صحت

خون کی کمی دور کرنے والی غذائیں

جسم میں خون کی کمی یا انیمیا درحقیقت جسم میں خون کے سرخ خلیات کی کمی کو کہا جاتا ہے جو آکسیجن کی فراہمی کا کام کرتے ہیں۔

اس مرض میں خون کے صحت مند سرخ خلیات میں ہیمو گلوبن کی کمی ہوجاتی ہے جو جسم کے مختلف حصوں میں آکسیجن پہنچاتے ہیں، ہیموگلوبن وہ جز ہے جو خون کو سرخ رنگ دیتا ہے۔

یعنی جسم کو خون کی کمی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہیموگلوبن کی سطح کو مناسب حد تک برقرار رکھا جاسکے، کیونکہ اس کی کمی شدید تھکاوٹ اور کمزوری کے ساتھ ساتھ اینمیا کا شکار بنا سکتی ہے۔

اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہیموگلوبن کی کمی سے بچنے کے لیے آئرن سے بھرپور غذاﺅں کا استعمال بہت ضروری ہے جو کہ ہیموگلوبن کی پیداوار کے ساتھ خون کے سرخ خلیات کے لیے اہم کردار ادا کرنے والا جز ہے۔

یہاں ایسی ہی غذاﺅں کا ذکر ہے جو آپ کو اس مسئلے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، یا ہیموگلوبن کی کمی کو ان سے پورا کیا جاسکتا ہے۔

ٹماٹر

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ٹماٹر آئرن سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ جسم کو وٹامن سی بھی فراہم کرتے ہیں جو کہ آئرن کے جسم میں جذب ہونے کے عمل کو بہتر بناتا ہے۔

کشمش

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

کشمش بھی آئرن سے بھرپور میوہ ہے، جسے آسانی سے دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔

خشک خوبانی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

خون کی کمی سے بچانے کے لیے ایک اور بہترین میوہ خشک خوبانی ہے جس میں آئرن اور وٹامن سی کے ساتھ ساتھ فائبر بھی موجود ہوتا ہے جو کہ قبض سے بچانے میں مددگار جز ہے۔

شہتوت

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر آپ نے کبھی اسے نہیں کھایا تو جان لیں کہ یہ آئرن سے بھرپور پھل ہے جس میں پروٹینز کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔

کھجور

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

کھجور بے وقت کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد دینے والا موثر ذریعہ ہے جبکہ یہ آئرن کی سطح بھی بڑھاتی ہے۔ اس کے حوالے سے بھی ذیابیطس کے مریضوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔

انار

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

انار بھی ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے میں مددگار پھل ہے جس کی وجہ اس میں وٹامن سی کی موجودگی ہے جو کہ آئرن کی موجودگی کو بڑھاتی ہے۔

تربوز

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

تربوز نہ صرف جسم میں پانی کی کمی پوری کرتا ہے بلکہ جسم میں موثر طریقے سے ہیموگلوبن کی سطح بھی بڑھاتا ہے۔

آلو بخارے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

یہ پھل فائبر سے بھرپور ہے جو قبض کا بھی موثر علاج ثابت ہوتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس میں موجود آئرن ہیموگلوبن کی مقدار کو بڑھانے میں مددگار ہے۔

کلیجی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

کلیجی فائبر، پروٹین، منرلز، وٹامنز اور آئرن سے بھرپور ہوتی ہے، اس کی معتدل مقدار میں استعمال خون کی کمی کو چند دنوں میں پورا کرنے کے لیے کافی ہے، تاہم اسے زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے۔

چنے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ناشتے میں مزیدار تو لگتے ہی ہیں، اس کے ساتھ یہ پروٹین اور آئرن سے بھرپور بھی ہوتے ہیں جو کہ ہیموگلوبن کے لیے بہترین ہے۔

دالیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

دالیں بھی آئرن سے بھرپور ہوتی ہیں جبکہ ان میں موجود فائبر جسم میں صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول لیول کی سطح میں بھی کمی لاکر دل کو تحفظ دیتا ہے۔

پالک

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

پالک آئرن سے بھرپور سبزی ہے اور اسے کھانا غذائی اجزاءکو بہت تیزی سے جسم میں ہونے میں مدد دیتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ڈپریشن کا علاج مشروم میں دریافت

 لندن: مشروم کو ان کے خواص کی بنا پر ’میجک مشرومز‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں صحت کے خزانے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ اب اچھی خبر یہ ہے کہ مشرومز اداسی اور ڈپریشن کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

لندن کے مشہور امپیریل کالج کے ماہرین نے کہا ہے کہ میجک مشرومز میں ایک مرکب ’سائلوسائبن‘ پایا جاتا ہے جو ڈپریشن کو دور کرسکتا ہے۔ حالیہ تجربات میں ڈپریشن کے 20 ایسے مریض لیے گئے جن پر دوا اثر نہیں کررہی تھی۔ ان سب مریضوں کو مشروم میں پائے جانے والے مرکب سائلوسائبن کی پہلے ہفتے تک 10 ملی گرام مقدار دی گئی۔ اس کے بعد بعد اگلے ہفتے تک 25 ملی گرام خوراک دی گئی۔

ان میں سے 19 افراد کو پہلی خوراک دیتے ہی ان کے دماغ کے اسکین کئے گئے اور اس کے بعد دوسری اور تیسری خوراک کے بعد بھی دماغی اسکین کیے گئے۔ جب پہلے اور بعد میں کئے گئے اسکین کا باہمی جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ دماغی گوشے ایمگڈالا میں خون کی فراہمی کم ہوئی ہے۔ ایمگڈالا میں ہمارے جذبات چھپے ہوتے ہیں، جن میں خوف، دباؤ اور دیگر منفی جذبات بھی ہوتے ہیں۔ جبکہ دماغ کے ایک اور گوشے میں جو ڈپریشن سے وابستہ ہوتا ہے، استحکام دیکھا گیا۔

دماغی اسکین کے علاوہ ڈپریشن کے مریضوں سے سوالنامے بھی بھروائے گئے جن میں ان سے ڈپریشن کی علامات کے بارے میں پوچھا گیا۔ نہ صرف تمام مریضوں نے ڈپریشن میں کمی کا اعتراف کیا بلکہ کہا کہ ان کا دماغ کسی کمپیوٹر کی طرح ری سیٹ ہوکر مایوسی سے امید کی جانب چلا گیا ہے۔ دوسری خوراک کے بعد یہ اثر کئی ہفتوں تک جاری رہا۔

’ہم نے پہلی مرتبہ ڈپریشن میں مبتلا افراد میں یہ ثابت کیا ہے کہ باقی علاج ناکام ہونے کی صورت میں سائلوسائبن سے ان کا علاج کیا جاسکتا ہے،‘ ڈاکٹر روبن کارہرٹ ہیرس نے کہا جو اس رپورٹ کے اہم سائنسدان بھی ہیں۔ روبن کے مطابق سائلوسائبن مریضوں کو ڈپریشن سے نکلنے کی فوری چھلانگ فراہم کرسکتے ہیں۔ اس طرح وہ ڈپریشن کے نرغے سے نکل کر اپنا دماغ دوبارہ سیٹ کرسکتے ہیں۔

تاہم ماہرین نے اعتراف کیا کہ اس میں چند لوگوں کو ہی شامل کیا گیا تھا اب یہ ٹیم مشرومز کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد پر استعمال کرے گی۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈپریشن کے مریض مزید تحقیق کے بعد ہی اس سبزی کو استعمال کریں تو بہتر ہوگا۔

مچھلی کھانا دماغی امراض سے بچائے

کیا آپ کو مچھلی کھانا پسند ہے یا نہیں؟ اگر جواب انکار میں ہے تو جان لیں کہ اسے اپنی غذا کا مستقل حصہ بناکر آپ الزائمر اور ڈیمینشیا جیسے دماغی امراض کا خطرہ ٹال سکتے ہیں۔

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

الزائمر سوسائٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ دماغ کے لیے فائدہ مند جز ہے اور مچھلی کے ذریعے اسے جسم کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق مچھلی میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ ذہن اور دماغی افعال کے لیے اہم ہے۔

تحقیق کے مطابق مچھلی کو غذا کا حصہ بنا کر عمر بڑھنے سے آنے والی ذہنی تنزلی کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے جبکہ دیگر طبی فوائد الگ ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اکثر مچھلیوں میں فاسفورس موجود ہوتا ہے جو کہ دانتوں، ہڈیوں کے لیے اہم ہوتا ہے جبکہ اس میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کو صحت مند سطح پر رہنے میں مدد دیتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہفتے میں دو بار مچھلی کا کہنا دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سال بھی ایک امریکی طبی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ مچھلی کھانے سے جسم میں اس جینز کی موجودگی کا خطرہ کم ہوتا ہے جو کہ الزائمر کا باعث بنتا ہے اور ہر طرح کا سی فوڈ لوگوں کو یہ فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق جو لوگ مچھلی کے تیل کا سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں اور مچھلی نہیں کھاتے، انہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

ایک امرود کے لاتعداد فوائد

امرودوں کا موسم اب شروع ہوچکا ہے، جن پر چاٹ مصالحہ چھڑک کر کھانا تقریباً ہر ایک کو ہی پسند ہوتا ہے۔

مگر یہ صرف منہ کا ذائقہ ہی دوبالا نہیں کرتا بلکہ اس میں ایسے اجزاء بھی موجود ہوتے ہیں جو اسے صحت کے لیے بہترین پھل بناتے ہیں۔

وٹامن سی سے بھرپور یہ پھل کتنے فوائد کا حامل ہے، وہ درج ذیل ہے۔

کینسر کا خطرہ کم کرے

امرود میں موجود وٹامن سی، لائیکو پین اور دیگر اجزاء ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس کا کام کرتے ہیں جو جسم میں نقصان دہ اجزاء کی سطح کم کرتے ہیں، جس سے کینسر زدہ خلیات کی نشوونما نہیں ہوتی۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہتر

فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے امرود ذیابیطس کو بڑھنے سے روکتا ہے اور بلڈ شوگر کی سطح کو ریگولیٹ کرتا ہے۔

دل کو صحت مند بنائے

امرود کھانے سے جسم میں نمک یا سوڈیم اور پوٹاشیئم کے توازن میں بہتری آتی ہے جس سے بلڈ پریشر کنٹرول میں آتا ہے، یہ پھل صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول اور دیگر عناصر کی سطح بھی کم کرتا ہے جو کہ امراض قلب کا باعث بنتے ہیں۔

قبض کشا

اس میں غذائی فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور ایک امرود ہی فائبر کی روزانہ کے لیے ضروری مقدار کا 12 فیصد حصہ جسم کو فراہم کردیتا ہے جو کہ نظام ہضم کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے، امرود کے بیج بھی قبض کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

بینائی بہتر کرے

امرود میں وٹامن اے پایا جاتا ہے جو کہ آنکھوں کی صحت کے لیے بہترین ہے، یہ پھل نہ صرف عمر بڑھنے کے ساتھ بینائی میں آنے والی تنزلی سے تحفظ دیتا ہے بلکہ اسے بہتر بھی کرتا ہے۔ یہ موتیے کے مرض کی رفتار کو بھی سست کرتا ہے۔

حاملہ خواتین کے لیے بہتر

اس پھل میں فولک ایسڈ موجود ہوتا ہے جو حاملہ خواتین کو استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

دانتوں کے درد کو کم کرے

امرود میں ورم کش خصوصیات بھی ہوتی ہیں اور جراثیم کش ہونے کی وجہ سے بھی یہ انفیکشن کے خلاف جدوجہد کرتا ہے جبکہ جراثیموں کو مارتا ہے، اس لیے اسے کھانا دانت کے درد کے لیے اچھا گھریلو ٹوٹکا ثابت ہوتا ہے۔

تناﺅ کم کرے

امرود میں موجود میگنیشم، مسلز اور اعصاب کو پرسکون کرتا ہے، لہذا دن بھر کے کاموں کے بعد اسے کھانے سے مسلز کو سکون ملتا ہے، ذہنی تناﺅ کم ہوتا ہے جبکہ جسمانی توانائی بڑھتی ہے۔

دماغی پھل

اس پھل میں وٹامن بی تھری اور بی سکس بھی موجود ہے جو کہ دماغ کی جانب خون کی فراہمی کو بہتر کرتے ہیں اور ذہنی افعال کو تحریک دینے کے ساتھ اعصاب کو بھی سکون پہنچاتے ہیں۔

موٹاپے سے تحفظ

اگر آپ جسمانی وزن میں کمی لانا چاہتے ہیں تو امرود کھانا شروع کردیں، جس سے آپ کو اپنی غذا میں پروٹینز، وٹامنز اور فائبر میں کمی نہیں لانا پڑے گی جو کہ اس پھل میں موجود ہے جبکہ یہ میٹابولزم کو بھی بہتر کرتا ہے اور ہاں اسے کھانے سے جلد پیٹ بھرنے کا احساس بھی ہوتا ہے۔

جھریوں سے بچائے

وٹامن اے، وٹامن سی اور اینٹی آکسائیڈنٹس جیسے کیروٹین اور لائیکوپین کی وجہ سے امرود جلد کو جھریوں سے بچاتا ہے، یعنی ایک امرود روزانہ جھریوں کو کافی عرصے تک دور رکھتا ہے۔

مچھلی کھانا دماغی امراض سے بچائے

کیا آپ کو مچھلی کھانا پسند ہے یا نہیں؟ اگر جواب انکار میں ہے تو جان لیں کہ اسے اپنی غذا کا مستقل حصہ بناکر آپ الزائمر اور ڈیمینشیا جیسے دماغی امراض کا خطرہ ٹال سکتے ہیں۔

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

الزائمر سوسائٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ دماغ کے لیے فائدہ مند جز ہے اور مچھلی کے ذریعے اسے جسم کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق مچھلی میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ ذہن اور دماغی افعال کے لیے اہم ہے۔

تحقیق کے مطابق مچھلی کو غذا کا حصہ بنا کر عمر بڑھنے سے آنے والی ذہنی تنزلی کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے جبکہ دیگر طبی فوائد الگ ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اکثر مچھلیوں میں فاسفورس موجود ہوتا ہے جو کہ دانتوں، ہڈیوں کے لیے اہم ہوتا ہے جبکہ اس میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کو صحت مند سطح پر رہنے میں مدد دیتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہفتے میں دو بار مچھلی کا کہنا دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سال بھی ایک امریکی طبی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ مچھلی کھانے سے جسم میں اس جینز کی موجودگی کا خطرہ کم ہوتا ہے جو کہ الزائمر کا باعث بنتا ہے اور ہر طرح کا سی فوڈ لوگوں کو یہ فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق جو لوگ مچھلی کے تیل کا سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں اور مچھلی نہیں کھاتے، انہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

خون کی کمی دور کرنے والی غذائیں

جسم میں خون کی کمی یا انیمیا درحقیقت جسم میں خون کے سرخ خلیات کی کمی کو کہا جاتا ہے جو آکسیجن کی فراہمی کا کام کرتے ہیں۔

اس مرض میں خون کے صحت مند سرخ خلیات میں ہیمو گلوبن کی کمی ہوجاتی ہے جو جسم کے مختلف حصوں میں آکسیجن پہنچاتے ہیں، ہیموگلوبن وہ جز ہے جو خون کو سرخ رنگ دیتا ہے۔

یعنی جسم کو خون کی کمی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہیموگلوبن کی سطح کو مناسب حد تک برقرار رکھا جاسکے، کیونکہ اس کی کمی شدید تھکاوٹ اور کمزوری کے ساتھ ساتھ اینمیا کا شکار بنا سکتی ہے۔

اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہیموگلوبن کی کمی سے بچنے کے لیے آئرن سے بھرپور غذاﺅں کا استعمال بہت ضروری ہے جو کہ ہیموگلوبن کی پیداوار کے ساتھ خون کے سرخ خلیات کے لیے اہم کردار ادا کرنے والا جز ہے۔

یہاں ایسی ہی غذاﺅں کا ذکر ہے جو آپ کو اس مسئلے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، یا ہیموگلوبن کی کمی کو ان سے پورا کیا جاسکتا ہے۔

ٹماٹر

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ٹماٹر آئرن سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ جسم کو وٹامن سی بھی فراہم کرتے ہیں جو کہ آئرن کے جسم میں جذب ہونے کے عمل کو بہتر بناتا ہے۔

کشمش

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

کشمش بھی آئرن سے بھرپور میوہ ہے، جسے آسانی سے دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔

خشک خوبانی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

خون کی کمی سے بچانے کے لیے ایک اور بہترین میوہ خشک خوبانی ہے جس میں آئرن اور وٹامن سی کے ساتھ ساتھ فائبر بھی موجود ہوتا ہے جو کہ قبض سے بچانے میں مددگار جز ہے۔

شہتوت

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر آپ نے کبھی اسے نہیں کھایا تو جان لیں کہ یہ آئرن سے بھرپور پھل ہے جس میں پروٹینز کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔

کھجور

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

کھجور بے وقت کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد دینے والا موثر ذریعہ ہے جبکہ یہ آئرن کی سطح بھی بڑھاتی ہے۔ اس کے حوالے سے بھی ذیابیطس کے مریضوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔

انار

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

انار بھی ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے میں مددگار پھل ہے جس کی وجہ اس میں وٹامن سی کی موجودگی ہے جو کہ آئرن کی موجودگی کو بڑھاتی ہے۔

تربوز

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

تربوز نہ صرف جسم میں پانی کی کمی پوری کرتا ہے بلکہ جسم میں موثر طریقے سے ہیموگلوبن کی سطح بھی بڑھاتا ہے۔

آلو بخارے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

یہ پھل فائبر سے بھرپور ہے جو قبض کا بھی موثر علاج ثابت ہوتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس میں موجود آئرن ہیموگلوبن کی مقدار کو بڑھانے میں مددگار ہے۔

کلیجی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

کلیجی فائبر، پروٹین، منرلز، وٹامنز اور آئرن سے بھرپور ہوتی ہے، اس کی معتدل مقدار میں استعمال خون کی کمی کو چند دنوں میں پورا کرنے کے لیے کافی ہے، تاہم اسے زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے۔

چنے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ناشتے میں مزیدار تو لگتے ہی ہیں، اس کے ساتھ یہ پروٹین اور آئرن سے بھرپور بھی ہوتے ہیں جو کہ ہیموگلوبن کے لیے بہترین ہے۔

دالیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

دالیں بھی آئرن سے بھرپور ہوتی ہیں جبکہ ان میں موجود فائبر جسم میں صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول لیول کی سطح میں بھی کمی لاکر دل کو تحفظ دیتا ہے۔

پالک

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

پالک آئرن سے بھرپور سبزی ہے اور اسے کھانا غذائی اجزاءکو بہت تیزی سے جسم میں ہونے میں مدد دیتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ایک امرود کے لاتعداد فوائد

امرودوں کا موسم اب شروع ہوچکا ہے، جن پر چاٹ مصالحہ چھڑک کر کھانا تقریباً ہر ایک کو ہی پسند ہوتا ہے۔

مگر یہ صرف منہ کا ذائقہ ہی دوبالا نہیں کرتا بلکہ اس میں ایسے اجزاء بھی موجود ہوتے ہیں جو اسے صحت کے لیے بہترین پھل بناتے ہیں۔

وٹامن سی سے بھرپور یہ پھل کتنے فوائد کا حامل ہے، وہ درج ذیل ہے۔

کینسر کا خطرہ کم کرے

امرود میں موجود وٹامن سی، لائیکو پین اور دیگر اجزاء ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس کا کام کرتے ہیں جو جسم میں نقصان دہ اجزاء کی سطح کم کرتے ہیں، جس سے کینسر زدہ خلیات کی نشوونما نہیں ہوتی۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہتر

فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے امرود ذیابیطس کو بڑھنے سے روکتا ہے اور بلڈ شوگر کی سطح کو ریگولیٹ کرتا ہے۔

دل کو صحت مند بنائے

امرود کھانے سے جسم میں نمک یا سوڈیم اور پوٹاشیئم کے توازن میں بہتری آتی ہے جس سے بلڈ پریشر کنٹرول میں آتا ہے، یہ پھل صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول اور دیگر عناصر کی سطح بھی کم کرتا ہے جو کہ امراض قلب کا باعث بنتے ہیں۔

قبض کشا

اس میں غذائی فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور ایک امرود ہی فائبر کی روزانہ کے لیے ضروری مقدار کا 12 فیصد حصہ جسم کو فراہم کردیتا ہے جو کہ نظام ہضم کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے، امرود کے بیج بھی قبض کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

بینائی بہتر کرے

امرود میں وٹامن اے پایا جاتا ہے جو کہ آنکھوں کی صحت کے لیے بہترین ہے، یہ پھل نہ صرف عمر بڑھنے کے ساتھ بینائی میں آنے والی تنزلی سے تحفظ دیتا ہے بلکہ اسے بہتر بھی کرتا ہے۔ یہ موتیے کے مرض کی رفتار کو بھی سست کرتا ہے۔

حاملہ خواتین کے لیے بہتر

اس پھل میں فولک ایسڈ موجود ہوتا ہے جو حاملہ خواتین کو استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

دانتوں کے درد کو کم کرے

امرود میں ورم کش خصوصیات بھی ہوتی ہیں اور جراثیم کش ہونے کی وجہ سے بھی یہ انفیکشن کے خلاف جدوجہد کرتا ہے جبکہ جراثیموں کو مارتا ہے، اس لیے اسے کھانا دانت کے درد کے لیے اچھا گھریلو ٹوٹکا ثابت ہوتا ہے۔

تناﺅ کم کرے

امرود میں موجود میگنیشم، مسلز اور اعصاب کو پرسکون کرتا ہے، لہذا دن بھر کے کاموں کے بعد اسے کھانے سے مسلز کو سکون ملتا ہے، ذہنی تناﺅ کم ہوتا ہے جبکہ جسمانی توانائی بڑھتی ہے۔

دماغی پھل

اس پھل میں وٹامن بی تھری اور بی سکس بھی موجود ہے جو کہ دماغ کی جانب خون کی فراہمی کو بہتر کرتے ہیں اور ذہنی افعال کو تحریک دینے کے ساتھ اعصاب کو بھی سکون پہنچاتے ہیں۔

موٹاپے سے تحفظ

اگر آپ جسمانی وزن میں کمی لانا چاہتے ہیں تو امرود کھانا شروع کردیں، جس سے آپ کو اپنی غذا میں پروٹینز، وٹامنز اور فائبر میں کمی نہیں لانا پڑے گی جو کہ اس پھل میں موجود ہے جبکہ یہ میٹابولزم کو بھی بہتر کرتا ہے اور ہاں اسے کھانے سے جلد پیٹ بھرنے کا احساس بھی ہوتا ہے۔

جھریوں سے بچائے

وٹامن اے، وٹامن سی اور اینٹی آکسائیڈنٹس جیسے کیروٹین اور لائیکوپین کی وجہ سے امرود جلد کو جھریوں سے بچاتا ہے، یعنی ایک امرود روزانہ جھریوں کو کافی عرصے تک دور رکھتا ہے۔

ڈپریشن کا علاج مشروم میں دریافت

لندن: مشروم کو ان کے خواص کی بنا پر ’میجک مشرومز‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں صحت کے خزانے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ اب اچھی خبر یہ ہے کہ مشرومز اداسی اور ڈپریشن کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

لندن کے مشہور امپیریل کالج کے ماہرین نے کہا ہے کہ میجک مشرومز میں ایک مرکب ’سائلوسائبن‘ پایا جاتا ہے جو ڈپریشن کو دور کرسکتا ہے۔ حالیہ تجربات میں ڈپریشن کے 20 ایسے مریض لیے گئے جن پر دوا اثر نہیں کررہی تھی۔ ان سب مریضوں کو مشروم میں پائے جانے والے مرکب سائلوسائبن کی پہلے ہفتے تک 10 ملی گرام مقدار دی گئی۔ اس کے بعد بعد اگلے ہفتے تک 25 ملی گرام خوراک دی گئی۔

ان میں سے 19 افراد کو پہلی خوراک دیتے ہی ان کے دماغ کے اسکین کئے گئے اور اس کے بعد دوسری اور تیسری خوراک کے بعد بھی دماغی اسکین کیے گئے۔ جب پہلے اور بعد میں کئے گئے اسکین کا باہمی جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ دماغی گوشے ایمگڈالا میں خون کی فراہمی کم ہوئی ہے۔ ایمگڈالا میں ہمارے جذبات چھپے ہوتے ہیں، جن میں خوف، دباؤ اور دیگر منفی جذبات بھی ہوتے ہیں۔ جبکہ دماغ کے ایک اور گوشے میں جو ڈپریشن سے وابستہ ہوتا ہے، استحکام دیکھا گیا۔

دماغی اسکین کے علاوہ ڈپریشن کے مریضوں سے سوالنامے بھی بھروائے گئے جن میں ان سے ڈپریشن کی علامات کے بارے میں پوچھا گیا۔ نہ صرف تمام مریضوں نے ڈپریشن میں کمی کا اعتراف کیا بلکہ کہا کہ ان کا دماغ کسی کمپیوٹر کی طرح ری سیٹ ہوکر مایوسی سے امید کی جانب چلا گیا ہے۔ دوسری خوراک کے بعد یہ اثر کئی ہفتوں تک جاری رہا۔

’ہم نے پہلی مرتبہ ڈپریشن میں مبتلا افراد میں یہ ثابت کیا ہے کہ باقی علاج ناکام ہونے کی صورت میں سائلوسائبن سے ان کا علاج کیا جاسکتا ہے،‘ ڈاکٹر روبن کارہرٹ ہیرس نے کہا جو اس رپورٹ کے اہم سائنسدان بھی ہیں۔ روبن کے مطابق سائلوسائبن مریضوں کو ڈپریشن سے نکلنے کی فوری چھلانگ فراہم کرسکتے ہیں۔ اس طرح وہ ڈپریشن کے نرغے سے نکل کر اپنا دماغ دوبارہ سیٹ کرسکتے ہیں۔

تاہم ماہرین نے اعتراف کیا کہ اس میں چند لوگوں کو ہی شامل کیا گیا تھا اب یہ ٹیم مشرومز کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد پر استعمال کرے گی۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈپریشن کے مریض مزید تحقیق کے بعد ہی اس سبزی کو استعمال کریں تو بہتر ہوگا۔

Google Analytics Alternative