صحت

پودینے کی چائے پینا کوئی نقصان تو نہیں پہنچاتا؟

پودینے کا استعمال تو لگ بھگ ہر گھر میں ہی ہوتا ہے اور سیکڑوں سال سے ان پتوں کو ذائقے اور طبی فوائد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

درحقیقت پودینے کو موجودہ دور کی مختلف مصنوعات جیسے ٹوتھ پیسٹ اور ٹافیوں وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ پودینے کی چائے نہ صرف مزیدار ہوتی ہے بلکہ صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند بھی ثابت ہوسکتی ہے؟

سانسوں کو مہکائے

ویسے تو پودینے کے پتے کو چبانا بھی قدرتی طور پر سانس کی بو دور کرنے میں مدد دیتا ہے ، مگر اس کی چائے بناکر پینا سانس کو زیادہ دیر تک مہکانے میں مدد دیتا ہے اور سانس کی بو سے لڑنا آسان ہوجاتا ہے۔ 2015 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ پودینے کے تیل میں جراثیم کش خصوصیات ہوتی ہیں جو کہ منہ میں بو اور مسوڑوں کے امراض کا باعث بننے والے بیکٹریا کی مقدار کم ہوتی ہے۔

تناﺅ سے ہونے والے سردرد سے نجات

2016 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پودینے کے تیل سے مسلز کی تکلیف دور کرنے میں مدد ملتی ہے اور انہیں سکون محسوس ہوتا ہے۔ مینتھول کے باعث ٹھنڈک کا احساس تناﺅ یا آدھے سرکے درد میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ یہ پودینے کی چائے کی مہک سے بھی یہی فائدہ حاصل ہوسکے۔

بند ناک کھولنے میں مددگار

ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پودینے کے تیل کی بھاپ جراثیم کش خصوصیات رکھتی ہے اور اس سے نظام تنفس کے انفیکشن کی کچھ اقسام سے نجات میں مدد مل سکتی ہے۔ اس بھاپ کے نتیجے میں زکام کے باعث بند ہونے والی ناک کو کھولنے میں مدد مل سکتی ہے۔ کچھ افراد نے دریافت کیا کہ پودینے کی چائے سے نکلنے والی بھاپ بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر کرے

لوگ طویل عرصے سے پودینے کے مختلف مسائل جیسے بدہضمی، پیٹ پھولنے اور گیس وغیرہ سے نجات کے لیے استعمال کررہے ہیں، 2017 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پودینے کے تیل کے کیپسول بچوں میں پیٹ کے درد کو کم کرسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پودینے کی چائے کو پینے سے بھی ایسے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

جسمانی توانائی بڑھائے

پودینے میں موجود تیل تھکاوٹ کی علامات کو کم کرکے جسمانی توانائی بڑھا سکتا ہے۔ 2018 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پودینے کے تیل کے کیپسول کا استعمال ذہنی تھکاوٹ کم کرکے ذہنی افعال کو بہتر کرتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

جراثیم کش خصوصیات

2018 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پودینے کے تیل سے سالمونیلا اور دیگر جراثیموں کی نشوونما رکنے میں مدد ملتی ہے، 2015 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کپ پودینے کا تیل منہ میں موجود مضر صحت بیکٹریا کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ مینتھول فنگل کش خصوصیات بھی رکھتا ہے۔

احتیاط

اس چائے کا استعمال دن بھر کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ قدرتی طور پر کیفین سے پاک ہوتی ہے یعنی نیند پر منفی انداز سے اثرات مرتب نہیں کرتی جبکہ زیرو کیلوریز کی بدولت یہ سافٹ ڈرنکس، فروٹ جوسز اور دیگر میٹھے مشروبات کا اچھا متبادل بھی ہے، مگر کچھ افراد کو اسے پینے سے سینے میں جلن کا سامنا ہوسکتا ہے یا پہلے سے سینے میں جلن کے شکار ہیں تو حالت زیادہ خراب ہوسکتی ہے۔

ناف کیسے بنتی ہے اور اس کا کام کیا ہوتا ہے؟

پلکیں آپ کی آنکھوں کو تحفظ دینے کا کام کرتی ہیں، پھیپھڑے سانس لینے میں مدد دیتے ہیں اور جسم کا ہر حصہ (باہر یا اندر) اپنے مختص کردہ کام کررہا ہوتا ہے۔

مگر ناف پیٹ کے درمیان رہ کر صرف کچرا جمع کرنے کے علاوہ کیا کرتی ہے؟

ویسے تو یہ سب کو ہی معلوم ہوگا کہ ناف آپ کی پیدائش سے پہلے بہت زیادہ اہم ہوتی ہے مگر بعد میں بھی مکمل طور پر بیکار نہیں ہوتی۔

جب انسان ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو ناف پر آنول یا نالی موجود ہوتی ہے جو ماں کے رحم کی اندرونی دیوار پر نالی سے جاکر ملتی ہے جس سے جینن کو رحم مادر میں غذا اور آکسیجن ملتی ہے اور اس کے فضلات خارج کرنے میں مدد ملتی ہے۔

پیدائش کے بعد جب اس نالی کو کاٹا جاتا ہے تو ایک چھوٹا ابھار بنتا ہے جو زخم ٹھیک ہونے کے بعد نشان چھوڑ جاتا ہے اور یہی آپ کی ناف ہوتی ہے۔

حالیہ سائنسی شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آنول کو کاٹنے میں چند منٹ کی تاخیر سے بچے کو 80 سے سو ملی لیٹر خون ملتا ہے جو کہ بچے کی نشوونما پر مثبت اثر بھی مرتب کرتا ہے۔

ویسے تو اکثر افراد کا خیال ہے کہ ناف کی ساخت کا انحصار پیدائش میں مدد دینے والی ڈاکٹر یا دائی کی قینچی کی صلاحیت پر ہوتا ہے مگر یہ درست نہیں۔

بنیادی طور پر ناف کی ساخت کا انحصار مادر رحم میں بچے کی جلد کے پھیلاﺅ پر ہوتا ہے۔

ویسے ناف کی شکل جیسی بھی ہو یہ تو یقینی ہے کہ ہم میں سے بیشتر افراد کو اس کا استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، تاہم اگر آپ طب کے کسی شعبے کی تعلیم حاصل کررہے ہیں تو پھر آپ اسے معدے کے مرکز کی حیثیت سے شناخت کرتے ہوں گے۔

یعنی معدے کے 4 حصے کیے جائیں تو ناف مرکز میں ہوگی جبکہ ایک اور طریقے میں اسے 9 حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ناف کا حصہ مرکز میں ہوتا ہے۔

آنول کٹ جانے کے بعد ناف کے اندرونی حصے کی رگیں اور شریانیں بند ہوکر عضو یا جوڑ کا سہارا دینے والی بافتوں کی شکل اختیار کرلیتی ہیں یعنی کنکٹیو ٹشوز کا کام کرنی لگتی ہیں۔

یہ بافتیں اوپر جگر کے پاس مختلف حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے اور ناف کے پیچھے بدستور جڑی ہوتی ہیں۔

ناف کے قریب موجود شریانیں جسم کے اندر گردشی نظام کا حصہ بن جاتی ہے اور وہاں سے خون مثانے اور دیگر حصوں میں جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگر آپ ناف کے اندر انگلی گھمائیں تو ایسا لگے گا کہ مثانے میں جھنجھناہٹ ہورہی ہے۔

اس کے علاوہ ناف laparoscopic سرجری کے آغاز کے طور پر بھی کام کرتی ہے جس سے پیٹ کے کسی اور حصے پر زخم سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

یوگا میں بھی ناف کو توازن یا کشش کا مرکز سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ معدے کے ملز کے اوپر موجود ہے اور اس سے انسٹرکٹر کو مختلف ہدایات دینے میں ملتی ہے۔

ویسے جہاں تک ناف کے اندر کچرے کی بات ہے تو وہ درحقیقت اکثر کپڑوں کے ریشوں کا مجموعی ہوتا ہے جس میں جلد کے مردہ خلیات بھی شامل ہوجاتے ہیں۔

اس پھل کو کھانے سے ہونے والے فوائد حیران کردیں گے

چکوترا یا گریپ فروٹ ایسا ترش پھل ہے جو اس موسم میں بازار میں عام ملتا ہے۔

غذائی اجزا، اینٹی آکسائیڈنٹس اور فائبر سے بھرپور ہونے کے باعث یہ کھانے کے لیے صحت کے لیے انتہائی فائدہ پھل ہے۔

طبی تحقیقی رپورٹس میں اس کے متعدد فوائد سامنے آئے ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔

کم کیلوریز

غذا میں اس پھل کی شمولیت صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہوتی ہے کیونکہ اس کیلوریز کی مقدار بہت کم ہوتی ہے جبکہ غذائیت بہت زیادہ۔

اس کو کھانے سے فائبر کی مناسب مقدار ملتی ہے جبکہ 15 وٹامنز اور منرلز بھی اس میں موجود ہیں، اس کے علاوہ طاقتور نباتاتی کمپاﺅنڈ سے بھرپور اینٹی آکسائیڈنٹس بھی اس میں موجود ہیں۔

مدافعتی نظام کے لیے مفید

اس پھل کو کھانا معمول بنانا مدافعتی نظام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

اس میں وٹامن سی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو خلیات کو نقصان دہ بیکٹریا اور وائرسز سے تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ مختلف تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ وٹامن سی موسمی نزلہ زکام سے فوری نجات میں مدد فراہم کرتا ہے۔

اس کے علاوہ چکوترے میں موجود دیگر وٹامنز اور منرلز بھی مدافعتی نظام کے لیے مفید ہوتے ہیں جیسے وٹامن اے کی موجودگی ورم اور مختلف انفیکشن سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔

بی وٹامنز، زنک، کاپر اور آئرن کی بدولت یہ پھل مدافعتی نظام کے افعال کو مل کر کام کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

بھوک کو کنٹرول کرنے میں مدد دے

اس میں مناسب مقدار میں فائبر موجود ہوتا ہے اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ زیادہ فائبر والے پھل پیٹ بھرنے کا احساس بڑھانے میں مدد دیتے ہین، کیونکہ یہ پیٹ خالی ہونے کا عمل سست کردیتا ہے۔

موٹاپے سے نجات

گریپ فروٹ جسمانی وزن میں کمی کے لیے ایک اچھا انتخاب ہے، اس میں موجود فائبر پیٹ بھرنے کا احساس بڑھاتا ہے جس سے کیلوریز کو جزوبدن بنانے کی مقدار کم ہوتی ہے۔

اس پھل میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں جبکہ پانی بہت زیادہ، جو بھی جسمانی وزن میں کمی میں مدد دیتا ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو موٹاپے کے شکار افراد کھانے سے پہلے آدھا چکوترا کھاتے ہیں، وہ اس پھل سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں زیادہ جسمانی وزن کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، یعنی 12 ہفتوں میں 1.6 کلوگرام وزن کم سکتے ہیں۔

دیگر تحقیقی رپورٹس میں بھی ایسے ہی نتائج سامنے آئے، جیسے ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جب لوگوں نے کھانے کے ساتھ ایک چکوترا کھانا عادت بنایا تو ان کے کمر کا حجم کم ہوگیا، ویسے یہ پھل بذات خو دتو جسمانی وزن میں کمی نہیں لاسکتا مگر صحت بخش غذا کا حصہ بناکر ایسا ممکن ہوسکتا ہے۔

ذیابیطس اور انسولین کی مزاحمت کی ممکنہ روک تھام

اس پھل کو کھانا معمول بنانا انسولین کی مزاحمت کی روک تھام کرسکتا ہے جو کہ ذیابیطس کا باعث بننے والا ایک اہم عنصر ہے۔

انسولین کی مزاحمت کے دوران خلیات انسولین پر ردعمل دینا بند کردیتے ہیں، یہ تو سب کو معلوم ہے کہ انسولین جسم کے متعدد افعال کو ریگولی ٹکرتا ہے جیے میٹابولزم جبکہ بلڈشوگر کنٹرول بھی کرتا ہے۔

انسولین کی مزاحمت سے اس ہارمون اور بلڈ شوگر کی سطح بڑھتی ہے جو دونوں ہی ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث سمجھے جانے والے اہم عناصر ہیں۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھانے سے قبل آدھا چکوترا کھانے والے افراد میں انسولین کی سطح اور انسولین کی مزاحمت میں نمایاں کمی دیکھنے یں آئی۔

دل کی صحت کے لیے بھی مفید ہوسکتا ہے

اس پھل کو کھانا معمول بنانے سے دل کی صحت میں بہتری آسکتی ہے کیونکہ یہ ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول جیسے عناصر پر قابو پانے میں مدد دے سکتا ہے جو امراض قلب کا باعث بنتے ہیں۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن افراد نے 6 ہفتے تک روزانہ 3 وقت گریپ فروٹ کھائے، ان میں بلڈ پریشر کی سطح دن بھر میں کافی کمی دیکھنے میں آئی جبکہ مجموعی کولیسٹرول کی سطح میں بھی بہتری آئی۔

یہ اثرات ممکنہ طور پر اس پھل میں موجود اہم اجزا کی بدولت ہوتے ہیں جیسے پوٹاشیم ایسا منرل ہے جو دل کی صحت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے اور گریپ فروٹ سے دن بھر کے لیے درکار پوٹاشیم کی مقدار کا 5 فیصد حصہ مل جاتا ہے۔

پوٹاشیم کا مناسب مقدار میں استعمال ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے جبکہ فائبر بھی دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹس

اس پھل میں کئی مختلف اقسام کے اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہیں جو مختلف طبی فوائد کا باعث بنتے ہیں جیسے وٹامن سی خلیات کو نقصان سے بچاسکتا ہے جس سے امراض قلب اور کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اسی طرح بیٹاکیروٹین جسم میں وٹامن اے کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور مختلف امراض جیسے امراض قلب، کینسر اور آنکھوں کے عارضے کا خطرہ کم کرتا ہے۔

لائیکو پین ایک اور جز ہے جو مختلف اقسام کے کینسر کی روک تھام خصوصاً مثانے کے کینسر سے بچانے میں ممکنہ طور پر مدد دے سکتا ہے، جبکہ لائیکوپین سے رسولی کی نشوونما بھی سست ہوجاتی ہے اور یہ کینسر کے علاج سے مرتب ہونے والے مضر اثرات کو بھی کم کردیتا ہے۔

گریپ فروٹ میں موجود فلیونوئڈز ورم کش خصوصیات رکھتے ہیں جو بلڈ پریشر اور کولیسٹرول لیول کم کرکے امراض قلب کا خطرہ کم کرسکتے ہیں۔

گردوں کی پتھری کا خطرہ کم ہوسکتا ہے

اس پھل کو کھانا گردوں کی پتھری بننے کا خطرہ ممکنہ طور پر کم کرسکتا ہے جو کہ گردوں میں کچرا جمع ہونے سے بنتی ہے۔

یہ کچرا میٹابولزم میں بنتا ہے اور عام طور پر گردوں سے فلٹر ہوکر پیشاب کے راستے جسم سے نکل جاتا ہے، مگر جب یہ جمع ہونے لگے تو یہ پتھری کی شکل اختیار کرلیتا ہے، پتھری زیادہ بڑی ہونے پر پیشاب کا نظام بلاک ہوسکتا ہے جو کہ انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔

چکوترے میں موجود سٹرک ایسڈ کیلشیئم کو گردوں میں اکٹھا ہونے سے روک کر جسم سے خارج کرسکتا ہے۔

ڈی ہائیڈریشن سے تحفظ

اس پھل میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہے اور ایک درمیانے پھل کے آدھے حصے میں 118 ملی لیٹر پانی ہوتا ہے، زیادہ پانی کا استعمال ڈی ہائیڈریشن سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے اور اس لیے بھی فائدہ مند ہے کیونکہ سردیوں میں اکثر افراد عام طور پر پانی کم پینے لگتے ہیں۔

مگر یہ پھل کچھ افراد کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے

اس پھل کا استعمال مختلف ادویات کے ردعمل کو بدل سکتا ہے تو مریضوں کو اس پھل کو کھانے سے پہلے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کرلینا چاہیے۔

اس میں موجود سیٹرک ایسڈ دانتوں کی فرسودگی کا خطرہ بھی بڑھا سکتا ہے خاص طور پر اگر بہت زیادہ مقدار میں کھایا جائے۔

اگر آپ کے دانت حساس ہے تو گریپ فروٹ جیسے تیزابی پھلوں کا استعمال احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے کا ایک اور نقصان سامنے آگیا

آج کل بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپے کی شرح تشویشناک حد تک بڑھتی جارہی ہے اور اس کے پیچھے چھپی وجہ سامنے آگئی ہے۔

درحقیقت زیادہ وقت ٹیلیویژن دیکھنے یا اسمارٹ فونز و دیگر برقی ڈیوائسز کا استعمال کرنا نوجوانوں میں سوڈا اور انرجی ڈرنکس پینے کی شرح کو بڑھا دیتا ہے۔

ان مشروبات میں موجود مٹھاس اور کیفین نوجوانوں میں موٹاپے، ذیابیطس، نیند کے مسائل اور دیگر طبی مسائل کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

اس تحقیق کے دوران 8 ویں سے 10 ویں جماعت کے 32 ہزار سے زائد طالبعلموں کا جائزہ 2013 سے 2016 تک لیا گیا اور اس کے نتائج اب طبی جریدے جرنل پلوس ون میں شائع ہوئے۔

محققین نے دریافت کیا کہ 27 فیصد طالبعلم سافٹ یا انرجی ڈرنکس کی شکل میں 10 فیصد سے زیادہ کیلوریز جزو بدن بناتے ہیں جبکہ 21 فیصد طالبعلموں میں ان مشروبات کے نتیجے میں کیفین کی بہت زیادہ مقدار کے استعمال کا انکشاف ہوا۔

تحقیق کے مطابق ڈیوائسز پر زیادہ وقت گزارنے اور چینی اور کیفین کے بہت زیادہ استعمال کے درمیان تعلق موجود ہے جبکہ ٹیلیویژن بھی بہت زیادہ اثرات مرتب کرتا ہے۔

روزانہ ٹی وی دیکھنے کے وقت میں ایک گھنٹے کا اضافے سے طالبعلموں میں طے شدہ مقدار سے زیادہ چینی کے استعمال کا امکان 32 فیصد جبکہ کیفین کے استعمال کا امکان 28 فیصد تک بڑھ گیا۔

محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ سوشل میڈیا اور ویڈیو گیمز کے نتیجے میں بھی یہ اثرات دیکھنے میں آتے ہیں مگر شرح کچھ کم ہوتی ہے۔

کینیڈا کی میکماسٹر یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر کیتھرین موریسن کا کہنا تھا کہ ہمارا خیال تھا کہ ویڈیو گیمز کے نتیجے میں نوجوانوں میں سوڈا یا انرجی ڈرنکس کا استعمال بڑھتا ہوگا مگر ہم نے دریافت کیا کہ ٹی وی زیادہ طاقتور اثرات مرتب کرتا ہے۔

اس سے قبل رواں سال جریدے برین امیجنگ اینڈ بیہوئیر میں شائع تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ موبائل و کمپیوٹر آلات چلانے سے انسان نہ صرف ذہنی تناؤ کا شکار بنتا ہے بلکہ اس سے موٹاپا بھی ہوتا ہے۔

ماہرین نے 132 رضاکاروں کا ڈیجیٹل میڈیا آلات یعنی موبائل، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ و آئی پیڈ جیسے آلات کے استعمال سے ان کی جسمانی صحت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا۔

ماہرین نے رضاکاروں کی ذہنی و جسمانی صحت کا جائزہ لینے کے لیے نہ صرف ان کے آیم آر آئی ٹیسٹ کیے بلکہ ان سے ڈیجیٹل میڈیا استعمال کرتے وقت ان کے خیالات سے متعلق بھی دریافت کیا۔

ماہرین کی جانب سے رضاکاروں کے جائزے کے جاری کیے گئے نتائج کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا آلات کا استعمال کرتے وقت انسان نہ صرف بوکھ کو غیر اہم قرار دے دیتا ہے بلکہ وہ اس کے ذہن پر بھی کئی منفی اثرات پڑتے ہیں اور وہ چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا آلات کے استعمال کے دوران کئی گھنٹوں تک ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہنے سے انسان کا وزن بڑھنے لگتا ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ نئی نسل میں موٹاپے کا ایک باعث ڈیجیٹل آلات کا بہت زیادہ استعمال بھی ہے جب کہ یہی آلات نوجوانوں میں ذہنی تناؤ اور چڑچڑے پن کا باعث بھی ہیں۔

دوپہر کی نیند کا دورانیہ کتنا ہونا چاہیے؟

طبی ماہرین رات کو 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لینے کا مشورہ دیتے ہیں مگر بیشتر افراد اس پر عمل نہیں کرپاتے۔

اب اس کی وجہ کچھ بھی ہو مگر یہ سب کو معلوم ہے کہ نیند کی کمی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے اور اس کا حل دوپہر کو کچھ دیر کے لیے سونے یا قیلولے میں چھپا ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ سنت نبوی بھی ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ آخر دوپہر کی نیند کا مثالی وقت کیا ہے یعنی کتنی دیر قیلولہ کرنا چاہئے؟

ویسے کسی فرد کے لیے قیلولے کے دورانیے کا انحصار عمر اور رات کی نیند کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔

دوپہر کو کتنی دیر سونا چاہیے

امریکا کے نیشنل سلیپ فاﺅنڈیشن نے 20 منٹ کا قیلولہ ذہن تازہ دم کرنے کے لیے بہترین قرار دیا ہے۔

ویسے تو اس دورانیے کا اثر ہر فرد میں مختلف ہوسکتا ہے مگر بیشتر طبی ماہرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ دوپہر کی نیند کا وقت جتنا کم ہوگا، اتنا ہی ذہن زیادہ تازہ دم اور الرٹ ہوگا۔

مگر کچھ طویل قیلولے کے بھی فوائد ہیں اور رواں سال کی ایک تحقیق میں عندیہ دیا گیا تھا کہ 25 سے 45 منٹ کی نیند سے جسمانی طور پر سرگرم افراد کا تناﺅ اور تھکاوٹ میں نمایاں کمی آتی ہے جبکہ توجہ اور جسمانی کارکردگی بھی بہتر ہوجاتی ہے۔

مگر اس سے کم وقت کی نیند بھی لوگوں کو ذہنی طور پر زیادہ بیدار اور ریفریش کرنے کے لیے کافی ہے جبکہ بہت زیادہ دیر سونا ذہن کو دھندلا سکتا ہے۔

قیلولہ اور نیند کا سائیکل

دوپہر کی نیند کا دورانیہ کافی اہم ہوتا ہے جس کی وجہ سلیپ سائیکل ہے، جب کوئی فرد سوتا ہے تو اس کا دماگ قدرتی طور پر نیند کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے، ان مراحل میں مختلف دماغی لہریں بنتی ہیں جبکہ مخصوص ہارمونز دوران خون میں خارج ہوتے ہیں۔

یہ اثرات قیلولے کے بعد کسی فرد کی بیداری کی حالت پر نمایاں تبدیلیاں کا باعث بن سکتے ہیں، جس کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ نیند کے کس سائیکل میں وہ بیدار ہوا۔

سب سے بہتر قیلولہ وہ ہوتا ہے جو نیند کے پہلے اور دوسرے مرحلے تک محدود ہو کیونکہ اس کے لیے گہری نیند میں جانے کی ضرورت نہین ہوتی جبکہ ذہن تازہ دم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

رات کو نیند کے دوران ایک شخص جب سوتا ہے تو گہری نیند کے چکر سے کئی بار گزرتا ہے، بیشتر افراد میں نیند کا ایک چکر 90 سے 110 منٹ طویل ہوتا ہے اور اس کے دوران باہری دنیا سے تعلق کافی حد تک ٹوٹ جاتا ہے جبکہ دماغ ایسے مرکبات جاری کرتا ہے جو کسی فرد میں زیادہ تھکاوٹ کا باعث بنتے ہیں، جس سے بھی پوری رات سونے میں مدد ملتی ہے۔

مگر اس کے مقابلے میں جب کوئی فرد دوپہر کو گہری نیند کے ایک سائیکل سے گزر کر بیدار ہو تو وہ بھاری پن اور ذہن میں دھندلاہٹ کا احساس لیتا ہے کیونکہ جسم کو مزید نیند کے سائیکل کی طلب ہوتی ہے۔

تاہم 15 سے 20 منٹ کا وقت بالغ افراد کے لیے بہترین ہے تو بچوں میں یہ دورانیہ ایک گھنٹے بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

فوائد

رواں سال کی ایک تحقیق کے مطابق دوپہر کو سونے سے ذہنی صلاحیت میں بہتری آتی ہے، مختصر المدت یاداشت بڑھتی ہے، مزاج خوشگوار ہوتا ہے، غنودگی اور تھکاوٹ میں کمی آتی ہے جبکہ کھیلوں میں کارکردگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ بھی یہ عادت امراض قلب، خون کی شریانوں کے امراض، بلڈ پریشر، ذیابیطس، جسمانی وزن میں کمی اور دماغی تنزلی کے عارضے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

سافٹ ڈرنکس کے استعمال کا ایک اور نقصان سامنے آگیا

چینی سے تیار ہونے والی تیزابی مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس موٹاپے اور دانتوں کے ٹوٹنے کی عام وجہ ثابت ہوتے ہیں۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی۔

کنگز کالج لندن کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ موٹاپے کے شکار افراد میں دانتوں کے ٹوٹنے کا مسئلہ بہت زیادہ عام ہوتا ہے اور سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال دانتوں کی فرسودگی اور مسوڑوں کے امراض کا باعث بھی بنتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران امریکا کے نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزمیشن سروے 2003-04 کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا جس میں ساڑھے 3 ہزار افراد کے نمونے جمع کیے گئے تھے۔

تحقیق کے لیے محققین نے جسمانی وزن، میٹھے مشروبات کے استعمال اور دانتوں کے ٹوٹنے کے واقعات کو بھی دیکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ تیزابیت کے باعث کاربونیٹڈ مشروبات اور فروٹ جوسز دانتوں کے ٹوٹنے کا باعث بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ موٹاپے کے شکار افراد کے لیے اہم پیغام ہے کہ یہ مشروبات ان کے جسم کے ساتھ ساتھ دانتوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اس کا استعمال کم کرکے دانتوں کے اس مسئلے سے بچنا ممکن ہے۔

محققین کے مطابق یہ ڈینٹسٹ کے لیے بھی اہم ہے کہ وہ اپنے موٹاپے کے شکار مریضوں کو اس سے آگاہ کریں اور یہ بتائیں کہ یہ مشروبات دانتوں کے ساتھ جسم پر کیا اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل کلینکل اورل انویسٹی گیشن میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل رواں ماہ ہی ایک اور برطانوی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ میٹھے مشروبات یا سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال موٹاپے کا شکار بناسکتا ہے۔

ابرڈین یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ میٹھے مشروبات کا استعمال کے بارے میں پہلے ہی سوچا جاتا تھا کہ وہ موٹاپے کا باعث بننے والے عناصر میں سے ایک ہے اور اس حوالے سے دیکھا گیا کہ ٹھوس یا سیال شکل میں چینی جسمانی وزن پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے۔

اس سلسلے میں محققین نے چوہوں کے 2 گروپس بناکر انہیں 8 ہفتے تک ٹھوس غذا یا مشروب کی شکل میں چینی کا استعمال کرایا گیا اور یہ ایڈڈ شوگر غذائی کیلوریز کے 73 فیصد حصے پر مشتمل تھی۔

محققین نے ان چوہوں کے جسمانی وزن، جسمانی چربی، کیلوریز کی مقدار اور توانائی کے لیے اس کے استعمال کو مانیٹر کیا جبکہ ان کے گلوکوز اور انسولین ردعمل کو بھی دیکھا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ میٹھے مشروبات کا استعمال جن جانوروں کو کرایا گیا، ان کا جسمانی وزن اور چربی میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ ٹھوس شکل میں میٹھا کھانے والے چوہے پتلے اور میٹابولک اعتبار سے اپنے ساتھیوں سے زیادہ صحت مند ثابت ہوئے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ میٹھے مشروبات کے استعمال سے چوہوں میں گلوکوز کی برداشت کم ہوئی جبکہ انسولین کی مزاحمت بڑھ گئی اور یہ دونوں ذیابیطس کے خطرے کی نشاندہی کرنے والے عناصر ہیں۔

تاہم محققین کے مطابق یہ زیادہ چینی کے استعمال کا براہ راست نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ جسمانی چربی میں اضافہ تھا۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ میٹھے مشروبات موٹاپے کی وجہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

انار مزیدار ہونے کے ساتھ آپ کی صحت کیلئے نہایت فائدہ مند

انار ایک ایسا پھل ہے جسے چھیلنا سب کو پسند نہ بھی ہو لیکن اسے کھانا سب پسند کرتے ہیں اور اب اس کا موسم بھی آگیا ہے۔

اور کیا آپ جانتے ہیں کہ انار نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے۔

کم حراروں (کیلوریز) مگر وٹامن سی، وٹامن بی فائیو، پوٹاشیم اور فائبر سے بھرپور اس پھل کے سفید چھلکے اور باریک جلد بھی کھائی جاسکتی ہے بلکہ وہ پھل کا ہی حصہ ہوتی ہیں، اس پھل میں اینٹی آکسیڈنٹس اور جراثیم کش خوبیاں بھی پائی جاتی ہیں۔

اس موسم میں آسانی سے دستیاب اس پھل کا استعمال عادت بنالینا چاہیے۔

اس خوش ذائقہ پھل کے استعمال سے آپ کئی ایسے فوائد حاصل کرسکتے ہیں جن کو مصنوعی طریقے سے حاصل کرنے کے لیے آپ کو کئی کڑوی اور مہنگی ادویات کا استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔

موٹاپے سے نجات

فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے انار زیادہ کھانے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی جبکہ ہاضمہ بھی صحت مند ہوتا ہے اور قبض کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، اس میں فیٹ نہیں ہوتا لہذا جسمانی وزن میں کمی کے لیے بہترین غذا بھی تصور کیا جاتا ہے۔

کیل مہاسوں سے نجات

اگر آپ روزانہ آٹھ اونس انار کا جوس پیئں، تو آپ کی جلد دانوں سے پاک، جوان، اور چمکدار نظر آئے گی۔

بالوں کے گرنے کا مسئلہ حل کریں

انار میں موجود فیٹی ایسڈ بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرتا ہے جس کی وجہ سے بال گرنے کی شکایت کم ہوجاتی ہے۔

کینسر سے تحفظ

انار میں سبز چائے سے زیادہ اینٹی آکسیڈینٹس موجود ہوتے ہیں، اگر اس کے استعمال کو معمول بنا لیا جائے، تو یہ چھاتی، بڑی آنت، اور مثانے کے کینسر کے خلاف مدافعت فراہم کرتا ہے، اس کے چھلکے میں الیجک ایسڈ موجود ہوتا ہے، جو جلد کے کینسر کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

خون کی کمی دور کرے

انار بھی ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے میں مددگار پھل ہے جس کی وجہ اس میں وٹامن سی کی موجودگی ہے جو آئرن کی موجودگی کو بڑھاتی ہے، دورانِ حمل انار کا باقاعدگی سے استعمال انیمیا اور اکڑن سے محفوظ رکھتا ہے۔

امراض قلب اور فالج سے بچائے

انار میں موجود فائٹو کیمیکلز کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کم کرتے ہیں جبکہ روزانہ انار کا ایک اونس تازہ جوس پینے سے خون کی شریانوں میں خون کے لوتھڑے یا رکاوٹیں دور ہوتی ہیں، جو فالج اور دل کی دیگر بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

مردوں میں گنج پن کی ایک بڑی اور عام وجہ سامنے آگئی

کیا آپ نے غور کیا ہے کہ مردوں میں گنج پن کی شرح خواتین کے مقابلے میں بہت زیادہ کیوں ہے؟

ویسے تو اس کی متعدد وجوہات ہوتی ہیں جیسے بہت زیادہ ذہنی تناﺅ اور دیگر، مگر اب سائنسدانوں نے ایک اور اہم وجہ تلاش کرلی ہے جو مردوں کو درمیانی عمر میں ہی بالوں سے محروم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

اور وہ ہے اپنا زیادہ وقت کام کرتے ہوئے گزارنا۔

درحقیقت ہر ہفتے 52 گھنٹے کام کرتے ہوئے گزارنا کیرئیر کے لحاظ سے تو فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے مگر بالوں پر اس کے اثرات منفی ہوتے ہیں۔

یہ بات جنوبی کوریا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سنگ کیونکوان یونیورسٹی کی تحقیق میں 20 سے 59 سال کی عمر کے 13 ہزار سے زائد ملازمین کا جائزہ 2013 سے 2017 کے درمیان لیا گیا۔

ان لوگوں کو 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، ایک گروپ ان لوگوں کا تھا جس میں شامل افراد فی ہفتہ 40 گھنٹے روزگار کے لیے مصروف رہتے تھے، دوسرا وہ تھا جس میں شامل افراد کے دفتری اوقات 52 گھنٹے تک تھے جبکہ تیسرا گروپ 52 گھنٹے سے زائد وقت تک کام کرنے والوں کا تھا۔

محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ عمر کی تیسری یا چوتھی دہائی میں فی ہفتہ 52 گھنٹے کام کرتے ہیں، ان میں وقت سے پہلے گنج پن کا امکان 40 گھنٹے فی ہفتہ کام کرنے والوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔

اسی طرح 52 گھنٹے سے زیادہ کام کرنے والے افراد میں قبل از وقت گنج پن کا امکان مزید بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ بہت زیادہ دفاتر میں گزارنا تناﺅ کو بڑھانے کا باعث بنتا ہے جو پہلے ہی بالوں کی جڑوں کو نقصان پہنچانے والا عنصر مانا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ زیادہ وقت تک دفتری سرگرمیوں اور گنج پن کے درمیان تعلق موجود ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 20 یا 30 سال سے زائد عمر کے جوان افراد عمر کی اپنے دفتری وقت کو محدود کرکے گنج پن کے خطرے کو کسی حد تک کم کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ گنج پن کا عمل تناﺅ کے باعث تیز ہوتا ہے اور چوہوں پر کیے جانے والے تجربات میں بھی معلوم ہوا کہ تناﺅ سے بالوں کی نشوونما تھم جاتی ہے اور بالوں کی جڑوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

Google Analytics Alternative