صحت

ایک وقت میں فرنچ فرائیز کی کتنی مقدار کھانی چاہئے؟

تلے ہوئے آلو کے ٹکڑے المعروف فرنچ فرائیز کو دنیا بھر میں بچے اور بڑے بہت شوق سے کھاتے ہیں، اس کو کیچپ، مایونیز اور دیگر چیزوں کے ساتھ لگا کر کھائے بغیر بھی مزہ نہیں آتا۔

مگر ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ایک وقت میں فرنچ فرائیز کھانے کی جو مقدار بتائی ہے اس نے لوگوں کے جذبات کو بھڑکا کر رکھ دیا ہے۔

امریکی محکمہ زراعت نے فرنچ فرائیز کی مقدار 12 سے 15 قتلے رکھی ہے (جو کہ بہت کم ہے) مگر ہارورڈ یونیورسٹی پروفیسر نے اس خیال کو کچھ زیادہ ہی آگے بڑھا دیا ہے۔

ہارورڈ ٹی ایچ چان اسکول آف پبلک ہیلتھ میں پروفیسر ایرک ریم کے مطابق ایک وقت میں 6 سے زیادہ فرنچ فرائیز کھانے سے گریز کرنا چاہئے۔

یعنی ان کے خیال میں 6 فرنچ فرائیز ہی کافی ہیں اور یہ بات لوگوں کو ہضم کرنا مشکل ہوگئی ہے۔

ہارورڈ پروفیسر کا دعویٰ ہے کہ ہر ایک کو پسند یہ پکوان درحقیقت غذائی طور پر تباہ کن ہتھیار ہے جس کی قیمت لوگوں کو اپنی صحت کی صورت میں چکانا پڑتی ہے۔

ماہر غذائیت ایلائن میگی کے مطابق 10 فرنچ فرائیز ہی لوگوں کی تسلی کے لیے کافی ہیں اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ پکوان آلو سے بنتا ہے جس میں غذائی پوٹاشیم اور وٹامن سی موجود ہوتا ہے۔

اور تصور کرسکتے ہیں کہ ان قتلوں کو کھانے کے شوقین اپنے آپ کو کسی تعداد تک محدود نہیں کرسکتے اور ٹوئٹر پر انہوں نے اس کا اظہار بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک انہیں جو نقصان ہوناتھا وہ ہوچکا اور انہیں اس کی کوئی پروا نہیں۔

لوگوں کا ردعمل اتنا زیادہ تھا کہ پروفیسر ایرک کو ٹوئٹر پر وضاحت کرنا پڑی اور ان کا کہنا تھا ‘میں نے کوئی آئیڈیل مقدار نہیں بتائی، میں نے مشورہ دیا تھا کہ ریسٹورنٹس اس کی مقدار کم کردیں تو بہتر ہے’۔

مریض نے کھانسی کے دوران شریانوں کا گھچا اگل دیا

کیلی فورنیا: دل کے مریض نے دوران علاج کھانسی کے مسلسل دورے کے بعد شریان کا ایک حصہ منہ سے باہر نکال دیا۔

سائنسی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق ڈاکٹر جارج ویسل تھیلر کو اپنے طبی کیرئیر کے حیران کن تجربے سے گزرنا پڑا ہے۔ جارج ویسل کے 36 سالہ مریض نے منہ سے کھانسی کے دوران شریان کا ایک حصہ اگل دیا۔

مریض نے جس شریان کی شاخ کو اُگلا ہے وہ دائیں پھیپھڑوں کی ایک شاخ کی شکل کی طرح ہے جس میں اوپری لوب کی 3 مزید شاخیں، درمیانی لوب میں 2 اور نچلی لوب میں مزید 5 شاخیں تھیں۔ طبی سائنس میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا اور انوکھا واقعہ ہے۔

مریض کے شریان کا ایک سالم حصہ اگلنے کا واقعہ کیلی فورنیا کے ایک اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں پیش آیا، مریض کا دل درست طریقے سے خون کو جسم کے دیگر حصوں تک پمپ نہیں کر پا رہا تھا جس کے باعث دل کے ساتھ ایک پمپنگ آلہ Impella نصب کیا گیا تھا۔

دل میں عارضی پمپنگ آلہ نصب کرنے کی وجہ سے شریانوں میں کلوٹنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس سے بچنے کے لیے مریض کو خون جمنے سے روکنے والی دوا Heparin کے انجیکشن لگائے جا رہے تھے جو کہ معمول کا طریقہ علاج ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پمپنگ آلہ اور خون جمنے سے روکنے والی دوا کے اثر کے باعث یہ واقعہ پیش آیا تاہم حتمی بات فرانزک لیب کی رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

سونف کی چائے کے یہ فوائد جانتے ہیں؟

سونف کو زمانہ قدیم سے طبی لحاظ سے صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے جو کہ متعدد امراض کی روک تھام میں مدد دے سکتی ہے۔

اسے خام شکل میں کھایا جائے یا چائے کی صورت میں، فائدہ ہر بار ہوتا ہے۔

سونف میں موجود آئل کو ادویات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، مگر کیا آپ نے کبھی سونف کی چائے پی ہے؟

اسے بنانا بہت آسان ہے۔

چائے بنانے کا طریقہ

ایک سے 2 کھانے کے چمچ سونف کو پیس لیں اور اسے ایک کپ میں ڈالنے کے بعد اس میں گرم پانی شامل کردیں، اس کپ کو ڈھانپ دیں اور دس منٹ کے لیے ہلائیں، اس کے بعد چھان لیں اور چائے سے لطف اندوز ہوں، اگر دل کرے تو کچھ مقدار میں اس میں شہد کا اضافہ بھی کردیں۔

یہ چائے وٹامن اے، سی اور ڈی کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھی بھرپور ہوتی ہے، جس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

جسمانی وزن میں کمی

چونکہ سونف نظام ہاضمہ کے عمل کو بہتر بناتی ہے، اسی لیے یہ غذائیت کو جزو بدن بنانے کا عمل بھی بہتر کردیتی ہے۔ اس طرح نقصان دہ اجزاءجسم سے خارج ہوجاتے ہیں، اسی طرح جسم میں گلوکوز کی سطح بھی متوازن رہتی ہے، یہ بے وقت کھانے کی خواہش کو قابو میں کرتی ہے جبکہ جسم میں اضافی سیال کو بھی خارج کردیتی ہے۔

دل کی صحت بہتر بنائے

جگر صحت مند ہو تو کولیسٹرول کے ٹکڑے زیادہ بہتر طریقے سے ہوتے ہیں، سونف ان غذاﺅں میں سے ایک ہے جو جگر کے افعال کو مناسب طریقے سے مدد کرنے میں مدد دیتی ہیں جبکہ دل کی دھڑکن بہتر ہوتی ہے۔

آنکھ کی صحت کے لیے فائدہ مند

سونف بینائی کو بہتر کرنے کے لیے بھی فائدہ مند ہے، اس میں موجود وٹامن سی بینائی کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔

کیل مہاسے کم کرے

سونف میں موجود آئل ورم کش خصوصیات رکھتے ہیں اور جلدی مسائل جیسے کیل مہاسوں کے علاج میں مدد دیتا ہے۔ سونف جلد میں موجود اضافی سیال کو خارج کردیتی ہے جو کہ کیل مہاسوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔

ذیابیطس کے خلاف مزاحمت

سونف ذیابیطس کے شکار افراد کو اس مرض سے لڑنے میں بھی مدد دیتی ہے، وٹامن سی اور پوٹاشیم کے باعث یہ بلڈ شوگر لیول کو کم کرتی ہے جبکہ انسولین کی سرگرمیوں میں اضافہ کرتی ہے جس سے بلڈ شوگر متوازن رہتا ہے۔

مسوڑوں کے لیے بہترین

سونف جراثیم کش خصوصیات کے باعث مسوڑوں کو بھی مضبوط بناتی ہے جس سے ورم یا سوجن کی روک تھام ہوتی ہے۔

نظام ہاضمہ کے مسائل دور کرے

سونف مسلز کو ریلیکس کرنے کے ساتھ بائل کے بہاﺅ کو حرکت میں لاتا ہے جس سے درد کم ہوتا ہے اور نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔ سونف کا استعمال جسم سے گیس کو بھی خارج کرتا ہے اور پیٹ پھولنے کا مسئلہ حل ہوتا ہے۔

نظام تنفس کے لیے بھی فائدہ مند

ایک طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا سونف کا استعمال سانس کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ثابت ہوتا ہے، اس سے نتھنے صاف ہوتے ہیں اور نظام تنفس کے امراض دور رہتے ہیں۔ یہ پھیپھڑوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

جوڑوں کے درد میں کمی لائے

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جوڑوں میں ورم کے حوالے سے سونف کا استعمال فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، یہ ایک اینٹی آکسائیڈنٹ کی سرگرمیوں کو بڑھاتا ہے جس سے جوڑوں میں ورم کم ہوتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ سونف جوڑوں کے عوارض سے نجات کے لیے مفید ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

مردہ ڈونر کی عطیہ کردہ بچہ دانی سے دنیا میں پہلی بار بچے کی پیدائش

طبی دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایک مردہ خاتون ڈونر سے ملنے والی بچہ دانی یا رحم کی پیوند کاری کرانے والی خاتون نے صحت مند بچی کو جنم دیا ہے۔

برازیل کے شہر ساﺅ پاﺅلو میں ستمبر 2016 میں بچہ دانی کی پیوندکاری کے انقلابی آپریشن ہوا تھا اور ثابت ہوا تھا کہ اس طرح کی ٹرانسپلانٹ ممکن ہے اوراس سے ان ہزاروں خواتین کو فائدہ ہوگا جو مختلف مسائل کی وجہ سے بچوں کو جنم نہیں دے پاتیں۔

طبی جریدے دی لانسیٹ میڈیکل جرنل میں شائع مقالے کے مطابق اس آپریشن میں مردہ ڈونر کی بچہ دانی کو مریض کی رگوں، جوڑوں اور دیگر جسمانی حصوں سے منسلک کیا گیا تھا۔

اس سے قبل اس طرح کے مردہ ڈونرز کے ٹرانسپلانٹ کے 10 کیسز امریکا، چیک ریپبلک اور ترکی میں ہوئے تھے مگر کسی بھی خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش نہیں ہوئی۔

تاہم برازیلین خاتون اس معاملے میں خوش قسمت ہوئیں جنھوں نے آپریشن کے ذریعے صحت مند بچی کو جنم دیا۔

ساﺅ پاﺅلو یونیورسٹی ہاسپٹل ڈینی اجزنبرگ نے اس طبی ٹیم کی قیادت کی اور ان کا کہنا تھا کہ اس کامیابی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تیکنیک قابل عمل ہے اور خواتین کے بانجھ پن کے مسئلے کو حل کرسکتی ہے۔

زندہ ڈونرز کی جانب سے عطیہ کی جانے والی بچہ دانی کی پیوندکاری سے پہلے بچے کی پیدائش 2013 میں سوئیڈن میں ہوئی تھی اور اب تک مجموعی طور پر 39 کیسز میں 11 بچوں کی پیدائش ہوئی۔

ماہرین کے تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں 10 سے 15 فیصد خواتین کو بانجھ پن کا سامنا ہوتا ہے اور ہر 500 میں سے ایک خاتون کو بچہ دانی کے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔

برازیلین خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش دسمبر 2017 میں ہوئی تھی اور کئی ماہ تک اس کی صحت کا معائنہ کرنے کے بعد یہ تحقیق لکھی گئی۔

شادی خواتین کی جسمانی سرگرمیوں پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟

اکثر دیکھا گیا ہے کہ شادی کے بعد لوگوں کے جسمانی وزن میں اضافہ ہوجاتا ہے، جس کی مختلف وجوہات سامنے آتی رہتی ہیں اور اب سائنسدانوں نے خواتین کے حوالے سے ایک اور وجہ دریافت کرلی ہے۔

جی ہاں ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ آخر شادی کے بعد خواتین کا وزن کیوں بڑھ جاتا ہے۔

فن لینڈ کی Jyvaskyla یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ازدوجی حیثیت میں تبدیلی جسمانی سرگرمیوں پر اثرانداز ہوتی ہے، خصوصاً خواتین جسمانی طور پر کم متحرک ہوجاتی ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس کی ایک وضاحتی وجہ بتانا تو مشکل ہے کہ شادی اور جسمانی سرگرمیوں میں تبدیلی میں کیا واضح تعلق ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ مردوں اور خواتین کی جسمانی سرگرمیوں کو رشتے مختلف انداز سے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 34 سے 49 سال کی عمر کے ایک ہزار سے زائد رضاکاروں کے ازدواجی تعلقات، سماجی حیثیت اور جسمانی سرگرمیوں میں تبدیلی کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ سماجی طور پر اعلیٰ حیثیت رکھنے والے مردوں اور خواتین میں شادی کے 4 سال کے عرصے میں ایروبک اسٹیپس کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

ایروبک اسٹیپس سے مراد ایسی جسمانی سرگرمیوں ہیں جو کم از کم 10 منٹ تک بغیر کسی تعطل کے جاری رہے، جیسے فی منٹ 60 یا اس سے زائد قدم چلنا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی اکثریت شادی کے بعد جسمانی طور پر کم متحرک ہوجاتی ہیں جس کا نتیجہ طویل المعیاد بنیادوں پر جسمانی وزن میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔

اس کے مقابلے میں مرد شادی کے بعد جسمانی طور پر متحرک رہتے ہیں تاہم بیوی سے علیحدگی ان کی جسمانی سرگرمیوں کی سطح کم کرنے کا باعث بنتی ہے۔

آسان الفاظ میں خواتین شادی کے بعد ورزش کرنا زیادہ پسند نہیں کرتیں جبکہ مرد علیحدگی کی صورت میں ورزش سے دور ہوجاتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف پبلک ہیلتھ میں شائع ہوئے۔

لیموں کے 12 حیران کن طبی فوائد

لیموں ایک ایسی چیز ہے جو گھروں میں بہت عام استعمال ہوتی ہے اس کے چھلکوں، عرق اور دیگر میں متعدد طبی فوائد بھی پائے جاتے ہیں۔

وٹامن سی سے بھرپور ہونے کے باعث اسے متعدد فوائد کا حامل مانا جاتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے یہ متعدد امراض سے تحفظ دینے کے لیے بھی مفید ہے؟

یہاں لیموں کے صحت کے لیے ایسے فوائد جانیں جن سے ہوسکتا ہے آپ لاعلم ہوں۔

خون کی کمی

لیموں میں شامل وٹامن سی اینیمیا کے خلاف لڑتا تو نہیں مگر یہ آئرن کی طاقت کو ضرور بڑھاتا ہے جو اس بیماری کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی کے ساتھ آئرن کو کھانا ہمارے جسم میں آئرن کو جذب کرنا آسان کردیتا ہے۔ آئرن سے بھرپور غذاﺅں میں لیموں کو چھڑکنے سے نہ صرف ذائقہ بڑھتا ہے بلکہ آئرن کے تمام فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔

دل کو صحت مند بنائے

لیموں وٹامن سی کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے، ایک لیموں سے 31 ملی گرام وٹامن سی ملتا ہے، جو کہ روزانہ درکار مقدار کا 51 فیصد حصہ ہے۔ طبی تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ وٹامن سی سے بھرپور پھل اور سبزیاں کھانے سے امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے، مگر صرف وٹامن سی ہی دل کے لیے فائدہ مند نہیں بلکہ اس میں موجود فائبر اور نباتاتی کمپاﺅنڈز بھی امراض قلب کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔

جسمانی وزن کنٹرول کرنے میں مدد دے

لیموں جسمانی وزن کم کرنے والی غذا ہے، ایک تحقیق کے مطابق لیموں میں موجود فائبر معدے میں جاکر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے، اور ضروری نہیں کہ لیموں کو کھایا جائے، اسے مشروب کی شکل میں استعمال کرنا بھی یہی فائدہ پہنچاتا ہے۔ اسی طرح گرم پانی میں لیموں کا عرق ملا کر پینا بھی جسمانی وزن کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

نظام ہاضمہ بہتر کرے

لیموں میں موجود کاربوہائیڈریٹس اور فائبر معدے کی صھت کو بہتر بناتے ہیں جبکہ نشاستہ اور شکر کے ہضم ہونے کے عمل کو سست کرتے ہیں جس سے بلڈ شوگر لیول بھی کنٹرول میں آتا ہے۔

حاملہ خواتین کے لیے بھی مفید

لیموں میں موجود جز فولیٹ مختلف مسائل سے بچانے میں مدد دیتا ہے، فولیٹ وٹامنز میں بھی موجود ہوتا ہے مگر اسے کسی غذا جیسے لیموں کی شکل میں استعمال کرنا جسم کو اسے جذب کرنے میں زیادہ مدد دیتا ہے۔

کینسر کا خطرہ کم کرے

پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال کچھ اقسام کے کینسر سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے ،ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ لیموں میں موجود نباتاتی کمپاﺅنڈز انسداد کینسر خصوصیات رکھتے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

فالج کا خطرہ کم کرے

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی ایک تحقیق کے مطابق جو خواتین بڑی مقدار میں ترش پھلوں کا استعمال کرتی ہیں ان میں خون کی شریانوں کے امراض سے ہونے والے فالج کا خطرہ کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔

جلدی صحت

آپ نے ہوسکتا ہے کبھی غور کیا ہو کہ اسکن کیئر کی مصنوعات پر وٹامن سی کا ذکر ضرور ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وٹامن کو ایک ہارمون کولیگن کی پیداوار کے لیے اہم مانا جاتا ہے۔ یہ ہارمون جلد کی مضبوطی اور لچک کے لیے اہم ہے جبکہ لیموں میں اینٹی آکسائیڈنٹس بھی ہوتے ہیں جو جلد کو ہموار، سرخی مائل اور لچکدار رکھنے کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔

گردوں کی پتھری کے لیے مفید

طبی تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ پوٹاشیم جو کہ لیموں میں پایا جاتا ہے، کیلشیئم اور دیگر معدنیات کو اکھٹا ہوکر گردوں میں پتھری کی شکل میں بدلنے سے روکنے کے حوالے سے مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تو لیموں پانی سے لطف اندوز ہو مگر کوشش کریں کہ اس میں چینی کا اضافہ نہ کریں کیونکہ اس سے گردوں میں پتھری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

جسمانی توازن

طبی ماہرین کے مطابق لیموں کا تازہ عرق پانی میں روزانہ ملا کر پینا جسم کے اندر پانی کی سطح کو توازن میں رکھنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ لیموں کا عرق جسم کے اندر جاکر اکلائن میں تبدیل ہوجاتا ہے اور جوڑوں کی سوجن سے بچاﺅ میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

سانس کو تازہ رکھے

لیموں کی مہک سانس کو تازہ رکھتی ہے خاص طور پر اگر آپ ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک لیموں کے عرق سے کئی بار کلیاں کریں۔

مزاج خوشگوار بنائے

لیموں کی تیز ترش مہک کیفین یا چینی کے بغیر توانائی کی لہر فراہم کرتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق لیموں کو دماغی تحرک دینے والی مہک تصور کیا جاتا ہے اور ایک تھقیق کے مطابق یہ لوگوں کے مزاج اور توانائی کی سطح کو بہتر بناتی ہے۔

مگر اپنے دانتوں کا خیال رکھیں

لیموں کا عرق اور دیگر تیزابی مشروبات کا زیادہ استعمال دانتوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ترش مشروبات سے دانتوں کے گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی بھی ترش غذا یا مشروب کے استعمال کے آدھے گھنٹے بعد تک دانتوں پر برش نہ کریں کیونکہ اس سے دانتوں کی سطح کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

 

الٹراساونڈ کے بغیر پیدا ہونے والے بچے کی جنس جاننا انتہائی آسان

الٹراساؤند ٹیکنالوجی کی آمد سے قبل اپنے ہونے والے بچے کی جنس جاننے کی خواہشمند مائیں کچھ ایسے اشاروں پر بھروسہ کرتی تھیں جو کہ ممکنہ طور پر انہیں رحم میں موجود بچے کی جنس سے مطلع کرتے تھے۔

آج حاملہ خواتین جنس کی نشاندہی کے لیے سائنس کا سہارا لے سکتی ہیں مگر اب بھی کچھ خواتین جنس کی پیش گوئی کے لیے کچھ قدیم cvطریقےآزمانا پسند کرتی ہیں۔

اگر آپ بھی اس حوالے سے متجسس ہیں تو جنس کی پیشگوئی کے لیے ان میں سے چند طریقے استعمال کریں اور دیکھیں کہ آپ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

پیٹ کے اوپر انگوٹھی لٹکا کر دیکھیں

کیا آپ کو معلوم ہے اس کام کے لیے شادی کی انگوٹھی بھی استعمال کی جاسکتی ہے؟ بچوں کی جنس معلوم کرنے کے سب سے پرانے طریقوں میں سے ایک شادی کی انگوٹھی کو ایک دھاگے سے باندھ کر ماں کے پیٹ پر لٹکانا ہے۔ اگر انگوٹھی دائرے میں گھومے تو آپ کو بیٹا ہوگا، اور اگر یہ دائیں بائیں گھومے تو بیٹی کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

دل کتنی تیزی سے دھڑک رہا ہے؟

دھڑکن کی رفتار جانچیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کے بچے کے دل کی دھڑکن سست ہے اور 140 دھڑکن فی منٹ سے کم ہی رہتی ہے تو یہ لڑکا ہوگا۔ لیکن اگر دھڑکن 140 فی منٹ سے زیادہ ہو تو آپ ایک لڑکی کے والدین بننے والے ہیں۔

کیا کھانے کا دل چاہ رہا ہے؟

سوچیں کہ آپ کو کس چیز کی بھوک محسوس ہو رہی ہے۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر رحم میں لڑکا ہے تو ماؤں کو پروٹین سے بھرپور غذاؤں مثلاً گوشت کی اشتہا محسوس ہوتی ہے۔ اسی دلیل کے تحت وہ خواتین جو کسی لڑکی کو جنم دینے والی ہوتی ہیں انہیں میٹھی چیزیں مثلاً پھل اور بسکٹس وغیرہ کھانے کا دل کرتا ہے۔

پیٹ کی ساخت

اپنے پیٹ کو شیشے میں دیکھیں۔ اگر آپ کا پیٹ ایسا محسوس ہو جیسے آپ نے اپنی قمیض کے نیچے باسکٹ بال چھپا رکھی ہے تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو بیٹا پیدا ہونے والا ہو۔ لیکن اگر ایسا محسوس ہو جیسے آپ نے پورا تربوز نگل لیا ہے تو ہوسکتا ہے آپ بیٹی کی ماں بننے والی ہیں۔

پیشاب کی رنگت

اگر آپ کا پیشاب تیز پیلے رنگ کا ہے تو کچھ لوگوں کے مطابق یہ لڑکے کی علامت ہے، اور اگر آپ کا پیشاب پھیکے پیلے رنگ کا ہے تو یہ بیٹی ہونے کی علامت ہوسکتی ہے۔

مرد کا وزن

اپنے شوہر کے وزن پر نظر رکھیں۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر آپ کے حمل کے دوران آپ کے شوہر کا وزن بڑھنا شروع ہوجائے تو آپ کے گھر جلد ہی ایک لڑکے کی آمد متوقع ہے۔ اگر شوہر اپنا وزن برقرار رکھیں تو یہ لڑکی ہونے کا اشارہ ہوسکتا ہے۔

بال بڑھنے کی رفتار

کچھ لوگوں کے مطابق وہ خواتین جن کو بیٹے کی پیدائش متوقع ہوتی ہے ان کی ٹانگوں کے بال تیزی سے بڑھتے ہیں جبکہ اگر خاتون کے رحم میں لڑکی ہو تو بالوں کے بڑھنے کی رفتار مناسب ہی رہتی ہے۔

ڈبل روٹی کے خشک حصے کھانا

کچھ بوڑھی خواتین مانتی ہیں کہ اگر رحم میں لڑکا ہو تو مائیں ڈبل روٹی کے خشک حصے کھانے سے کتراتی نہیں ہیں جبکہ اگر لڑکی ہو تو مائیں خشک حصے کھانا پسند نہیں کرتیں.

بعض مکڑیاں گائے سے زیادہ غذائیت بھرا دودھ دیتی ہیں

بیجنگ: قدرت کے کارخانے سے ایک حیرت انگیز خبر آئی ہے کہ بعض مکڑیاں اپنے بچوں کے لیے دودھ نما مائع خارج کرتی ہیں جو غذائیت میں کسی بھی طرح گائے کے دودھ سے کم نہیں ہوتا، اس مائع کو پی کر ان کے بچے بہت تیزی سے بڑھتے ہیں۔

بعض مکڑیوں کے بچے ہمارے بچوں کی طرح ہوتے ہیں اور ان کی ماں بچوں کو دودھ جیسا مائع پلاتی ہیں۔ کچھ مکڑیوں کے بچے چھوٹے کیڑے یا پھولوں کے زردانوں پر گزارا کرتے ہیں اور بعض بالغ ہوکر شکار سیکھنے تک کچھ نہیں کھاتے۔

چینی اکادمی برائے سائنس کے ماہرین نے کہا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں پائی جانے والی ایک مکڑی ’ٹوکسیئس میگنس‘  toxeus magnus کے بچے برق رفتاری سے بڑھتے ہوئے صرف 20 دن میں بلوغت تک پہنچ جاتے ہیں لیکن ماں اور ان کے بچے کھانے کی تلاش میں اپنا گھر نہیں چھوڑتے ہیں۔

چینی ماہر زینجی نے بتایا کہ ’ہم ان مکڑیوں پر غور کررہے تھے کہ ایک رات مکڑی کا بچہ اپنی ماں سے چپکا ہوا پایا گیا، اسے دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ شاید ’ماں مکڑی‘ اپنے بچوں کو چمٹا کر کوئی شے پلارہی ہے۔ اس کے بعد مکڑی کو احتیاط سے لے کر خردبین کے ذریعے دیکھا گیا تو اس کے بدن سے مائع کے چھوٹے قطرے خارج ہورہے تھے جو دودھ جیسے تھے اور اس کی غذائیت گائے کے دودھ سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

toxeus-magnus-2

اگلے مرحلے میں بچوں کو یہ قطرے پینے سے روکا گیا تو وہ صرف دس دن میں ہی مرگئے۔ اس سے معلوم ہواکہ یہ ’دودھ‘ بچوں کے لیے کسی غذائیت بھری شے کی طرح ہی ہے اور بچہ مکڑی کی بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔

toxeus-magnus

اگرچہ یہ بچے صرف 20 دن میں بالغ ہوکر شکار کے لیے باہر نکل جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ 40 دن تک دودھ پینا نہیں چھوڑتے اور اس دوران چھوٹے کیڑوں کو بھی کھاتے رہتے ہیں۔ اب اس مرحلے پر بھی ماں کو بچوں سے دور کردیا گیا تو ان کی زندہ رہنے کے امکانات میں 40 فیصد کمی واقع ہوگئی۔

Google Analytics Alternative