صحت

روزانہ 7 گھنٹے کی نیند کیوں ضروری ہے؟

آپ روزانہ رات کو 7 گھنٹے کی نیند کو یقینی بناکر ہارٹ اٹیک یا فالج کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل کی تحقیق میں چوہوں پر کیے جانے والے تجربات میں دریافت ہوا کہ ناکافی نیند سے شریانوں کی اندرونی دیواروں پر چربی کا اجتماع ہونے لگتا ہے۔

ماضی میں بھی یہ بات سامنے آچکی ہے کہ نیند کی کمی سے خون کی شریانوں سے جڑے امراض جیسے امراض قلب یا فالج کا خطرہ بڑھتا ہے مگر محققین اس کی وضاحت نہیں کرسکے تھے۔

اس نئی تحقیق کے محققین کا کہنا تھا کہ وہ پہلی بار دماغ کے ایک ایسے خطے کو دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے جو نیند کے دوران بون میرو سے منسلک ہوتا ہے اور خون کے سفید خلیات کی پیداوار بڑھاتے ہیں جو شریانوں میں چربی کے اجتماع کا باعث بننے والا عنصر ہے۔

نیند کی کمی موٹاپے، ذیابیطس، امراض قلب اور کینسر جیسے امراض کا خطرہ بھی بڑھا سکتی ہے تاہم محققین وہ اس کا باعث بننے والے میکنزم کے بارے میں زیادہ جان نہیں سکے ہیں۔

اس نئی تحقیق میں محققین نے چوہوں کے ایک گروپ کو کم از کم 7 گھنٹے تک سونے کا موقع دیا گیا جبکہ دوسرے گروپ کو نیند کی کمی کا شکار کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ نیند کی کمی سے شریانوں میں کچرا جمع ہونے لگا جبکہ دوسرے گروپ میں ایسا نہیں ہوا۔

محققین نے دریافت کیا کہ ایک ہارمون جو کہ ذہنی چوکنا پن اور اشتہا کو بڑھاتا ہے جبکہ بون میرو میں خون کے سفید خلیات کی پروڈکشن کو کنٹرول کرتا ہے، نیند کی کمی کے شکار چوہوں میں اس کی مقدار کم ہوگئی۔

اس ہارمون کے نتیجے میں خون کی شریانوں میں چربی جمنے کا عارضہ لاحق ہوگیا۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے نیچر میں شائع ہوئے۔

گزشتہ دنوں ہانگ کانگ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ نیند کی کمی ڈی این اے کی خود کی مرمت کرنے کی صلاحیت کو کم کردیتی ہے، جس سے جینیاتی امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

محققین کا ماننا ہے کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں نیند کی کمی کے نوجوانوں کے جینز پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

اس تحقیق کے دوران ایسے ڈاکٹروں کو دیکھا گیا جنہوں نے نائٹ شفٹ کی وجہ سے اپنی نیند کی عادات کو بدل لیا تھا، تاہم محققین کا کہنا تھا کہ وہ فی الحال یہ نہیں جان سکے کہ نیند کی کمی ڈی این اے کو نقصان کیوں پہنچاتی ہے۔

طبی ماہرین کی جانب سے ہر رات 7 گھنٹے نیند کو صحت کے لیے بہترین قرار دیا گیا ہے مگر بیشتر افراد اتنی دیر سونے میں ناکام رہتے ہیں۔

فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھانے والے مشروبات

روزانہ شوگر فری یا ڈائیٹ مشروبات پینے کی عادت فالج یا ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن اور امریکن اسٹروک ایسوسی ایشن کی مشترکہ تحقیق میں 80 ہزار خواتین میں ان مشروبات کے استعمال کے نقصان کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ شوگر فری مشروبات کا استعمال فالج کا خطرہ 31 فیصد تک بڑھادیتا ہے۔

اسی طرح یہ عادت امراض قلب کا خطرہ 29 فیصد جبکہ ہارٹ اٹیک سے موت کا خطرہ 16 فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔

اس تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ خواتین کونسے مشروبات پینا پسند کرتی تھیں تو یہ بتانا مشکل ہے کہ کونسی مصنوعی مٹھاس صحت کو نقصان پہنچاتی ہے۔

یہ خطرہ ان خواتین میں زیادہ ہوتا ہے جو پہلے ہی موٹاپے کی شکار ہوں اور یہ ان کے لیے بری خبر ہے جو چینی کے متبادل کے طور پر ڈائیٹ مشروبات کو صحت بخش انتخاب سمجھتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ اکثر افراد اپنی غذا سے کیلوریز کو کم کرنے کے لیے مصنوعی مٹھاس والے مشروبات کا استعمال کرتے ہیں مگر نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ مشروبات بے ضرر نہیں اور ان کا زیادہ استعمال جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل اسٹروک میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل بھی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی گزشتہ سال کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ ڈائٹ مشروبات بھی موٹاپے، ذیابیطس ٹائپ ٹو، ڈیمینشیا اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ بچوں میں امراض کا خطرہ ان مشروبات کے استعمال سے زیادہ بڑھتا ہے۔

خیال رہے کہ موٹاپا، ذیابیطس اور امراض قلب اس وقت دنیا بھر میں وبا کی طرح پھیلنے والے امراض ہیں، جس کی بڑی وجہ سوڈا مشروبات کا استعمال سمجھی جاتی ہے۔

محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ اکثر شوگر فری مشروبات پینے والے افراد ان کی زیادہ مقدار کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ اسے فائدہ مند سمجھتے ہیں۔

کم خرچ غذائی سپلیمنٹ سے غریب ماؤں میں صحتمند بچوں کی پیدائش

واشنگٹن: غریب اور پسماندہ ممالک میں غریب علاقوں کی ہزاروں ماؤں کو کم خرچ غذائی فارمولہ دینے سے ان سے جنم لینے والے بچوں کے وزن میں متاثرکن اضافہ دیکھا گیا ہے۔

حمل ٹھہرنے سے قبل اور مدتِ حمل کے پہلے تین ماہ میں دیہی علاقوں میں رہائشی ماؤں کو گاڑھے دودھ، سویابین اور مونگ پھلی سے بنی غذائی سپلیمنٹ دی گئی۔ اس میں موجود وٹامن ، فیٹی ایسڈز، معدنیات اور ضروری پروٹین سے ایک جانب ماؤں کی صحت اچھی ہوئی تو دوسری جانب اوسط سے زیادہ وزنی بچوں نے جنم لیا۔

اپنی نوعیت کے پہلے بین الاقوامی مطالعے میں  نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ ہیومن ڈویلمپنٹ (این آئی سی ایچ ڈی)، گلوبل نیٹ ورک فور وومن اینڈ چلڈرن ہیلتھ ریسرچ اور دیگر اداروں کے ماہرین نے حصہ لیا اور اس کے اخرجات بِل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے ادا کئے ہیں۔

اس مطالعے میں پاکستان، بھارت، گوئٹے مالا اور کونگو کی 7300 خواتین کو شامل کیا گیا۔ خواتین کو حمل سے قبل یا حمل ٹھہرنے کے پہلے تین ماہ تک غذائی سپلیمنٹ دیا گیا اور ایک گروہ کی خواتین کو وہ سپلیمنٹ نہیں کھلایا گیا۔ اس کے حیرت انگیز نتائج مرتب ہوئے۔

بچوں کی پیدائش کے بعد دیکھا گیا کہ اوسطاً ان کا وزن زیادہ دیکھا گیا، ان کے سر اور بازو کا گھیر بھی بڑھا ہوا تھا۔ یعنی جن خواتین نے سپلیمنٹ پابندی سے استعمال کیا تھا ان میں سپلیمنٹ نہ کھانے والی خواتین کے مقابلے میں پستہ قد اور کم وزن بچوں کا خطرہ 31 فیصد تک کم دیکھا گیا۔ واضح رہے کہ پاکستان سمیت مائیں غذائی قلت کی شکار ہیں اور ایسی صورت میں حاملہ ہونے پر ان کے بچے کم وزن اور کم لمبائی کے حامل پیدا ہوتے ہیں جنہیں پستہ قد (اسٹنٹڈ) بچے کہا جاتا ہے۔

اس سے ثابت ہوا کہ ماؤں کو دورانِ حمل دی جانے والی متوازن غذا بچے کی مکمل ترین صحت کی ضمانت ہوتی ہے۔ جو بچہ دنیا میں آتا ہے وہ ایک دن کا نہیں بلکہ نوماہ کا ہوتا ہے اسی لیے ماں کی خوراک کوکھ میں بچے کی نشوونما کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔

ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

کراچی: سندھ میں ایکس ڈی آر ٹائیفائڈ کیسز کی بڑی تعداد سامنے آنے پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے عوام کے لیے اس سے بچاؤ کی ہدایات جاری کردیں۔

ان احتیاطی تدابیر میں کہا گیا ہے کہ پینے کے لیے صرف ابلا ہوا صاف پانی استعمال کریں اور اسی پانی سے پھل سبزیاں اور برتن دھوئیں۔

ہر مرتبہ ٹوائلٹ استعمال کرنے کے بعد اور کچھ بھی کھانے سے قبل صابن سے ہاتھ دھوئیں جبکہ بازاری اشیا کھانے سے گریز اور باہر کی برف استعمال کرنے سے بھی پرہیز کریں۔

اس کے علاوہ طبی ماہرین نے کہا کہ بیماری کی صورت میں خود سے ادویات استعمال نہیں کریں بلکہ صرف کسی مستند اور قابل ڈاکٹر سے علاج کروائیں۔

اس قسم کے بخار میں مخصوص اینٹی بائیوٹک ادویات اثر کرتی ہیں لہٰذا ہدایات میں یہ بھی کہا گیا کہ حکیم یا ہومیو پیتھک ڈاکٹر سمیت کسی بھی اور قسم کا علاج کرنے والے معالج اینٹی بائیوٹک تجویز نہیں کرسکتے۔

واضح رہے کہ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایکس ڈی آر ٹائیفائڈ سے صرف سندھ میں اب تک 80 ہزار افراد متاثر ہوچکے ہیں جن میں سب سے زیادہ کیسز کراچی، اس کے بعد حیدرآباد، سانگھڑ اور اطراف کے اضلاع میں سامنے آئے۔

مذکورہ انفیکشن بیکٹیریم سالمونیلا ٹائفی کی وجہ سے ہوتا ہےجو پانی اور غذا کے ذریعے پھیلتا ہے۔

ایکس ڈی آر ٹائیفائڈ سے متاثر ہونے کی علامات میں تیز بخار، کمزوری، پیٹ درد، جی متلانا، الٹیاں، سردرد، کھانسی اور بھوک نہ لگنا شامل ہیں۔

پاکستان: ’تمباکو سے لاحق امراض کے علاج پر سالانہ 140 ارب روپے کے اخراجات‘

اسلام آباد: تمباکو نوشی غیر متعدی امراض کا باعث اور پھیلاؤ کا سبب بننے والی 5 بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ قرار دی جارہی ہے۔

پاکستان میں ہر سال 140 ارب روپے تمباکو نوشی سے جنم لینے والے امراض کے علاج پر خرچ کیے جاتے ہیں، یہ بات ’تمباکو سے محفوظ بچے‘ نامی مہم کے روحِ رواں ملک عمران نے ایک میڈیا ورکشاپ میں کہی۔

ورکشاپ کا انعقاد سوسائٹی برائے پروٹیکشن آف دا رائٹس آف دا چائلڈ (بچوں کے حقوق کا تحفظ) نے کیا تھا جس کا عنوان تھا ’تمباکو نوشی کے رجحانات اور سول سوسائٹی کے حکومت سے مطالبات‘۔

ورکشاپ کے دوران ملک عمران نے پاکستان میں تمباکو نوشی کے رجحانات کا ذکر کیا جس میں سگریٹ نوشی، تمباکو چبانا، پان، بیڑی پینا، پان کے پتے، چھالیہ، نسوار اور ای سگریٹ شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے ’گناہ ٹیکس‘ جیسے اقدامات اس کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کے تدارک میں مددگار ثابت ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر صحت نے دعویٰ کیا تھا کہ تمباکو کی مصنوعات پر ’گناہ ٹیس‘ یا صحت محصول عائد کیے جائیں گے، اس کے باوجود حالیہ مالیاتی بل میں تمباکو کی اشیا پر ٹیکس میں صرف معمولی اضافہ کیا گیا۔

اس موقع پر اسپارک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سجاد احمد چیمہ نے کہا کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے بہت سی اشیا کے نرخوں میں اضافہ ہوا لیکن تمباکو کی چیزوں کی قیمتیں وہی ہیں جنہیں خریدنا بچوں کے لیے بہت آسان ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نئی نسل کے تحفظ کے لیے تمباکو کی صنعت پر بھاری ٹیکس لگائے جائیں۔

ورکشاپ میں موجود دیگر شرکا نے تمباکو خریدنے کی سکت کم کرنے کے لیے مطالبہ کیا کہ شرح آمدنی اور مہنگائی میں اضافے کے ساتھ تمباکو پر عائد ایکسائز ٹیکس کو باقاعدگی سے بڑھایا جائے۔

اس کے ساتھ تمباکو پر عائد مختلف ٹیکسز کو ہم آہنگ کر کے پوری طرح نافذ کیے جائیں اور غیر قانونی ذرائع سے تمباکو کی تجارت روکنے کے لیے ضابط بنایا جائے۔

اس ضمن میں بطور خاص طور پر فراہمی کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کیے جائیں مثلاً لائسنس کی ٹریکنگ اور ریکارڈ مرتب کرنا اور ضوابط کو قانون سازی سے منسلک کر کے ٹیکس کی پابندی عائد کرنا۔

جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ بڑھانے والی عام غذا

ایسے افراد جو بہت زیادہ گوشت کھاتے ہیں چاہے وہ چکن ہی کیوں نہ ہو، ان میں جگر کے امراض کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

یہ انتباہ نیدرلینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

اراسموس ایم سی یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ لحمیاتی پروٹین سے بھرپور غذاؤں کے زیادہ استعمال سے جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ سرخ گوشت میں سچورٹیڈ فیٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو چربی میں جمع ہونے لگتی ہے اور تبدریج اس عضو کو ناکارہ کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

مگر صرف سرخ گوشت ہی نہیں بلکہ چکن کو بہت زیادہ کھانا بھی جگر کے امراض کا خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ہے۔

جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کے دوران چربی کا ذخیرہ ہونے لگتا ہے جو کہ ابتدائی مراحل پر تو سنگین نہیں ہوتا مگر علاج نہ ہونے پر یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق میں کسی فرد میں جگر کی چربی چڑھانے والی غذاﺅں کے تعین کے لیے لگ بھگ 4 ہزار افراد کی غذائی عادات کو جانا گیا اور ان کے جگر پر چربی کے اسکین کیے گئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ لگ بھگ ڈیڑھ ہزار افراد کے جگر پر کسی حد تک چربی چڑھ چکی ہیے خصوصاً موٹاپے کے شکار افراد اور بہت زیادہ لحمیاتی پروٹین جزو بدن بنانے والوں میں یہ خطرہ 54 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ گوشت میں چربی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پراسیس شدہ گوشت ورم اور انسولین کی مزاحمت کا باعث بن سکتے ہیں اور یہ دونوں عناصر بھی جگر پر چربی بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔

انسولین کی مزاحمت جسم کی بلڈ شوگر لیول کم کرنے کی صلاحیت بھی کمزور کرتی ہے جس سے ذیابیطس کے مرض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل Gut میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل گزشتہ سال ایک طبی تحقیق میں یہ انتباہ سامنے آیا تھا کہ بہت زیادہ پروٹین کا استعمال درمیانی عمر کے افراد میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 33 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ درمیانی عمر میں غذائی پروٹین جیسے دودھ، چکن، مکھن اور پنیر وغیرہ بہت زیادہ کھانے سے ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 49 فیصد بڑھا دیتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ مچھلی اور انڈوں میں موجود پروٹین سے یہ خطرہ نہیں بڑھتا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ لحمیاتی پروٹین کے زیادہ استعمال یہ خطرہ 43 فیصد جبکہ نباتاتی پروٹین کے استعمال سے 17 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

فن لینڈ کی ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ بیشتر غذائی ذرائع سے حاصل ہونے والی پروٹین کا زیادہ استعمال ہارٹ فیلیئر کا خطرہ کسی حد تک بڑھا سکتا ہے، صرف مچھلی اور انڈے اس خطرے کا باعث نہیں بنتے۔

کاغذ سے جلد کٹنا زیادہ تکلیف دہ کیوں ہوتا ہے؟

ہم سب کو اس تکلیف دہ احساس کا علم ہے جب کسی کتاب کو پڑھنے یا کوئی لفافہ کھولنے کے دوران اچانک تیز چھبتا ہوا درد انگلی میں ہوتا ہے۔

پھر آپ کو خون کی بوند نظر آتی ہے اور معلوم ہے کہ کاغذ نے جلد کا وہ حصہ کاٹ دیا ہے۔

کاغذ انتہائی ہلکا اور بے ضرر لگتا ہے مگر اس کے باعث جلد کٹنا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے اور کئی دن تک برقرار رہ سکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق حیرت کا عنصر درحقیقت کاغذ سے کٹ لگنے کو زیادہ تکلیف دہ بناتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کاغذ سے کٹنے پر شدید تکلیف کی بڑی وجہ چوٹ کا مقام ہے اور وہ ہے آپ کی انگلی۔

انہوں نے بتایا کہ جسم کے اعصاب کا اختتام عام طور پر انگلیوں میں ہوتا ہے اور یہ وہ مقام ہوتا ہے جو حرکت اور سنسناہٹ کا تعین کرتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کاغذ سے کٹ لگتنا اسی وجہ سے تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ یہ دماغ کے لیے غیرمتوقع ہوتا ہے اور وہ اس حملے کے لیے تیار نہیں ہوتا، جبکہ ہاتھ دن بھر کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس زخم کا منہ بھی کھلا رہے گا۔

ان کے بقول یہ بہت مشکل ہے کہ آپ کاموں کے لیے ہاتھ استعمال نہ کریں، تو اس زخم پر مسلسل دباﺅ رہتا ہے جس سے اس کے جلد بھرنے کا امکان کم ہوتا ہے۔

دوسری جانب کاغذ کے کنارے ہموار نہیں ہوتے مگر ان کی دھار تیز ہوتی ہے جو بہت تیزی سے جلد کو کاٹ دیتے ہیں جس کا احساس بھی نہیں ہوپاتا، جبکہ ہموار دھار نہ ہونے پر بھی تکلیف زیادہ ہوتی ہے۔

اچھی صحت کیلئے ناریل کا تیل کس حد تک فائدہ مند ہے؟

ہم سب جانتے ہیں کہ ناریل کا تیل بالوں کے لیے مفید ہے اور انہیں چمکدار بنانے کے ساتھ جلد کی ملائمت بھی برقرار رکھتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ تیل انڈوں کو پورے ایک سال تک تازہ رکھ سکتا ہے؟

جی ہاں اگر تو آپ ناریل کا تیل محض بالوں پر لگانے یا خشک جلد میں نمی لانے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو جان لیں کہ یہ بہت کچھ ایسا بھی کرسکتا ہے جس کا آپ نے تصور تک نہیں کیا ہوگا۔

اس تیل کے متعدد فوائد ہیں اور طبی سائنس بھی اس کی تصدیق کرتی ہے اور اسی لیے اسے ‘جادوئی تیل’ بھی کہا جاسکتا ہے۔

اس کے درج ذیل فوائد آپ کو صحت مند رکھنے میں مدد دیں گے۔

جسمانی وزن میں کمی

موٹاپا ایسی چیز ہے جس سے بچنا دنیا کا لگ بھگ ہر بالغ فرد چاہتا ہے مگر اکثر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس اضافی وزن سے نجات کیسی پائی جائے۔ ناریل کا تیل ایسے اجزا سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ اضافی جسمانی چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔ اسے اپنی غذا کا حصہ بنانا جسمانی وزن کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

نظام ہاضمہ کے لیے بہترین

نظام ہاضمہ جتنا اچھا ہوگا آپ کی صحت بھی اتنی ہی اچھی ہوگی۔ ناریل کا تیل جراثیم کش ہوتا ہے جو کہ معدے میں موجود ایسے جراثیموں سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے جو کہ بدہضمی کا باعث بنتے ہیں۔ یہ تیل غذائی نالی میں آسانی سے جذب ہوجاتا ہے اور دیگر غذائی اجزا کو بھی آسانی سے ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔

ذیابیطس پر قابو پانے میں مدد دے

ذیابیطس اس وقت دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے مگر اچھی خبر یہ ہے کہ ناریل کے تیل کی مدد سے اس کو کنٹرول میں رکھنا ممکن ہے۔ ناریل کے تیل میں موجود اجزا گلوکوز کی برداشت کو بہر بناسکتا ہے اور جسمانی چربی کے اجتماع کو کم کرتا ہے۔ یہ تیل بلڈ شوگر لیول کو بھی ریگولیٹ کرتا ہے جس سے بھی اس مرض کے اثرات کم ہوتے ہیں۔

خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ کم کرے

ناریل کا تیل سچورٹیڈ فیٹ پر مشتمل ہوتا ہےجو کہ جسم میں صحت کے لیے فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح بڑھاتے ہیں جو نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح گھٹانے میں مدد دیتا ہے، جس سے امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

جسمانی مدافعتی نظام مضبوط بنائے

کمزور جسمانی مدافعتی نظام متعدد امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے جبکہ ناریل کے تیل میں موجود لورک ایسڈ جسم میں جاکر مونولورین نامی جز میں بدل جاتا ہے جو کہ مختلف نقصان دہ وائرسز سے لڑتا ہے۔

گردوں کی صحت بہتر بنائے

گردوں کے امراض کسی کی بھی زندگی جہنم بناسکتے ہیں، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز گردوں کے مسائل پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے، ناریل کے تیل میں موجود سچورٹیڈ فیٹس جسم میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے استعمال کی صلاحیت بہتر بناتے ہیں، جس سے گردوں کے انفیکشن سے بچنا آسان ہوتا ہے۔

جگمگاتے دانت

دانتوں پر برش کرنے سے پہلے ناریل کے تیل کی کچھ مقدار کو دانتوں پر لگائیں اور 15 سے 20 منٹ کے لیے چھوڑ دیں، اس کے بعد ٹوتھ پیسٹ سے دانتوں پر برش کرلیں۔ ہفتے میں 2 سے تین بار یہ عمل دہرائیں جو کچھ ہفتوں میں پیلاہٹ کے شکار دانتوں کی سفیدی واپس لانے میں مدد دے سکتا ہے۔

پیر کا ناخن گوشت میں دھنس جانے سے نجات دلائے

کچھ مقدار میں ناریل کا تیل لیں اور زخم اور ارگرد کے حصے میں لگائیں، اس عمل کو دن میں 2 بار دہرائیں۔ ناریل کے تیل میں موجود فیٹی ایسڈز فنگل کش اور ورم کش ہوتے ہیں جو کہ گوشت میں دھنس جانے والے ناخن کو باہر نکالنے کے ساتھ درد سے ریلیف فراہم کرتے ہیں۔

پیٹ کے کیڑوں کو ختم کرے

ایک کھانے کا چمچ خالص ناریل کا تیل پی لیں یا اپنے کھانوں میں شامل کریں ، اس کے علاوہ آپ خشک ناریل بھی کھا کر پیٹ کے کیڑوں کو ختم کرنے کا عمل تیز کرسکتے ہیں۔ دن میں ایک بار اس تیل یا ناریل کا استعمال کرنا حالت میں جلد بہتری لاتا ہے۔

ہڈیاں مضبوط بنائے

یہ تیل ہڈیوں کی لچک بڑھاتا ہے اور ہڈیوں کے ارگرد موجود جڑے مسلز اور ٹشوز کو مضبوط کرتا ہے، جس سے عمر بڑھنے سے ہڈیوں میں آنے والی کمزوری سے بچنا ممکن ہوتا ہے۔

بالوں کی سفیدی سے بچائے

یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ ناریل کے تیل کا استعمال آپ کے بالوں کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے اور انہیں لمبا اور گہرا رکھنے میں مدد دیتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں ناریل کا تیل اور لیموں کا جوس ملا کر لگانے سے آپ اپنے بالوں کو لمبے عرصے تک سفید ہونے سے بھی روک سکتے ہیں؟

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Google Analytics Alternative