کالم

یہودی اللہ سے لڑنے والے

(گزشتہ سے پیوستہ)
اُوس و خزرج یژب میں جاکر آباد ہوئے ۔ یثرب میںکیوں کہ یہودی چھائے ہوئے تھے،شروع میں ان کی دال نہ گھلنے دی۔یہ پنجر زمینوں پر بس گئے۔ آخر کار ان کا ایک سردار اپنے غسانی بھائیوں کے پاس شام کیا۔ ایک لشکر لا کر اس کی مدد سے یہودیوں کا زور توڑ دیا۔بنی نضٰیر اور بنی قریظہ شہر سے باہر جا کر آباد ہو گئے۔تیسرے قبیلے بنی قریظہ کی ان دونوں سے ان ابن تھی اس لیے قبیلہ خزرج کی پناہ لے کر وہیں رک گیا۔ اسکے مقابلے میں بنی نضیر اور قریظہ نے قبیلہ اُوس کی پنا لی۔تاکہ اطراف یثرب میں امن سے ر ہ سکیں۔ اس کے بعد زبان، لباس ،تہذیب ،تمدن ہرلحاظ انھوں نے عربیت کا رنگ اختیار کر لیا تھا۔حتی کی ان کی غالب اکثریت کے نام بھی عربی ہو گئے تھے۔ ١٢ یہودی قبیلے جو حجاز میں آباد ہوئے تھے، ان میں سے بنی زَ عُوراء کے سوا کسی قبیلے کا نام عبرانی نہ تھا۔ان کے چند علما کے سوا کسی کو عبرانی تک نہیں آتی تھی۔ یہودی شاعروں کا جو کلام ہمیں ملتا ہے، ان کی زبان اورخیالات اور مضامین میں شعرائے عرب سے الگ کوئی امتیازی شان نہیں پائی جاتی جو انھیں ممیز کرتی ہو۔ یہودیوں اور عربوں میں شادی بیاہ کے تعلقات قائم ہو چکے تھے۔ ان میں اور عام عربوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔ ان ساری چیزوں کے باوجود وہ عربوں میں جذب بالکل نہ ہوئے تھے۔انھوں نے شدت کے ساتھ اپنی یہودی عصبیت برقرار رکھی تھی۔یہ ظاہری عربیت انھوں نے صرف اس لیے اختیار تھی کہ اس کے بغیر وہ عرب میں رہ نہیں سکتے تھے۔ان کی اس عربیت کی وجہ سے مغربی مستشرقین کو یہ دھوکہ ہوا ہے کہ شاہد یہ بنی اسرائیل نہ تھے بلکہ یہودی مذہب قبول کرنے والے عرب تھے۔یا کم از کم ان کی اکثریت عرب یہودیوں پر مشتمل تھی۔یہودی اپنے مذہب کی عرب میں تبلیغ نہیں کی۔ جیسے نصرانی علمااپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں۔اس کے برعکس یہودیوں میں اسرائیلت کا شدید تعصب اور نسلی فخر و غرور پایا جاتا تھا۔ہل عرب کو وہ امی کہتے تھے۔جن کے معنی صرف ان پڑھ نہیں بلکہ وحشی اور جاہل کے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ان امیوں کو انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں جو اسرئیلوں کے لیے ہیں۔ ان کا مال جائز ناجائز طریقے سے مار کھانا اسرائیلوں کیلئے حلال اور طیب ہے۔عرب سرداروں کے علاوہ عام عربوں کو اس قابل نہ سمجھتے تھے کہ ان کو اپنی دین میں شامل کریں۔اس لیے کہ یہودیت محض چند اسرائیل قبیلوں کا سرمایا فخر و ناز بنی رہی۔انھیں صرف کاروبار سے لگائو تھا۔یہودی علما نے تعویز گنڈوں اور فال گیری اور جادوگری کا کاوبار خوب چمک رکھا تھا۔جس وجہ سے عربوں پر ان کے علم اور عمل کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔معاشی حیثیت سے انکی پوزیشن عرب قبائل کی بہ نسبت زیادہ مضبوط تھی۔ان کے تجارتی اور مالی مفادات کاتقاضا تھا کی عربوں میں کسی کے دوست بن کر رہیں، کسی سے نہ بگاڑیں اور نہ ان کی باہمی لڑائیوں میں حصہ لیں۔ ان کا مفاد تھا کہ عرب قبیلوں میں اتحاد نہ ہو یہ آپس میں لڑتے رہیں۔اپنے مفاد کے لیے کسی عرب قبیلہ سے دوستی کرنے پڑتی تھی۔ یثرب میں بنی قریظہ اور بنی نضیر اُوس کے حریف تھے۔ اور بنی قینقاع ،خزرج کے حریف تھے۔ ہجرت سے تھوڑی مدت پہلے اوس اور خزرج کے درمیان جوخون ریز لڑائی بعاث کے مقام پر ہوئی تھی، اس میں یہ اپنے اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے تھے۔یہ حالت تھے جب مدینے میں اسلا م پہنچا۔ وہاں ایک اسلامی ریاست قائم ہوئی۔ رسولۖاللہ نے پہلاجوکام کیا کہ اوس و خزرج اور مہاجرین کے درمیان برادری بنائی۔ دوسرا یہ تھا کہ اس مسلم معاشرے اور یہودیوں کی درمیان واضع شرائط پر ایک معاہدہ طے کیا۔ جس میں اس امر کی ضمانت دی گئی تھی کہ کوئی کسی کے حقوق پر دست درازی نہ کرے گا اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں سب متحدہ دفاع کریں گے۔ابن ہشام (ج٢ ص ١٤٧تا ١٥٠)امن معاہدہ کی شقیں درج ہیں۔ یہودی اپنا خرچ اُٹھائیں گے اورمسلمان اپنا خرچ، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکا حملہ آور کے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد کی پابند ہوں گے اور یہ کہ وہ خلوص کے ساتھ ایک دوسرے کی خیرخواہی کریںگے۔ اور ان کے دمیان نیکی وحق رسانی کا تعلق ہو گانہ کہ گناہ اور زیادتی کا، اور یہ کہ کوئی اپنے حلف کے ساتھ زیادتی نہیں کر ے گا، اور یہ کہ مظلوم کی حمایت کی جائے گی، اور یہ کہ یہ جب تک جنگ رہے یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر مصارف اٹھائیں گے۔ اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکا پر یثرب میں کسی نوعیت کا فتنہ و فساد رنا حرام ہو گا، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکا کے درمیان اگر کوئی ایسا قضیہ یا اختلاف رونما ہو جس سے فساد کا خطرہ و تو اس کا فیصلہ اللہ کے قانون کے مطابق محمدرسولۖ اللہ کریں گے اور یہ کہ قریش اور اس کے حامیوں کو پناہ نہیں دی جائے گی، اوریہ کہ کہ یثرب پر جو بھی حملہ آور ہو اس کے مقابلے میں شرکائے معاہدہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ ہر فریق اپنی جانب کے علاقے کی مدافعت کا ذمہ دار ہو گا۔یہ ایک قطعی اور واضع معاہدہ تھا جس کی شرائط یہودیوںنے خود قبول کی تھیں۔لیکن بہت جلد انھوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ روش کا اظہار شروع کر دیا اوران کا عناد روز بزروز سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا۔ اس کے بڑے بڑے وجوہ تین تھے۔ایک یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو محض ایک رئیس قوم دیکھنا چاہتے تھے جو اُن کے ساتھ بس ایک سیاسی معاہدہ کر کے رہ جائے اور صرف اپنے گروہ کے دنیوی مفاد سے سروکار رکھے۔ مگر انھوں نے دیکھا کہ آپۖ تو اللہ اور آخرت اور رسالت اور کتاب پر ایمان لانے دعوت دے رہے ہیں (جس میں خود اُن کے اپنے رسولوں اورکتابوں پر ایمان لانا بھی شامل تھا) اور معصیت چھوڑ کر ان احکام الہی کی اطاعت کرنے اور ان اخلاقی حدودکی پابندی کرنے کی طرف بلا رہے ہیں جن کی طرف خود ان کے انبیاء بھی دنیا کو بلاتے رہے تھے۔یہ چیزان کو سخت ناگوار تھی۔ان کو خطرہ تھا کہ اسلام کی یہ دعوت یہودیت کی مذبیت کو بہا لے جائے گا۔دوسرا یہ کہ اوس و خزرج اور مہاجرین کا بھائی بھائی بنتے دیکھ کر،گرد و پیش کے عرب قبائل دعوت قبول کرتے دیکھ کر انھیں خطرہ محسوس ہوا کہ وہ صدیودں سے عربوںکو لڑا تے رہیں ،اب نہ لڑا سکیں گے کیونکہ یہ بھائی بھائی بن گئے ہیں۔ تیسرا یہ کہ معاشرے اور تمدن کی جو اصلاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کر رہے تھے، اس میں کاروبار اورلین دین کے تمام ناجائز طریقوں کا سدباب شامل ہے۔ سود کو بھی آپۖ ناپاک کمائی اور حرام خوری رار دے رہے تھے، جس سے انھیں خطرہ تھا کہ اگر عرب پر آپ کی فرمانروائی قائم ہو گئی تو آپۖاسے قانوناً ممنوع کر دیں گے، جو فتح مکہ کے موقع پر حرام قرار دے دیا گیا تھا۔ اس میں ان کو اپنی موت نظر آتی تھی۔ان وجوہ سے یہود نے آپۖ کی مخالفت کو اپنا قومی نصب العین بنا لیا۔ آپ ۖ کو زک دینے کے کوئی چال ،کوئی تدبیر اور کوئی ہتھگنڈا استعمال کرنے میں ان کو ذرہ بربار تامل نہ تھا۔ وہ آپۖ کے خلاف طرح طرح کی جھوٹی باتیں پھیلاتے تھے کہ لوگ آپۖ سے بدگمان ہو جائیں۔ اسلام قبو ل کرنے والوں کے دلوں میں ہر قسم کے شکوک و شبہات اور وسوسے ڈالٹے تھے۔ تاکہ لوگ آپۖ سے برگشتہ ہو جائیں۔ خود جھوت موٹ کا اسلام قبول کر نے کے بعد مرتد ہو جاتے تھے۔ تاکہ لوگوں میں اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زیادہ سے زیادہ غلط فہمیاں پھیلائی جا سکیں۔ فتنے برپاکرنے کیلئے منافقین سے ساز باز کرتے تھے۔(…جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے