کالم

پنجاب مریم نواز شریف اور اصلاحات

ہم بطور قوم شور کو پسند کرتے ہیں مگر اصلاح کو بالکل نہیں۔ہم اسکینڈل پر تالیاں بجاتے ہیں لیکن قانون پر عمل پر عملدرآمد سے بیزار ہوتے ہیں۔ہم ہیلمٹ پہننے کو ذلت سمجھتے ہیں ٹریفک چالان کو ظلم کہتے ہیں اور صفائی ستھرائی کو حکومت کی ذمہ داری قرار دے کر خود کو بری الذمہ کر لیتے ہیں۔پھر یہی ہم ہیں جو بدانتظامی، ٹریفک جام، گندگی اور بے ترتیبی پر حکومت کو کوستے ہیں۔اسی معاشرتی تضاد کے اندر آج پنجاب کی سیاست اور حکومت کھڑی ہے اور اسی تضاد کے بیچ مریم نواز بطور وزیراعلی ایک مشکل امتحان سے گزر رہی ہیں۔پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں ملک کی 52 سے 53 فیصد آبادی رہتی ہے یعنی تقریبا بارہ کروڑ ستر لاکھ انسانوں کا یہ صوبہ ہے ۔انتظامی طور پر دس ڈویژنز اور اکتالیس اضلاع پر مشتمل ہے۔ پنجاب کی سیاست محض صوبائی نہیں بلکہ وفاقی اقتدار کی کنجی سمجھی جاتی ہے۔ جو پنجاب جیت لے وہ پاکستان کی سیاست کا دھارا موڑ سکتا ہے۔ایسے میں مریم نواز شریف کا اقتدار سنبھالنا محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ طاقت کے روایتی مراکز کے لیے ایک پیغام بھی ہے۔ وہ اقتدار میں ایک ایسے وقت آئی ہیں جب عوام بیانیوں سے تھک چکے ہیں اور عملی کارکردگی چاہتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ واقعی اصلاحات برداشت کرنے کیلئے تیار ہے؟یہاں ایک ذاتی مشاہدہ ہوا ہے ، تقریباً پانچ سال قبل میرے سابقہ شہر لندن کے نواحی ٹاؤن وٹفورڈ کی سابق منتخب میئر اور موجودہ ہاؤس آف لارڈز کی رکن بیرونس ڈورتھی تھورن ہل ایک وفد کے ساتھ پہلی بار پاکستان اور آزاد کشمیر آئیں۔ ان دنوں میں اسلام آباد میں تھا اسلام آباد کلب میں ان سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے پہلی ہی بات ڈرائیونگ، سڑکوں کی حالت اور شہریوں کی حفاظت اور صفائی ستھرائی پر کی۔کہنے لگیں:مجھے نہیں معلوم میں اسلام آباد ایئرپورٹ سے یہاں تک اس گھمسان کی ٹریفک میں کیسے پہنچی،میں نے مسکراتے ہوئے کہا،جب ہم کافی عرصے بعد وطن واپس لوٹتے ہیں تو ایسا ہی محسوس کرتے ہیں مگر کچھ دنوں بعد عادی ہو جاتے ہیں۔یہ جملہ دراصل ہمارے قومی المیے کا خلاصہ ہے ہم بدنظمی کے عادی ہو چکے ہیں۔میں نے انہیں بتایا کہ میں خود برسوں سے پاکستان، پنجاب اور خاص کر کے راولپنڈی شہر کی حالت زار بے ہنگم ٹریفک اور ناقص منصوبہ بندی پر لکھتا رہا ہوں ۔ یاد رہے کہ میں ڈورتھی تھورن ہل کی بحیثیت مئیر تین ٹرم کے دوران انکے اچھے کاموں کی تحسین اور تنقید کرتا رہا ہوں اس کے باوجود انہوں نے تین بار مجھے حوصلہ افزائی کے ایوارڈ اور شیلڈ سے نوازا ۔حالیہ مہینوں میں میرے دورہ پنجاب خصوصا راولپنڈی ڈویژن میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے باعث میں خود کئی بار شدید ٹریفک جام میں پھنسا رہا مگر اس کے باوجود ایک بات نے مجھے خوشی دی کہ ہر تکلیف کے بعد آسانی آتی ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جو ہم سمجھنا نہیں چاہتے۔جب ٹریفک رکتی ہے تو صرف گاڑیاں نہیں رکتیں معیشت بھی سست ہو جاتی ہے ۔منظم سڑکیں، قانون کی عمل داری اور شہری نظم و نسق ہی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ مریم نواز کی حکومت اس وقت اسی مزاحمت سے نبرد آزما ہے ظاہر ہے کچھ بے ضابطگیاں اور زیادتیاں بھی ہونگیں چونکہ ہمارا معاشرہ ہی اسی کا طرح کا ہے۔صحت، تعلیم، صفائی، ماحولیات، مہنگائی کنٹرول اور گورننس میں اصلاحات سب کچھ آسان فیصلے نہیں۔ ہر اصلاح عوام سے قربانی مانگتی ہے اور ہم قربانی دینے کے زیادہ عادی بھی نہیں ہیں ۔مثبت پہلو یہ ہے کہ مریم نواز انتظامی سطح پر متحرک نظر آتی ہیں۔ بیوروکریسی کو جوابدہ بنانے افسران کی کارکردگی جانچنے، عوامی شکایات سننے ، سرکاری اسپتالوں میں سہولیات بہتر بنانے مفت ادویات، ستھرا پنجاب پروگرام، سموگ کنٹرول اور قیمتوں پر نگرانی جیسے اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کام کررہی ہے ۔ایک منفی پہلو یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا ماضی خود اس کے خلاف کھڑا ہے مسلم لیگ ن کے نزدیک ترقی ہمیشہ لاہور، راولپنڈی اور چند بڑے شہروں تک محدود رہی ہے جنوبی پنجاب، دیہی اضلاع اور گاؤں گوٹھ آج بھی بنیادی سہولیات کے منتظر ہیں۔ جبکہ پنجاب کا بجٹ کا زیادہ تر صرف لاہور پر خرچ ہوتا رہا ہے اگر یہی روایت برقرار رہی تو مریم نواز کی حکومت بھی تنقید کی زد میں ہی رہے گی۔اصل سیاسی سوال یہاں پیدا یہ ہوتا ہے کہ اگر مریم نواز پنجاب میں حقیقی ترقی اور بہتر حکمرانی کے ذریعے مسلم لیگ (ن)کا ووٹ بینک بحال کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ جماعت کیلئے ایک بڑی سیاسی کامیابی ہوگی۔ اس سے نہ صرف وفاق میں پارٹی مضبوط ہوگی بلکہ مریم نواز خود مستقبل کی قومی قیادت حتی کہ وزارتِ عظمیٰ کی مضبوط امیدوار بن سکتی ہیں میاں نواز شریف کی سب سے بڑی خواہش تو یقینا یہی ہوگی اسی مقام پر خطرات بھی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی سیاست دان عوامی حمایت، کارکردگی اور واضح مستقبل کے ساتھ ابھرتا ہے تو غیر جمہوری طاقتیں خود کو خطرے میں محسوس کرنے لگتی ہیں۔ یہ خدشہ حقیقی ہے کہ اگر مریم نواز ایک مضبوط مقبول اور مستقبل کی وزیراعظم کے طور پر سامنے آتی ہیں تو بعض عناصر ان کیخلاف متحرک ہو سکتے ہیں اس وقت مریم مخالف ہوائوں کو صرف سونگھ سکتے ہیں یہ پریشر میں لانے کی حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے۔ایسے میں سب سے بڑی دانشمندی یہی ہے کہ وزیراعلی سیاست کو دبانے کی سازش اپنے سر نہ لیں۔یہ ایک تلخ مگر سچ حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتیں اور اپوزیشن سیاست دان کسی ملک کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت ہوتے ہیں۔سیاست کو کنٹرول کرنا مخالف آوازوں کو خاموش کرنا اور اختلاف کو غداری بنانا غیر جمہوری نظام کا شیوہ ہوتا ہے۔مریم نواز کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ پاکستان میں عوام اب صرف بیانیہ نہیں بلکہ کارکردگی بھی دیکھتے ہیں۔ٹی وی اسکرینوں پر وہی وزرا اور مشیر دکھائی دینے چاہئیں جو امن، ترقی، آئین، جمہوری آزادیوں اور برداشت کی بات کریں نہ کہ وہ جو ہر رات محاذ آرائی اور نفرت کو ہوا دیں۔ وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ پی ٹی آئی کو سیاسی اسپیس دیں یہ وقت کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی پنجاب میں ایک بڑی حقیقت ہے، اسے دیوار سے لگانا نہ ممکن ہے اور نہ ہی دانشمندانہ حکمت عملی ہیسیاسی استحکام کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔آخر میں بات سادہ ہے کہ اگر مریم نواز شریف واقعی فرق ڈالنا چاہتی ہیں تو انہیں ترقی کا دائرہ جنوبی پنجاب کے گاں گوٹھوں تک پھیلانا ہوگا قانون کی عمل داری کو سیاست سے بالاتر رکھنا ہوگا اور بیانیے کے ساتھ ساتھ عملی نتائج دینے ہوں گے ۔ ورنہ ہم ہمیشہ کی طرح شور مچاتے رہیں گے اسکینڈل انجوائے کرتے رہیں گے اور اصلاحات سے بھاگتے رہیں گے اور پھر شکایت کرینگے کہ ملک آگے کیوں نہیں بڑھتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے