صحت

سردیوں میں نزلہ زکام دور رکھنا بہت آسان

موسم سرما کی آمد آمد ہے جس کے ساتھ ہی شامیں خوشگوار اور صبح کی خنکی دل میں خوشی دوڑا دیتی ہے، دنوں کا دورانیہ بھی مختصر ہونے لگا ہے اور اگر آپ سروے کریں تو سو میں سے لگ بھگ 60 سے 70 افراد موسم سرما کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتے نظر آئیں گے مگر اس خوشی کے ساتھ دل کو ایک خوف بھی گھیر لیتا ہے، کیا آپ کو بھی وہ خوف لاحق ہے؟

سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی ہم میں سے بیشتر افراد موسمیاتی الرجی یا نزلہ زکام کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ تو مشہور کہاوت ہے کہ دوا سے نزلے کو ٹھیک ہونے میں ایک ہفتہ لگتا ہے تو کچھ نہ کھانے سے وہ ایک ہفتے میں ٹھیک ہوتا ہے۔

تاہم اس بلا سے محفوظ رہنے کے لیے ادویات کو نگلنا ضروری نہیں بلکہ اس میں مبتلا ہونے سے بھی بچنا بہت آسان ہے بس آپ کو یہ چند قدرتی یا عام طریقے ہی اپنانے ہوں گے جو اس موسم کی خوبصورتی کو فُلو کی نظر نہیں لگنے دیں گے۔

ہاتھ دھونا

رواں موسم سرما میں اگر فلو سے بچنا چاہتے ہیں تو اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کہ آپ اپنے ہاتھوں کی صفائی کا بہترین خیال رکھیں، کیونکہ فلو وائرس ایک سے دوسرے فرد میں چھینک، کھانسی اور مختلف چیزوں کو چھونے سے ہاتھ اور وہاں سے منہ، ناک اور کان میں منتقل ہو جاتا ہے اور آپ بیمار ہوجاتے ہیں۔ اس لیے کچھ بھی کھانے، پینے یا اپنے چہرے کو چھونے سے پہلے ہاتھ دھونا آپ کو اس تکلیف دہ مرض سے بچاتا ہے۔

نیند

جب آپ خوابوں کے نگر میں کھوئے ہوئے ہوتے ہیں تو آپ کا جسم خلیات کی مرمت اور خرابیوں کو درست کرنے میں مصروف ہوتا ہے، رات کو 7 سے 9 گھنٹے کی نیند سے آپ کے جسم کو اپنی مرمت اور تندرستی کا موقع مل جاتا ہے اور وہ فلو وائرس کو دور بھگا دیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں نیند کی کمی ذہنی تناﺅ کی طرح آپ کی جسمانی قوت مدافعت کو کمزور کردیتی ہے جس سے نزلہ زکام کو آسانی سے حاوی ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔

ورزش

جسمانی سرگرمیوں کے ذریعے اپنے خون کو جوش دلانا خون میں سفید خلیات کے وائرس کو نشانہ بنانے والی سرگرمیوں کو بڑھا دیتا ہے، دن بھر میں ایک گھنٹے کی ورزش چاہے وقفوں میں ہی کی جائے، بہت فائدہ مند ہوتی ہے اور ضروری نہیں کہ آپ بھاری وزن کے ساتھ ورزش کریں صرف دفتر میں چہل قدمی، سیڑھیاں اترنا چڑھنا بھی سردیوں میں ہر ایک کو لاحق ہوجانے والے نزلے زکام سے زبردست تحفظ فراہم کرتا ہے۔

زنک (جست)

درست مقدار میں صحت بخش غذا اور منرلز خوراک کا لازمی حصہ ہونے چاہیئں اس سے جسم کو فلو وائرس کے خلاف جنگ کے لیے بھرپور طاقت مل جاتی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ چربی والی غذاﺅں اور زیادہ مٹھاس سے گریز کرکے سبزیوں، پھلوں اور کم پروٹین والے کھانوں کا استعمال کیا جانا چاہیے اور ان صحت بخش غذائی اجزاء میں سے ایک زنک ہے جو خاص طور پر فلو سیزن کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔ زنک جسم کے اندر خلیات میں وائرس کی رسائی میں مداخلت کرتا ہے اور صاف ظاہر ہے نزلے زکام کی تکلیف لاحق نہیں ہوتی، ویسے کاجو بھی زنک سے بھرپور خشک میوہ ہے۔

لہسن

جراثیم کش خاصیت سے بھرپور یہ سبزی موسم سرما کے مخصوص بیکٹریا اور وائرسز وغیرہ کے خلاف بھرپور مزاحمت کرتی ہے۔ اس میں شامل جز الیسین انفیکشنز کو بلاک کرتا ہے اور چکن سوپ کے ساتھ اسے استعمال کریں آپ کو اس کے فوائد یقیناً حیران کرکے رکھ دیں گے۔

پانی

اچھی بات یہ ہے کہ سردیوں میں ہم میں سے اکثر افراد گرم گھروں میں رہائش کا لطف لیتے ہیں مگر اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں، اس سے گھر کے اندر کی ہوا ہمارے جسموں کو خشک کردینے کا باعث بن جاتی ہے۔ مناسب نمی کے بغیر جسمانی دفاعی نظام میں سرگرم خلیات بھرپور طریقے سے کام نہیں کرپاتے تو یہ ضروری ہوتا ہے کہ جسم میں پانی کی مقدار کو مناسب سطح پر رکھا جائے۔

ہنسی

مثبت رویہ آپ کو ہر میدان میں کامیابی دلاسکتا ہے بلکہ یہ عمر کی بھی سنچری مکمل کراسکتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ زندگی میں ہنسی کو عادت بنا لینے سے آپ کو سردیوں میں سوں سوں (نزلہ) کی روک تھام میں مدد مل سکے گی۔ ابھی تک ہنسی کے اس انوکھے فائدے کے بارے میں طبی سائنس زیادہ وضاحت تو نہیں کرسکی ہے مگر خیال کیا جاتا ہے کہ دل کھول کے ہنسنے سے جسمانی دفاعی نظام میں مخصوص خلیات کی تعداد بڑھتی ہے جس سے فلو وائرس کو حملے کی صورت میں ناکامی کا سامنا ہوتا ہے۔

مساج (مالش)

ذہنی تناﺅ میں کمی کے لیے پسندیدہ حل یعنی مساج آپ کو جسمانی طور پر صحت مند رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مساج کے نتیجے میں خون کی گردش میں اضافہ ہوتا ہے جس سے جسمانی صحت میں بہتری آتی ہے اور اس دوران خون میں بہتری سے خوراک میں موجود غذائی اجزاء بہتر طریقے سے اپنا کام کرپاتے ہیں۔

سیب کے عرق سے تیار کردہ سرکہ

سانس کی نالیوں میں بلغم کی مقدار میں کمی کے لیے سیب کے عرق سے تیار کردہ سرکہ بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ مٹی، پولن اور دیگر الرجی پیدا کرنے والی چیزیں(جو دمہ اور فلو کو بڑھانے کا سبب بنتی ہیں) کو نتھنے کے اندر ہی محدود کردیتا ہے، اس سرکے کا ایک چمچ نیم گرم پانی کے ایک گلاس میں روزانہ دوبار استعمال فائدہ مند ہوتا ہے۔

منقہ شہد

منقہ کی فصلوں (جو زیادہ تر نیوزی لینڈ میں اگائی جاتی ہیں) پر اگنے والے پھولوں پر واقع شہد کی مکھیوں کے چھتے سے کشید کیے جانے والے اس شہد کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ جسمانی دفاعی نظام کو بڑھا کر الرجی کے خلاف موثر ویکسین کی طرح کام کرتا ہے۔

منقہ شہد جو اکثر سپرمارکیٹس میں دستیاب ہوتا ہے، کے ایک چائے کے چمچ کا روزانہ نہار منہ استعمال جسم میں اینٹی باڈیز کی مقدار کو بڑھاتا ہے جس سے آپ کے جسم کو الرجی اور انفیکشن وغیرہ سے قدرتی طور پر لڑنے میں مدد ملتی ہے۔

نمکین پانی

نمکین پانی آپ کے ناک کے اندرونی حصے کھول کر الرجی کا سبب بننے والی اشیاء کو دور کردیتا ہے یا ان کی شدت میں کمی لے آتا ہے، اب وہ دن گزر گئے جب آپ کو خالص نمک ڈھونڈ کر اس پانی کو تیار کرنا پڑتا تھا، اب آپ کسی بھی فارمیسی سے نمکین پانی سے بنے اسپرے اور سلوشنز وغیرہ خرید سکتے ہیں، اگرچہ یہ اینٹی الرجی ادویات کا متبادل تو نہیں مگر اس اسپرے کا سردیوں کے خشک مہینوں کے دوران مستقل استعمال ناک کے راستے کو صاف رکھتا ہے، جبکہ نکمین پانی سے غراروں سے خراش والے گلے کو بھی سکون ملتا ہے۔

ہلدی

اس مصالحے کو اپنے سالن اور سوپ میں شامل کرنے سے لذت اور رنگ ہی شاندار نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ ناک کو کھلونے والی ایک دوا کی طرح بھی کام کرتا ہے، اس سے دکھتے گلے کو سکون ملتا ہے اور کھانسی کی شدت میں کمی آتی ہے، سونے سے قبل گرم دودھ کے گلاس میں ایک چائے کا چمچ ہلدی اور سیاہ مرچوں کا سفوف شامل کرکے استعمال کرنے سے چھینکوں اور نزلہ زکام سے آرام ملتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ناشتے کا اچھا انتخاب کیوں ضروری ہوتا ہے؟

عرصے سے ناشتے کو دن کی سب سے اہم غذا قرار دیا جارہا ہے اور اب ایک نئی تحقیق میں اس کی اہمیت کو ایک بار پھر ثابت کیا گیا ہے۔

اگر تو آپ ناشتے کو اہمیت نہیں دیتے تو جان لیں کہ اپنے دن کا آغاز صحت کے لیے ناقص غذا سے کرنا انتہائی نقصان دہ اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔

آسٹریلیا کی میکوائر یونویرسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ محض 4 دن زیادہ چربی اور چینی سے بھرپور ناشتہ کرنا بھی نمایاں دماغی تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے۔

دماغ میں آنے والی یہ تبدیلیاں کسی چیز کو سیکھنے میں مشکل کا شکار کرنے کے ساتھ ساتھ یاداشت کی کمزوری کا باعث بھی بنتی ہیں۔

سو سے زائد صحت مند رضاکاروں کو 2 گروپس میں تقسیم کرکے تحقیق کے دوران ایک گروپ کو زیادہ چربی اور چینی سے بھرپور جبکہ دوسرے گروپ کو صحت بخش غذا کا استعمال 4 دنوں تک کرایا گیا۔

پہلے گروپ کو چاکلیٹ ملک شیک اور چربی سے بھرپور سینڈوچ دیا گیا جبکہ دوسرے گروپس کو زیادہ غذائیت بخش ناشتہ دیا گیا۔

اس کے بعد دونوں گروپس کے ناشتے سے پہلے اور بعد میں یاداشت اور سیکھنے کے مختلف ٹیسٹ کروائے گئے۔

نتائج سے معلوم ہواکہ چربی اور چینی سے بھرپور ناشتہ کرنے والے افراد نے ٹیسٹوں میں بدترین اسکور حاصل کیے۔

محققین کے خیال میں اس قسم کا ناشتہ بلڈ شوگر لیول تیزی سے بڑھتا ہے جو کہ یاداشت اور ذہنی افعال پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بلڈ گلوکوز کی سطح میں تبدیلی سے گلوکوز میٹابولزم اور دماغ کو انسولین سگنل منفی انداز سے متاثر ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے پلوس ون میں شائع ہوئے۔

دوسری جانب آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بھی اسی طرح کے نتائج سامنے آئے۔

محققین نے دریافت کیا کہ زیادہ چربی والا ناشتہ پانچ دن تک کھانے سے صحت مند افراد کی توجہ اور یاداشت کی صلاحیت متاثر ہوئی۔

10 وجوہات جو مسکراہٹ کو بناتی ہیں اہم

کیا آپ کو یاد ہے کہ آخری بار کب مسکراہٹ آپ کے چہرے پر جگمگائی تھی؟ ایسا مشکل سوال تو نہیں مگر پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں ہر روز نت نئے بحران سامنے آتے رہتے ہیں خوشی کے لمحات بہت کم ہی رہ گئے ہیں۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ چہرے کا یہ عام تاثر صرف مزاج ہی خوشگوار نہیں بناتا بلکہ اس کے دیگر حیرت انگیز فوائد بھی ہیں۔

ہر سال اکتوبر کے پہلے جمعے کو مسکراہٹ کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور حدیث نبویٰ بھی ہے کہ مسکراہٹ صدقہ ہے۔

جسمانی اور ذہنی طور پر بہتر محسوس کرنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ہمارے چہرے کے تاثرات ہمارے مزاج پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ جذبات دماغ میں جگہ بناسکتے ہیں مگر ہمارے چہرے کے مسلز کی حرکت احساسات کو تبدیل کردیتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں سامنے آنے والی تحقیقی رپورٹس کے مطابق مسکراہٹ مثبت جذبات کو بڑھاتی ہے یا کم از کم منفی جذبات کو دبا دیتی ہے اور مزاج میں خوشگواریت محسوس ہونے لگتی ہے۔

مصنوعی مسکراہٹ میں کارآمد

فوٹو بشکریہ بولی وڈ ہنگامہ
فوٹو بشکریہ بولی وڈ ہنگامہ

مسکراہٹ، چاہے آپ خوشی محسوس نہ بھی کررہے ہوں، تب بھی مزاج یا موڈ پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے۔ ڈارون نے تو 1872ئ میں ہی کہہ دیا تھا کہ چہرے کے تاثرات میں تبدیلی جذباتی تناﺅ کو تبدیل کردیتے ہیں اور اب سوئیڈن کی اپسلا یونیورسٹی کی تازہ تحقیق میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مصنوعی مسکراہٹ نہ صرف مزاج پر اثرانداز ہوتی ہے بلکہ اسے خوشگوار بھی بنادیتی ہے۔

اب چاہے کتنا بھی غصہ یا مشکل حالات ہو اور ہم واقعی خوشی محسوس نہ کررہا ہو تو بھی مسکراہٹ کے ذریعے اپنے مزاج کو بہتر بنانا آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

تناﺅ میں کمی

فوٹو بشکریہ allthatisshe انسٹاگرام پیج
فوٹو بشکریہ allthatisshe انسٹاگرام پیج

امریکا کی کنساس یونیورسٹی کی 2012 کی تحقیق کے مطابق مسکراہٹ سے ذہنی تناﺅ میں کمی آتی ہے جس کی وجہ دل کی دھڑکن کی رفتار میں کمی آنا ہوتی ہے اور یہ چیز ہمارے ذہن پر سوار تناﺅ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے، اس طرح مشکل حالات میں خود کو تناﺅ سے پاک رکھ کر چیلنجز کا سامنا کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

قابل اعتماد بناتی ہے

اے ایف پی فائل فوٹو
اے ایف پی فائل فوٹو

پٹس برگ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق مسکراتا چہرہ لوگوں کو اس فرد کے مقابلے میں زیادہ قابل اعتماد لگتا ہے جو مسکرا نہ رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق مسکراہٹ سے چہرے کی کشش بڑھ جاتی ہے اور لوگوں کے اندر اس پر اعتماد کرنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چہرے پر مسکراہٹ جتنی بڑی ہوگی وہ فرد اتنا ہی زیادہ قابل اعتماد نظر آئے گا۔

دماغی تربیت کے لیے بہترین

اے ایف پی فائل فوٹو
اے ایف پی فائل فوٹو

دماغ منفی چیزوں کو زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے تاہم مسکرانے کی عادت ہمارے ذہن کو زیادہ مثبت اور پر امید رہنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق روزمرہ میں مسکراہٹ کو عادت بنالینے سے ہمارے دماغ کے اندر خوشی کا احساس پیدا ہوتا ہے جس سے مثبت سوچ کو بڑھاوا ملتا ہے۔

مسکراہٹ چھوت کی طرح پھیلتی ہے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

کیا کبھی آپ نے نوٹس کیا کہ آپ کی مسکراہٹ کے جواب میں دوسرا فرد بھی مسکرانے لگتا ہے؟ تو سائنس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کسی کو مسکراتے دیکھ کر ہمارے دماغ میں کچھ خاص خلیات حرکت میں آجاتے ہیں اور ہم لاشعوری طور پر مسکرانے لگتے ہیں۔ یہ چیز درحقیقت انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دیتی ہے۔

اسی طرح ہیولیٹ پیکارڈ کی ایک تحقیق کے مطابق کسی دوست، رشتے دار بلکہ کسی اجنبی کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے سے بھی ہمارے دل اور دماغ میں ایسی خوشی کی لہر پیدا ہوتی ہے جو چاکلیٹ کھانے یا پیسوں کے حصول وغیرہ سے بھی زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ خاص طور پر کسی بچے کی مسکراہٹ کو دیکھنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

رشتے مضبوط بناتی ہے

اے ایف پی فائل فوٹو
اے ایف پی فائل فوٹو

جو لوگ زیادہ ہنستے مسکراتے ہیں ان کی شادیاں بھی زیادہ کامیاب ہوتی ہیں۔ ایک امریکی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن خواتین کی مسکراہٹ نمایاں ہوتی ہے وہ اپنی شادیوں سے زیادہ مطمئن بھی ہوتی ہیں، جبکہ جتنا زیادہ کوئی خاتون مسکراتی ہے اس کی شادی بھی طویل عرصے تک برقرار بھی رہتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ہنسنے مسکراتے کے عادی ہوتے ہیں وہ زیادہ پرامید، خوش باش اور جذباتی طور پر مستحکم بھی ہوتے ہیں اور یہ خوبیاں صحت مند رشتے کا سبب بنتی ہیں۔

دفتری کام میں مددگار

اے ایف پی فائل فوٹو
اے ایف پی فائل فوٹو

ہونٹوں کو کچھ دیر کے لیے پھیلانا دفتر میں نہ صرف مزاج کو خوشگوار بناتی ہے بلکہ آپ کو ایک محنتی اور اچھا ورکر بھی بنادیتی ہے۔ 2010 کی ایک تحقیق کے مطابق خوشی ایک ایسا عنصر ہے جو دفاتر میں کام کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ضروری اور اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اور یہ تو سب کو معلوم ہے کہ مثبت جذبات ہی کامیابی کی منزل کی جانب لے جاتے ہیں جبکہ منفی سوچ نیچے گرا دیتی ہے۔

تخلیقی سوچ کا حامل بنائے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

مسکراہٹ ذہن کے ان گوشوں کو جلا بخشتی ہے جو تخلیقی کاموں میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ ہنسنے مسکرانے کے عادی ہوتے ہیں ان میں مسائل کا سامنا کرتے ہوئے بہترین حل سوچنے کی صلاحیت بھی زیادہ ہوتی ہے۔

درحقیقت مسکراہٹ سے ڈوپامائن نامی ہارمون دماغ میں کارج ہوتا ہے جو خوشی کا احساس دلاتا ہے اور کسی فرد کی فیصلہ سازی اور معلومات کی تجزیے کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔

مسکراہٹ بالکل مفت ہے

فائل فوٹو
فائل فوٹو

تو اگر آپ تناﺅ کم کرنا چاہتے ہیں، رشتے مضبوط یا کسی کا دن روشن کرنا چاہتے ہیں تو مسکراہٹ موثر ترین حکمت عملی ہے متعدد مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنتی ہے کیونکہ یہ ایسی چیز ہے جس پر آپ کی جیب سے کچھ خرچ نہیں ہوتا۔

قیلولے کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا

دوپہر کو کچھ دیر کی نیند ذہن کو تیز کرنے کے ساتھ بہتر فیصلے کرنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برسٹل یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دن کے وقت مشکل فیصلوں سے قبل ڈیڑھ گھنٹے کا قیلولہ زیادہ بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ مختصر نیند ہمیں لاشعور میں چھپی معلومات کا تجزیہ کرنے میں مدد دیتی ہے اور ردعمل کا وقت تیز کرتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج سے ان شواہد کو تقویت ملتی ہے کہ قیلولہ کرنے کی عادت ذہنی افعال کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے ۔

تحقیق کے دوران 16 رضاکاروں کے دماغوں میں آنے والی تبدیلیوں اور ذہنی ردعمل کے وقت کا موازنہ قیلولے سے پہلے اور بعد کے دورانیے سے کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ مختصر نیند کسی فیصلے کے فائدے یا نقصانات کی شناخت میں مدد دے سکتی ہے۔

محققین نے اس نتائج کو حیرت انگیز قرار دیا ہے۔

اس تحقیق کے لیے پہلے رضاکاروں کو مختلف تجربات سے گزارا گیا اور انہیں ٹاسک دیئے گئے، جس کے بعد ایک گروپ کو جاگنے جبکہ دوسرے کو ڈیڑھ گھنٹے نیند کی ہدایت کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ قیلولے سے لوگوں کے ذہنی ردعمل کا وقت بہت تیز ہوگیا۔

ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات پہلے سامنے آچکی ہے کہ قیلولے کی عادت یاداشت کو مضبوط بناتی ہے مگر اس نئی تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اس عادت سے گہرائی میں جاکر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف سلیپ ریسرچ میں شائع ہوئے۔

وہ عام غذا جو خواتین کو بریسٹ کینسر کا شکار بنادے

برگر کھانے کا شوق خواتین کو چھاتی کے سرطان یا بریسٹ کینسر کا شکار بنا سکتا ہے۔

یہ بات ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

پراسیس گوشت کو کافی عرصے سے مختلف اقسام کے کینسر جیسے لبلبے، مثانے اور آنتوں کے سرطان سے جوڑا جاتا رہا ہے مگر اس نئی تحقیق میں پہلی بار ثابت ہوا ہے کہ اس غذا کے استعمال اور چھاتی میں رسولی کے درمیان تعلق موجود ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جو خواتین زیادہ فاسٹ فوڈ یعنی پراسیس گوشت کھاتی ہیں، ان میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 9 فیصد زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بازار میں دستیاب عام سرخ گوشت جیسے گائے یا بکرے کا گوشت ویسے کھانے سے یہ خطرہ نہیں بڑھتا۔

اس نئی تحقیق میں ماہرین نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اس جان لیوا کینسر سے بچنا چاہتی ہیں تو فاسٹ فوڈ سے منہ موڑ لیں۔

ویسے تو اس کینسر کے خطرے میں 9 فیصد اضافہ کچھ زیادہ محسوس نہیں ہوتا مگر محققین کا کہنا تھا کہ معمولی سا اضافہ بھی اس مرض کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 28 پرانی تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے دریافت کیا گیا کہ زیادہ جنک فوڈ کا استعمال بریسٹ کینسر کا شکار بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ماضی کی رپورٹس میں پراسیس گوشت کو زیادہ کھانے سے مختلف اقسام کے کینسر کے خطرے میں اضافے کو دریافت کیا گیا، حالیہ نتائج سے معلوم ہوا کہ خواتین میں اس غذا کا استعمال بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پراسیس گوشت کا استعمال ترک کردینا خواتین کو بریسٹ کینسر جیسے مرض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے انٹرنیشنل جرنل آف کینسر میں شائع ہوئے۔

خیال رہے کہ خواتین میں ہلاکتوں کی دوسری سب سے بڑی وجہ چھاتی کا سرطان ہی ہے کیونکہ ہر 9 میں سے ایک خاتون میں اس جان لیوا مرض کا خطرہ ہوتا ہے۔

10 امراض جن کی پیشگوئی ہاتھوں سے ممکن

انگلی کی لمبائی سے لے کر گرفت کی مضبوطی تک ہمارے ہاتھ کئی طرح کے طبی خطرات کی پیشگوئی کرتے ہیں۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے ہاتھوں کی چند عام چیزیں کس حد تک صحت کو لاحق خطرات کی نشاندہی کرتی ہیں؟

یہاں ایسے ہی علامات کا ذکر کیا گیا ہے جو طبی سائنس کے مطابق ہمارے ہاتھوں کے ذریعے ظاہر ہوتی ہیں۔

انگلی کی لمبائی : جوڑوں کے درد کا خطرہ

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر خواتین کی تیسری انگلی شہادت کی انگلی سے لمبی ہو، جو عام طور پر مردوں میں ہوتا ہے، تو ان میں گھٹنوں کے جوڑوں کے درد کی تکلیف لاحق ہونے کا خطرہ دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔ طبی جریدے آرتھریٹز اینڈ رہیوماٹزم میں شائع ایک تحقیق کے مطابق اس کی ایک ممکنہ وجہ ہارمون ایسٹروجن کی کم سطح ہوسکتی ہے۔

لرزتے ہاتھ : پارکنسن (رعشے) امراض کی علامت

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

لرزتے ہاتھ کئی بار بہت زیادہ کیفین کے استعمال یا مخصوص ادویات کے مضر اثرات کا نتیجہ بھی ہوتے ہیں۔ مگر ایسا صرف ایک ہاتھ میں ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ صرف ایک ہاتھ کا لرزنا پارکنسن امراض کی پہلی علامت ہوسکتی ہے۔

ناخن کی رنگت : گردوں کے امراض

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ایک تحقیق کے دوران گردوں کے سنگین امراض میں مبتلا سو مریضوں کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ 36 فیصد کے ہاتھوں کے ناخن دو رنگے (ناخن کا نچلا حصہ سفید اور اوپری بھورا) تھا۔ ناخن کی اس حالت کی ممکنہ وجہ مخصوص ہارمون کا اضافہ اور خون کی شدید کمی ہوسکتی ہے اور یہ دونوں چیزیں گردوں کے امراض کا حصة ہوتی ہیں۔ اگر آپ کو اپنے ناخنوں پر دو رنگ نظر آئے یا وہ سیاہی مائل ہوجائیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ گہری رنگت جلد کے کینسر کی بھی علامت ہوسکتی ہے۔

گرفت کی مضبوطی : دل کی صحت

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ایک کمزور گرفت ہارٹ اٹیک یا فالج کے دورے اور ان سے بچنے کے کم امکانات کی پیشگوئی ثابت ہوسکتی ہے۔ سترہ ممالک کے رہائشیوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ گرفت کی مضبوطی قبل از وقت موت کی بلڈ پریشر کے مقابلے میں زیادہ بہتر پیشگوئی کرسکتی ہے۔ محققین کے مطابق گرفت کی مضبوطی سے مجموعی طور پر مسلز کی مضبوطی اور فٹنس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور اس حوالے سے جسمانی سرگرمیوں کی تجویز دی جاسکتی ہے تاکہ امراض قلب سے بچا جاسکے۔

انگلیوں کے نشانات : ہائی بلڈ پریشر

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ایک برطانوی طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن لوگوں کی ایک یا اس سے زائد انگلیاں چکر دار فنگر پرنٹس کی حامل ہو تو وہ ممکنہ طور پر ہائی بلڈ پریشر کے شکار ہوسکتے ہیں۔ اس شخص کی جتنی انگلیاں چکر دار ہوں گی اتنا ہی زیادہ بلڈ پریشر بھی ہوگا۔

ہاتھوں میں پسینہ: پسینے کا زائد اخراج

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر ہاتھوں پر بہت زیادہ پسینہ آتا ہے تو یہ تھائی رائیڈ امراض کے ساتھ ساتھ جسم سے ضرورت سے زیادہ پسینے کے اخراج کا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے، جس میں پسینہ خارج کرنے والے غدود زیادہ متحرک ہوجاتے ہیں۔ اکثر افراد کو اس مسئلے کا سامنا جسم کے ایک یا 2 حصوں میں ہوتا ہے جیسے بغلیں، ہتھیلی یا پیر۔ ڈاکٹر اس کا معائنہ کرکے علاج تجویز کرسکتے ہیں۔

زرد ہاتھ: خون کی کمی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اینیمیا یا خون کی کمی کی مختلف اقسام ہوتی ہے جیسے بہت زیادہ یا دائمی اینیمیا وغیرہ، تاہم خون کی کمی کی قسم جو بھی ہو، اس کے نتیجے میں متاثرہ فرد کے جسم میں خون کے صحت مند خلیات کی مقدار اتنی نہیں ہوتی جو آکسیجن کی فراہمی کا کام کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرض کی سب سے عام علامت جلد میں پیلاہٹ ابھر آنا ہوتی ہے خصوصاً ہاتھوں کی جلد اور ناخنوں میں زردی جھلکنا۔

کلب نیل : پھیپھڑوں کے امراض

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

کلب نیل یا فنگر سے مراد یہ ہے کہ ناخنوں کی بنیاد نرم پڑجائے جبکہ ناخن کے آس پاس کی جلد چمکدار ہوجائے، اسی طرح ناخن اطراف سے معمول سے زیادہ مڑجائیں جبکہ انگلیوں کے سرے پہلے سے زیادہ بڑے ہوجائیں، یہ علامت عام طور پر پھیپھڑوں کے امراض کی جانب اشارہ کرتی ہے کیونکہ انگلیوں یا ناخنوں کو آکسیجن کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔ ویسے یہ علامت خون کی شریانوں کے امراض، جگر کے امراض کی نشانی بھی ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ناخنوں کی یہ ساخت کینسر کی علامت تو نہیں؟

ہتھیلی پر سرخ دھبے: جگر کے امراض

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

جلد پر سرخ داغ ابھر آنا متعدد امراض کی نشانی ہوسکتے ہیں، مگر عام طور پر یہ جگر کے امراض کے مسئلے میں زیادہ عام علامت ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کو ہاتھوں کی اس کیفیت کے ساتھ ہتھیلی پر زیادہ گرمائش کا تجربہ ہو، تو یہ جگر میں خرابی کا عندیہ ہوسکتا ہے۔

انگلی کی پشت کے جوڑ سوج جانا : کولیسٹرول بڑھنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

زرد رنگ کا سخت ڈھیر انگلی کے پشت کے جوڑوں پر موجود ہو تو یہ ہائی کولیسٹرول کی علامت ہوسکتے ہیں، ایسے ڈھیر ہاتھوں، کہنیوں یا گھٹنوں میں ابھر سکتے ہیں۔

جسم میں گیسوں کے ذریعے بیماری کا پتا چلانے والا کیپسول

پرتھ: معدے اور پیٹ کے اندر گیسوں کو پہچاننے والا ایک کیپسول اپنی تیاری کے اختتامی مراحل میں ہے۔ اس کے ذریعے جسمانی گیسوں کی نوعیت دیکھتے ہوئے ڈاکٹر بہتر طور پر مرض کی کیفیت معلوم کرسکیں گے۔

ایک عرصے تک تحقیق کے بعد آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے ذیلی ادارے ایٹمو بایوسائنسز نے ایک انقلابی کیپسول بنایا ہے جو پیٹ میں جاکر ہرطرح کی گیسوں کی شناخت کرتا ہے۔ پھر ماہرین ان گیسوں کو دیکھتے ہوئے مرض اور مریض کو بہتر شناخت کرسکیں گے۔

یہ کیپسول انسانی آزمائش کے آخری مراحل میں ہے۔ پیٹ میں جاکر غذا ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہوتی ہے اور اس طرح مسلسل گیسیں نکلتی رہتی ہیں۔ غذا ہضم ہونے کے عمل میں اس سے زیادہ گیسیں خارج ہوتی ہیں لیکن یہ سب جسم سے باہر نہیں آتیں۔ اس لیے انہیں پیٹ کے اندر ہی جاننے کی کوشش میں یہ کیپسول بہت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔

مثلاً گیسی بایومارکر سے السر کی ایک قسم کے السر یا بوویل ڈِزیز کی آسانی سے شناخت ہوسکتی ہے۔ فی الحال اس کےلیے ایک لمبی نلکی پیٹ میں اتاری جاتی ہے تو مریض کو درد سے بے حال کردیتی ہے۔ دوسرا طریقہ سانس کی بو ہے لیکن سانس تک آتے آتے گیس بہت ہی کمزور ہوجاتی ہے۔

معدے میں گیسیں سانس کے مقابلے میں 10 ہزار گنا زائد طاقتور ہوتی ہیں۔ اس پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر کائل کہتے ہیں کہ معدے میں بننے والی گیسوں کو براہِ راست جاننے سے بہت سے معمے حل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیپسول مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس کا ڈیٹا ایک ایپ کے ذریعے موبائل فون پر دیکھا جاسکتا ہے۔

ایٹمو گیس کیپسول، سانس کے ذریعے جسمانی گیسیں شناخت کرنے والے طاقتور ترین ڈٹیکٹر سے بھی 3000 گنا مؤثر ہے۔ 2022 میں یہ ڈاکٹروں کے ہاتھ میں ہوگا جس سے مریضوں کو شفا دینے میں بھی مدد ملے گی۔

کیا جسمانی وزن میں کمی کے لیے ڈائٹنگ اچھا آپشن ہے؟

جسمانی وزن کم کرنے کے لیے کھانا چھوڑ دینا یا ڈائٹنگ کے نتیجے میں مسلز کی کمزوری اور توند کی چربی بڑھنے کا خطرہ طویل المعیاد مدت میں بڑھتا ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

جارج ٹاﺅن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین جسمانی وزن کو تیزی سے کم کرنے کے لیے ڈائٹنگ کرنے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے، جس کے دل، گردوں اور خون کے گردشی نظام پر مختصر المدت اور طویل المدت بنیادوں پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران چوہوں پر تجربات کے دوران محققین نے عام معمول کے مقابلے میں غذائی کیلوریز 60 فیصد کمی کے ساتھ جانوروں کو کھلائی، جس کا موازنہ انسانوں میں روزانہ 2 ہزار کیلوریز پر مشتمل غذا کو 800 کیلوریز تک لے جانے سے کیا جاسکتا ہے۔

تین دن اندر کے چوہوں پر اس غذائی کمی کا اثر دیکھنے میں آیا یعنی جسمانی وزن میں کمی ہوگئی، تاہم اس کے نتیجے میں میٹابولک عناصر اور افعال جیسے بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن، گردوں کے افعال اور دوران خون بھی متاثر ہوئے۔

تاہم جیسے ہی معمول کی غذا بحال کی گئی تو جسمانی وزن، بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن بھی معمول پر آگئی۔

مگر محققین نے دریافت کیا کہ ڈائٹنگ کے خاتمے کے 3 ماہ بعد ان جانوروں کے پیٹ کے ارگرد چربی جمع ہونے کی شرح بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔

 

محققین کا کہنا تھا کہ ڈائٹنگ ختم کرنے کے بعد بھی بلڈ پریشر میں اضافے کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ توند کی چربی کے ساتھ جسم میں آنے والی تبدیلیاں طویل المعیاد بنیادوں پر ڈائیٹنگ کے عمل سے گزرنے والے افراد کے لیے صحت کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج امریکن فزیولوجیکل سوسائٹی کے اجلاس میں پیش کیے گئے۔

Google Analytics Alternative