صحت

یہ درمیانی عمر کا شخص اپنا جسم بدلنے میں کیسے کامیاب ہوا؟

موٹاپے کے شکار افراد کو اکثر جسمانی، جذباتی اور امراض کی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے اور وہ خود کو بہت کمزور اور اعتماد سے محروم سمجھتے ہیں۔

ویسے تو اکثر افراد خود کو اس مشکل سے زندگی بھر نہیں نکال پاتے مگر ایک اڈھیر عمر شخص نے محض 150 دن میں اپنے جسم کو بدلنے کا حیران کن کارنامہ سرانجام دیا اور اب اس کا راز بھی بتادیا ہے۔

ویسے تو بیشتر مردوں کو اپنا جسم بنانے کا شوق ہوتا ہے مگر شادی اور دیگر مصروفیات کے نتیجے میں زیادہ دھیان نہیں دے پاتے جس کے نتیجے میں توند اور کھال لٹکنے لگتی ہے۔

ایسا ہی کچھ جریمیا پیٹرسن نامی شخص نے کرکے دکھایا اور اپنی توند کو سکس پیک میں بدل کر کھایا۔

یہ شخص ایک دن اپنے خاندان یعنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ ہائیکنگ کا منصوبہ بنارہا تھا تاکہ یادگار ایڈونچر کا حصہ بن سکے مگر بہت زیادہ وزن نے اسے ارادہ بدلنے پر مجبور کردیا۔

اس شخص کے مطابق ‘میری سانس پھول گئی تھی اور مجھے اپنے بچوں سے پہلے ہی رکنا پڑا تھا’۔

جریمیا کا کہنا تھا کہ یہ وہ موقع تھا جب مجھے احساس ہوا کہ اب میری زندگی پہلے جیسی نہیں رہی حالانکہ وہ اپنے دل میں بچوں کے ساتھ اچھی یادوں کو جگہ دینا چاہتا تھا مگر وہ خود کو تھکاوٹ اور سانس پھولنے کے مسائل کا شکار پارہا تھا۔

اس موقع پر اس شخص نے فیصلہ کیا کہ اب زندگی میں سنجیدگی سے تبدیلیاں لانا ہوں گی۔

اور پھر انہوں نے 5 ماہ میں 92 پاﺅنڈ وزن کم کیا اور جسمانی چربی کو نمایاں حد تک گھٹا دیا، مگر یہ کیسے ہوا؟

وہ خود بتاتے ہیں کہ انہیں کبھی احساس نہیں تھا کہ وہ اتنے سست ہیں اور اس احساس نے زندگی بدلنے کے فیصلے پر مجبور کیا۔

اس کا راز کم غذا اور ورک آﺅٹ میں چھپا ہوا تھا۔

ایک انسٹاگرام پوسٹ میں جریمیا نے لکھا ‘کم کھائیں تاکہ آپ کو پتا چلے کہ بھوکا ہونا کیسا ہوتا ہے، اپنی زندگی جینا شروع کریں، اپنے خوابوں کا تعاقب کریں، میں جانتا ہوں کہ میں ایسا کرسکتا ہوں اور میں نے کیا، اور اس حکمت عملی نے کام بھی کیا’۔

اب وہ خود ایک ٹرینر کے طور پر کام کررہے ہیں اور یقین رکھتے ہیں جب وہ خود کو بدل سکتے ہیں تو کوئی بھی ایسا کرسکتا ہے۔

روزانہ 3 کھجوریں کھانے کے یہ فائدے جانتے ہیں؟

ماہ رمضان میں ایک پھل ایسا ہوتا ہے جس کے بغیر افطار کا تصور بھی ممکن نہیں ہوتا اور وہ ہے کھجور۔

ویسے تو کھجوروں کو سپرفوڈ نہیں سمجھا جاتا مگر یہ صحت کے لیے کسی سے کم نہیں۔

یہ صحت کو بہت زیادہ فوائد پہنچانے والا پھل ہے جسے ہر ایک کو ضرور کھانا چاہیے۔

کھجور کھانا سنت نبوی ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ افطار یا عام دنوں میں بھی روزانہ صرف 3 کھجوروں کو کھانا صحت کے لیے کتنا فائدہ مند ہے؟

اگر نہیں تو جان لیں۔

خون کی کمی دور کرنے میں مددگار

کھجور بے وقت کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد دینے والا موثر ذریعہ ہے جبکہ یہ آئرن کی سطح بھی بڑھاتی ہے، جس سے خون کی کمی جلد دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم کھجور کے استعمال کے حوالے سے بھی ذیابیطس کے مریضوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔

ہڈیاں کی صحت بہتر ہوتی ہے

طبی ماہرین کے مطابق کھجوروں میں کاربن موجود ہے جو ہڈیوں کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، ایک اور تحقیق میں یہ دریافت کیا گیا کہ کھجور میں موجود منرلز جیسے فاسفورس، پوٹاشیم، کیلشیئم اور میگنیشم ہڈیوں کو مضبوط بناکر ہڈیوں کے بھربھرے پن جیسے امراض کے خلاف لڑتا ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے

ہڈیوں میں فائبر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ نظام ہاضمہ کے مناسب افعال کے لیے بہت ضروری جز ہے۔ فائبر کے استعمال سے قبض کی روک تھام ہوتی ہے جبکہ آنتوں کی سرگرمیاں تیز ہوتی ہیں۔ برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا کہ جو لوگ روزانہ کھجور کھانے کے عادی ہوتے ہیں، ان کا نظام ہاضمہ دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ بہتر کام کرتا ہے۔

تناﺅ اور ڈپریشن سے لڑنے میں مددگار

کھجوروں میں وٹامن بی سکس بھی موجود ہوتا ہے جو کہ جسم میں سیروٹونین اور norepinephrine بنانے میں مدد دیتا ہے جس سے دماغی صحت بہتر ہوتی ہے۔ سیروٹونین مزاج کو ریگولیٹ کرتا ہے جبکہ norepinephrine تناﺅ سے لڑتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن بی سکس کی جسم میں کم مقدار اور ڈپریشن کے درمیان تعلق موجود ہے، وٹامن بی سکس کا زیادہ استعمال صرف جسم کو نہیں بلکہ ذہن کو بھی تیز کرتا ہے۔

جسمانی توانائی بڑھتی ہے

فائبر، پوٹاشیم، میگنیشم، وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس کی موجودگی کھجور کو بہترین پھل بناتی ہے، جبکہ اس میں موجود شکر اور گلوکوز جسم کو فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق کھجور صرف جسمانی توانائی ہی نہیں بڑھاتی بلکہ یہ پھل اسے برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

امراض قلب سے تحفظ

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھجوریں ٹرائی گلیسڈر کی سطح اور تکسیدی تناﺅ کو کم کرتی ہیں، یہ دونوں امراض قلب کا باعث بننے والے مرکزی عوامل ہیں، کھجوروں میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کی سطح کم کرتی ہے جس سے فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ دل کے مسائل سے بھی تحفظ ملتا ہے۔

کینسر کا خطرہ کم کرے

کھجوروں کو کھانے کی عادت ہاضمے کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور معدے میں نقصان دہ بیکٹریا کی مقدار کم کرتی ہے جن کا آنتوں میں پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ جو لوگ کھجوروں کو کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان کے معدے میں فائدہ مند بیکٹریا کی نشوونما ہوتی ہے جو آنتوں میں کینسر زدہ خلیات کو پھیلنے سے بچاتا ہے۔

موسمی الرجی سے تحفظ

دنیا بھر میں کروڑوں افراد موسموں میں تبدیلی سے لاحق ہونے والی الرجی کا شکار ہوتے ہیں اور اچھی بات یہ ہے کہ کھجوریں اس سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھجوریں موسمی الرجی سے متاثر ہونے والے افراد میں ورم کا خطرہ کم کرتی ہیں۔

جسمانی وزن میں کمی

کھجور کھانا جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مدد دیتا ہے، ان میں موجود فائبر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے جبکہ بلڈگلوکوز کو بڑھنے سے روکتا ہے۔ اس کے علاوہ کھجوروں میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسم سے زہریلے مواد کو خارج کرکے ہاضمہ تیز کرتے ہیں جس سے میٹابولزم تیز ہوتا ہے۔

اکثر افراد کی پسندیدہ غذا صحت کے لیے تباہ کن

جب بات کی صحت کی ہو تو تمباکو نوشی کو تباہ کن سمجھا جاتا ہے جو کہ کینسر، امراض قلب، نظام تنفس کے مسائل اور دیگر کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ آج کل ہر ایک کی پسندیدہ مخصوص غذا صحت کے لیے تمباکو نوشی سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔

جی ہاں واقعی یہ بات 195 ممالک کے افراد پر ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

امریکا کے انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایوولیشن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ناقص معیار کی غذا کا استعمال تمباکو نوشی سے زیادہ اموات کا باعث بن رہا ہے۔

درحقیقت فاسٹ یا جنک فوڈ کا شوق زندگی کی مدت کم کرتا ہے جبکہ صحت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جنک فوڈ جیسے چپس، سافٹ ڈرنکس، برگر اور دیگر کو کھانا معمول بنانا انسانوں کو درپیش چند بڑے خطرات میں سے ایک ہے خصوصاً صحت مند زندگی ایک خواب بن جاتی ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس طرح کی غذا میں غذائی اجزا کی کمی ہوتی ہے اور ان کا استعمال ترک کرکے سالانہ ایک کروڑ 10 لاکھ اموات کو آسانی سے روکا جاسکتا ہے۔

یہ اعدادوشمار تمباکو نوشی سے ہونے والی اموات سے زیادہ ہیں، کیونکہ سیگریٹ پینے سے سالانہ 80 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔

درحقیقت جنک فوڈ کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر کے نتیجے میں ہونے والی اموات ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد ہیں۔

محققین نے بتایا کہ جنک فوڈ کے استعمال سے ہونے والی 22 فیصد افراد کی عمریں 70 سال سے کم ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سبزیوں اور غذائی اجزا کو خوراک سے نکال کر ان کی جگہ فاسٹ فوڈ کو دینا ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت دیگر جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

تحقیق میں مشورہ دیا گیا کہ فاسٹ فوڈ کی جگہ صحت بخش غذا جیسے اجناس اور سبزیوں کو دینا لمبی اور صحت مند زندگی کے حصول میں مدد دے سکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ امیر ممالک میں لوگوں کے اندر صحت کے لیے نقصان دہ غذاﺅں کے استعمال کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے ، وہاں لوگ زیادہ گوشت اور پراسیس غذائیں کھانے کے عادی ہوتے ہیں جبکہ سبزیاں، پھل اور اجناس کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

محققین کے مطابق دنیا بھر میں جنک فوڈ کے ساتھ سافٹ ڈرنکس کے استعمال کی شرح بھی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے جس کے نتیجے میں ذیابیطس ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔

ہفتے میں تین مرتبہ خشک میوے کھانے سے بچے کے آئی کیو میں اضافہ

اسپین: اسپین میں کئے گئے ایک مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ حاملہ خواتین مدتِ حمل کے ابتدائی دنوں میں اگر گری دار خشک میوے مثلاً بادام، پستے اور اخروٹ کھائیں تو اس سے بچے کی ذہانت (آئی کیو) میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ حمل ٹھہرنے کی پہلی سہ ماہی (ٹرائی میسٹر) اگر کوئی خاتون ہفتے میں دو سے تین اونس گری دار پھل کھائے تو امکان ہے کہ اس سے بچے کا آئی کیو بہتر ہوتا ہے۔

اس سے قبل بھی گری دار پھلوں کے بہت سے فوائد سامنے آئے ہیں جو ذیابیطس، امراضِ قلب اور بلڈ پریشر وغیرہ سے محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ بعض مطالعوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگربڑھاپے میں ذہنی کمزوری سے بچنا ہے تو بھی بادام، پستے اور اخروٹ کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ لیکن اب ان پھلوں کے زچہ اور بچہ پربہتر اثرات سامنے آئے ہیں۔

بارسلونا انسٹی ٹیوٹ آف گلوبل ہیلتھ کی جورڈی ہلویز اور ان کے ساتھیوں نے 2208 خواتین اور ان کے بچوں کا 8 سال تک مطالعہ کیا اور ان میں غذا ، ذہانت اور دورانِ حمل والدہ کی غذائی عادات کو نوٹ کیا گیا ۔ پھر پیدا ہونے والےبچے کا ڈیڑھ سال، 5 سال اور 8 سال کی عمر میں ذہنی صلاحیت کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اس سروے سے معلوم ہوا کہ جن بچوں کی ماں نے حمل کی پہلی سہ ماہی میں گری دار پھل کھائے تھے وہ اسے نظر انداز کرنے والی ماؤں کے بچوں کے مقابلے میں قدرے زیادہ ذہین تھے۔ تاہم اس پورے سروے میں ماہرین نے ماں کی عمر، تعلیم، معاشی اور سماجی حیثیت اور سگریٹ نوشی وغیرہ کو بھی شامل کیا اور ان کے منفی اثرات کو بھی الگ کرکے دیکھا۔

ماہرین نے دیکھا کہ جن بچوں کی ماؤں نے ابتدائی ایام میں 75 گرام خشک میوے کھائے تھے ان کے بچوں میں توجہ، ارتکاز اور آئی کیو میں بہتری دیکھی گئی ۔ ماہرین نے اس کی وجہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کو قرار دیا ہے جو ماں کی خوراک سے بچے کے وجود کا حصہ بن جاتی ہے اور یوں بچے کی دماغی بڑھوتری اور ذہانت میں اضافہ کرتی ہے۔

موٹاپے کا ایک اور حیران کن سبب

ایسا کون ہوگا جو گھر میں خوشگوار ماحول کا خواہش مند نہ ہو اور سب ہی اپنے شریک حیات سے ایک اچھا تعلق رکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ اپنے شوہر یا بیوی سے اکثر جھگڑا کرنے کے عادی ہیں تو ایسا کرنا آپ کی صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہے؟

امریکا میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق آپ کی یہ عادت آپ کو موٹاپے کی جانب کے جاسکتی ہے۔

اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق اپنے شریک حیات سے تکرار یا جھگڑا ایسے ہارمون کو سرگرم کردیتا ہے جو ہمیں جنک فوڈ کے استعمال پر مجبور کرسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان لڑائی سے بھوک بڑھانے والا ہارمون گیرلین کی مقدار بڑھ سکتی ہے مگر اس کا اثر ان افراد پر ہوتا ہے جو صحت مند وزن یا موٹاپے سے کچھ کم وزن کے حامل ہو۔

تحقیق میں کچھ جوڑوں کے درمیان کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ ازدواجی عدم اطمینان اور خوراک کے ناقص انتخاب کے درمیان تعلق موجود ہے، خاص طور پر لڑائی جھگڑے کے بعد لوگ ایسی غذا استعمال کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں جس میں چربی، چینی اور نمک کی مقدار بہت زیادہ ہو۔

محققین کے مطابق ایسا دعویٰ تو نہیں کیا جاسکتا ہے کہ تکرار بھوک بڑھانے کا باعث بنتی ہے مگر ان دونوں کے درمیان ایک مضبوط تعلق ضرور پایا گیا ہے۔

اس سے قبل کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بھوکے لوگ بہت جلد غصے کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان کا پیٹ خالی ہوتا ہے اور ہمارے دماغ کو خود پر کنٹرول کرنے کے حوالے سے توانائی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔

اکثر افراد کی پسندیدہ غذا صحت کے لیے تباہ کن

جب بات کی صحت کی ہو تو تمباکو نوشی کو تباہ کن سمجھا جاتا ہے جو کہ کینسر، امراض قلب، نظام تنفس کے مسائل اور دیگر کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ آج کل ہر ایک کی پسندیدہ مخصوص غذا صحت کے لیے تمباکو نوشی سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔

جی ہاں واقعی یہ بات 195 ممالک کے افراد پر ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

امریکا کے انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایوولیشن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ناقص معیار کی غذا کا استعمال تمباکو نوشی سے زیادہ اموات کا باعث بن رہا ہے۔

درحقیقت فاسٹ یا جنک فوڈ کا شوق زندگی کی مدت کم کرتا ہے جبکہ صحت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جنک فوڈ جیسے چپس، سافٹ ڈرنکس، برگر اور دیگر کو کھانا معمول بنانا انسانوں کو درپیش چند بڑے خطرات میں سے ایک ہے خصوصاً صحت مند زندگی ایک خواب بن جاتی ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس طرح کی غذا میں غذائی اجزا کی کمی ہوتی ہے اور ان کا استعمال ترک کرکے سالانہ ایک کروڑ 10 لاکھ اموات کو آسانی سے روکا جاسکتا ہے۔

یہ اعدادوشمار تمباکو نوشی سے ہونے والی اموات سے زیادہ ہیں، کیونکہ سیگریٹ پینے سے سالانہ 80 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔

درحقیقت جنک فوڈ کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر کے نتیجے میں ہونے والی اموات ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد ہیں۔

محققین نے بتایا کہ جنک فوڈ کے استعمال سے ہونے والی 22 فیصد افراد کی عمریں 70 سال سے کم ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سبزیوں اور غذائی اجزا کو خوراک سے نکال کر ان کی جگہ فاسٹ فوڈ کو دینا ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت دیگر جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

تحقیق میں مشورہ دیا گیا کہ فاسٹ فوڈ کی جگہ صحت بخش غذا جیسے اجناس اور سبزیوں کو دینا لمبی اور صحت مند زندگی کے حصول میں مدد دے سکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ امیر ممالک میں لوگوں کے اندر صحت کے لیے نقصان دہ غذاﺅں کے استعمال کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے ، وہاں لوگ زیادہ گوشت اور پراسیس غذائیں کھانے کے عادی ہوتے ہیں جبکہ سبزیاں، پھل اور اجناس کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

محققین کے مطابق دنیا بھر میں جنک فوڈ کے ساتھ سافٹ ڈرنکس کے استعمال کی شرح بھی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے جس کے نتیجے میں ذیابیطس ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔

ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی تشخیص کیلئے طبی تحقیقات کی تجویز

 کراچی: مہلک بیماریوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لاڑکانہ کے ضلع رتوڈیرو میں جہاں ایک طرف ایچ آئی وی کے ’پھیلاؤ‘ کی تشخیص کے لیے ایک طبی تحقیقات کی ضرورت ہے تو وہیں سندھ حکومت کو محفوظ خون، جراثیم سے پاک سرنجز کی فراہمی، طبعی فضلہ ضائع کرنے کا مکمل طریقہ کار اور تمام افراد بالخصوص گرفتار ڈاکٹر کی رازداری کا احترام یقینی بنانا چاہیے۔

 یہ شہ سرخیاں ذرائع ابلاغ کی زینت بنی ہوئی ہیں جن میں کہا جارہا ہے کہ لاڑکانہ میں ایک ایچ آئی وی سے متاثرہ ڈاکٹر کی وجہ سے اس علاقے میں بچوں اور بڑوں سمیت 282 افراد کو مبینہ طور پر یہ بیماری لاحق ہوئیں۔

تاہم مختلف کیسز کی یہ خبریں اس وقت سنسنی خیز اختتام کے ساتھ بند ہوئیں جب مذکورہ ڈاکٹر کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا گیا جبکہ اس وقت اس معاملے پر ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تحقیقات بھی کر رہی ہے۔

اگر ہیومن امیونوڈیفیشی اینسی وائرس (ایچ آئی وی) کا علاج نہ کیا جائے تو یہ ایکوائرڈ امیونوڈیفیشی اینسی سنڈروم (ایڈز) تبدیل ہوجاتا ہے۔

اس حوالے پاکستان اقتصادی سروے 18-2017 کے مطابق ’ابھی تک وفاقی اور صوبائی سطح پر ایڈز کنٹرول پروگرامز (اے سی پی) کو 4 ہزار 5سو ایچ آئی وی کے مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں‘، جبکہ ایک جملہ 13-2012 سے سروے رپورٹس میں مسلسل دہرایا جارہا ہے۔

ضلع لاڑکانہ میں ایچ آئی وی سے متعلق آگاہی مہم چلائی گئی—فوٹو بشکریہ ایس اے سی پی
ضلع لاڑکانہ میں ایچ آئی وی سے متعلق آگاہی مہم چلائی گئی—فوٹو بشکریہ ایس اے سی پی

دوسری جانب اقوام متحدہ کی 2017 کی ایڈز فیکٹ شیٹ کے اندازے کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ بڑے اور بچے ایچ آئی وی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

اس معاملے پر ڈان نے مہلک بیماریوں کے ماہرین تک رسائی حاصل کی تاکہ پتہ چلایا جاسکے کہ لاڑکانہ میں حالیہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے پیچھے کیا وجوہات ہیں، آیا ایچ آئی وی (یا ہیپاٹائٹس بی/سی) کے ساتھ ایک شخص ہسپتال کے شبعوں (اور کسی اور جگہ) میں کام کرسکتا ہے اور اس بیماری کے مزید پھیلاؤ کو فوری طور پر روکنے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟

اس حوالے سے میڈیکل مائیکروبائیولوجسٹ اینڈ انفیکشن ڈیزیزس سوسائٹی پاکستان کی صدر اور آغا خان یونیورسٹی میں مہلک بیماریوں کے شعبے کی سربراہ ڈاکٹر بشریٰ جمیل کا کہنا تھا کہ ’ایچ آئی وی کی وبا ایک دہائی سے زائد عرصے سے چل رہی ہے، یہ صورتحال ابھی تک غیر تصدیق شدہ ہے کیونکہ کوئی اس معاملے پر غور کرنے کا سوچتا نہیں ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی کا ’پھیلاؤ‘ وقت کے ساتھ ساتھ اس وقت سامنے آتا ہے جب ڈاکٹرز کچھ ایسی چیز کی تصدیق کریں جو عام حالات کے عمومی طریقے کے مطابق نہ ہو۔

ویب ایم ڈی پر ایک ایکسپلینر کا کہنا تھا کہ یہ بیماری کا ’پھیلاؤ اس وقت ہوتا ہے جب ایک طبقے یا خطے میں یا سیزن کے دوران توقع سے زیادہ تعداد میں بیماری سامنے آئے‘، ساتھ ہی انہوں نے یہ واضح کیا کہ ’ایپی ڈیمک اس وقت ہوتا ہے جب ایک مہلک بیماری بہت زیادہ لوگوں میں تیزی سے پھیل رہی ہو‘ جبکہ ’پین ڈیمک ایک عالمی بیماری کا پھیلاؤ ہے‘۔

ڈاکٹر بشریٰ جمیل کا کہنا تھا کہ ’ لاڑکانہ اور ملحقہ علاقوں میں ایچ آئی وی شاید اینڈیمک ہے جبکہ کیسز اس وقت سامنے آتے ہیں جب صرف کوئی اسکریننگ ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کرے، چونکہ یہ (اسکریننگ) وقفے وقفے سے ہوتی ہے تو یہ پھیلاؤ کا غلط تاثر دیتے ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اسی طرح لاڑکانہ میں وبا سے متعلق 2016 میں ہیمو ڈائی لیسس یونٹ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ تقریباً 2 دہائیوں سے بڑی تعداد میں آبادی میں ایچ آئی وی موجود ہے جبکہ غیر تصدیق شدہ بلڈ بینکس بغیر اسکریننگ کے خون فراہم کرتے ہیں اور جراثیم سے پاک کیے بغیر سرنجوں کا بڑی تعداد میں استعمال ہوتا ہے اور ابتدائی طور پر صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات اور غیر تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز موجود ہیں۔

ڈاکٹر بشریٰ نے زور دیا کہ اس بات کی آگاہی پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ (زندگی بچانے کی حد تک) کے علاوہ بے وجہ انجیکشن نومولود اور بچوں کو نہیں لگائے جائیں جبکہ سخت دیکھ بھال اور حفظان صحت کے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے خون کی منتقلی کے لیے ٹیسٹ شدہ خون کی دستیابی ضروری ہے۔

پریکٹس کےلیے محفوظ؟

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایچ آئی وی سے متاثرہ ڈاکٹر پریکٹس کرسکتا ہے تو ڈاکٹر بشریٰ جمیل کا کہنا تھا کہ ’یہ ٹھیک ہے کہ علاج حاصل کرنے والے ایچ آئی وی پوزیٹو ڈاکٹرز پریکٹس کرسکتے ہیں اور کچھ پیچیدہ سرگرمیوں کو چھوڑ کر طبی طریقہ کار میں بھی شامل ہوسکتے ہیں‘۔

اسی طرح کے خیالات کا اظہار ایس آئی یو ٹی میں مہلک بیماریوں کے شعبے کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سنیل ڈوڈانی نے بھی کیا اور بیماری کو ڈی اسٹگما ٹائیزیشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایچ آئی وی پوزیٹو کو صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے ہسپتال اور طبی شعبوں میں کام کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر سنیل ڈوڈانی نے استعمال شدہ انجیکشن کو کاٹ کر پھینکنے اور نجی کلینکس سمیت تمام طبی مراکز میں حفظان صحت کو بہتر بنانے پر زور دیا۔

مزید پڑھیں: رتوڈیرو کے 13بچوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آنے کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ میری رائے ہے کہ میڈیا کو ان تمام افراد کی رازداری کا خیال رکھنا چاہیے جن کے ٹیسٹ مثبت آئے ہوں۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر ڈوڈانی، ڈاکٹر عزیر اللہ خان ڈھیلو سمیت اس تین رکنی تکنیکی ٹیم (جس کی قیادت ڈاکٹر شہلہ باقی کر رہی ہیں) کا حصہ ہیں جو ملزم ڈاکٹر مظفر گھنگارو کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کی مدد کر رہی ہے، اس ٹیم کی جانب سے اپنی تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ جمع کروادی گئی ہے۔

اگرچہ رپورٹ کے خلاصے کو انتظامیہ کی جانب سے سامنے نہیں لایا گیا لیکن جی آئی ٹی ٹیکنیکل ٹیم کے اراکین اور دیگر مہلک بیماریوں کے ماہرین کہتے ہیں کہ موجودہ پھیلاؤ ’کثیر مقصدی‘ (کئی عوامل خاص طور پر جنیاتی یا ماحولیاتی عوامل پر منحصر ہوسکتے ہیں) اور اس سب کے لیے ایک شخص کو قربانی کا بکرا بنانا غیر منصفانہ ہے‘۔

بچھو کا زہر دماغی کینسر کے علاج میں مددگار

نیویارک: ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ فطرت کے کارخانے میں کوئی شے بے کار نہیں یہاں تک خطرناک جانور بچھو کا زہر بھی اب ایسے مریضوں کی جان بچاسکتا ہے جو دماغ کے سرطان میں مبتلا ہے۔ جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بچھو کا زہر دماغی رسولیوں کی شناخت اور سرجری میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

اسی بنا پر ایک دماغی تصویر کشی کی ایک نئی ٹیکنالوجی وضع کی گئی ہے جس کے ذریعے سرجن حضرات جراحی کے دوران کینسر سے متاثرہ رسولیاں کو بہتر انداز میں شناخت کرکے اسے نکال باہر کرسکتے ہیں۔ ابتدائی تجربات میں یہ عمل بہت امید افزا ثابت ہوا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بچھو کے زہر میں خاص پیپٹائڈ پائے جاتے ہیں جو دماغی رسولیوں سے چپک جاتے ہیں اور جب انہیں  انفراریڈ کیمرے سے دیکھا جائے تو وہ ٹیومر کی جانب اشارہ کرتےہیں جسے باآسانی شناخت کرکے نکالا جاسکتا ہے۔

دماغ میں کینسر کی جان لیوا رسولیوں کے امراض کو گلائیوماز کہا جاتا ہے جو ریڈیو تھراپی اور کیمو تھراپی کو بے اثر بنادیتےہیں۔ اکثر یہ دماغ کے وسیع حصے میں موجود ہوتے ہیں اور ان حصوں کو سرجری کے ذریعے الگ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

کینسر کی واضح تصویر لینے والی اس ٹیکنالوجی میں ایک مرکب بہت اہم ہے جسے ٹوزلرائسٹائڈ یا بی ایل زیڈ 100 کا نام دیا گیا ہے۔  یہ مرکب بچھو کے قدرتی زہر کا مصنوعی ورژن ہے۔ یہ قدرتی طور پر کینسر کے خلیے سے جڑ جاتا ہے اور اس پر انفراریڈ روشنی ڈالی جائے تو اسے دیگر کے مقابلے میں باآسانی شناخت کیا جاسکتا ہے۔

اگلے مرحلے میں اسے 17 مریضوں پر آزمایا گیا اور اس میں بہت کامیابی ہوئی ہے۔ ان مریضوں کی دماغی رسولیاں بالکل صاف دکھائی دیں۔ اس سے قبل دماغی رسولیوں کو دیکھنے والے کیمرے اور آلات بہت مہنگے اور وزنی تھے لیکن اب امید ہے کہ نئی تکنیک سے یہ کیمرے سمٹ کر چھوٹے ہوجائیں گے۔

اب ماہرین اسے مزید مریضوں پر آزما کر اس کی افادیت کو نوٹ کررہے ہیں۔ دیگرماہرین اور ڈاکٹروں نے اسے دماغی سرجری میں ایک نمایاں سنگِ میل قرار دیا ہے جس میں بچھو کے زہر میں موجود پیپٹائڈز سے مدد لی گئی ہے۔

Google Analytics Alternative