صحت

سحری میں چائے ترک کریں اور مشروبات کو ترجیح دیں

رمضان المبارک میں سحر و افطار کے موقع پر ہر گھر میں خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے، لیکن اس سلسلے میں اکثر وبیشتر غذائیت اور صحت کے لیے فوائد کو نظرانداز کردیا جاتا ہے، افطار میں تو بے احتیاطی ہوتی ہی ہے، اکثر اس کا مظاہرہ سحری میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

سحری میں زیادہ تر لوگوں کو چائے پینے کی عادت ہوتی ہے جو موسم گرما میں صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

سحری میں زیادہ چائے پینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس میں شامل کیفین سے جسم میں پانی کی سطح کم ہونے سے پیاس بڑھتی ہے اور حالیہ رمضان چونکہ موسم گرما میں آیا ہے، لہذا کوشش کریں کہ چائے کی عادت ترک کریں اور تازہ مشروبات کا استعمال کریں۔

یہاں کچھ مشروبات کی غذائی افادیت بتائی جارہی ہے، جنہیں سحری میں استعمال کرنا نہایت مفید ہے۔

لیمو پانی:

سحری میں لیمو پانی پینا چاہیے کیونکہ لیمو اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔اس میں فائبر اور کاربوہائیڈریٹس بھی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو جسم کو دن بھر ترو تازگی اور توانائی بخشتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ جگر، معدہ، نظام ہضم اور سینے کی جلن کے لیے بھی انتہائی موثر ہے۔

دہی کی چھاچھ:

دہی میں معدنی طاقت موجود ہوتی ہے۔ اس میں پروٹین، کیلشیئم، وٹامن اے، بی، سی اور ای ہوتا ہے جو جسم میں تھکاوٹ، کمزوری اور نمکیات کی کمی کو دور کرتا ہے۔

سحری میں نمکین چھاچھ پینے سے جسم میں نمکیات کی کمی دور ہوجاتی ہے اور یہ روزے میں تیزابیت اور معدے کی خرابی سے محفوظ رکھتی ہے۔

ساتھ ہی گرمی کی شدت کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔

الائچی کا شربت:

عام طور پر الائچی والی چائے کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن موسم گرما میں اس کا ٹھنڈا مشروب پینا جسم کے لیے بے انتہا مفید ہے۔

الائچی میں پروٹین، وٹامنز، میگنیشئم، کاربوہائیڈریٹس، آئرن اور دیگر معدنی خصوصیات وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔

سحری میں الائچی والی چائے کی نسبت الائچی کے ٹھنڈے مشروب کو ترجیح دی جائے تو دن بھر روزے کی حالت میں یہ انتہائی توانائی بخش ثابت ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ الائچی کا مشروب ہائی بلڈ پریشر اور تناؤ کے شکار والے افراد کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔

تربوز کا شربت:

تربوز ایک ٹھنڈا پھل ہے جو گرمی کو دور کرتا ہے اور جسم کو پانی کی کمی سے بچاتا ہے۔ تربوز بھی اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے اور اس میں وٹامن سی، اے کے ساتھ کیلوریز انتہائی کم ہوتی ہیں۔

سحری میں تربوز کا شربت پینے سے جسم میں پانی کی کمی کا خدشہ کم ہوجاتا ہے۔ 

 فالسے کا شربت:

کھٹے میٹھے فالسے تو ویسے ہی گرمی کی سوغات ہیں، ساتھ ہی یہ طبی اور غذائی فوائد سے بھی مالا مال ہوتے ہیں، ایسے میں اس کا استعمال موسم گرما میں صحت کے لیے موثر ہے ہی لیکن ماہ مبارک میں سحری کے وقت اس کا مشروب پینا بھی فرحت بخش ہے۔

فالسوں میں بھی وافر مقدار میں فائبر، وٹامن اور کاربو ہائیڈریٹس ہوتے ہیں، یہ ایک اینٹی آکسائیڈنٹس پھل ہے، یہی وجہ ہے کہ سحری میں فالسے کا شربت پینے سے روزے کے دوران جسم میں نقاہت محسوس نہیں ہوتی۔

بھوک بڑھانے والی عام عادتیں

ماہرین صحت کے مطابق زیادہ بھوک کا لگنا یا حد سے زیادہ کھانا بھی ایک طرح کی بیماری ہے۔

تاہم بعض افراد ایسے بھی ہیں جنہیں نہ تو شدید ترین بھوک لگتی ہے اور نہ ہی وہ حد سے زیاد کھانا کھاتے ہیں۔

ایسے افراد اگرچہ کسی بیماری میں مبتلا نہیں ہوتے، تاہم وہ ایسی عام غلطیاں کرتے یا وہ ایسی عادتیں اپناتے ہیں، جس وجہ سے انہیں ہر وقت بھوکے رہنے کا احساس ہوتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق بعض افراد کا رہن سہن، زندگی گزارنے کا اسٹائل اور کھانے پینے کی عادتیں ایسی ہوتی ہیں، جن سے ان کی بھوک ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔

درج ذیل عادتیں ایسی ہیں، جن کی وجہ سے انسان خود کو ہر وقت بھوکا محسوس کرنے لگتا ہے۔

نیند کی کمی

سوشل میڈیا کے اس دور میں زیادہ تر نوجوان نسل رات دیر گئے تک اسمارٹ فونز یا دیگر آلات کو استعمال کرتی رہتی ہے، جس وجہ سے ان کی نیند پوری نہیں ہوتی۔

نوجوان نسل کے علاوہ ادھیڑ عمر یا عمر رسیدہ افراد بھی مختلف وجوہات کی بناء پر اپنی نیند مکمل نہیں کرتے، جس وجہ سے جہاں ان میں دیگر بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں، وہیں ان میں بھوک کی شدت بھی بڑھ جاتی ہے۔

پانی یا نمکیات کی کمی

بعض افراد میں نمکیات کی کمی پائی جاتی ہے، جس وجہ سے انہیں ہر وقت غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق اگر نمکیات کی کمی کے شکار افراد زیادہ سے زیادہ مقدار میں پانی پینے کی کوشش کریں تو وہ ہر وقت بھوکے رہنے کی شکایت کرنے سے بچ سکتے ہیں۔

پھلوں اور ڈرائی فروٹ سے دوری

بعض افراد پھل تو کھاتے ہیں لیکن وہ ناشپتی اورسیب جیسے پھلوں سمیت ڈرائی فروٹ کا بھی کم استعمال کرتے ہیں، جس وجہ سے ان کی غذائی ضروریات نامکمل رہتی ہیں اور ان سے دوری ہر وقت بھوک لگنے کا بھی ایک سبب ہے۔

فائبر کی کمی

پھلوں اور ڈرائی فروٹ کی طرح دلیہ، بریڈ اور اسی طرح اناج سے تیار شدہ غذائیں کم سے کم استعمال کرنے والے افراد بھی ہر وقت بھوک محسوس کرتے ہیں۔

ہر وقت نمکین غذائیں کھانا

متعدد افراد ہر وقت چپس، پاپڑ اور سلانٹی سمیت دیگر نمکین غذائیں کھاتے رہتے ہیں، جو بھوک بڑھانے کا سب سے بڑا سبب ہیں۔

جلد بازی میں کھانا

بعض افراد وقت کی کمی یا کام میں مصروفیت کے باعظ کھانا کھانے میں جلد بازی کرتے ہیں، جس وجہ سے ان کی غذائی ضروریات پوری نہیں ہوتیں اور وہ بھوک کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ایئرکنڈیشنڈ میں زیادہ وقت گزارنا

ایئر کینڈیشنڈ یقینا گرمیوں سے بچنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے، لیکن اس میں زیادہ وقت تک بیٹھے رہنے والے افراد بھوک کا شکار ہوجاتے ہیں اور انہیں جلدی بھوک لگتی ہے۔

 

اخروٹ کھائیں، وزن گھٹائیں

بوسٹن: اخروٹ قدرتی نعمت ہے اوراومیگا تھری اینٹٰی آکسیڈنٹ کی بدولت دل و دماغ کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اب وزن کم کرنے والوں کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ اخروٹ بھوک کم کرتے ہیں اورپیٹ بھرے کا احساس دلاتے ہوئے اندھا دھند کھانے سے روکتے ہیں۔

بیتھ اسرائیل ڈیکونیس میڈیکل سینٹر( بی آئی ڈی ایم سی ) سے وابستہ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اخروٹ دماغ کے اس حصے پر اثر ڈالتے ہیں جہاں بھوک لگنے اور پیٹ بھرنے کا احساس پیدا ہوتا ہے اوراخروٹ کھانے سے دماغ یا یہی حصہ سرگرم ہوتا ہے۔

یہ تحقیق ڈایبیٹس، اوبسیٹی اورمیٹابولزم میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہے کہ کئی غذائیں دماغ پراثراندازہوتی ہیں جن میں اخروٹ پیٹ بھرنے کا احساس دلاتا ہے اور یوں انسان مزید کھانے سے ہاتھ روک لیتا ہے۔

بی آئی ڈی ایم سی کے ماہرین نے موٹاپے کے شکار 10 رضاکاروں کو بھرتی کیا اورانہیں اخروٹ کھلانے کے بعد ان کے دماغوں کے فنکشنل میگنیٹک ریزوننس امیجنگ (ایف ایم آر آئی) لیے گئے جو اخروٹ کھانے کے فوراً بعد لیے گئے تھے۔ اس عمل کو پانچ سال تک جاری رکھا گیا اور بی آئی ڈی ایم سی کے ماہرین نے رضاکاروں کی غذا اور دماغی کیفیات کو مسلسل نوٹ کیا جاتا رہا ۔

اس دوران رضاکاروں کو ایک شیک دیا گیا جس میں 48 گرام اخروٹ تھی جو ایف ڈی اے کی تجویزکردہ مقدار ہے۔ اگلے دن انہیں فرضی شیک پلایا گیا جس میں اخروٹ نہ تھے۔ جب جب اخروٹ کھلایا گیا شرکا نے خود کو کم بھوکا محسوس کیا اور پھر پانچویں روز بھی ان کا ایف ایم آر آئی کیا گیا ۔

رضاکاروں نے اخروٹ کھانے کے بعد سیر ہونے اور کم بھوک لگنے کا اعتراف کیا۔ ایف ایم آر آئی میں بھی دماغ کے بھوک والے حصے میں ذیادہ سرگرمی نوٹ کی گئی۔ اس بنا پر بی آئی ڈی ایم سی کے ماہرین نے کہا کہ اخروٹ کھانا موٹاپے سے دور رکھتا ہے کیونکہ یہ ذیادہ خوراک کی اشتہا کم کرتا ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور تحقیق میں ماہرین یہ بتاچکے ہیں کہ اخروٹ کھانے سے سرطانی خلیات کی نشوونما رک جاتی ہے کیونکہ اخروٹ میں دو اہم اجزا پائے جاتے ہیں جو کینسر بھگاتے ہیں۔

ایک بلڈ ٹیسٹ سے کینسر کی 10 اقسام کی تشخیص ممکن

گزشتہ برس اکتوبر میں امریکی ماہرین نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایک ایسا بلڈ ٹیسٹ وضح کرلیا، جس کے ذریعے کینسر کی تشخیص ممکن ہوسکے گی۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہرین کے اس دعوے کے بعد رواں برس جنوری میں بھی امریکا کی جوہن ہوپکنز یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے ماہرین نے ایک ایسے بلڈ ٹیسٹ وضح کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے ذریعے بیک وقت 8 اقسام کی کینسر کی تشخیص ممکن تھی۔

ماہرین نے اس ٹیسٹ کو ’کینسر سیک‘ کا نام دیا تھا، جس کے بعد صرف ایک ہی ٹیسٹ سے کینسر کا پتہ لگانا ممکن تھا۔

تاہم اب امریکی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا بلڈ ٹیسٹ وضح کیا ہے، جس کے ذریعے 10 اقسام کی کینسر کی تشخیص ممکن ہے۔

سائنس جرنل ’لائیو سائنس‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق ماہرین کی جانب سے کیے جانے والے تجربے میں نئے خون ٹیسٹ سے کینسر کی 10 اقسام کی 50 سے 90 فیصد تشخیص ممکن ہوئی۔

نیویارک کے ’روز ویل پارک کمپری ہینسو کینسر سینٹر‘ کی جانب سے کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا کہ ’لکوڈ بائیوپسی‘ کے ایک خصوصی خون ٹیسٹ کے ذریعے کینسر کے امراض کا پتہ لگانا ممکن ہے۔

ماہرین نے تجربے کے لیے 878 ایسے افراد کے خون کا ٹیسٹ کیا، جنہیں کینسر کے مختلف امراض لاحق تھے۔

ماہرین نے ایسے 749 افراد کے خون کا ٹیسٹ بھی کیا، جنہیں کینسر کا کوئی بھی مرض لاحق نہیں تھا۔

ماہرین کے مطابق ’لکوڈ بائیوپسی‘ کے خصوصی بلڈ ٹیسٹ سے کینسر کے مختلف امراض کا 90 فیصد جب کہ کچھ امراض کا 50 فیصد پتہ چلا۔

ماہرین کے مطابق اس خصوصی بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے ’اوورین کینسر‘ کی تشخیص سب سے جلد اور بہتر انداز میں ہوسکے گی۔

رپورٹ کے مطابق بلڈ ٹیسٹ سے کینسر کی تشخیص کا تجربہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس پر مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق اس مخصوص بلڈ ٹیسٹ سے ’جگر، آنتوں اور پھیپھڑوں‘ سمیت پیٹ کے اندر ہونے والے کینسر کے امراض کا 80 فیصد پتہ لگایا گیا۔

مجموعی طور پر اس مخصوص بلڈ ٹیسٹ سے 10 اقسام کی کینسر کی تشخص ممکن ہوسکی، تاہم ماہرین کے مطابق اس تحقیق پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

سبز چائے دل کی حفاظت کرتی ہے

لندن: سبز چائے کے پیش بہا فائدوں کی روداد آپ ایکسپریس نیوز پر پڑھتے رہے ہیں اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ سبز چائے میں ایک مرکب دریافت ہوا ہے جو خون کی رگوں اور شریانوں کی تنگی اور سختی کو دور رکھنے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ شریانوں میں چربی جمع ہونا شروع ہوجاتی ہے اور بڑھتے بڑھتے سخت پلاک کی صورت میں ڈھل جاتی ہے۔ اس سے دل کو آکسیجن سے بھرپور خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس عمل میں برسوں لگتے ہیں لیکن جب بند شریانوں کا خطرہ سامنے آتا ہے تو اس کے بہت سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ تاہم بلڈپریشر، تمباکو نوشی، کولیسٹرول اور ذیابیطس سے بھی یہ دل کی رگیں غیرلچکدار اور تنگ ہوتی جاتی ہیں۔ اس ضمن میں سبز چائے کا باقاعدہ استعمال بڑی حد تک اس کیفیت کو دور کرسکتا ہے۔

حال ہی میں یونیورسٹی آف لیڈز اور یونیورسٹی آف لنکاسٹر کے ماہرین نے مشترکہ تحقیق کے بعد کہا ہے کہ سبز چائے میں ایک پیچیدہ کیمیکل پایا جاتا ہے جسے ایپی گیلوکیٹیچن تھری گیلیٹ یا ای جی سی جی کہتے ہیں جو سبزچائے کے خشک پتوں میں پایا جاتا ہے۔

سائنسدانوں نے تجربہ گاہ میں ثابت کیا ہے کہ یہ مرکب ایک خاص پروٹین پر اثر انداز ہوتا ہے جس کا نام ایپولائپو پروٹین اے ون یا اے پی او اے ونہے۔ یہ عین اسی ایمالائڈ پلاک کی طرح کام کرتا ہے جو الزائیمر کے مریضوں کے دماغ میں پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ای جی سی جی الزائیمر کے لیے بھی مفید ہے اور یوں سبز چائے کا ایک اور فائدہ سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا اصرار ہے کہ ای جی سی جی شریانیں تنگ کرنے والے پروٹین اے پی او اے ون سے چپک کر اس کو گھلادیتا ہے اور اس طرح رگیں صحتمند رہتی ہیں اور ان میں خون کا بہاؤ معمول کے مطابق جاری رہتا ہے۔

انسانی جسم میں دو دماغ پائے جاتے ہیں، سائنس دانوں کا انکشاف

بیڈفورڈ: سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ انسانی جسم میں دو دماغ پائے جاتے ہیں اور دوسرا دماغ معدے اور آنتوں کے نزدیک موجود ہوتا ہے جو نظام ہضم میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

آسٹریلیا کی فلنڈرز یونیورسٹی کی ریسرچ ٹیم کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں معدے اور آنتوں کے نزدیک ایک اور دماغ پایا جاتا ہے یہ دماغ برقیاتی لہروں کو  آنتوں کی حرکت peristaltic movement سے ہم آہنگ کرتے ہوئے غذائی نالی کو نچلی جانب حرکت دیتا ہے جس سے جسم کے فضلے کے اخراج میں مدد ملتی ہے۔

اگرچہ یہ باقاعدہ دماغ نہیں لیکن ہماری آنتوں میں بھی دماغی خلیات یعنی نیورونز کا ایک بنڈل پایا جاتا ہے جسے ماہرین نے آنتوں کا چھوٹا دماغ کہا ہے۔ n

فلندر یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے مشاہدہ کیا کہ انسانی جسم میں مرکزی اعصابی نظام (سینٹرل نروس سسٹم یا CNS) کے علاوہ نیورونز پر مشتمل ایک اور نظام بھی کام کررہا ہے جسے آنتوں کا اعصابی نظام یا (ENS) کہا جاتا ہے۔ یہ اعصابی نظام مرکزی اعصابی نظام سے علیحدہ ہوتا ہے اور آزادانہ اور خود مختار نظام کے تحت کام کرتا ہے اس لیے اسے دوسرا دماغ قرار دیا گیا ہے۔

Brain 2

نظام ہضم اور اخراج میں مدد گار اس نظام کی موجودگی کا پتا چلانے کو سائنس دان غذائی نالی سے جڑی بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں انقلابی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

اس تحقیق کے بعد فلندر یونیورسٹی اور واشنگٹن یونیورسٹی اشتراکی طور پر غذائی نالی کی بیماریوں کے علاج کے لیے Optogenetics Techniques کے بجائے دوسرے طریقہ علاج پر تحقیق کر رہے ہیں۔

وٹامن ڈی کی کمی خواتین کے حاملہ نہ ہونے کا ایک سبب

وٹامن ڈی کی کمی کے شکار افراد زیادہ تر ہڈیوں کی کمزوری، درد، دمے، دانتوں کے امراض، موٹاپے، پسینے اور ڈپریشن جیسی بیماریوں کا شکار رہتے ہیں۔

تاہم اب ایک نئی تحقیق میں وٹامن ڈی کی قلت کا ایک بڑا نقصان سامنے آیا ہے، جو یقینا خواتین کے لیے باعث تشویش ہے۔

ماہرین صحت ویسے بھی موٹاپے کے شکار افراد اور حاملہ خواتین کو وٹامن ڈی کی بھرپور مقدار حاصل کرنے کی ہدایت کرتے رہتے ہیں۔

وٹامن ڈی کو حاصل کرنے کے لیے اگرچہ کئی طرح کے پھل، غذائیں اور دوائیاں بھی دستیاب ہیں، تاہم اس کا اہم ذریعہ دھوپ کو ہی سمجھا جاتا ہے۔

زیادہ تر حاملہ خواتین چڑچڑے پن کی وجہ سے جہاں اپنی غذا کا خیال نہیں رکھ پاتیں وہیں وہ دھوپ سینکنیں سے بھی گریز کرتی ہیں، جس وجہ سے ان میں وٹامن ڈی کی قلت پیدا ہوجاتی ہے۔

امریکا میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی کئی خواتین میں حمل نہ ٹھہرنے کا ایک سبب ہے۔

ہیلتھ میگزین ’میڈیکل ایکسپریس‘ میں شائع امریکا کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق جن خواتین میں وٹامن ڈی کی مقدار بہتر ہوتی ہے، ان کے حاملہ ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق این آئی ایچ کے ماہرین نے 1200 ایسی خواتین کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جن کا حمل چند ہفتوں کے بعد ضائع ہوگیا۔

ان خواتین میں وہ خواتین بھی شامل تھیں جن کا حمل ضائع تو ہوگیا لیکن بعد میں وہ جلد حاملہ ہوگئیں۔

ڈیٹا میں ایسی خواتین بھی شامل تھیں، جن کا نہ تو حمل ضائع ہوا اور نہ ہی انہیں بچے پیدا کرنے میں کوئی مشکل پیش آئی۔

ماہرین نے ان خواتین میں وٹامن ڈی اور اس وٹامن کی مقدار بڑھانے والی دوائیوں اور غذاؤں کی خوراک کا جائزہ لیا۔

جائزے سے پتہ چلا کہ جن خواتین میں وٹامن ڈی کی اچھی مقدار تھی ان کا حمل نہ تو ضائع ہوا اور نہ ہی انہیں بچے پیدا کرنے میں مشکل پیش آئیں، بلکہ ان میں دوبارہ حاملہ ہونے کے امکانات بھی زیادہ پائے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ وٹامن ڈی کی بھرپور اور اچھی مقدار رکھنے والی خواتین کے ان خواتین کے مقابلے 10 فیصد زیادہ حاملہ ہونے کے امکانات تھے، جن میں وٹامن ڈی کی کمی پائی گئی۔

اسی طرح وٹامن ڈی کی کمی کی شکار خواتین کے نہ صرف کم حاملہ ہونے کا پتہ چلا، بلکہ اگر ایسی خواتین حاملہ ہو بھی جاتیں تو ان کا حمل چند ہفتوں بعد ضائع ہوجاتا۔

ماہرین نے رپورٹ میں خواتین کو تجویز دی کہ وہ حمل کے دوران زیادہ سے زیادہ وٹامن ڈی حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اس حوالے سے وہ اپنے معالج کی ہدایات پر عمل کریں۔

ایک عادت اپنا کر درمیانی عمر میں موت کا خطرہ ٹالیں

درمیانی عمر میں ایک آسان عادت اپنا کر لوگ دل کو صحت مند رکھ کر ہارٹ اٹیک یا فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ ٹال سکتے ہیں۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ درمیانی عمر میں لوگ اگر تیز رفتاری سے چلنے کو عادت بنالیں تو وہ فالج یا ہارٹ اٹیک کے خطرے کو 50 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔

15 سال تک چلنے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 30 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے چلنے کی اوسط رفتار اگر 3 میل فی گھنٹہ ہو تو مختلف امراض سے موت کا خطرہ 20 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔

خصوصاً فالج یا ہارٹ اٹیک سے موت کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

محققین نے یہ دریافت کیا کہ تیز رفتار سے چلنا ہر عمر کے افراد کے دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے مگر اس کا سب سے زیادہ فائدہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس عمر کے افراد کی اوسط رفتار 3 سے 4 میل فی گھنٹہ ہو تو ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ آہستگی سے چلنے والوں کے مقابلے میں 53 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تیز چلنا عام طور پر 3 سے 4.35 میل فی گھنٹہ کی رفتار سمجھی جاتی ہے مگر اس کا انحصار چلنے والے کے فٹنس لیول پر ہوتا ہے، تو تیز چلنے کا عندیہ ہلکا سا سانس چڑھ جانا یا پسینہ آنے کی صورت میں بھی ملتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ سست رفتار سے چلنے اور شریانوں سے جڑے امراض، کینسر یا کسی بھی وجہ سے موت کے درمیان تعلق ہے یا نہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسین میں شائع ہوئے۔

Google Analytics Alternative