صحت

پیشاب کی نالی میں سوزش کا باعث بننے والی عام وجوہات

پیشاب کی نالی میں سوزش کافی تکلیف دہ مرض ہوتا ہے اور اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کافی لوگ ہچکچاتے بھی ہیں۔

اس انفیکشن یا سوزش کے نتیجے میں گردوں کے متاثر ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور عام طور پر اس کی علامات پیشاب میں شدید جلن اور درد کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں، جبکہ اکثر پیشاب کی شدید خواہش پیدا ہوتی ہے، رنگت بدل جاتی ہے اور بخار بھی ہوسکتا ہے، جو کہ سنگین صورتحال میں ہی چڑھتا ہے۔

اسی طرح پیشاب میں خون آنا اور بدبو دار ہونا بھی اس کی علامات ہیں۔

اگر اس بیماری کو نظرانداز کیا جائے یا اس کو پہچانہ نہ جاسکے تو یہ مثانے سے گردوں تک پھیل جاتا ہے اور گردوں کی سوزش کا باعث بن سکتا ہے جو کہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ویسے تو اس کی چند وجوہات ایسی ہیں جن پر قابو پانا مشکل ہے جیسے عمر بڑھنا، خواتین میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ خطرہ ہوتا ہے، حمل، گردوں میں پتھری، ذیابیطس اور الزائمر امراض وغیرہ۔

مگر طرز زندگی کی بھی کچھ عادات ایسی ہوتے ہیں جو اس مرض کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔

صفائی کا خیال نہ رکھنا

درحقیقت جسمانی صفائی کا خیال نہ رکھنا بھی اس بیکٹریا کی تعداد میں اضافے کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میں پیشاب کی نالی میں سوزش کا خطرہ بڑھتا ہے۔

پانی کم پینا

امریکا کی میامی یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ پانی زیادہ پینے کی عادت پیشاب کی نالی کی سوزش کا خطرہ کم کرتی ہے، خصوصاً خواتین کے لیے تو یہ عادت بہت ضروری ہے۔ تحقیق کے مطابق اس تکلیف دہ مرض سے بچنے کا آسان اور محفوظ طریقہ انفیکشن کی روک تھام کرنا ہے اور عام معمول سے ایک لیٹر زیادہ پانی پینا اس بیماری سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق خواتین میں اس مرض کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے تاہم مردوں کو بھی اس احتیاط پر عمل کرنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ پانی پینے سے مثانے میں اکھٹا ہونے والے بیکٹریا کو نکالنا آسان ہوجاتا ہے اور ان کا اجتماع نہیں ہوپاتا جو کہ اس مرض کا باعث بنتے ہیں۔

تنگ کپڑوں کا استعمال

تنگ کپڑوں کا اکثر استعمال پیشاب کی نالی میں سوزش یا انفیکشن جیسے تکلیف دہ مرض کا باعث بن سکتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ برسات یا مون سون کے موسم میں بارش اور نمی جراثیموں کی نشوونما کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے اور ٹائٹ یا تنگ کپڑوں کا استعمال پیشاب کی نالی میں سوزش کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

پیشاب روک کے رکھنا

کسی کام کی وجہ سے، سستی یا کوئی بھی وجہ ہو، ہم میں سے ہر ایک ایسا ہوتا ہے جو پیشاب کو روک کر بیٹھا رہتا ہے اور یہ کوئی برا بھی نہیں مگر اس وقت جب تک ایسا بہت زیادہ نہ کرنے لگے یا عادت ہی نہ بنالیں۔ اگر ایسی عادت بنالی جائے تو وہ انتہائی سنگین مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسا کرنے سے نقصان دہ بیکٹریا کی نشوونما بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں پیشاب کی نالی میں سوزش کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ذہین افراد میں پائی جانے والی یہ عادت آپ میں بھی ہے؟

کیا آپ اپنے آپ سے باتیں کرتے ہیں یا خود کلامی کرتے ہیں اور وہ بھی بلند آواز میں ؟ تو ہوسکتا ہے کہ لوگ آپ کو پاگل سمجھیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ یہ کسی دماغی خلل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں ذہن سے دھند صاف ہوتی ہے اور فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔

کم از کم کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں تو یہی دعویٰ سامنے آیا ہے۔

تحقیق کے مطابق خودکلامی کی عادت درحقیقت کسی فرد کی ذہانت میں اضافے کی علامت ہوسکتی ہے۔

واٹر لو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ خودکلامی کی عادت سے سوچنے اور جذبات کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے طویل المعیاد بنیادوں پر فائدہ ہوتا ہے اور یہ لوگوں کو دانشمند بنانے کے ساتھ روزمرہ کی زندگی کے معمولات کے لیے تربیت بھی فراہم کرتی ہے۔

تحقیق میں مختلف افراد میں اس عادت کا جائزہ لینے کے بعد دریافت کیا گیا کہ اس کے نتیجے میں جذباتی استحکام آتا ہے جبکہ لوگوں سے تعلق میں اطمینان بھی بڑھتا ہے جو زندگی کے منفی پہلوﺅں سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے۔

محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ خودکلامی کرنے والے افراد منکسر المزاج ہوتے ہیں اور دیگر افراد کے خیالات کو قبول بھی کرتے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ سال برطانیہ کی بنگور یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ بلند آواز میں خود سے باتیں کرنا درحقیقت ذہنی طور پر بہت زیادہ فعال افراد میں پائے جانے والی عادت ہے۔

اس تحقیق کے دوران محققین نے 28 رضاکاروں کو ایک تحریر فراہم کرتے ہوئے کہا کہ یا تو اسے بلند آواز میں پڑھیں یا خاموشی سے اپنے ذہن میں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے یہ تحریر اونچی آواز میں پڑھی، وہ اپنے کام میں زیادہ توجہ مرکوز رکھنے اور بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص کی خودکلامی دیگر افراد کو عجیب لگے، مگر اس سے لوگوں کو اپنے رویوں کو کنٹرول کرنے میں زیادہ مدد ملتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب ہم کسی مشکل کام کے دوران خود سے بات کرتے ہیں تو اس سے کارکردگی بہتر ہوتی ہے، جبکہ خود پر کنٹرول کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے۔

ان کے بقول عام طورپر خودکلامی کی عادت بہت زیادہ ذہین ہونے کی علامت ہے، درحقیقت جو لوگ خود سے باتیں کرتے ہیں، وہ زندگی میں بھی زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔

2017 میں امریکا کی وسکنسن میڈیسن یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ یہ عادت ذاتی کارکردگی اور دماغی افعال کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے کیونکہ اس سے کام پر توجہ مرکوز کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ اونچی آواز میں خود سے بات کرنے سے دماغ کے وہ حصے حرکت میں آجاتے ہیں جو یاداشت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں جبکہ اپنے جذبات سے جڑنا آسان ہوجاتا ہے۔

خاتون کے ہاں 11 ہفتوں کے فرق سے جڑواں بچوں کی پیدائش

قازقستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے 11 ہفتوں (77 دن) کے فرق سے جڑواں بچوں کو جنم دے کر ڈاکٹروں کو حیران کردیا۔

29 سالہ لیلی کونووالوا نامی خاتون جب حاملہ ہوئیں تو انہیں توقع نہیں کہ انہیں بچوں کی پیدائش کے لیے 2 بار ہسپتال جانا ہوگا۔

پہلی بار مئی میں جب ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش حمل کے 25 ویں ہفتے میں ہوئی اور دوسری بار اگست میں جب بیٹے کی پیدائش ہوئی۔

چونکہ بیٹی کی پیدائش بہت جلد ہوگئی تھی تو اس کا وزن محض ایک پونڈ سے کچھ زیادہ تھا اور اسی وجہ سے اسے کئی ماہ تک آئی سی یو میں رکھا گیا۔

خاتون نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ‘ایسا لگتا ہے کہ میرے بیٹے کو دنیا میں آنے کی جلدی نہیں تھی’۔

انہوں نے کہا ‘ڈاکٹروں نے جو کیا وہ کرشمہ تھا، انہوں نے خود کو حقیقی پروفیشنل ثابت کیا’۔

آسان الفاظ میں جڑواں بہن بھائیوں کے درمیان 11 ہفتے کا فرق ہے اور جڑواں بچوں میں اتنا وقفہ ہوتا نہیں مگر یہ پہلی بار نہیں، درحقیقت اس حوالے سے ورلڈ ریکارڈ 2012 میں بنا تھا جب بچوں کی پیدائش میں 87 دن کا فرق ہوا۔

درحقیقت قازقستان میں پیدا ہونے والے جڑواں بچوں کی تاریخ پیدائش ہی الگ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خاتون کے حمل کے دوران 2 مختلف بچہ دانیوں میں رہے تھے۔

اس طرح کے حمل کا امکان 5 کروڑ میں سے ایک ہوتا ہے، یعنی نہ ہونے کے برابر۔

مگر ایسا تو لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے کہ جڑواں بچوں کی پیدائش الگ تاریخوں میں ہو اور درمیان میں 11 ہفتوں کا فرق ہو یا ایسا جب ہوتا ہے جب ایک بچے کی پیدائش وقت سے بہت زیادہ پہلے ہوجائے۔

تاہم لیلی اور ان کے جڑواں بچے دونوں صحت مند ہیں اور اب وہ بیٹے کے ساتھ ہسپتال سے گھر جانے کے لیے تیار ہیں۔

لیلی اپنے بچوں کے ساتھ — فوٹو بشکریہ دی مرر
لیلی اپنے بچوں کے ساتھ — فوٹو بشکریہ دی مرر

رواں سال مارچ میں اس سے ملتا جلتا واقعہ بنگلہ دیش میں بھی سامنے آیا تھا جہاں 20 سالہ عارفہ سلطان نے قبل از وقت بچے کی پیدائش کے 26 دن بعد جڑواں بچوں کو جنم دیا۔

گائنی کولوجسٹ شیلا پوڈر نے بتایا کہ ’انہیں معلوم نہیں ہوا کہ قبل از وقت بچے کی پیدائش کے وقت بھی خاتون دو بچے سے حاملہ تھی‘۔

انہوں نے بتایا کہ عافہ سلطان کو 26 دن بعد ہی دوبارہ ہسپتال لایا گیا جہاں انہوں نے صحت مند جڑواں بچوں کو جنم دیا۔

سرکاری ہسپتال کے چیف ڈاکٹر دلیپ روئے نے کہا کہ ’میں نے اپنی 30 سالہ طبی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا کہ خاتون نے بچے کو جنم دیا اور محض 26 دن بعد ہی ایک بیٹے اور ایک بیٹی کو جنم دیا ہو‘۔

خیبرپختونخوا، پنجاب، بلوچستان میں انسداد پولیو مہم کا آغاز

پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا اور پنجاب میں 3 جبکہ بلوچستان میں 7 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز کردیا گیا۔

پشاور میں مہم کے آغاز میں اس کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے شخص کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے پولیس سروسز ہسپتال میں وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کی صاحبزادی نِمرہ کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا آغاز کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’انسداد پولیو مہم صوبے کے 29 اضلاع میں چلائی جائے گی‘۔

وزیر اعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ معاشرے کے تمام افراد پولیو مہم میں عوام کا ساتھ دیں اور ساتھ ہی یقین دہائی کروائی کہ پولیو ویکسین ہر لحاظ سے محفوظ ہے۔

محمود خان نے لوگوں کو تجویز دی کہ والدین پولیو ویکسی نیشن کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔

ان کا کہنا تھا کہ والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کے تعاون سے انسداد پولیو مہم کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کو ختم کریں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا کو پولیو سے پاک بنانے کا عزم کیا ہوا ہے، یہ وائرس ہمارے بچوں کا دشمن ہے اسے مل کر شکست دیں گے۔

انہوں نے عوام کو ایک مرتبہ پھر کہا کہ سرکاری محکموں سے شکایات پر پولیو ویکسی نیشن کا بائیکاٹ نہ کیا جائے۔

’پاکستان کا امن افغانستان کے ساتھ جڑا ہے‘

اپنے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پڑوسی ملک میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا امن افغانستان کے ساتھ جڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں امن قائم ہوگا تو پاکستان میں بھی امن قائم ہوجائے گا۔

امریکا اور طالبان کے درمیان جاری امن عمل سے متعلق مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پی کے کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات سے افغانستان میں امن کا قیام ممکن ہو سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ طورخم سرحد کھولنے سے صوبائی دارالحکومت پشاور تجارتی مرکز بن جائے گا جبکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور کاروبار کی نئی راہیں کھلیں گی۔

مہم کے آغاز کی تقریب میں وزیرِ صحت ہشام انعام اللہ خان، وزیرِاطلاعات شوکت یوسفزئی، وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے انسداد پولیو بابر بن عطا، سیکریٹری صحت فاروق جمیل، کوآرڈینیٹر ای او سی کامران احمد آفریدی، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ہیلتھ ڈاکٹر ارشد خان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

بابر بن عطا نے پروپیگنڈا کرنے والے شخص کو پولیو کے قطرے پلائے

وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے پولیو مہم بابر بن عطا نے انسداد پولیو مہم کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے شخص نذر محمد کو بھی پولیو کے قطرے پلائے۔

خیال رہے کہ ماشوخیل کے علاقے میں رواں سال اپریل میں مہم کے دوران پولیو کے قطروں کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کیا گیا تھا جس کی وجہ سے مہم متاثر ہوئی تھی۔

وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے انسداد پولیو مہم بابر بن عطا کا کہنا تھا کہ یہ مہم محبت کے ساتھ چلائی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ پوری دنیا میں اس مرض کا خاتمہ ہو چکا ہے اور اب ہم نے بھی اس مرض کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔

مہم کی کامیابی کیلئے وزیر صحت کی علما سے مدد کی اپیل

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت ہشام انعام اللہ خان کا کہنا تھا کہ ’میں خود ہر مہم میں پولیو کے قطرے پیتا ہوں’۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے مہم کا آغاز اپنے گھر سے کیا ہے اور پہلے اپنے بچوں کو ہی پولیو کے قطرے پلوائے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کی تقدیر کے لیے اپنے بچوں کو پولیو سے محفوظ کیا جائے اور ساتھ ہی علمائے کرام سے اپیل کی کہ اس مہم کو کامیاب بنانے میں مدد کی جائے۔

اس موقع پر علاقہ مکینوں نے بھی اپنی نادانی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کم علمی میں پولیو مہم سے بائیکاٹ کیا تھا۔

انہوں نے یقین دلایا کہ وہ انسداد پولیو کی ہر مہم کے دوران حکومت سے ہر ممکن تعاون کریں گے۔

لاہور میں پولیو مہم کا آغاز

خیبرپختونخوا کی طرح پنجاب میں بھی آج سے ہی انسداد پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر لاہور صالح سعید نے بتایا کہ صوبے میں انسداد پولیو مہم 26 اگست سے 28 اگست تک جاری رہے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پولیو مہم میں 5 ہزار سے زائد ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جبکہ پانچ سال سے کم عمر 18 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

ڈی سی لاہور نے یہ بھی بتایا کہ ٹیمیں اس وقت گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے اور پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

صالح سعید کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسسٹنٹ کمشنرز، سب رجسٹرار، متعلقہ ڈی ڈی ایچ او فیلڈ میں موجود ہیں اور پولیو ٹیموں کی سخت مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔

انہوں نے والدین سے درخواست کی کہ وہ اپنے 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔

بلوچستان میں 7 روزہ پولیو مہم

دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی انسداد پولیو مہم کا آغاز کردیا گیا ہے جو 7 روز تک جاری رہے گی۔

حکام کے مطابق کوئٹہ اور پشین میں آج سے مہم کا آغاز کیا گیا جبکہ نصیر آباد، جعفر آباد، جھل مگسی اور صحبت پور میں 28 اگست سے مہم کا آغاز کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں قلعہ عبداللہ میں 2 ستمبر سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

صوبے میں انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر 10 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

پولیو مہم کے خلاف جھوٹا ویڈیو اسیکنڈل

خیال رہے کہ رواں ماہ اپریل میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جاسکتا تھا کہ پشاور کے علاقے ماشوخیل کا رہائشی نذر محمد حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ہیں، جہاں بڈھ بیر کے اسکول کے ان بچوں کو لایا گیا ہے جنہیں انسداد پولیو مہم کے دوران طبیعت خرابی کی شکایات ہوئی تھیں۔

اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا تھا کہ نذر محمد انتظامیہ پر الزام لگاتے ہوئے بچوں کی طبیعت خرابی کی وجہ ویکسین کو قرار دے رہے ہیں اور اپنے برابر میں کھڑے بچوں کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ یہ سارے بے ہوش پڑے ہیں۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملزم بچوں کو حکم دے رہے ہیں کہ ’سوجاؤ‘ جس کے فوری بعد بچے ہسپتال کے بستر پر لیٹ جاتے ہیں جیسے وہ بیمار ہوں۔

ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مشتعل ہجوم نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پر حملہ کردیا اور وہاں موجود املاک کو شدید نقصان پہنایا۔

اس واقعے کے بعد پورے ملک میں جاری انسداد پولیو مہم بری طرح متاثر ہوئی جبکہ بڑی تعداد میں والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے بھی انکار کردیا تھا۔

بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دینے والا مزیدار میوہ

ہائی بلڈ پریشر ایک ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل قرار دیا جائے تو کم نہیں کیونکہ یہ خون کی شریانوں، دل، دماغ، گردوں اور آنکھوں سمیت جسم کے دیگر اعضا پر دباؤ بڑھاتا ہے۔

مسلسل ہائی بلڈ پریشر کا شکار رہنا جان لیوا امراض جیسے دل کی بیماریوں، ہارٹ اٹیک، فالج، دماغی تنزلی اور گردوں کے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر خون کا دباﺅ ہوتا ہے جو ہماری شریانوں کو سکیڑتا ہے اور اگر یہ دباﺅ بڑھ جائے تو فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر کا عارضہ لاحق ہوجاتا ہے۔

بلڈ پریشر ناپنے کے 2 پیمانے ہوتے ہیں ایک خون کا انقباضی دباﺅ ( systolic blood pressure) جو کہ اوپری دباﺅ کے نمبر کے لیے ہوتا ہے جو کہ دل کے دھڑکنے سے خون جسم میں پہنچنے کے دوران دباﺅ کا بھی مظہر ہوتا ہے۔

دوسرا خون کا انبساطی دباﺅ (diastolic blood pressure) ہوتا ہے جو کہ نچلا نمبر ہوتا ہے یعنی اس وقت جب انسانی دل دھڑکنوں کے درمیان وقفہ اور آرام کرتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پیمانوں سے پتا چلتا ہے کہ ہماری خون کی رگیں کتنی لچکدار ہوتی ہیں۔

ان کے بقول اگر کسی انسان کے خون کا دباﺅ 139/89 سے زیادہ ہے تو یہ ہائی بلڈ پریشر تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کے خون کا دباﺅ 140/90 سے اوپر ہوجائے تو ہم اس کے علاج کا مشورہ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں طرز زندگی میں تبدیلیاں بھی ضروری ہوتی ہیں جیسے زیادہ ورزش اور غذا میں تبدیلی۔

درحقیقت اس مرض پر قابو پانے کے لیے انسان کو خود ہی محنت کرنا ہوتی ہے۔

تاہم اچھی بات یہ ہے کہ ایک مزیدار چیز کو ہر ہفتے کچھ مقدار میں کھا کر اس خاموش قاتل مرض کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔

ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ کشمش کھانا بلڈ پریشر بڑھنے کا خطرہ کم کرسکتا ہے۔

امریکن کالج آف کارڈیالوجی کی سالانہ کانفرنس میں پیش کی جانے والی ایک طبی تحقیق کے مطابق کشمش کو کھانا معمول بنانا (دن میں تھوڑی تھوڑی مقدار میں 3 بار) بلڈ پریشر کو نمایاں حد تک کم کرسکتا ہے۔

ویسے تو یہ پہلے بھی کئی بار کہا جاچکا ہے کہ کشمش کھانا بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے مگر اس نئی تحقیق کے محققین کا کہنا تھا کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں سائنسی طور پر اس خیال کو تقویت دی گئی ہے کہ کشمش بلڈ پریشر کم کرنے میں مددگار ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اب تک طبی معلومات میں ایسے شواہد موجود نہیں تھے جو اس بات کو ثابت کرتے کہ کشمش بلڈ پریشر کو معمول پر لانے کے لیے بہترین ہے تاہم تحقیق سے معلوم ہوا کہ منہ چلانے کے لیے کھائی جانے والی دیگر اشیا کے مقابلے میں یہ میوہ صحت کے لیے زیادہ بہتر انتخاب ہے۔

تحقیق کے دوران 45 ایسے مردوں اور خواتین پر کشمش کے اثرات کا جائزہ لیا گیا جو ہائی بلڈ پریشر کے مریض بننے کے قریب تھے۔

ان افراد کو 12 ہفتے تک روزانہ کشمش سمیت مختلف پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کرایا گیا اور ان کی جسمانی سرگرمیوں کو بھی دیکھا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ دیگر اشیا کے مقابلے میں کشمش کے استعمال سے 12 ہفتوں کے دوران بلڈپریشر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

خیال رہے کہ کشمش میں موجود آئرن، پوٹاشیم، بی وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس بلڈ پریشر کو معمول میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر پوٹاشیم ہو جز ہے جو خون کی شریانوں کے تناﺅ کو کم کرتا ہے، جس سے بلڈ پریشر قدرتی طور پر کم ہوتا ہے۔

پلاسٹک کا استعمال ہمارے لیے زہرقاتل کیوں؟

کچھ عرصہ قبل ہی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)سمیت کچھ ممالک کی تنظیموں کی جانب کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سالانہ دنیا کا ہر بالغ شخص 50 ہزار پلاسٹک ذرات نگل رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ زمین کی ایسی کوئی جگہ نہیں ہیں جہاں پلاسٹک ذرات موجود نہ ہوں، سمندر کی گہرائی سے لے کر ساحل سمندر کی ریت، پانی کی بوتل سے لے کر ڈسپوزایبل کھانے کے پیکٹوں اور راستوں پر پلاسٹک یا اس کے ذرات موجود ہوتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے بھی مائکروپلاسٹک پر حال ہی میں ایک مفصل رپورٹ جاری کی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ ہوا، پینے کے پانی اور غذائی اشیاء میں پلاسٹک کے ذرات کی موجودگی سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج کل پاکستان سمیت دنیا بھر میں پلاسٹک کے استعمال کی روک تھام کے لئے بہت سے اقدامات کئے جارہے ہیں اور اسلام آباد میں پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ سندھ اور دیگر مقامات پر بھی اس طرح کی پابندی کا نفاذ جلد ہوگا۔

لیکن اب دیکھنا یہ ہے حکومتی اقدامات سے ہٹ کرعوام، جو تقریبا 70 سال سے اپنی روز مرّہ ضروریات سے لے کر باقی چیزوں میں پلاسٹک کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں، اس حکومتی فیصلے پر کس حد تک عمل درآمد کرتے ہیں. مگر اس سب سے پہلے یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ دنیا بھر میں پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرنے پر زور کیوں دیا جا رہا ہے.

پلاسٹک ایک پولیمر ہے. سائنسی اصطلاح میں پولیمرایک جیسے ایٹموں کی زنجیر کو کہتے ہیں. یہ پولیمیرز زیادہ تر کاربن اور ہائیڈروجن کے ایٹموں سے بنے ہوتے ہیں. جبکہ چند پولیمرز آکسیجن، نائٹروجن، سلفر، کلورین، فلورین، فاسفورس اور سلیکون سے بنتے ہیں.

پولیمر میں موجود یہ ایٹم آپس میں بہت زیادہ مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پلاسٹک 500 سے ایک ہزار سال تک ختم نہیں ہوتا. پلاسٹک کی اسی مضبوطی اور عرصہ دراز نہ ختم ہونے کی صلاحیت نے ہمیں اس کے استعمال کی طرف راغب کیا.

ہماری روز مرہ کی زندگی میں پلاسٹک کا استعمال اس قدر زیادہ ہوچکا ہے کہ اس کے استعمال کی بغیر زندگی مشکل محسوس ہوتی ہے. اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو پلاسٹک کی بہت سی مصنوعات ملیں گی. کسی تفریحی مقام پر مسرور ہونے کے لئے جائیں تو پلاسٹک کی بوتلیں، گلاس اور شاپروں کی موجودگی گندگی پھیلاتی نظر آئے گی.

اسی طرح اگر کسی دریا کے کنارے بیٹھے ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہونا چاہیں تو ہوا کو گرد آلود کرتے اڑتے ہوئے شاپر اس حسین نظارے پر داغ دار کردیتے ہیں.

گھروں میں استعمال کے بعد پھینک دیے جانے والا پلاسٹک نالیوں اور گٹروں میں پھس کر پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور وہی گندا پانی گلیوں اور سڑکوں پر نکل آتا ہے جس سے طرح طرح کی بیماریاں پھیلتی ہیں. گزشتہ دنوں کراچی میں شدید بارشوں کی وجہ سے گلیوں اور سڑکوں پر نظر آنے والی گندگی اسی پلاسٹک کی مرہون منت تھی اور اس کی رہی سہی کسر قربانی کے جانوروں کی آلائشوں نے نکال دی.

کھلونوں، کھانے کے برتنوں اور ڈبوں، فرنیچر اور برقی آلات میں پلاسٹک کے استعمال نے جہاں لکڑی کے استعمال کو کم کرکے جنگلات کو بچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے وہیں زمین میں دبے پلاسٹک نے زیرزمین پانی کے ذخائر کو بری طرح متاثر کیا ہے. یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں پینے کے صاف پانی کی کمی ہوتی جارہی ہے.

پلاسٹک کا استعمال صرف ماحول کے لئے ہی برا نہیں بلکہ تمام جانداروں کے لئے بھی وبال جان ہے. پلاسٹک کے شاپر میں یا ڈبے میں لی گی لذیذ غذا کسی زہر سے کم نہیں ہے. اسکول اور دفاتر جانے والے پلاسٹک کے ڈبے میں کھانا لے جاتے ہیں جو کہ مائکروویو اون میں گرم کرکے کھانے پر زہر میں تبدیل ہوجاتا ہے کیونکہ گرم ہونے پر پلاسٹک کے اجزا کھانے میں شامل ہوجاتے ہیں جوکے انسانی جسم میں داخل ہوکر کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں.

ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ بائیس فینول اے (BPA) پلاسٹک کا ایک ایسا کیمیائی جز ہے جو کینسر کا سبب بنتا ہے. اکثر پلاسٹک بنانے والے کارخانے اپنا فاضل مادے کا اخراج نہروں اور نالوں میں کرتے ہیں جس سے آبی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور اسی وجہ سے ان کی بہت سی انواع ناپید ہونے کا خطرہ بڑھنے لگا ہے.

اب بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال منڈلا رہا ہوگا کہ اب تو پلاسٹک ہماری روز مرہ استعمال کی ہر چیز میں پایا جاتا ہے اور اگر حکومت کے کہنے پر اس کا استعمال ترک کر بھی دیں تو ان کی زندگی میں بہت سی مشکلات پیدا ہوجائیں گی لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے.

آج پلاسٹک کے متبادل متعدد چیزیں موجود ہیں جن میں کاغذی لفافے ،کپڑے کے ٹھیلے اورماحول دوست شاپر شامل ہیں.

پاکستان میں حکومت کے علاوہ بہت سےتعلیمی اور صنعتی ادارے پلاسٹک کےاستعمال کے خلاف مہم چلا رہے ہیں جن میں تعلیمی ادارہ کومسٹس یونیورسٹی اسلام آباد، “گائیہ (GAIA) بیگز” اور”ذی بیگز” اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں. گائیہ (GAIA) بیگز پولی پروپائیلین (Polypropylene) پولیمیرز سے بنے ہوئے ہیں جو کہ مضبوط اور ماحول دوست کیمیائی مرکب ہے اور سب سے اہم بات کے انہیں بنانے میں زہریلی گوند استعمال نہیں کی گئی .اسی طرح زی بیگز کاغذ کے بننے لفافے ہیں جو کہ ماحول دوست ہونے کے ساتھ سستے بھی ہیں.

آخر میں یہی کہوں گی کہ ہمارے ماحول اور تمام جانداروں کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ پلاسٹک کے استعمال کو ترک کریں.

گھروں میں پلاسٹک کی مصنوعات کی بجائے چینی یا شیشے کے برتنوں کو ترجیح دیں. پلاسٹک کے شاپروں کی بجانے متبادل چیزوں کا استعمال شروع کریں. ہمیں ملک پاکستان باقی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ مشہور مقولہ ہے کہ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے لہذا ماحول اور ملک دونوں کی بہتری کے لئے ہر فرد کا کردار اہم ہے.

عمر کے خاص عرصے کا بلڈ پریشر مستقبل کی دماغی کیفیت پر اثرانداز ہوتا ہے

ایک نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ انسانی عمر کے 30 برس اور 40 برس کے پورے عشرے میں بلڈ پریشر میں جو بھی اتار چڑھاؤ واقع ہوتا ہے وہ مستقبل کی دماغی صحت پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے ماہرین نے لگ بھگ 40 برس تک لوگوں کا بغور مطالعہ کیا ہے۔

اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر عمر کے اس حصے میں فشارِ خون میں کمی بیشی ہوتی ہے تو شاید مرتے دم تک اس کے دماغ پر ہونے والے اثرات جاری رہتے ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عمر کے کس حصے میں بلڈ پریشر کا خیال رکھنا چاہیے اور کیوں؟

واضح رہے کہ بلڈ پریشر کے مرض کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔ اگر فشارِ خون قابو میں نہ رہے تو اس سے دل کے امراض، فالج اور دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں جن میں گردوں کے امراض بھی عام ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جسم کی سب سے ذیادہ آکسیجن اور خون بھی دماغ کو درکار ہوتی ہے۔

دماغ میں خون کی 15 سے 20 فیصد مقدار موجود رہتی ہے اور اگر خون کی فراہمی معمولی بھی متاثر ہوجائے تو دماغ جیسا حساس ترین عضو بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔ دماغ کو خون کی فراہمی معطل ہوجائے تو فالج کا دورہ پڑسکتا ہے۔

اس سے قبل ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کی وسطی عمر یا مڈل ایج میں فشارِ خون کی سسٹولک ریڈنگ کو 120 سے کم رکھا جائے تو آگے کی عمر میں دماغ میں سفید مادے (وائٹ میٹر) کا بڑھاؤ سست رفتار ہوتا ہے۔ دماغ میں سفید مادے کے ابھار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ انسان تیزی سے بوڑھا ہورہا ہے اور اس کے نتیجے میں مجموعی طور پر تمام دماغی اور ذہنی صلاحیتیں زوال کی جانب آمادہ ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں 40 سال کی عمر کے بعد بلڈ پریشر کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور لوگ ازخود اپنے بلڈ پریشر پرنظررکھتےہیں۔

اب برطانیہ کے پروفیسر جوناتھن شوٹ 46 ڈیٹا سیٹ میں سے 502 افراد کا ڈیٹا حاصل کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر عمر کے درمیانے حصے میں بلڈ پریشربڑھا ہوا ہو تو اس سے آگے چل کر ڈیمنشیا اور دیگر امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ یہ تحقیقات سائنسی جریدے لینسٹ نیورولوجی میں شائع ہوئی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اگر وسطی عمر میں  بلڈ پریشر میں غیرمعمولی اتار چڑھاؤ کا مرض لاحق ہوجاتا ہے تو اس سے 60 سال میں دماغی کمزوری اور کئی امراض لاحق ہوسکتے ہیں۔ سروے شروع کرتے وقت خواتین و مرد کی عمریں، 36، 43، 60 سے 65 برس اور 69 سال تھی اور جب وہ 70 برس تک پہنچے تب تک ان کے پی ای ٹی ایم آر آئی کئے جاتے رہے۔

تحقیق نے بتایا کہ اگر 36 سے 43 اور 43 سے 53 سال کی عمر میں بلڈ پریشر بڑھے کا مسلسل مرض لاحق ہوجائے تو اگلی ایک دو دہائیوں میں دماغ کا حجم سکڑسکتا ہے۔ اسی طرح دماغ میں یادداشت کے اہم مرکز ہیپوکیمپس بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس طرح ایک تعلق قائم ہوا جو بتاتا ہے کہ اگر 53 سال کی عمر میں بڑھا ہوا بلڈ پریشر معمول بن جائے تو اس سے دماغ میں سفید مادے کی افزائش میں سات فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔  لیکن 43 برس سے 53 سال کی اوسط عمر سے بگڑنے والا فشارِ خون اس شرح کو بڑھا کر15 فیصد تک بڑھاسکتا ہے۔

اس طویل تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بلڈ پریشر دماغ کو بہت حد تک نقصان پہنچاتا ہے جس کے واضح اثرات عمر کے آخری حصے میں سامنے آتے ہیں۔

چقندر صحت کیلئے کتنا فائدہ مند ہے، کیا آپ جانتے ہیں؟

سبزیوں کی بات کی جائے تو لوگوں کو چقندر کھانا بے حد پسند ہے، یہ چٹپٹی سبزی چاول اور روٹی دونوں کے ساتھ بے حد مزیدار لگتی ہے۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس خوبصورت رنگ کی سبزی کے کئی فوائد بھی ہیں، جسے کھانا یقیناً ایک بہتر انتخاب ہوگا۔

یوں تو چقندر کی پیداوار موسم سرما میں ہوتی ہے مگر یہ گرمیوں میں بھی بازار میں باآسانی دستیاب ہوتے ہیں، چقندر کی 4 خصوصیات درج ذیل ہیں جن سے آپ بھی مستفید ہوسکتے ہیں۔

حاملہ خواتین کے لیے مفید

خواتین سے متعلق امراض کے ڈاکٹرز حاملہ خواتین کو چقندر کھانے کا مشورہ دیتے ہیں کیوں کہ اس میں بڑی تعداد میں آئرن موجود ہوتا ہے جو ریڈ بلڈ سیلز بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور اکثر حاملہ خواتین کے اندر ان کی کمی ہوجاتی ہے۔

مجموعی طور پر صحت کے لیے مفید

چقندر میں مینگانیز اور بیٹین بڑی تعداد میں موجود ہوتا ہے جس سے نروس سسٹم بہتر انداز میں کام کرتا ہے۔ چقندر کو لال رنگ دینے والے اجزا بیٹالین اور ویٹامن سی قوت مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں اور بیماریوں سے بچنے میں کردار ادا کرتے ہیں، یہ کینسر سیلز کو جنم لینے سے بھی روکتے ہیں، اس کے علاوہ یہ جوائنڈس، فوڈ پوائزننگ اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کی شدت کم کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

ریلیکس رکھنے میں مدد کرتا ہے

ایک تھکا دینے والے دن کے بعد چقندر سے بنی چائے آپ کو سکون فراہم کرے گی کیوں کہ اس میں ایسے ایجنٹس شامل ہوتے ہیں جو نرو سیلز کو ریلیکس کرتے ہیں اور اس کو پینے سے جسم میں ایک ایسے ہارمون کا اجرا ہوتا ہے جسے خوشی اور سکون پہنچانے سے منسوب کیا جاتا ہے۔

بلڈ پریشر کنٹرول کرتا ہے

مانا جاتا ہے روز صبح اٹھ کر ایک گلاس چقندر کے شربت سے بلڈ پریشر کنٹرول میں آجاتا ہے اور خاص کر ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے یہ انتہائی مفید ہے، اس کے علاوہ یہ دل کے امراض میں بھی فائدہ مند ہے۔

Google Analytics Alternative