صحت

ہاتھوں کی حرکات سے ذہنی امراض کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، ماہرین

لندن: لوگوں کے ہاتھوں کی حرکات کا انفرادی موٹر سگنیچر ( آئی ایم ایس) ہوتا ہے اور ان کا استعمال اس شخص کی انفرادی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔ 

ان حرکات کا جائزہ لیتے ہوئے ہر شخص کی ذہنی و دماغی صحت یا پوشیدہ امراض کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔ برطانیہ میں یونیورسٹی آف ایکسیٹر، برسٹل، مونٹ پولیئر، اور نیپلز فریڈرنے بہت سے لوگوں کی ہاتھوں کی حرکات کو ان کی ڈجیٹل نقل یا اوتار کے ذریعے انجام دے کر ان کا مطالعہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق فنگر پرنٹ کی طرح ہر شخص کے ہاتھوں کی انفرادی حرکات یا آئی ایم ایس ہوتے ہیں جن کا دوسروں سے موازنہ کیا جاسکتا ہے۔

یہاں ڈجیٹل اوتار کا مطلب یہ ہے کہ مریض کی ہوبہو ڈجیٹل نقل کمپیوٹر پر تیار کرکے اسے سیمولیشن کے ذریعے دیکھا جاتا ہے اور ان کی حرکات کو نوٹ کرکے پڑھا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے ماہرین کا کہنا ہےکہ ہر فرد کے ہاتھوں کی حرکات اور انداز مختلف ہوتا ہے۔ اس مطالعے کی تفصیلات رائل سوسائٹی کے جرنل ’انٹرفیس‘ میں شائع ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہے کہ ہاتھوں کو گھمانے کی رفتار اور شدت مختلف انداز میں مختلف ہوتی ہے اس میں ہاتھوں کو ہلکے، تیز اور مدھم انداز سے حرکت دینے سے لوگوں کی شخصیات کے انداز کا جائزہ لینا ممکن ہوتا ہے اس میں ہاتھ گھمانے اور ہلانے کی رفتار کو ایک اہم جزو کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

اس طرح بہت جلد انسانی ہاتھوں کی حرکات و سکنات اور ان سے وابستہ ذہنی امراض کو شناخت کرنا ممکن ہوجائے گا۔ یوں آٹزم  اور شیزوفرینیا میں مبتلا لوگوں کے ہاتھوں کی حرکات کے مخصوص سگنیچرز کو پڑھ کر ان میں مرض اور اس کی شدت کا اندازہ لگانا ممکن ہوگا۔

سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ سے پاکستان میں ہزاروں بچے مردہ پیدا ہورہے ہیں

لندن: پاکستان میں حاملہ خواتین میں تمباکو نوشی کی شرح بہت کم ہے لیکن گھروں میں شوہر اور دیگر افراد کی تمباکو نوشی کے دوران اُگلا گیا دھواں انہیں شدید متاثر کرکے ان کے بچوں کی جان  لے رہا ہے۔

یارک یونیورسٹی، برطانیہ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی گھروں میں بالراست تمباکو نوشی (سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ) کا دھواں سالانہ 17000 بچوں کی مردہ پیدائش کی وجہ بن رہا ہے۔ یعنی سگریٹ نوشی نہ کرنے والی حاملہ خواتین کے جسم میں جانے والا (دیگر افراد کا اُگلا گیا) سگریٹ کا دھواں، بچوں کو شدید متاثر کرکے بچوں کو ماؤں کے پیٹ میں یا پیدائشی عمل کےدوران ہلاک کررہا ہے۔

یونیورسٹی آف یارک کے ماہرین نے حال ہی میں طبّی تحقیقی جریدے ’’بی ایم جے ٹوبیکو کنٹرول‘‘ میں ایک سروے پیش کیا ہے۔ سروے میں شامل ماہرین کی ٹیم نے 30 ترقی پذیر ممالک میں خواتین اور گھرانوں سے 2008 سے 2013 تک مختلف سوالات کرکے نتائج مرتب کیے ہیں۔

اگر خواتین دورانِ حمل سگریٹ نہ بھی پئیں تب بھی سگریٹ کا دھواں ان کے اور ان کے بچے کےلیے انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ زہریلے دھویں کی مسلسل موجودگی سے کم وزن بچے جنم لیتے ہیں، مردہ ہوتے ہیں یا پھر ان میں کوئی پیدائشی نقص واقع ہوسکتا ہے۔

اس ضمن میں سیکنڈ ہینڈ اسموک سے متعلق ڈیٹا کی کمی تھی اور اسی لیے اپنی نوعیت کا یہ پہلا سروے کیا گیا ہے۔ سروے میں مصر، آرمینیا، پاکستان، نیپال، موزمبیق، گیبون، نائجیریا، روانڈا، مالی اور اردن وغیرہ شامل تھے۔

پانچ سالہ سروے میں 37,427 حاملہ خواتین سے سوالنامے بھروائے گئے جو ان کے بچوں کی پیدائش کی کیفیت اور گھر میں شوہر کے سگریٹ پینے کے متعلق تھے۔ ان سوالات کو مختلف ماڈلز پر تیار کیا گیا تھا۔ سب سے کم شرح کانگو میں دیکھی گئی جو 17 فیصد تھی جبکہ پاکستانی گھروں میں خواتین میں سیکنڈ ہینڈ اسموک کا سامنا کرنے کی شرح 91.6 فیصد نوٹ کی گئی۔

اس طرح جب ڈیٹا سامنے آیا تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں یہ شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے اور سالانہ صرف سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ کی وجہ سے یہاں 17000 بچے مردہ پیدا ہورہے ہیں۔ اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر کامران صدیقی یارک یونیورسٹی کے شعبہ صحت سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں 40 فیصد خواتین کو سگریٹ کے دھویں کا سامنا ہے۔

سروے کرنے والے ماہرین نے کہا ہے کہ مرد اپنے گھر میں حاملہ خواتین کو سگریٹ کے دھویں سےبچانے کی ہرممکن کوشش کریں تو اس خوفناک کیفیت سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

حیرت انگیز شفائی خواص سے بھرے خوش ذائقہ پھل

کراچی: غذائی علوم کی رو سے اگرپھلوں کی بات کی جائے تو ہر موسم اور ہر رنگ کے پھل کھانا ہی صحت کے لیے بہترین نسخہ ہے۔

لیکن ماہرین کا پرزور اصرار ہے کہ قدرت کے کارخانے میں بعض پھلوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اب اس کی سائنسی تصدیق بھی ہوچکی ہے۔ تو کیوں نہ پہلے ناشپاتی کے فوائد پر بات ہوجائے۔

ناشپاتی، وزن گھٹانے کی اِکسیر

مناسب جسامت کی ناشپاتی میں اسی وزن کے سیب کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ فائبر ہوتا ہے۔ پھر ناشپاتی میں پایا جانے والا فائبر جسم میں بہت تیزی سے حل ہوکر اس کا حصہ بنتا ہے۔ اگر آپ وزن گھٹانا چاہتے ہیں تو اس پھل کو ضرور آزمائیے کیونکہ یہ بھوک کو دباتی ہے اور اندھا دھند کھانے سے بچاتی ہے۔

اور ہاں! ناشپاتی کا جادوئی فائبر کولیسٹرول کو قابو میں رکھتا ہے۔

خوبانی، ایک خوب غذا

خوبانی وٹامن سی سمیت دوسرے مفید فائٹو کیمیکلز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ایک فرحت بخش پھل ہے۔ یہ خلیاتی سطح پر ٹوٹ پھوٹ روک کر جسم کی تعمیر کرکے کئی امراض سے بچاتی ہے جن میں کینسر سرِفہرست ہے۔

اس میں موجود وٹامن اے بینائی کا محافظ ہے جو انفیکشن سے بھی بچاتا ہے اور دماغی اعصاب کو تقویت دیتا ہے۔ اسی لیے بچوں کو خوبانی ضرور کھلائیے۔

پوٹاشیم سے بھرپور کیلے

کیلوں میں موجود پوٹاشیم پٹھوں اور عضلات کو بہتر بناتا ہے اور خلیاتی سطح تک معدنیات اور ضروری مائعات کے بہاؤ کو جاری رکھتا ہے۔ پابندی سے کیلے کھانا بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔

کیلوں میں موجود مفید اجزا ہاضمے کو بڑھاتے ہیں اور معدے کو طاقت دیتے ہیں۔ کمزوری میں فوری طاقت کےلیے کیلے کا شیک ضرور آزمائیے۔

وٹامن سی اور آڑو

آڑو میں موجود وٹامن سی جسم کےلیے بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ جسم کو تقویت دے کر اسے امراض سے لڑنے کے قابل بناتا ہے۔

آڑو میں موجود فائبر کی بلند مقدار مضرِ صحت کولیسٹرول ’’ایل ڈی ایل‘‘ کو قابو میں رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی آڑو کے بیش بہا فوائد ہیں۔

اندرونی جسمانی سوزش کا علاج: آلو بخارا

آلو بخارے کی رنگت ہمیں اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ پاکستان میں بکثرت اگنے والے آلو بخارے میں پولی فینولز اور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں۔ ان کی تھوڑی مقدار بھی پیٹ بھرنے کا احساس دلاتی ہے اور وزن گھٹانے میں معاونت کرتی ہے۔

پیٹ اور آنتوں کو بہتر حالت میں رکھنے میں بھی آلو بخارے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں وٹامن کے، میگنیشیم اور پوٹاشیم کی کچھ مقدار بھی موجود ہوتی ہے۔

سیب کھائیے، ڈاکٹر بھگائیے

ایک سیب روزانہ کھانے سے ڈاکٹر یوں دور رہتا ہے کہ سیب میں ایسے تمام اجزا موجود ہیں جو آپ کو بیمار ہونے نہیں دیتے۔

سیب کھانے سے فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے اور جسم کو مناسب مقدار میں فائبر بھی ملتا ہے۔

امریکی ماہرینِ غذائیات کے مطابق سیب کو چھلکے سمیت کھائیے کیونکہ چھلکوں میں چھپے اہم اجزا بھی صحت کے محافظ ہیں۔

انگور کے درجنوں فوائد

انگور فوری طور پر توانائی فراہم کرنے والا پھل ہے۔ سرخ انگور اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر اہم مفید اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں۔

اس کا باقاعدہ استعمال پھیپھڑوں اور سانس کی نالی کو صحت مند رکھتا ہے۔

روایتی حکمت میں انگور کے 40 سے زائد فوائد لکھے ہیں۔ یہ کمزوری دور کرتا ہے، خون بناتا ہے اور سرطان کی روک تھام کرتا ہے۔

وہ غلطیاں جو 30 سال کی عمر کے بعد اکثر افراد کرتے ہیں

جب بات ہمارے جسموں کی ہو، تو ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے بدترین دشمن خود ہیں۔

درحقیقت موجودہ عہد کے طرز زندگی کے نتیجے میں لوگوں میں ایسی عادتیں عام ہوتی جارہی ہیں جو صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں، حالانکہ بیشتر امراض کی روک تھام درست عادات کو اپناکر ممکن ہے۔

جب لوگوں کی عمر 30 سال سے زائد ہوتی ہے تو ضرورت ہوتی ہے کہ چند عناصر کے بارے میں شعور اجاگر کیا جائے جبکہ اپنے جسموں کی دیکھ بھال کے لیے صحت مند عادتوں کو اپنالیا جائے۔

تو یہاں ایسی ہی غلطیوں کا ذکر ہے جو 30 سال کے بعد اپنانا تباہ کن ہوسکتی ہیں۔

ورزش کے لیے وقت نہ مل پانا

صحت مند جسمانی وزن بہت ضروری ہوتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ورزش لازمی ہے۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ روزمرہ کی مصروفیات کی وجہ سے ورزش کے لیے وقت نہیں ملتا تو یہ صدیوں پرانا جواز ہے، حالانکہ 15 منٹ کی تیز چیل قدمی بھی طویل المعیاد بنیادوں پر جسمانی فٹنس کے حصول میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ورزش کا کوئی معمول نہ ہونا

آپ کو اپنی ورزش کا معمول پہلے سے طے کرنا چاہئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ورک آﺅٹ کے دوران یہ نہ سوچنا پڑے کہ اب کونسی ورزش کرنی ہے۔ گھر میں ورزش کریں یا جم کا رخ کریں، معمولات کا طے ہونا لازمی ہے۔

بہت زیادہ وقت بیٹھنا

کمپیوٹر اب ہماری زندگیوں کا لازمی حصہ بن کر رہ گئے ہیں مگر اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے ہم روزانہ دفاتر میں 8 سے 9 گھنٹے بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ یہ صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور ہر گھنٹے بعد 5 منٹ کی چہل قدمی سے اس نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔

ڈائیٹنگ

جسمانی وزن میں کمی ضرور لائیں مگر اس کے لیے کھانا پینا نہ چھوڑیں، کیونکہ یہ کمی بتدریج لانا ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ مستحکم ہو، بہت تیزی سے جسمانی وزن کم کرنے سے میٹابولزم کو نقصان پہنچتا ہے اور طویل المعیاد بنیادوں پر وزن بڑھتا ہے۔ توازن صحت مند زندگی کی کنجی ہے، چاہے وہ غذا ہو یا ورزش۔

باہر کھانے کی عادت

اگر آپ اکثر گھر کی بجائے باہر کھانے کے عادی ہیں تو یہ عادت صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، باہر کھانے سے اضافی خرچہ بھی ہوتا ہے جبکہ غذا کا معیار کیسا ہوگا، اس کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

کم پانی پینا

درمیانی عمر میں آکر اکثر افراد اپنی مصروفیات کے باعث مناسب مقدار میں پانی پینے پر توجہ نہیں دیتے، حالانکہ ہر ایک کو معلوم ہوتا ہے کہ مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہوتا ہے مگر وہ اس کی پروا نہیں کرتے۔ پانی کم پینا جسمانی توانائی میں کمی، سردرد اور جنک فوڈ کی اشتہا بڑھاتا ہے، جبکہ گردوں میں پتھری کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

کیا بہت زیادہ سونے کی عادت بھی جان لیوا ہوسکتی ہے؟

جو لوگ روزانہ 9 سے 10 گھنٹے سونے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں نیند کی کمی کے شکار افراد کے مقابلے میں قبل از وقت موت کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

مانچسٹر اور لیڈز سمیت 4 یونیورسٹیوں کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ رات بھر میں 8 گھنٹے سے زیادہ سونے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں جلد موت کا خطرہ 7 گھنٹے سے کم سونے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران دنیا بھر میں 33 لاکھ سے زائد افراد کا جائزہ لینے کے بعد نتیجہ نکالا گیا کہ بہت زیادہ سونا امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھانے والی خطرناک عادت ہے۔

محققین کا تو کہنا تھا کہ اضافی نیند کو درحقیقت ناقص صحت کی نشانی سمجھا جانا چاہیے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ بہت سونے کے مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے پاس ورزش کے لیے وقت بہت کم ہوتا ہے، جس سے امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ درحقیقت جو لوگ بہت زیادہ دیر تک سونے کے عادی ہوتے ہیں، وہ پہلے ہی کسی ایسے مرض کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں، جس کی تشخیص نہیں ہوئی ہوتی۔

انہوں نے بتایا کہ نیند کا طویل دورانیہ بھی جسم کے اندر مسائل جیسے خون کی کمی اور ورم سے جڑے امراض کا باعث بنتا ہے جس سے خون کی شریانوں سے جڑے امراض جیسے ہارٹ اٹیک اور فالج وغیرہ کا خطرہ بڑھتا ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ ڈاکٹروں کو ایسے مریضوں کے ٹیسٹ ضرور کرنے چاہیے جو ہر رات 9 سے 10 گھنٹے سونے کے عادی ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہوئے۔

طبی تعلیم؛ تمام ممالک کیلیے’’اسٹینڈرڈز‘‘ تیاری لازمی قرار

اسلام آباد: ورلڈ فیڈریشن برائے میڈیکل ایجوکیشن نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے ملکوں میں میڈیکل ایجوکیشن اسٹینڈرڈز تیاری لازمی قرار دے دی۔

ورلڈ فیڈریشن برائے میڈیکل ایجوکیشن نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے ملکوں کو2023 تک عالمی معیارکے مطابق میڈیکل ایجوکیشن اسٹینڈرڈز تیار کرنے کی ڈیڈلائن دے دی،مقررہ وقت کے اندرکوئی ملک میڈیکل ایجوکیشن اسٹینڈرڈزکی تیاری میں ناکام رہا تواس کے کالجوںکی میڈیکل ڈگریوں کوکسی اورملک میں تسلیم کیاجائے گا نہ ہی اس کے ڈاکٹرز کسی دوسرے ملک میں پریکٹس کرسکیں گے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ ڈیڈلائن کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے نظرثانی شدہ نصاب کی تیاری کیلیے نئے معیارات وضع کرکے ملک کی تمام جامعات کو2020 تک ان کے مطابق نصاب تیاری کی ہدایت کردی۔ پہلے سے قائم تمام کالجزکوایک سال کے اندر نئے’’ نظرثانی شدہ قومی نصاب کے اسٹینڈرڈز‘‘ کے مطابق نصاب کی تیاری کی ہدایت کی گئی ہے ۔

انڈے سے وابستہ خطرے

دنیا بھر میں ناشتا کرتے ہوئے جو چیز سب سے زیادہ کھائی جاتی ہے وہ یقیناً انڈے ہیں۔یہ غذا صحت کے لیے بہت فائدہ مند بھی ہے، چاہے کسی بھی صورت میں کھائی جائے۔مگر انڈوں میں جراثیم کی آلودگی کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، خاص طور پر پاکستان اور بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک میں، جو صحت کے لیے تباہ کن عنصر ثابت ہوسکتا ہے۔

vjhberbvefطبی ماہرین کے مطابق دیگر غذائوں کے مقابلے میں انڈوں سے لاحق خطرات سے عام لوگ زیادہ واقف نہیں۔صارفین چکن اور مچھلی کے گوشت کے حوالے سے صفائی وغیرہ کا خیال رکھتے ہیں مگر انڈوں کو پکانے یا توڑنے کے بعد عام طور پر ہاتھ دھونے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔اس کی ممکن وجہ یہ ہے کہ انڈوں کو عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے، تاہم کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسٹور کیسے کریں؟بازار میں خریدار کرتے ہوئے انڈوں کا تھیلا دیگر اشیا سے الگ رکھا جائے اور فریج میں بھی ایسا ہی کیا جائے۔ انڈے دھونے کے بعد فریج میں رکھیں اور دو ہفتے کے اندر استعمال کرلیں۔انڈوں کو ہمیشہ فریج کے شیلف میں رکھیں اور دروازے پر مت رکھیں جہاں اکثر لوگ رکھتے ہیں۔ جب فریج میں انڈے رکھیں تو اس کا درجہ حرارت 40 فارن ہائیٹ سے کم نہ کریں۔

صفائی:انڈوں کو ہاتھ میں لینے کے بعد صابن سے دھوئیں اور وہ جگہ اور برتن بھی اچھی طرح دھوئیں جن میں کچے انڈوں کو ڈالا جائے۔

گندے انڈے کی شناخت:ایک انڈہ کسی برتن مین رکھیں اور اسے پانی سے بھردیں۔ اگر انڈہ پانی میں تیرنے لگے تو بہتر ہے کہ اسے استعمال نہ کیا جائے جبکہ تہہ میں رہ جانے والا انڈہ استعمال کے لیے محفوظ ہوتا ہے۔

کیسے پکائیں؟انڈوں کو اس وقت تک پکانا چاہیے جب تک زردی اور سفیدی سخت نہ ہوجائیں جبکہ انڈوں پر مشتمل پکوانوں کو 160 ڈگری فارن ہائیٹ درجہ حرارت پر پکانے کی ضرورت ہے تاکہ سالمونیلا جراثیم ختم ہوجائیں۔ یہ جراثیم ہاضمے کے متعدد امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

کب تک کھائیں:انڈوں سے بننے والی غذائیں پکنے کے فوری بعد کھالیں۔ کمرے کے درجہ حرارت میں رکھے جانے پر ان میں بیکٹریا کی نشوونما ہونے لگتی ہے لہٰذا غذا کو دو گھنٹے سے پہلے کھالیں یا کمرے میں نہ رکھیں۔ اگر بچ جائے تو فریج میں رکھ دیں اور اسے بھی تین دن کے اندر کھالیں۔

 

کانگو وائرس سے بچنے کی احتیاطی تدابیر

محکمہ صحت سندھ نے عوام الناس کی حفاظت کیلئے ہیلتھ ایڈوائزری جاری کردی— فوٹو: اے پی پی

کراچی: محکمہ صحت سندھ نے کانگو وائرس سے بچاؤ کے لیے الرٹ جاری کردیا۔

محکمہ صحت کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہےکہ عوام الناس مویشی منڈی جانے سے قبل احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کانگو وائرس جان لیوا مرض ہے جس سے بچاؤ انتہائی آسان ہے۔

فوٹو: اے پی پی

ایڈوائزری میں ہدایت کی گئی ہے کہ مویشی منڈی میں ہلکے رنگ اور کھلے کپڑے پہن کر جائیں، منڈی جانےکے لیے جسم کو مکمل طور پر ڈھانپ کر رکھیں۔

فوٹو: آن لائن

ایڈوائزری میں بتایا گیا ہےکہ کانگو وائس رس کی چھچڑ جانور کی کھال پر موجود ہوتی ہے، عوام جانور کو ہاتھ لگانے سے قبل دستانے ضرور استعمال کریں، کانگو کامرض ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

فوٹو: آن لائن

ماہرین کے مطابق پیٹ میں درد، تیز بخار اور جسم میں درد کانگو کی علامات ہیں، ہڈیوں میں درد اور جسم کے کسی بھی حصے سے خون آنا بھی کانگو کی علامات ہیں۔

Google Analytics Alternative