کالم

پاکستان کاروگ

پاکستان اپنی تخلیق کے دن سے آج تک ایک ایسے تضاد میں جکڑا ہوا ہے جس کا حل نہ تو آج تک ممکن ہوسکا اور نہ ہی اس جانب کوئی سنجیدہ اجتماعی قدم اٹھایا گیا۔یہ ملک ایک وطن ہے ایک خواب ہے ایک امید ہے مگر ساتھ ہی ساتھ اس خواب پر ایسے سائے پڑتے رہے جنہوں نے قوم کے اعتماد اور ریاست کے ڈھانچے کو کمزور کر دیا۔یہاں سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کس نے پیدا کیا؟سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہے کہ سات دہائیوں بعد بھی ہم بطور ریاست اور بطور قوم اپنی سمت کا تعین نہیں کرپائے۔ریاست کے بنیادی ستون کمزور ہوتے جائیں تو قومیں صرف جغرافیہ کے بل پر نہیں چل سکتیں۔پاکستان میں بھی یہی المیہ بار بار دہرایا گیا۔جمہوری فیصلے کبھی سیاسی مصلحت کی نذر ہوئے توکبھی طاقت کے غیرمتوازن مراکز کے رحم و کرم پر رہے۔یوں لگتا ہے جیسے ہم نے ریاست کو ایک ایسا میدان بنادیا ہے جہاں اختیار کو توازن کے بجائے کھینچا تانی میں پرکھا جاتا ہے۔عدلیہ ہو یا مقننہ،انتظامیہ ہو یا دیگر ریاستی ادارے ہر شعبہ اپنی اصل قوت سے محروم دکھائی دیتا ہے خاص طور پر عدلیہ کی کمزوری،فیصلوں پر دباؤ، اختیارات میں مسلسل تبدیلیاں اور آئینی ترامیم کی آڑ میں ادارہ جاتی حدود کی بازگشت یہ سب ریاستی اعتماد کو گھن کی طرح کھاتے ہیں ۔ طاقت کے محور جب عدل اور عوام سے اوپر رکھ دیئے جائیں، جب فیصلے قانون کی میز کے بجائے بند کمروں میں ہوں،جب شخصیات اداروں پر حاوی ہو جائیں،تب معاشروں میں بے چینی جنم لیتی ہے۔آج پاکستان کے ہر خطے میں،ہر طبقے میں، ہر عمر کے شہری میں وہی بے چینی صاف نظر آتی ہے۔آزادکشمیر سے گلگت بلتستان تک،سندھ سے خیبر پختونخوا تک ،پنجاب سے بلوچستان تک لوگوں کے دلوں میں سوال ہیں خوف ہیں خدشات ہیں ۔ وہ دن بدن محسوس کررہے ہیں کہ ریاست ان کی ضروریات،ان کے حقوق اور ان کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے قوم کاہر فرد اپنے وطن سے تھک چکا ہے جیسے امید کا دامن روز بروز تنگ ہوتا جارہا ہے۔سیاست ایک مقدس فریضہ تھا جو عوام کی خدمت،اجتماعی بھلائی اور قومی منصوبہ بندی کا نام تھا مگر وقت کے ساتھ وہ ایک ایسا بازار بنتا گیا جہاں حب الوطنی اور غداری کے سرٹیفکیٹ ضرورت کے مطابق تقسیم ہوتے رہے۔جسے چاہا محب وطن قرار دے دیا ، جسے چاہا غدار حالانکہ نہ پہلی مہر سچ ثبوت ہوتی ہے نہ دوسری ۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں ایسی کوئی فیکٹری نہیں جہاں حب الوطنی کی پرچیاں بانٹی جائیں کیونکہ وہاں یہ فیصلہ ادارے کرتے ہیں قانون کرتا ہے عدالت کرتی ہے تاریخ کرتی ہے لیکن پاکستان میں یہ فکری افراتفری ہماری قومی شناخت کو بھی مشکوک بناتی رہی ہے۔ہم نے اختلاف رائے کو دشمنی سمجھ لیا،تنقید کو غداری اور اصلاح کے مطالبے کو بغاوت ۔ ایسے ماحول میں ادارے کیا بہتر کام کریں گے ، حکومت کیا بہتر پالیسی بنائے گی،عوام کیا اعتماد رکھیں گے؟ ریاستیں جذبات پر نہیں چل سکتیں ، نہ ہی پسند و ناپسند کے پیمانوں پر۔ جب نظم حکمرانی میں طاقت کا توازن بگڑ جائے اور ہر محکمہ اپنے دائرہ کار سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے تو نظام ٹوٹتا نہیں،بکھرتا ہے۔پاکستان میں بھی یہی ہو رہا ہے۔کبھی سیاسی قوت کمزور کی گئی، کبھی عدلیہ پر نشتر چلائے گئے، کبھی پارلیمنٹ کے اختیارات محدود ہوئے،کبھی انتظامیہ کو متوازی قوتوں کے سامنے بے بس کیا گیا۔ نتیجہ یہ کہ ریاست بحران پر بحران کا شکار رہی اور عوام حادثے پر حادثہ سہتے رہے ۔ سانحات کا نہ رکنے والا سلسلہ دراصل ایک گہری بیماری کی علامت ہے یہ بتاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ریاست کا نظم منتشر ہے۔جب ریاست کا ہر فیصلہ شخصیات کے گرد گھومنے لگے تو پھر سانحات ہی اس نظام کی پہچان بن جاتے ہیں۔قوم اگر روز مرہ زندگی میں عدم تحفظ محسوس کرے تو ترقی کے دروازے بند ہو جاتے ہیں ۔ افراتفری ، مہنگائی ،بیروزگاری اور معاشی بدحالی اس پورے سلسلے کی صرف بیرونی علامتیں ہیں اصل خرابی اس سوچ میں ہے جو ہمیں ”قوم” نہیں بننے دیتی۔مسئلہ کسی ایک حکومت کا نہیں،کسی ایک ادارے کا نہیں، کسی ایک طبقے کا نہیں یہ سب مل جل کر پیدا ہونیوالی خرابی ہے ایک مشترکہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ہم نے اپنی انا،اپنی طاقت،اپنی ترجیحات اور اپنے مفادات کو ملک پر غالب ہونے دیا۔ آج اگر ہم خود سے یہ سوال کریں کہ کیا واقعی ہم اس ملک کے خیر خواہ ہیں تو شاید ہمارے پاس جواب بہت تلخ ہوگا کیونکہ خیر خواہ قومیں اختلاف کو دشمنی نہیں بناتیں ، اداروں کو کمزور نہیں کرتیں،عدل کو کم اہمیت نہیں دیتیں اور نہ ہی اپنے نوجوانوں کو مایوسی اور بے یقینی کے حوالے کرتی ہیں ۔ پاکستان کا مستقبل اب اسی پر منحصر ہے کہ ہم یہ مان لیں کہ اس جنگِ اختیار میں سب سے زیادہ قربانی عوام اور انصاف نے دی ہے ۔ برابری کا نظام،عدل کی بالادستی،جمہوری فیصلوں کا احترام،اداروں کی حدود کا خیال یہ وہ بنیادی اصول ہیں جن کے بغیر کوئی معاشرہ کبھی مستحکم نہیں ہوسکتا۔ اگر اس قوم نے اب بھی اپنی غلطیوں سے نہ سیکھا،اگر ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کیلئے وہ نظام نہ چھوڑا جو انہیں تحفظ، ترقی اور انصاف دے سکے تو پھر تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک اجتماعی سوچ اپنائیں،اپنی انا کو ترک کریں،ملک کے مفاد کو ذاتی مفاد سے اوپر رکھیں، طاقت کے مراکز کو متوازن کریں اور سب سے بڑھ کر یہ سمجھیں کہ ریاست کے ستون مل کر کام کرنے سے مضبوط ہوتے ہیں ، ایک دوسرے کو کمزور کرنے سے نہیں۔اگر ہم نے اب بھی رخ درست نہ کیا تو یہی بے چینی ، یہی انتشار،یہی بے یقینی ہماری آنیوالی نسلوں کی تقدیر بن جائے گی۔یہ ملک کسی ایک کا نہیں،ہم سب کا ہے۔اس کی سانسیں،اس کی دھڑکن،اس کا مستقبل سب ہم سے جڑا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے