بخار پر کانپ جاتی تھی آج بیٹے کی خاموشی پر تڑپتی ہے۔وہ خاموشی جو چیختی ہے۔وہ خاموشی جو بتاتی ہے کہ اندر کچھ مر چکا ہے۔باپ جس نے اپنی جوانی مزدوری میں گزار دی۔اپنی خواہشیں بچوں کے مستقبل پر قربان کر دیں۔اپنی جمع پونجی بیٹے کی تعلیم پر لگادی ۔وہ باپ آج اخبار میں نوکریوں کے اشتہار ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک چکا ہے۔اُس کی آنکھوں میں وہ نمی ہے جو آنسو بن کر بہنے سے بھی شرماتی ہے ۔وہ باپ جو کبھی مضبوط دیوار تھاآج اندر ہی اندر ٹوٹ چکا ہے کیونکہ اُس کے بیٹے کی ڈگری دیوار سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے۔وہ بہن جس کی آنکھوں میں بھائی کا روشن مستقبل چمکتا تھاآج اِنہی آنکھوں میں نمی اُتر آئی ہے۔وہ بھائی جسے وہ فخر سے اپنی دوستوں میں بیان کرتی تھی آج اُن کے سوالوں سے بچنے کیلئے نظریں جھکا لیتی ہے اس لیے کہ اُس کے خواب بھی بکھر گئے ہیںکیونکہ بھائی کی کامیابی اُس کے اپنے خوابوں کی بنیاد تھی ۔یہ نوجوان مایوس اِس لیے نہیں کہ وہ محنت سے گھبراتا ہے۔یہ نوجوان ٹوٹا اِس لیے نہیں کہ وہ ذمہ داری سے بھاگنا چاہتا ہے۔یہ نوجوان اِس لیے بکھرا ہے کہ اِس کی محنت کی کوئی قدر نہیں۔اِس کی قابلیت کی کوئی قیمت نہیں۔ اِس کی ڈگری کسی فائل میں دب کر رہ گئی ہے اور اِس کے خواب سفارش کی میز پر کچل دیئے گئے ہیں۔ریاست نے نوجوان کو وعدے دئیے ۔میرٹ کا شور مچایا۔روشن مستقبل کے نعرے لگائے لیکن جب عملی زندگی شروع ہوئی تو سامنے رشوت تھی۔ سفارش تھی۔اقربا پروری تھی اور ایک ایسا نظام تھاجہاں امتحان وہ پاس کرتا ہے مگر نوکری کسی اور کے نام لگ جاتی ہے۔نوجوان سوال کرتا ہے اِسے جواب نہیں ملتا۔ نوجوان احتجاج کرتا ہے اِسے مسئلہ قرار دے دیا جاتا ہے ۔ نوجوان حق مانگتا ہے تو اِسے خطرہ سمجھ لیا جاتا ہے یوں آہستہ آہستہ ریاست اُس کیلئے ماں نہیں رہتی ایک بے رحم ادارہ بن جاتی ہے جس سے وہ خوفزدہ بھی ہے اور بدظن بھی۔یہ صرف معاشی بحران نہیں ہے یہ ایک گہرا نفسیاتی المیہ ہے۔ یہی ٹوٹا ہوا نوجوان یا تو ملک چھوڑ دیتا ہے یا پھر اِسی ملک میں ایک زندہ لاش بن کر جیتا ہے۔اس کیلئے ہجرت اب خواہش نہیں رہی ایک مجبوری بن چکی ہے۔یہ نوجوان وطن سے نفرت نہیں کرتالیکن ذلت کے ساتھ جینے سے انکار کرتا ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ باہر اُس کی ڈگری قابل ہے۔اُس کی مہارت کی قیمت ہے ۔ اُس کی محنت کی عزت ہے تو وہ سوال کرتا ہے کہ اپنے ہی ملک میں وہ فالتو کیوں ہے؟ایئرپورٹ پر کھڑا یہ نوجوان صرف اپنا بیگ نہیں اٹھائے ہوتاوہ اپنے خواب اٹھائے ہوتاہے۔وہ اپنی ماں کی دعائیں ، باپ کی قربانیاں،بہن کی اُمیدیںسب کچھ اپنے ساتھ لے جارہاہوتا ہے ۔ ریاست شاید اِس منظر کو ایک عدد سمجھتی ہے لیکن یہ ایک ایسا نقصان ہے جو کبھی پورا نہیں ہوتا۔ نوجوان محض افرادی قوت نہیںوہ فکری سرمایہ ہوتا ہے۔وہ تخلیق کا سرچشمہ ہوتا ہے۔وہ تبدیلی کی اُمید ہوتا ہے۔جب یہی سرمایہ باہر چلا جائے تو اندر صرف مایوسی رہ جاتی ہے ۔ خیالات سست پڑ جاتے ہیں۔کارخانوں کی چمک ماند پڑجاتی ہے ۔معیشت دم توڑجاتی ہے۔ تحقیق رُک جاتی ہے۔سُوچ مر جاتی ہے لیکن ایوانِ اقتدار میں بیٹھے لوگ اب بھی نوجوان کو بوجھ سمجھتے ہیں۔وہ اِسے شامل کرنے کے بجائے قابو کرنے کی بات کرتے ہیں۔وہ اِس سے خوفزدہ ہیںکیونکہ سوال کرنے والا نوجوان خاموش غلام نہیں ہوتا۔ریاست نوجوان سے توقعات تو رکھتی ہے لیکن مواقع نہیں دیتی۔اُسے قانون کا احترام سکھاتی ہے لیکن قانون اُس کا تحفظ نہیں کرتا۔اُسے مستقبل کہتی ہے لیکن حال میں اُس کیلئے جگہ نہیں۔اِسے ووٹ کا حق دیتی ہے لیکن فیصلہ سازی سے باہر رکھتی ہے۔یہ تضاد نوجوان کو توڑ دیتا ہے۔یہ تضاد اِسے ریاست سے دور لے جاتا ہے اور یہی دوری ایک دن بہت بڑی قیمت مانگتی ہے۔یہ مایوسی اگر یونہی بڑھتی رہی تو اِس کے نتائج صرف انفرادی نہیں ہوں گے یہ ایک قومی سانحہ بن جائے گا۔تاریخ کے اوراق چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ نوجوانوں کو فراموش کرنے والی ریاستیں یا تو عدم استحکام کی قیمت چکاتی ہیں یا اجتماعی مایوسی کی۔۔ دونوں صورتیں تباہ کن ہوتی ہیں۔یہ تحریر محض شکوہ نہیں ، یہ ایک نوحہ ہے۔یہ نوحہ کسی ایک نوجوان کا نہیںہے ۔یہ ایک پوری نسل کا مرثیہ ہے۔یہ اُن خوابوں کی قبر پر پڑھی جانے والی فاتحہ ہے جو ڈگریوں کے فولڈر میں دفن ہو گئے۔یہ اُن اُمیدوں کا نوحہ ہے جو امتحانی ہالوں سے نکل کر بیروزگاری کے طویل کوریڈور میں دم توڑ گئیں ۔ ایک چیخ ہے۔ایک وارننگ ہے۔اُس ریاست کیلئے جو اپنے سب سے قیمتی سرمائے کو خود کھو رہی ہے ۔اگر آج بھی نوجوان کو شراکت دار نہ بنایا گیا ،اگر میرٹ کو حقیقت نہ بنایا گیا،اگر ماں کی دعاؤں،باپ کی قربانیوںاور بہن کی اُمیدوں کا احترام نہ کیا گیا تو کل یہ نوحہ صرف اخبار کے صفحوں تک محدود نہیں رہے گا کیونکہ قومیں نوجوانوں کے سہارے بنتی ہیںاور جب نوجوان ہی ٹوٹ جائیںتو ریاستیں صرف نقشے میں رہ جاتی ہیں تاریخ میں نہیں۔

