کالم

پاک قازق تذویراتی شراکت داری: نئے امکانات

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کا حالیہ دور پاکستان صرف رسمی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ خطے میں ابھرتی ہوئی معاشی و جغرافیائی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور علاقائی روابط نئی ترتیب پا رہے ہیں، پاکستان اور قازقستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا قیام دور رس سوچ کا مظہر ہے۔ یہ دورہ اس امر کا اعلان ہے کہ پاکستان وسط ایشیا میں صرف سیاسی شراکت دار نہیں بلکہ ایک معاشی گیٹ وے کے طور پر اپنی جگہ بنانا چاہتا ہے، جبکہ قازقستان گرم پانیوں تک رسائی اور متنوع تجارتی راستوں کی تلاش میں پاکستان کو ایک قابل اعتماد ساتھی سمجھتا ہے۔پانچ سالہ تجارتی روڈ میپ اور آئندہ دو برس میں دو طرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف بظاہر بلند نظر آتا ہے، تاہم زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو یہ ہدف ناقابل حصول نہیں۔ پاکستان اور قازقستان کی معیشتیں ایک دوسرے کیلئے تکمیلی حیثیت رکھتی ہیں۔ قازقستان توانائی، تیل و گیس، معدنیات اور زرعی اجناس میں وافر صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ پاکستان صنعتی مصنوعات ، ٹیکسٹائل، ادویات، زرعی ٹیکنالوجی اور خدمات کے شعبے میں مسابقتی برتری رکھتا ہے ۔ 37مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کا دائرہ کار اس بات کا ثبوت ہے کہ تعاون کو محدود شعبوں تک رکھنے کے بجائے اسے ہمہ جہت بنانے کی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔توانائی اور کان کنی کے شعبے میں تعاون پاکستان کیلئے خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں توانائی کا بحران اور درآمدی انحصار ایک مستقل چیلنج رہا ہے۔ قازقستان کے ساتھ شراکت داری پاکستان کو توانائی کے متبادل اور نسبتا کم لاگت ذرائع تک رسائی فراہم کر سکتی ہے۔ اسی طرح ریلوے، ٹرانزٹ ٹریڈ اور لاجسٹکس کے معاہدے پاکستان کے اس وژن سے ہم آہنگ ہیں جس کے تحت ملک کو علاقائی رابطہ کاری کا مرکز بنایا جا رہا ہے۔ وسط ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی دینا نہ صرف پاکستان کی بندرگاہی معیشت کو تقویت دے گا بلکہ تجارتی حجم میں پائیدار اضافے کا باعث بھی بنے گا۔ اس دورے کا اہم اور اسٹریٹجک پہلو پاکستان سے روس تک مجوزہ ٹرانسپورٹ کوریڈور ہے، جو ملاقاتوں کے دوران زیر غور آیا۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو پاکستان کو یوریشیا کی ابھرتی ہوئی منڈیوں سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ کوریڈ تجارت کا راستہ نہیں بلکہ ایک جغرافیائی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے، جس سے پاکستان کی تذویراتی اہمیت میں اضافہ ہوگا اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ توازن پر مبنی تعلقات کو فروغ ملے گا۔قازق قیادت کی جانب سے پاکستان کی دفاعی ترقی کا اعتراف اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تعاون اور اعتماد کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔یہ اعتماد مستقبل میں دفاعی تربیت، ٹیکنالوجی اور عسکری تبادلوں کی صورت میں مزید مضبوط ہو سکتا ہے، جو خطے میں امن و استحکام کیلئے معاون ثابت ہوگا ۔اقتصادی فوائد کے ساتھ ساتھ اس دورے کے سفارتی مضمرات بھی غیر معمولی ہیں۔ پاکستان اور قازقستان دونوں بین الاقوامی فورمز پر اعتدال، کثیرالجہتی تعاون اور علاقائی امن کے حامی ہیں۔ اسٹریٹجک شراکت داری کا مشترکہ اعلامیہ پاکستان کیلئے وسط ایشیا میں سفارتی اثرورسوخ بڑھانے کا موقع فراہم کرتا ہے، جبکہ قازقستان کو جنوبی ایشیا میں ایک مضبوط اور قابل اعتماد شراکت دار میسر آتا ہے۔ بزنس فورم میں بڑی تعداد میں کمپنیوں کی شرکت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرکاری سطح کے فیصلوں کو نجی شعبے کی دلچسپی حاصل ہے، جو کسی بھی معاشی شراکت داری کی کامیابی کیلئے ناگزیر ہے۔تاہم اصل امتحان معاہدوں پر دستخط نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد ہے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ کئی مفاہمتی یادداشتیں فائلوں تک محدود رہ جاتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارہ جاتی ربط، نجی شعبے کی شمولیت اور مسلسل فالو اپ کے ذریعے ان معاہدوں کو ٹھوس منصوبوں میں بدلا جائے۔ اگر ایسا ہو سکا تو یہ دورہ پاکستان کیلئے صرف سفارتی کامیابی نہیں بلکہ معاشی بحالی اور علاقائی انضمام کی سمت ایک مضبوط قدم ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے