صحت

روزانہ صرف ایک کھیرا کھانے کے فوائد جانتے ہیں؟

زمانہ قدیم سے کھیروں کو کھایا جارہا ہے اور یہ پھل (جی ہاں یہ سبزی نہیں بلکہ پھل ہے) روایتی ادویات میں بھی استعمال ہورہا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ گرم ممالک میں کھیروں کو کھانے کی عادت ضروری ہائیڈریشن کے ساتھ جسم کو ٹھنڈک فراہم کرتی ہے اور یہی اس کا واحد فائدہ نہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ کھیرے سارا سال آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں اور عام طور پر زیادہ مہنگے بھی نہیں ہوتے۔

روزانہ صرف کھیرا کھانے کے فوائد جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے اور ہوسکتا ہے کہ اسے اپنی غذا کا لازمی حصہ بنالیں۔

بالوں کی نشوونما

کھیروں میں موجود بی وٹامنز کھوپڑی اور بالوں کی صحت کے لیے بھی بہت زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں، بائیوٹین، ربوفلیوین اور وٹامن بی فائیو، بی سکس اور دیگر بالوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ قبل از وقت بالوں کی محرومی اور سفیدی کی روک تھام بھی کرتے ہیں۔

دماغی امراض سے تحفظ ملتا ہے

کھیروں میں موجود ایک جز فیسٹین دماغ کی بہتر صحت میں کردار ادا کرتا ہے، اس کے علاوہ کھیروں میں فاسفورس بھی پایا جاتا ہے اور اس کی کمی سے دماغی امراض کا خطرہ بڑھتا ہے، یعنی اسے کھانا دماغ کو تیز رکھنے کے ساتھ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بہتر بناتا ہے۔

جسمانی وزن میں تیزی سے کمی

کھیروں میں پانی کی زیادہ مقدار جلد پیٹ پھرنے میں مدد دیتی ہے، جس کے نتیجے میں بسیار خوری کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے اور موٹاپے سے نجات کی کوشش کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔ کھیرے چکنائی سے پاک ہوتے ہیں اور کیلوریز بھی بہت کم ہوتی ہیں، تو یہ جسمانی چربی گھٹانے کے لیے ایک اچھا آپشن ہے۔

کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے

کھیروںمیں ایسے اجزا ہوتے ہیں جو کینسر کی روک تھام یں مدد دیتے ہیں، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھیروں میں موجود ایک جز cucurbitacins کینسر کے خلیات کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔

ہاضمہ بہتر ہوتا ہے

کھیروں میں موجود غذائی فائبر اور پانی کی اچھی خاصی مقدار نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں، کھیروں میں موجود وٹامنز سے بھی ہاضمے کے افعال میں بہتری آتی ہے اور روزانہ کھانے سے مختلف مسائل جیسے قبض یا دیگر سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

ڈی ہائیڈریشن سے تحفظ

کھیرے کا 95 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، تو اسے روزانہ کھانے سے جسمانی ہائیڈریشن کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے، جس سے صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر آپ اکثر پانی پینا بھول جاتے ہیں، تو روزانہ ایک کھیرا کھانا بہترین ٹرک ہے۔

جلد کی ملائمت اور جگمگاہٹ واپس لائے

کھیروں سے جسمانی ہائیڈریشن برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے جو جلد کے لیے بھی فائدہ مند ہے، اس کے علاوہ بی وٹامنز، وٹامن سی اور زنک جیسے اجزا کی موجودگی بھی جلد کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ کھیروں میں موجود کیفیسک ایسڈ سے جلدی خارش اور ورم سے لڑنا بھی ممکن ہوجاتا ہے جبکہ جلد پر عمر کے اثرات کو سست کیا جاسکتا ہے۔

شریانوں کی صحت میں بہتری

کھیروں میں موجود پوٹاشیم، میگنیشم اور وٹامن کے بھی موجود ہوتے ہیں اور یہ تینوں خون کی شریانوں کے افعال کو معمول پر رکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں، وٹامن کے خون بلاک ہونے کے خطرے سے بچانے کے ساتھ خون میں کیلشیئم کی سطح کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ میگنیشم اور پوٹاشیم سے ہائی بلڈ پریشر سے نجات ملتی ہے جبکہ کھیروں کو کھانے سے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بھی کم ہوتی ہے۔

بلڈ شوگر لیول کنٹرول کرے

کھیروں میں متعدد اقسام کے فینولک، فلیونوئڈز اور ٹراٹیرپینز کمپاﺅنڈز موجود ہوتے ہیں، طبی ماہرین کے مطابق کھیروں کو کھانے سے ہائی بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ہڈیوں کو مضبوط بنائے

کھیروں میں وٹامن کے اور کیلشیئم موجود ہوتے ہیں، دونوں مضبوط ہڈیوں کے لیے ضروری ہیں، وٹامن کے سے ہڈیوں کے فریکچر کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ وہ ہڈیوں میں کیلشیئم کو جذب کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

زہریلے مواد کا اخراج

ایسا مانا جاتا ہے کہ کھیروں کو کھانا عادت بنالینا جگر اور معدے سے زہریلے مواد کے اخراج میں مدد دے کر مجموعی صحت کو بہتر بناتا ہے۔

دانتوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے

کھیروں میں مولیبڈینیم اور فلورائیڈ موجود ہوتے ہیں اور ان دونوں کا امتزاج دانتوں کی فرسودگی کی مرمت کرتا ہے، اس کے علاوہ کیلشیئم کی موجودگی بھی دانتوں کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

زیادہ بیٹھنے کے عادی ہیں؟ تو اس عادت کو فوری بدل دیں

ہم سب نے بہت زیادہ بیٹھنے کے ممکنہ طبی نقصانات کے بارے میں سن رکھا ہوتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ دن بھر میں کتنا بیٹھنا آپ کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور اس سے آپ کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟

درحقیقت دن بھر میں تین گھنٹے سے زیادہ بیٹھنا نقصان دہ ہوتا ہے اور اگر آپ زیادہ وقت کھڑے ہوکر گزارتے ہیں تو یہ عادت زندگی کی مدت میں اضافہ کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

ہمارا بیٹھے رہنے کا سست طرز زندگی ہماری صحت پر کس حد تک نقصان دہ ہوتا ہے وہ آپ کو حیران بلکہ پریشان کرسکتا ہے۔

دل کے دورے کا خطرہ

جرنل میڈیسین اینڈ سائنس کی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ اپنے دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں ان میں دل کے دورے سے ہلاکت کا خطرہ جسمانی طور پر متحرک افراد کے مقابلے میں 54 فہصد زیادہ ہوتا ہے، درحقیقت بیٹھے رہنے کی عادت سنگین امراض قلب کا سب سے بڑا سبب ہوتی ہے۔

توند اور کولہوں کا بھاری ہونا

ایک تحقیق کے مطابق مخصوص جسمانی اعضاءپر دباﺅ برقرار رکھنے سے ان کی جسامت میں پچاس فیصد تک اضافہ ہوجاتا ہے اور اس تناظر سے دیکھا جائے تو سست طرز زندگی سے موٹاپے کا تعلق صاف نظر آجاتا ہے، کیونکہ بیٹھے رہنے سے جسم کی چربی پیٹ اور کولہوں کی جانب منتقل ہوجاتی ہے جس سے وہ بھاری اور مختلف امراض کا سبب بن جاتے ہیں۔

ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے

امریکا کی مسوری یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دن کا زیادہ تر وقت بیٹھ کر گزارنے والے افراد میں ذیابیطس، موٹاپے اور جگر کے امراض کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، چاہے ایسے لوگ روزانہ ورزش کے بھی عادی ہوں مگر ذیابیطس جیسا جسم کو دیمک کی طرح چاٹ لینے والا مرض انہیں اپنا شکار بنا ہی لیتا ہے۔

ٹی وی کے سامنے کچھ منٹ بھی نقصان دہ

برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسین میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ٹی وی کے سامنے گزارے جانے والا ہر گھنٹہ معیاد زندگی میں بائیس منٹ کم کردیتا ہے، اور اگر آپ روزانہ چھ گھنٹے ٹیلیویژن کے سامنے گزارتے ہیں تو یہ سنگین سست طرز زندگی زندگی کے عرصے میں پانچ سال تک کمی کردیتا ہے۔

کینسر سے تعلق

ایک تحقیق کے مطابق جسمانی سرگرمیوں کے مقابلے میں بیٹھے رہنے سے بریسٹ اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور ہرسال دنیا میں اس طرح کے لاکھوں کینسر کے کیسز سامنے آتے ہیں تاہم دن بھر میں آدھے گھنٹے تک تیز چہل قدمی سے اس مسئلے سے کسی حد تک بچا جاسکتا ہے۔

موت کا خطرہ بڑھا دیتا ہے

امریکن جرنل آف ایپڈیمیولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ روزانہ چھ یا اس سے زائد گھنٹوں تک بیٹھنے والی خواتین میں اگلے تیرہ برسوں میں کسی بھی مرض کے ہاتھوں موت کا خطرہ 40 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، جبکہ مردوں میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 18 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

ہر طرح کے میٹھے مشروبات کینسر کا خطرہ بڑھاتے ہیں، تحقیق

میٹھے مشروبات جیسے جوس، سافٹ ڈرنکس، چائے اور کافی میں چینی کی موجودگی کینسر کا خطرہ بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ایک لاکھ سے زائد صحت مند افراد پر ہونے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ آپ اور آپ کا صحت مند طرز زندگی کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، اگر آپ چینی یا میٹھا ((قدرتی یا مصنوعی)) پینے کے عادی ہیں تو آپ میں کینسر کا خطرہ ان لوگوں سے زیادہ ہوگا جو بغیر مٹھاس والے مشروبات کو ترجیح دیتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق پھلوں کو جوس کو صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے مگر سافٹ ڈرنکس اور فروٹ جوسز میں چینی کی مقدار حیران کن حد تک یکساں ہوتی ہے، تو یہ حیرت انگیز نہیں کہ طویل المعیاد بنیادوں پر یہ جوسز صحت کو کس طرح متاثر کرسکتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ فروٹ جوسز میں کچھ وٹامنز اور تھوڑا سا غذائی فائبر تو ہوسکتا ہے مگر ان میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

طبی جریدے بی ایم جے ٹوڈے میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ عمر چاہے جو بھی ہو ، جسمانی طور پر جتنے بھی متحرک ہو یا صحت کا جتنا بھی خیال رکھتے ہوں، وہ لوگ جو زیادہ شکر والے مشروبات پینے کے شوقین ہوتے ہیں، ان میں کینسر کا خطرہ بھی اتنا زیادہ ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ میٹھے مشروبات کا کینسر کا باعث بنتے ہیں مگر ان کا کردار کافی ‘اہم’ ہوتا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے جب یہ بات سامنے آئی کہ میٹھے مشروبات کا استعمال صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

گزشتہ سال بھی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ میٹھے فروٹ جوسز ک زیادہ استعمال امراض قلب، ذیابیطس ٹائپ ٹو یا کینسر سے موت کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

مگر اس نئی تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ چینی سے بنے میٹھے مشروبات سے وزن بڑھنے، میٹابولک مسائل اور دل کے امراض کے نتیجے میں کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اس تحقیق میں شامل ایک لاکھ سے زائد افراد کی صحت کے تمام عناصر جیسے جسمانی وزن، قد، ورزش، غذائی عادات، تعلیم، خاندان میں کینسر کی تاریخ اور دیگر کا جائزہ لیا گیا۔

محققین نے ہر قسم کے مشروبات یعنی سافٹ ڈرنکس، سو فیصد خالص فروٹ جوسز، فروٹی مشروبات، چینی ملے گروم مشروبات، دودھ پر مبنی میٹھے مشروبات، اسپورٹس ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس وغیرہ کے اثرات کا جائزہ لیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ مشروبات کی شکل میں روزانہ اضافی 100 ملی لیٹر چینی مشروبات کی شکل پی لیتے ہیں، ان میں کینسر کا خطرہ 18 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سافٹ ڈرنکس یا مصنوعی مٹھاس والے مشروبات کو نکال دیا جائے تو بھی سو ملی لیٹر جوس روزانہ پینے سے کینسر کا خطرہ 12 فیصد تک بڑھ جاتا ہے اور اگر 2 گلاس پینا عادت بنالیں تو یہ خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین کے مطابق ضروری نہیں کہ میٹھے مشروبات کا استعمال مکمل طور پر ترک کردیا جائے بس اپنی غذا کو متوازن بنانے کی ضرورت ہے اور ان مشروبات کو روزانہ ایک گلاس سے زیادہ استعمال نہ کریں۔

غذائی سپلیمنٹس صحت کے لیے کس حد تک فائدہ مند؟

وٹامن اور غذائی سپلیمنٹس صحت کو کسی قسم کا فائدہ پہنچانے کی بجائے فالج جیسے امراض کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ویسٹ ورجینیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ بیشتر غذائی سپلیمنٹس کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچاتے بلکہ پیسوں کا ضیاع ہوتے ہیں، جبکہ وٹامن ڈی اور کیلشیئم کے امتزاج پر مبنی سپلیمنٹس فالج کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

اس طرح کے سپلیمنٹس اکثر ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کھائے جاتے ہیں اور ان کا استعمال درمیانی عمر کے افراد میں زیادہ ہوتا ہے، جو پہلے ہی فالج کے خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 10 لاکھ افراد پر ہونے والے 277 ٹرائلز کا تجزیہ کیاگیا اور دیکھا گیا کہ 16 مختلف اقسام کے نیوٹریشنل سپلیمنٹس اور 8 غذائی سپلیمنٹس کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ان سپلیمنٹس کی اکثر خون کی شریانوں سے جڑے امراض یا موت سے بچانے میں کوئی مدد فراہم نہیں کرتے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 34 فیصد بالغ افراد روزانہ وٹامنز اور سپلیمنٹس کا استعمال کرتے ہیں اور اس پر سالانہ 37 ارب ڈالرز خرچ کیے جاتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ کچھ سپلیمنٹس مختلف طبی مسائل سے تحفظ میں کسی قسم کی مدد فراہم کرتے ہیں جیسے فولک ایسڈ فالج کے خلاف کسی حد تک تحفظ فراہم کرسکتا ہے یا مچھلی کے تیل کے کیپسول میں موجود فیٹی ایسڈز کسی حد تک امراض قلب سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

تاہم ملٹی وٹامنز، وٹامن اے، وٹامن بی سکس، وٹامن سی، وٹامن ای، وٹامن ڈی اور آئرن وغیرہ صحت کو کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچاتے۔

محققین کا کہنا تھا کہ کیلشیئم اور وٹامن ڈی کے امتزاج پر مبنی سپلیمنٹس فالج کا خطرہ 17 فیصد تک بڑھاتے ہیں جبکہ دیگر سپلیمنٹس سے خون کی شریانوں کے امراض وغیرہ سے تحفظ میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے اینالز آف انٹرنل میڈیسین جرنل میں شائع ہوئے۔

سانس میں بو کا باعث بننے والی حیرت انگیز وجوہات

کیا آپ کو اکثر سانس میں بو کا سامنا ہوتا ہے؟ تو اس کی کئی وجوہات اور عناصر ہوسکتے ہیں اور آپ کی کچھ غلطیاں بھی ہوسکتی ہیں۔

درحقیقت سانس میں بو ایک ناخوشگوار تجربہ ہوتا ہے جس کا سامنا ہر ایک کو ہی ہوتا ہے جیسے پیاز یا لہسن کھانے کا شوق بھی اس کی وجہ بنتا ہے۔

مگر کچھ ایسی غذائیں اور عوارض بھی ہیں جو سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

دانتوں کے ساتھ زبان کی صفائی نہ کرنا

اگر روزانہ دانتوں کو برش نہ کیا جائے تو خوراک کے اجزاء منہ میں باقی رہ جاتے ہیں، جس سے دانتوں کے درمیان، مسوڑھوں اور زبان پر جراثیموں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے جو سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح زبان پر موجود بیکٹریا سانس میں بو کی بڑی وجہ ہوتے ہیں، اپنی زبان کو ٹوتھ برش یا زبان صاف کرنے والے ٹول سے روزانہ صاف کریں۔

زیادہ پروٹین والی غذائیں

جی ہاں پروٹین سے بھرپور غذاﺅں کا استعمال بھی سانس میں بو کا باعث بنتا ہے اور اگر آپ ایسی غذاﺅں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں تو سانس میں بو کا سامنا حیران کن نہیں۔ منہ میں موجود بیکٹریا پروٹینز کو تحلیل کرتا ہے جس سے ناخوشگوار بو خارج ہوتی ہے۔

خشک منہ

جب آپ کا منہ زیادہ خشک ہوتا ہے تو اس میں تھوک کم بنتا ہے اور جب لعاب دہن کم ہوتا ہے تو غذائی ٹکڑے اور بیکٹریا زیادہ وقت تک منہ کے اندر موجود رہنے لگتے ہیں، جس سے سانس میں بو کا سامنا ہوتا ہے اور اس سے نجات کا حل بھی آسان ہے اور وہ ہے زیادہ پانی پینا۔

سوڈا یا اسپارکلنگ واٹر

کاربونیٹ مشروبات جیسے سوڈا یا اسپارکلنگ واٹر میں تیزابیت بہت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ ان میں فاسفورس ایسڈ کا اضافہ ہے، ایک تحقیق کے مطابق یہ مشروبات منہ میں تیزابیت بڑھاتے ہیں جس کے نتیجے میں منہ خشک ہوتا ہے، پھر بیکٹریا اور کھانے کے ذرات سانس میں بو کا باعث بن جاتے ہیں۔

کافی

کافی میں موجود کیفین منہ خشک کرنے کا باعث بن سکتی ہے جس سے منہ میں لعاب دہن کی کمی اور بیکٹریا کی نشوونما بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں سانس میں بو کا خطرہ بڑھتا ہے، اگر سانس میں بو کا مسئلہ ہو تو یا تو اس گرم مشروب کا استعمال محدود کردیں یا کم از کم اسے پینے کے بعد پانی ضرور پی لیں۔

ہائی بلڈ شوگر

زیادہ میٹھا کھانا دانتوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں بلڈ شوگر میں اوپر کی جانب جاتا ہے جبکہ لعاب دہن میں گلوکوز کی سطح بھی بڑھ جاتی ہے، جس سے بیکٹریا کی نشوونما تیز ہوجاتی ہے اور سانس میں بو کا امکان ہوتا ہے خصوصاً ذیابیطس کے شکار افراد میں۔

ترش پھل

کچھ ترش پھل بھی منہ میں قدرتی طور پر بیکٹریا کی مقدار بڑھاتے ہیں، یہ بیکٹریا میٹھا پسند کرتے ہیں اور یہ مٹھاس ایسڈ میں تبدیل ہوجاتی ہے اور وقت کے ساتھ مختلف انفیکشن کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ٹانسلز

سانس میں بو کی ایک بڑی وجہ ٹانسلز اسٹون یا پتھری بھی ہوسکتی ہے۔ ٹانسلز کی یہ پتھری عام طور پر اس غدود میں پھنسنے والے کچرے سے بنتی ہے، عام حالات میں بھی ٹانسلز بیکٹریا، مردہ خلیات اور دیگر مواد سے بھرے ہوتے ہیں۔ یہ پھنس جانے والا کچرا وقت کے ساتھ سفید ڈبوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے، جس کے نتیجے میں سانس بدبودار ہوجاتی ہے۔ اس کا علاج آسان ہے بس دانتوں پر برش اور غرارے کرنا اس پھنسے ہوئے کچرے کو نکالنے میں مدد دیتا ہے۔

ناک کے مسائل

طبی ماہرین کے مطابق جن لوگوں کو اکثر نزلہ زکام یا انفیکشن کا سامنا ہوتا ہے ان میں سانس کی بو کا مسئلہ بھی عام ہوتا ہے۔

معدے میں تیزابیت

جن لوگوں کو اکثر معدے میں تیزابیت یا سینے میں جلن کا سامنا ہوتا ہے، ان میں سانس کی بو کا مسئلہ بھی عام ہوتا ہے جس کی وجہ ایسڈ اور ہضم نہ ہونے والی غذا کا واپسی غذائی نالی میں اوپر آنا ہوتا ہے۔

وٹامن سی کی کمی

وٹامن سی جسم میں ایسے مواد کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے جو کہ سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں۔ محققین کے مطابق وٹامن سی ایسا تیزابی اور ناقابل رہائش ماحول پیدا کرتا ہے جو منہ میں پیدا ہونے والے بیکٹریا کو ختم کرتا ہے۔

خشک پھل

خشک خوبانی، آلو بخارے یا ایسے ہی دیگر پھلوں میں بہت زیادہ چینی اور بو پیدا کرنے والے بیکٹریا ہوتے ہیں، جبکہ یہ پھل اکثر دانتوں کے درمیان چپکے رہ جاتے ہیں، اس سے بھی سانس میں بو کا امکان بڑھ جاتا ہے، لہذا ان پھلوں کو کھانے کے بعد خلال اور برش ضرور کریں۔

دودھ

دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات کے استعمال سے بھی سانس کی بو کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ ان میں موجود امینو ایسڈز منہ کے بیکٹریا سے ملکر سلفر گیس پیدا کرتے ہیں، جس سے سانس بدبو دار ہوجاتی ہے۔

بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مددگار بیج

آپ نے تخ ملنگا (یا تخم بالنگا) کو دیکھا یا اس کے بارے میں سنا تو ہوگا، مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اسے استعمال کیوں کرنا چاہیے؟

درحقیقت یہ بیج کیلوریز سے پاک ہوتے ہیں جبکہ پروٹین، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، کیلشیئم، کاربوہائیڈریٹس اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس بھی مختلف فوائد پہنچاتے ہیں۔

یہ مسلز کو سکون پہنچانے کے ساتھ ساتھ ہاضمہ تیز کرتے ہیں اور قابل ہضم کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کم ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ورم کش بھی ہوتے ہیں جو پیٹ پھولنے کے مسئلے سے بچاتے ہیں۔

اس کے متعدد فوائد ہیں مگر یہ ان افراد کے لیے بہت زیادہ مفید ہیں جو ذیابیطس کے شکار ہوں یا ہائی بلڈ شوگر کی شکایت کا سامنا ہو۔

یہ بیج ذیابیطس کے مریضوں کے لیےفائدہ مند ہیں، جو کہ انسولین کی مزاحمت کی روک تھام میں مدد کرتے ہیں جبکہ بلڈ گلوکوز کی سطح بہتر کرنے کے ساتھ بلڈ پریشر کو بھی معمول پر لاتے ہیں۔

ان بیجوں کا درج ذیل استعمال بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

تخ ملنگا اور لیموں

ایک کھانے کا چمچ تخ ملنگا ایک بوتل پانی میں بھگو دیں اور پھر اس بوتل میں لیموں کے پتلے کٹے ٹکڑوں کا اضافہ کرکے کم از کم ایک گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں اور پھر پی لیں، یہ مشروب اینٹی آکسائیڈنٹس اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے ساتھ جسمانی وزن کنٹرول کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

دلیے میں شامل کرنا

جو کا دلیہ ناشتے کے لیے صھت بخش آپشن ہوتا ہے، اگر اس میں تخ ملنگا کا اضافہ کردیا جائے تو ذائقہ بہتر ہونے کے ساتھ ہائی بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

دودھ کے ساتھ

تخ ملنگا جسمانی میٹابولزم کی رفتار کو سست کرتا ہے جبکہ کاربوہائیڈریٹس کو گلوکوز میں بدلنے کے عمل کو بھی کنٹرول کرتا ہے، جس سے بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے، اس مقصد کے لیے ناشتے میں دودھ کے ایک گلاس میں ان بیجوں کو ملائیں اور پی لیں۔

دہی کے ساتھ

ذیابیطس کے مریضوں کو میٹھے سے تو دور رہنا چاہیے مگر دہی کا استعمال کرسکتے ہیں اور اس میں تخ ملنگا کا استعمال اسے صحت کے لیے مفید بناتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ذیابیطس کا شکار ہیں تو یہ غذا کھانا شروع کردیں

کہا جاتا ہے کہ ایک سیب روزانہ ڈاکٹرز سے آپ کو دور رکھ سکتا ہے اور اب ایسا لگتا ہے کہ ڈاکٹرز کو یہی بات ایک دوسری چیز کے لیے بھی کہنی چاہیے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ انڈوں کا روزانہ استعمال ذیابیطس سے تحفظ دیتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق انڈوں کا روزانہ استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہونے سے تحفظ دیتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہفتہ بھر میں 4 انڈے کھانے والے شخص میں ذیابیطس کا خطرہ اس فرد سے 37 فیصد کم ہوتا ہے جو ہفتے میں ایک بار اس کو استعمال کرتا ہے۔

تحقیق کے مطابق انڈوں کے روزانہ استعمال سے خون میں گلوکوز کا لیول کم ہوتا ہے جس سے ذیابیطس کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

سیاہ چائے پینا پسند ہے؟ تو یہ حیرت انگیز فوائد جان لیں

چائے پاکستان میں اکثر افراد کا پسندیدہ ترین مشروب ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کے استعمال کے کچھ طریقے ایسے بھی ہیں، جو آپ کو مختلف طبی مسائل سے نجات دلانے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں؟

جی ہاں سیاہ چائے جسم کے اندر اور باہر دونوں جگہ حیران کن طبی فوائد کی حامل ہوتی ہے۔

ایسے ہی کچھ فائدے یہاں درج ذیل ہیں۔

مسوڑھوں کی صحت میں بہتری

سیاہ چائے میں ایسے اجزا ہوتے ہیں جو ٹشوز کی سوجن کم کرنے کے ساتھ مسوڑھوں سے خون بہنے کو روکتے ہیں۔ اگر آپ کے مسوڑھے سوج رہے ہیں تو بھیگے ہوئے ٹی بیگز کو براہ راست ان پر لگائیں۔ آپ چائے کو بھی ماﺅتھ واش کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں جس سے مسوڑھوں کی صحت میں بہتری آتی ہے۔ اگر تحفظات ہوں تو ہمیشہ اپنے ڈاکٹر یا ڈینٹسٹ کو چیک کروائیں۔

پیروں کی بو سے نجات

تیز سیاہ چائے میں موجود تیزابی خوبی بیکٹریا کو ختم کرتی ہے اور اس سے پیروں پر آنے والے پسینے میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے لیے 2 ٹی بیگز کو آدھا لیٹر پانی میں 15 منٹ تک ابالیں، اس کے بعد ٹی بیگز کو نکال کر چائے کو آدھے گیلن پانی میں ڈال دیں۔ اب اس مکسچر کو ٹھنڈا ہونے دیں اور پھر اپنے پیروں کو پندرہ سے تیس منٹ تک ڈبو کر رکھیں۔ اس عمل کو کچھ دن تک روزانہ دہرائیں۔

خراشوں کے لیے

سیاہ چائے میں موجود مرکب خون روکنے والی دوا کی طرح کام کرتے ہیں اور اس کی مدد سے کھلے زخموں یا خراشوں سے خون کو بہنے سے روکا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ایک ٹھنڈے اور استعمال شدہ ٹی بیگ کو نرمی سے متاثرہ جگہ پر دبائیں جس سے تکلیف اور سوجن میں کمی محسوس ہوگی۔

آنکھوں کی خارش میں کمی

اگر آنکھیں خشک اور ان میں خارش ہورہی ہو تو 2 ٹی بیگز کو گرم پانی میں 10 منٹ تک ڈبو کر رکھیں۔ باہر نکال کر اس میں سے اضافی پانی کو دبا کر نکال دیں اور پھر ٹی بیگز کو دس منٹ تک اپنی آنکھوں پر لگائے رکھیں۔ اس سے خارش میں آرام اور سوجن میں کمی آئے گی۔

ہونٹوں کے زخموں کا علاج

چائے میں فلیونوئیڈز اور کیفین موجود ہوتے ہیں، لہذا ہونٹوں کے کونوں پر زخم سے نجات کے لیے استعمال شدہ ٹھنڈے ٹی بیگ کو متاثرہ جگہ پر لگائیں اور دس منٹ تک دبا کر رکھیں۔ یہ عمل دن میں 3 سے 4 دفعہ دہرائیں۔

الرجیز کے لیے مفید

فلیونوئیڈز سے بھرپور ہونے کے باعث سیاہ چائے الرجیز سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ روزانہ کچھ کپ پینا آپ کی الرجی کی تکلیف میں کمی لانے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

آشوب چشم کے عارضے میں کمی

اگر آپ اس تکلیف کا شکار ہیں تو گرم اور گیلے ٹی بیگ کو متاثرہ آنکھ پر 5 منٹ تک لگا کر رکھیں، اس کے بعد ایک ٹھنڈا اور گیلا ٹی بیگ 2 منٹ تک لگائے رکھیں۔ اس عمل سے سوجن میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ اس عمل کو دن میں نئے ٹی بیگز سے کئی بار دہرائیں۔

ہیضے سے بچائے

سیاہ چائے میں موجو تیزابیت آنتوں کی صفائی کرتی ہے جس سے جسم کو سیال مواد جذب کرنے میں مدد ملتی ہے اور آنتوں کی سوجن میں کمی آتی ہے۔ بہتر فائدے کے لیے بغیر کیفین کی سیاہ چائے کو پی کر دیکھیں جس میں آپ شہد بھی ملا سکتے ہیں۔

جوتوں سے بننے والے زخموں کا علاج

اگر تو جوتوں کے نتیجے میں ایڑی پر زخم بن گئے ہیں تو گرم ٹی بیگ کو استعمال کرکے دیکھیں، اس میں موجود قدرتی اجزاء میں جراثیم کش خوبیاں ہوتی ہیں، جبکہ اس عمل کو دن میں 5 بار دس سے پندرہ منٹ تک دہرائیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Google Analytics Alternative