زندگی عجیب بھی ہے اور بے رحم بھی۔ کبھی ایک لمحے میں امید کے چراغ جلتے ہیں اور دوسرے ہی پل بجھ جاتے ہیں۔ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ قدرت جیسے ہمیں بتا رہی ہو کہ جب ہم جیسوں کے دن پھرنے لگتے ہیں تو موت آ جاتی ہے۔ آزاد پتن کا خوفناک حادثہ بھی شاید اسی اشارے میں لپٹا ہوا ایک سانحہ تھا۔ ہجیرہ سے راولپنڈی جانے والی ایک ٹوٹی پھوٹی ہائی ایس آزاد پتن کے مقام پر بے رحم ڈیم میں جا گری۔ نہ جانے کتنے خواب اس کے ساتھ ڈوب گئے، نہ جانے کتنی ماں کے دل اس کے ساتھ چیخ اٹھے۔ اس گاڑی میں ایک بیٹی، نورین، بھی بیٹھی تھی۔ ہجیرہ کی رہائشی، زندگی کی دوڑ میں پہلی بار آگے بڑھنے والی، ایک امید کا چراغ۔ دبئی میں بینک آف دبئی میں اس کی نوکری لگ گئی تھی، پروٹیکٹر کروانے راولپنڈی جا رہی تھی۔ 25 دسمبر کو اس نے دبئی جانا تھا۔ والد نے قرض لے کر ویزے اور دیگر خرچ پورے کیے تھے۔ غریب لوگ اپنی بیٹیوں کے لیے خون پسینہ بہا کر جوڑتے ہیں، ان کے ہر خواب کی قیمت چکاتے ہیں۔ یہی بیٹی اپنے گھر کے مستقبل کی ضمانت بننے نکلی تھی، مگر تقدیر کا فیصلہ کچھ اور تھا۔یہ سانحہ دل کو اس لیے بھی چیرتا ہے کہ ہم نے ہمیشہ سنا تھا کہ ماں باپ بیٹوں کو بیرون ملک بھیجتے ہیں۔ مگر اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ بیٹیاں بھی پردیس کی ٹھوکروں کے سپرد ہو رہی ہیں۔ اور ہم سب سے پہلے یہ سوال اپنے کرداروں سے، اپنی سیاست سے، اپنے نظام سے پوچھیں کہ ایک غریب گھر کی بیٹی کو کیوں سرحدیں پار کر کے رزق تلاش کرنا پڑ رہا تھا؟ کشمیر کے سیاست دانوں کو تو اللہ نے ہر رخ کا لوٹا بنا دیا ہے،کبھی ادھر، کبھی ادھر، کبھی کسی کی گود میں، کبھی کسی کی۔ مگر کیا کبھی کسی لوٹے نے یہ سوچا کہ ہماری بیٹیاں کیوں مجبور ہو کر باہر جا رہی ہیں؟ کیا کبھی کسی نے یہ پوچھا کہ ہم نے اپنے نوجوانوں کو کیا دیا؟ کیا کسی کشمیری نے یہ درد محسوس کیا کہ میرے بچے اور بچیاں کیوں رزق کی تلاش میں دیارِ غیر کا رخ کرتے ہیں؟میں جانتا ہوں، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ نورین نہ جاتی تو کسی اور شکل میں تقدیر اسے بلا لیتی۔ اس لیے یہ بحث بے معنی ہے کہ حادثہ کیوں ہوا۔ میرا دکھ یہ نہیں کہ وہ چلی گئی، میرا دکھ یہ ہے کہ وہ کیوں جا رہی تھی۔ اس ملک نے اپنے بچوں کے لیے ایسا ماحول ہی نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے گھر میں باعزت روزگار کمائیں، ماں باپ کی خدمت کریں، اپنی مٹی سے جڑے رہیں۔ آج پاکستان میں ہر گھر کے دل پر پردیس کا زخم ہے۔ ہر ماں کی دعا کسی ایئرپورٹ کے گرد گھومتی ہے۔ ہر باپ ہر مہینے واٹس ایپ پر اپنے بچے سے پوچھتا ہے:بیٹا، تنخواہ کب آئے گی؟ گھر کا قرض بڑھ رہا ہے۔باہر ہمارے نوجوان محنت کرتے ہیں۔ سعودی عرب ہو یا ابو ظہبی، قطر ہو یا بحرین، ہر جگہ پاکستانی مزدور اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ہزارہ کی معیشت آج بھی بیرون ملک جانے والے مزدوروں کے سبب چل رہی ہے۔ اور یہاں ہمارے حکمرانوں کے طرزِ حکمرانی کا یہ عالم ہے کہ وہ ایک چھوٹا سا پروٹیکٹر آف ایمیگریشن کا دفتر میرپور یا مظفرآباد میں بھی قائم نہیں کر سکتے۔ میں پچھلی بار جدہ گیا تو وہاں کے پاکستانیوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ خدا کے لیے ایبٹ آباد میں پروٹیکٹر کا دفتر بنوا، اس عذاب سے نجات دلا۔ لیکن کون سنے؟ یہاں انصاف کی قیمت ہے، سہولت کی قیمت ہے، ہمدردی کی قیمت ہے۔ لیکن غریب کی جیب خالی ہے، وہ قیمت کیسے ادا کرے۔آج نورین چلی گئی۔ ایک ماں کا سہارا، ایک باپ کی سرمایہ کاری، ایک خاندان کی امید، پانی نے سب کچھ بہا دیا۔ میں اس منظر کو دل سے نہیں نکال پا رہا۔ اور اس پر مزید درد اس وقت بڑھ جاتا ہے جب میں اپنے بچوں کی فکر کرتا ہوں۔ پچھلے دنوں شکیل کی کمر میں درد کا سنا تو میرا دل ڈول گیا۔ پردیس میں ہمارے بچے جس طرح محنت کر رہے ہیں، جیسے کاموں میں ٹوٹ رہے ہیں، وہی سمجھ سکتا ہے جس کے گھر کا بچہ باہر ہو۔اور یہاں؟ یہاں سیاست ایک کھیل ہے۔ یہاں ووٹ کی پرچی بھی کسی کی امانت نہیں رہتی۔ یہاں بلے کو دیا ہوا ووٹ کہیں جا نکلتا ہے۔ یہاں سچ کی قیمت ہے اور جھوٹ کی حکومت ہے۔ ایسے میں اگر کوئی بیٹی دبئی جا کر نوکری کرتی ہے تو یہ اس کی مجبوری ہے، نہ کہ خواہش۔ قومیں تب برباد ہوتی ہیں جب ان کے بیٹے بیچے جاتے ہیں، مگر وہ تب ختم ہو جاتی ہیں جب ان کی بیٹیاں بھی رزق کے لیے پردیس نکل پڑتی ہیں۔میں اس بچی کے والدین سے پوری قوم کی طرف سے تعزیت کرتا ہوں۔ لیکن تعزیت سے زیادہ ہمیں اس نظام سے سوال کرنا ہوگا جس نے ایک معصوم بیٹی کو موت کی راہ پر دھکیلا۔ اللہ نورین کی مغفرت فرمائے، اسے اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے۔ اور اللہ اس ملک کو وہ عقل دے جو اب تک اسے نصیب نہیں ہوئی۔یہ تحریر درد کی پکار ہے، کسی پر الزام نہیں۔ مگر اگر کسی کے دل میں انسانیت باقی ہے تو اسے یہ کالم جھنجھوڑ دے گا، شاید کسی کو جگا دے، شاید کسی دفتر کے دروازے پر دستک دے۔ اگر قومیں اپنی بیٹیوں کے لیے راستے نہیں بناتیں، تو پھر وہ قومیں زندہ رہنے کے قابل نہیں رہتیں۔

