کالم

چھوٹے ڈیمز، سڑکیں اور عمارٹیں ٹوٹ چکیں

talat abbas

سدھر جائیں ملاوٹ ،جھوٹ ،مکرو فریب رشوت ہماری نس نس میں ہے ۔ جبکہ جو ممالک غیر مسلم ہیں وہاں ملاوٹ جھوٹ ،فریب رشوت والے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں ۔ وہ لوگ قانون پاکستان میں اس سال ڈیموں میں اور زمین میں پانی کی سطح بہت کم ہو چکی تھی ۔ ہر کوئی سوچ رہا تھا کہ اب ہمارا کیا بنے گا ؟ہم پانی کے بغیر کیسے جیئں گے ۔ اسی دوران پاکستان میں موسم برسات شروع ہوا ۔ اس موسم میں باقی موسموں کی نسبت ہمیشہ ہی زیادہ بارشیں ہوتی ہیں مگر اس سال 61 سالہ بارشوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ بارہ سال پہلے ستمبر 2010 میں بارشوں سے پورے پاکستان میں تباہی کے مناظر دنیا بھر نے دیکھے تھے ۔ اقوام متحدہ کی سفیر اداکاراہ انجیلالہ جولی تشریف لائی تاکہ پاکستان کی امداد کا تعین کیا جائے ۔ہم اسے سفیر نہیں اداکارہ کے طور پر ملتے رہے جس نے پاکستان کے حکمرانوں کے بارے میں منفی رپورٹ دی کہ انہیں خود پاکستان کی تباہ کاریوں کا احساس نہیں ہے۔اس سال اگر اقوام متحدہ کوئی اپنا نمائندہ تباہ کاریوں کا اندازہ لگانے بھیجے تو اس کا تعلق افریقہ سے ہو اداکارہ نہ ہو ۔ورنہ رپورٹ پھر وہی آئے گی ۔ اس سال بارشوں نے تمام سابق ریکارڈ تباہی کے توڑ دئے ہیں ۔مگر غیر ملکی امداد کا اعلان کسی ممالک نے نہیں کیا امید ہے کریں گے۔ قدرت نے اپنا کام کر دکھایا ، سوکھے دریا ڈیم پانی سے بھر دئے۔ اب جو کچھ کرنا ہوگا اپنی مدد آپ کے تحت ہمیں کرنا ہو گا۔اب پانی کی زیادتی کی وجہ سے ملک کے بہت سے حصوں میں سیلاب ہے ۔ جس سے دیہات شہروں کی گلیاں سڑکیں نہروں تالاب کا روپ دھار چکی ہیں ۔ دیہاتوں میں کچے مکان صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں ۔ لوگ در بدر ہو چکے ہیں ۔ہزاروں جانور مر چکے ہیں ،سینکڑوں انسان اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں ۔ بابا کرمو نے کہا آپ پریشان دکھائی دے رہیں۔بتایا اس لئے کہ آج آپ بھی پریشان دکھائی دے رہے ہیں ۔ کہا اگر کہا جائے کہ ہر پاکستانی سیلاب کی تباہ کاریوں سے پریشان حال ہے تو غلط نہ ہو گا ۔ با با کرمو نے کہا میرا سوال یہ ہے کہ عذاب پہلے کچے گھروں میں رہنے والوں پر ہی کیوں آتا ہے ؟ سیلاب سے دوسرے ممالک میں اتنی تباہی نہیں ہوتی جتنی ہمارے ہاں ہوئی ہے ۔ ایسا کیوں ہے ۔ میں نے کہا کہ اس لئے کہ ہم مسلمان ہیں وہ ذات ہم سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ پیار کرتی ہے ۔ زیادہ امیدیں رکھتی ہے ۔وہ ذات ہمیں سمجھانے کے لئے سیلاب زلزلے لاتی ہے کہ ہم مسلمان نما انسان سے ڈرتے ہیں ،قانون نافذ کرنے والے اللہ سے ڈرتے ہیں اور ہم دونوں سے نہیں ڈرتے ۔ وہ ذات سیلاب لا کر زلزلے لا کر ہمیں سمجھاتی ہے کہ اے بندے ایک لمٹ میں رہو۔ میں جو رزق تمہیں دیتا ہوں اسے دوسروں میں بھی تقسیم کیا کرو ، ہر جاندار چیز کا خیال رکھا کرو ۔ اس ذات نے ہمیں ہلال حرام کی تمیز دے رکھی ہے۔ فرق بتا رکھا ہے ۔مگر ہم نے ان سب کو مٹا رکھا ہے ۔اس لئے وہ سیلاب لاتا ہے زلزلے لاتا ہے کہ اے بندوں تم سدھر جا۔ یہ زندگی عارضی ہے تم کو میں نے خالی ہاتھ اس عارضی دنیا میں بھیجا تھا اور میں نے ہی تجھے خالی ہاتھ واپس بلا لینا ہے ۔ میں تم سے اس دنیاوی سفر کا حساب لوں گا ۔ اگر پاس ہوئے تو انعام میں جنت دوں گا اور حساب میں اگر پاس نہ ہوئے ، کسی یتیم کا مال کھایا ، فراڈ سے پیسے بنائے ، ملاوٹ دو نمبر طریقوں سے کاروبار کرتے رہے تو یہ سب ثابت ہو جانے پر سزا کے تم حق دار ہو گے پھر تمہیں جہنم میں رکھا جائے گا ۔ ہمیں زندگی گزارنے کے لئے تیس پاروں پر مشتمل خوبصورت رہنما کتاب قرآن پاک دی ۔ اس میں سب کچھ زندگی گزارنے کے طریقہ بتا دیا گیا ہے ۔ پھر انسان کے اندر ایک آلہ بھی لگا دیا گیا ہے جو برے اور غلط کام کرنے پر تمہیں اپنے اندر سے گھڑی کی طرح ٹک ٹک کی آواز دیتا ہے ۔اس آواز کو ضمیر کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ مشین ہمارے اندر کی اس وقت خراب ہو جاتی جب ہم بار بار وہ غلطی کرتے ہیں جو کام کرنے سے ہمیں اس ذات نے منع کر رکھے ہیں اسے جاری رکھتے ہیں ۔ وہ ذات غفور الرحمن ہے ۔ وہ ذات کبھی دے کر آزماتی ہے اور کسی سے لے کر آزماتی ہے ۔ جن زمینوں سے سیلاب گزر جاتا ہے وہ زمیں پھر زرخیز کر دیتا ہے ۔ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ۔ اگر کوئی مصیبت میں ہو تو اسے اس مصیبت سے نکالنے میں اس کا ساتھ دو ۔ جب دو انسانوں کے درمیان لین دین کی جنگ ہو رہی ہو تو آنکھیں بند نہ رکھو اپنی ضمیر اپنے اندازے کے مطابق شوگر کوٹنگ الفاظ میں برے کو برا ضرور کہہ دیا کریں ۔اگر نہیں سمجھتا تو کہہ دیا للہ ہی حساب تمہارا کرے گا۔ ہو سکتا ہے ڈر کر وہ سدر جائے۔جب ہمارے حساب کتاب اور معاملات زندگی خراب ہو جاتے ہیں تو ہمارے بھلائی کے لئے وہ ذات سیلاب زلزلے لے آتی ہے ۔لہٰذا ہمیں پنے معاملات کو درست کر لینا چائیے ۔ فاروق قیصر عرف انکل سرگم کی مشہور نظم کے چند اشعار پیش خدمت ہیں؛ میرے پیارے اللہ میاں ، دل میرا حیران ہے ، میرے گھر میں فاقہ ہے،اس کے گھر میں نان ہے ۔میرے پیارے اللہ میاں،لیڈر کتنے نیک ہیں ،ہم کو دیں وہ صبر کا پھل ،خود وہ کھاتے کیک ہیں ۔میرے پیارے ا للہ میاں ، سوچ کے دل گھبراتا ہے ، بند ڈبوں میں خالص کھانا، ان کا کتا کھاتا ہے ،میرا بچہ روتے روتے بھوکا ہی سو جاتا ہے۔ میرے پیارے اللہ میاں، بادل مینہ برسائے گا ، اس کا گھر دھل جائے گا، میرا گھر بہہ جائے گا ۔ ایک محکمہ موسمیات کے پروفیسر کے نام سے میسج چل رہا ہے کہ مجھے شک نہیں یقین ہے کہ موجودہ برسات کا سسٹم قدرتی نہیں ہے اسے کلا و¿ڈ سینڈنگ یعنی ہارپ ٹیکنالوجی کے ذریعے لایا گیا ۔ یہ عالمی سازش ہے ۔ایسی بارشوں کا الزام ایران پہلے ہی لگا چکا ہے ۔ اگر ایسا ہے تو ہمیں ایسے نالے نہریں پل ، بلڈنگیں بند بنانے چائیے جو نہ گریں ۔ بلوچستان میں انگریزوں کے دور کے پل ان طوفانی بارشوں سے آج بھی موجود ہیں مگر ہمارے بنائے ہوئے ڈیم سڑکیں بند بلڈنگز سب ٹوٹ چکی ہیں ۔اس لئے کہ گوروں کے دور میں کسی ٹھیکدار سے کسی نے رشوت نہیں لی ہو گی۔اب وقت کی پکار ہے کہ ملکی اداروں کو ٹھیک کریں، عوام خود ٹھیک ہو جائیں گے ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے