صحت

پیاز بال بڑھانے کا نہایت عمدہ ذریعہ ہے.

نئی دہلی : آپ بالوں کے حوالے سے کسی بھی قسم کی پریشانی کا شکار ہیں، تو اس کا نوٹس لیں لیکن اس کے لئے آپ کو بہت زیادہ پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں، اس مقصد کے حصول کے چند گھریلو نسخے درج ذیل ہیں ۔ پیاز کا رس پیاز صرف آپ کی خوراک کو ہی مزے دار نہیں بناتا بلکہ بال بڑھانے کا بھی نہایت عمدہ ذریعہ ہے، اس کے رس میں سلفر پایا جاتا ہے جو بالوں کی پرورش کے لئے نہایت ضروری ہے۔ دو سے چار پیازوں کا رس نکال کر 15منٹ سے ایک گھنٹہ کے لئے اس سے بالوں کی مالش کریں، بعدازاں بالوں کو شیمپو اور پانی سے دھو لیں۔ آلو کا رس پیاز کے ساتھ آلو کے رس کو ملا کر بالوں پر لگانے سے صحت مند بال جلد بڑے ہو جاتے ہیں۔ آلو کارس نہ صرف بالوں کو بڑھاتا ہے بلکہ یہ کسی بھی وجہ سے متاثر ہونے والے بالوں کا علاج بھی ہے۔ آلو وٹامن اے، بی اور سی سے بھرپور ہوتا ہے اور یہ وٹامنز جسم کی اہم ضرورت سمجھے جاتے ہیں۔ آلوﺅں کے رس میں انڈے کی زردی اور ایک چمچ شہد بھی بالوں پر استعمال کیاجاسکتاہے ۔ انڈہ انڈے میں وہ بنیادی پروٹین پایا جاتا ہے، جو بالوں کی بہترین نشوونما کے لئے لازم قرار دیا جاتا ہے۔ ایک سے دو انڈوں کی سفیدی، ایک، ایک چمچ زیتون کا تیل اور شہد ملا کر بالوں کی مالش کریں۔ سیب کا سرکہ سیب کا سرکہ اپنے اندر بالوں کے لئے بے شمار فوائد پنہاں رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بالوں کے غدود یا تھیلیوں میں تحریک پیدا کرکے ان کے بڑھنے کی رفتار کو بڑھا دیتا ہے۔ میتھی صحت مند بالوں کی نشوونما اور بڑھوتری کے لئے میتھی کا استعمال زمانہ قدیم سے دنیا کے مختلف حصوں میں کیا جارہا ہے۔ دو سے تین چمچم میتھی کو پانی میں مکس کرکے بالوں پر لگائیں۔ آملہ، شیکاکائی ،ریٹھا برصغیر پاک و ہند میں بالوں کی بہترین نشوونما کے لئے آملہ کا استعمال کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اِن تینوں چیزوں کے تیل بیچنے والے گلیوں میں عام پھرتے ہیں۔ آملہ میں شامل وٹامن سی اور اینٹی آکسائیڈنٹ بالوں کے غدود کی پیدائش میں مدد فراہم کرنے کے علاوہ انہیں خراب ہونے سے بھی بچاتا ہے۔

دانتوں کا درد جا ئے منٹوں میں۔

لندن: دانتوں کا درد کوئی بھی ٹھنڈی گرم چیز کھانے سے کسی بھی وقت ہوسکتاہے اور اگر آپ ڈاکٹرسے رجوع کرنے کے قابل نہ ہوں توفوری طورپر باورچی خانے جائیں اوراِن میں سے کوئی نسخہ آزمائیں ۔ ایک گلاس پانی میں ایک چمچ نمک حل کر کے اس سے اچھی طرح کلیاں کریں اس طرح درد ،مسوڑھوں کی سوجن اور منہ کی بد بو ختم ہوجائے گی۔ کالی مرچ کو پیس کر چند قطرے پانی ڈال کر پیسٹ بنا لیں اور اسے درد والی جگہ پر لگا لیں۔ لہسن کی ایک آدھ گٹھی چبانے سے بھی دانت کا درد دفع ہو جائے گا۔اس کا نمک کے ساتھ پیسٹ بنا کر بھی متاثرہ جگہ پر لگا یا جاسکتا ہے۔ دانت کے درد کیلئے لونگ سے بہتر حل شاید ہی کوئی ہو متاثرہ دانت پر لونگ رکھ کرمنہ کو کچھ دیر بند رکھیں، آپ لونگ اور ذیتون کے تیل کا پیسٹ بنا کر بھی متاثرہ جگہ پر لگا سکتے ہیں یا پھر لونگ کا تیل روئی میں بھیگو کر اسے دانت پر رکھ سکتے ہیں۔ پیاز کو چبانے یا دانتوں میں رکھنے سے بھی درد کم ہو جاتا ہے کیونکہ یہ جراثیموں کو ختم کرتا ہے۔ روئی کو بھگو کر اس پر تھوڑا سا بیکنگ سوڈا لگا لیں اور متاثرہ جگہ پر دانتوں میں رکھیں۔ دانتوں سے خون آنے اور مسوڑوں کی سوجن کیلئے ہینگ کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔چٹکی بھر ہینگ کو کھوڑ میں ڈالیں یا لیمن جوس کے ساتھ پیسٹ بنا کر متاثرہ جگہ پر لگا لیں۔

جلد کو خشکی سے کیسے محفوظ رکھا جائے.

جلد ہمارے جسم کا سب سے اہم حصہ ہے ۔ چونکہ یہ ہر وقت اثرات سے متاثر ہوتی ہے اس لئے نازک بھی ہوتی ہے ۔ جلد ہمارے بدن کو بیرونی جراثیموں کے حملوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ جلد کا خشک ہونا ایک عام سی بات ہے۔ اس کے تدارک کے لئے کچھ اقدام کرکے آپ خشکی سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ یوں تو خشکی کا اثر پورے جسم پر ہوتا ہے مگر پاﺅں ، منہ ، ہاتھ کھلے رہنے کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ خشکی کی وجہ سے جلد پر جھریاں نمایاں ہوتی ہیں۔ زیادہ دیر دھوپ میں رہنا جلد کے لئے خطر ناک ہے ہر بار منہ دھونے کے ساتھ ساتھ جلد کی نمی کو دھوپ سے بچانا چاہئے۔ اسی طرح سردیوں میں دھوپ گوری رنگت کو سیاہ کردیتی ہے۔ جلد کی خوبصورتی کے لئے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ زیادہ دیر دھوپ میں رہنا مناسب نہیں۔ جو لوگ زیادہ دیر تک دھوپ میں رہتے ہیں ایسے لوگوں کی جلد جلد ی مرجھا جاتی ہے اور وہ وقت سے پہلے بوڑھے نظر آنے لگتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ دیر دھوپ میں رہنے والوں کو جلد کا کینسر بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ سورج کی روشنی کی ایک متوازن مقدارنہ صرف حسن وصحت کے لئے بہتر ہے بلکہ کسی حد تک لازمی بھی ہے۔ اگر احتیاط کی جائے اور تھوڑی دیر سن باتھ یعنی دھوپ سےنکنے کا عمل کیا جائے تو مضائقہ نہیں۔لیکن اس عمل کی زیادتی کسی طرح بھی مناسب نہیں کیونکہ زیادہ وقت دھوپ میں گزارنے سے جلد خشک ہوجاتی ہے اور جھریاں پڑجاتی ہیں اور جو جلد دھوپ کی وجہ سے ایک مرتبہ اپنا کچھاﺅ ضائع کردے وہ دوبارہ اسے کبھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ ضرورت سے زیادہ دھوپ گرمیوں، سردیوں دونوں موسموں میں جلد کے لئے نقصان دہ ہے۔ دھوپ میں نکلنے سے پہلے اگر ایلوویرا(گھیکوار، کنوار گندل) کی جیلی جلد پر لگائی جائے تو سورج کی براہ راست جلد پرپڑنے والی شعاعوں سے محفوظ رہا جاسکتاہے۔ دھوپ سے آنے کے بعد احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بھی جلد کے لئے مفید ہے۔ پھلوں کے رس کے فوائد جلد کی حفاظت کے لئے انگور کا رس بے حد اچھا ہے۔ انگور کے رس کو انڈے کی سفیدی کے ساتھ چہرے پرماسک کے طور پر لگائیں۔ اس کے علاوہ انگور کے رس میں انڈے کی زردی ملا کر خوب پھینٹیں ۔ جھاگ اٹھ آئے تو تھوڑی دیر پڑا رہنے دیں۔ جب جھاگ بیٹھ جائے تو چہرے پر ماسک کے طور پر لگائیں ۔ دس منٹ بعد کوئی اچھا سا اسکن ٹانک لگالیں۔ چہرہ خشک کرنے کے بعد کوئی اچھا سا اسکن ٹانگ لگالیں اسکن پر تازگی محسوس کریں گے۔ زیتون اور بادام کا تیل جلد کے لئے مفید ہے زیتون اور روغن بادام کی مالش سے جسم کو تقویت ملتی ہے اور نمی برقرار رکھنے کے علاوہ زیتون درودوں کو دور کرنے کے لئے بھی بہترین ہے۔ زیتون کی مالش آپ کو تندرست وتوانارکھتی ہے اور آپ کے جسم کو نمی بھی فراہم کرتی ہے۔ خشک جلد کے لئے گندم ، انڈے کی زردی، شہد، بادام اور دودھ کا ماسک بہت مفید ہے۔ انڈے کی زردی میں دودھ اور آدھی چمچ شہد ملا کر چہرے پر لگائیں ۔ پندرہ منٹ بعد نیم گرم پانی سے منہ دھولیں ۔ ویزلین میں جوکاآٹا ملا رکھ لیں اور اسے ابٹن کی طرح جلد پر ملیں۔ جلد نرم ولائم اور صاف ہوجائے گی۔ انڈا پروٹین کا خزانہ ہے۔ زردی جسم کو پروٹین مہیا کرتی ہے۔ سفیدی جسم کو کیلشیم مہیا کرتی ہے۔ انڈے کو شہد میں ملا کر لگایا جائے تو جلد کی جھریاں ختم ہوجاتی ہیں۔ سمندری نمک کا استعمال سرد اور خشک ہواﺅں کی وجہ سے جلد مرجھائی ہوئی خشک اور بے رونق سی نظر آنے لگتی ہے ۔ اس کے لئے سمندری نمک سے مساج کرنا مفید ہے۔ سب سے پہلے اپنی جلد کو پانی سے گیلا کریں پھر دو چائے کے چمچ سمندری نمک لے کر چہرے، پیشانی ، گالوں اور ٹھوڑی پر ہلکے ہاتھوں سے مساج کریں ۔ آنکھوں کے اطراف پر لگانے سے گریز کریں۔ دومنٹ بعد چہرے کو ٹھنڈے پانی سے دھولیں ۔ یہ عمل ہفتے میں ایک بار ضرور کریں۔ جلد میں تازگی محسوس کریں گی۔ دودھ کا جلد کے لئے استعمال چہرے کی رونق اور دل کشی کے لئے دودھ میں ایک چمچ پسا ہوا نمک ملا کر رات سوتے وقت چہرے پر خوب اچھی طرح مالش کریں۔ صبح اٹھ کر ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھولیں ۔ اس سے آپ کے چہرے پر نکھار اور چمک پیدا ہوگی۔ جلد کو حشک ہونے سے بچانے کے لئے دیگر باتوں پر بھی توجہ دی جاسکتی ہے۔ ایک تو گرم پانی سے جلد کو زیادہ نہ دھوئیں ۔ دوسرے باتھ یا شاور لینے کے بعد فوراً موئسچر ائز ر لگالیا کریں تاکہ جونمی پانی کے ذریعے جلد میں پہنچی ہے وہ وہیں رک جائے۔ تیسرے ہفتے میں ایک بار اپنی جلد کو آہستہ آہستہ ضرور رگڑیں تاکہ مردہ کھال اتر جائے اور نئی کھال اوپر آجائے۔ کولڈ کریم کا استعمال بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ جتنی موٹی کریم کی تہ ہوگی اتنی ہی جلد شاداب رہے گی۔ یہ خیال بالکل غلط ہے کیونکہ ضروری نہیں کہ اس طرح آپ کی جلد شاداب ہوجائے۔ کولڈ کریم کے حد سے زیادہ استعمال سے مردہ خلیے جلد کو زیادہ بے رونق کرتے ہیں۔ کریم کی ہلکی تہ لگائیں۔ گرم پانی سے نہانا گرم پانی سے نہانے سے جلد اور خشک ہوتی ہے۔ پانی گرم کرنے کے پانچ منٹ بعد صابن فری باڈی واش سے نہائیں۔ جسم کو رگڑیں نہیں۔ اس طرح جلد اور زیادہ خشک ہوجائے گی اور پھر جسم پر موئسچرائزر لگائیں۔ جلد کے لئے شہد اور بالائی کا استعمال چہرے کی خوبصورتی اور رعنائی کے لئے بالائی میں شہد یا بالائی میں ہلدی ملا کر خوب اچھی طرح پھینٹ لیں۔ بالائی کی جگہ کریم بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس آمیزے کو چہرے گردن، ہاتھوں پر مساج کریں۔ بیس منٹ بعد چہرہ دھولیں۔ یہ عمل ہر دوسرے تیسرے دن کریں۔ آپ کی جلد پر حیرت انگیز اور خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ ابٹن بھی جلد کو نرم وملائم رکھتا ہے۔ جلد کو خشکی سے محفوظ رکھنے کے لئے ٹوٹکے گلاب کے پھول ، جائفل اور چرونجی کو دودھ میں بھگودیں اور صبح کو اس کا پیسٹ بنا کر ابٹن کی طرح لگائیں۔ یہ ابٹن جلد کو خوبصورت اور نرم وملائم بنادے گا۔ جلد پر مساج کرنے سے دوران خون میں روانی آجاتی ہے اور دوران خون کی روانی جلد کو خشک ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔ کم از کم دو مرتبہ روغن زیتون اور دومرتبہ بادام روغن سے پورے چہرے کی مالش یا کم از کم چہرے، ہاتھوں اور پیروں پر مساج کریں۔ اس مقصد کے لئے کلینزنگ کا استعمال مردہ اور خشک جلد کو تازگی اور نرمی بخشتا ہے کیونکہ کلیزنگ میں جڑی بوٹیوں اور پھلوں کے اجزا شامل کئےجاتے ہیں۔

ہیضے پر قابو پانے کے 10 گھریلو نسخے.

ہیضہ یا ڈائریا جیسا سب کو معلوم ہے کہ شدید دست کی بیماری ہے جو بہت تیزی سے پھیلتی ہے اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

ہیضہ درحقیقت ایک علامت ہے جو بتاتی ہے کہ آپ کا جسم کسی ایسی زہریلی چیز سے نجات پانے کی کوشش کررہا ہے جو جسمانی نظام کا حصہ بن گئی ہے۔

ہیضہ کی علامات یہ ہوسکتی ہیں پانی جیسے دست، الٹیاں، ٹانگوں میں درد اور جسمانی کمزوری وغیرہ۔

تاہم اگر آپ یا کوئی بچہ اس کا شکار ہوجائے تو بہت زیادہ ادویات کی بجائے ان قدرتی طریقوں کا استعمال بیماری سے نجات دلانے میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

یخنی یا جوس کا استعمال

اگر آپ کو ہیضہ ہوجائے تو سیب کا جوس اور یخنی اس بیماری کے باعث جسم میں نمک اور منرلز کی کمی کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں، تاہم مالٹوں، انناس، ٹماٹر اور دیگر ایسے جوسز سے گریز کریں جو گلاس میں شفاف نظر نہ آئیں کیونکہ ان میں موجود ایسڈز بیماری کی کیفیت کو مزید شدید بھی کرسکتے ہیں۔

مالٹے کے چھلکے کی چائے

یہ ہیضے سے بچاﺅ کا ایک روایتی نسخہ ہے اور عام زندگی میں بھی نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے کیونکہ مالٹے کے چھلکے نظام ہاضمہ کو بہتر بناتے ہیں۔ آپ کو اس کے لیے مالٹے لے کر چھلکے لے کر انہیں باریک کاٹ لینا ہے، اس کے بعد کسی برتن میں پانی کے ساتھ ڈال کر ابالنا ہے، اس کے بعد ٹھنڈا ہونے کے تک برتن کو ڈھانپ کر رکھنا ہے، پھر اس میں شہد ملا کر استعمال کریں یقیناً فائدہ ہوگا۔

چاول بھی فائدہ مند

چاولوں کو ان کے فائدہ مند اثرات کے بناءپر بھی جاتا ہے اور ہیضے کی صورت میں گھی یا مکھن سے پاک سفید چاولوں کو تھوڑی تھوڑی مقدار میں اس وقت تک کھائیں جب تک بیماری کنٹرول میں نہیں آجاتی۔

شہد کا استعمال

یہ تو اکثر ممالک میں مانا جاتا ہے کہ شہد ہیضے کا بہترین علاج ہے۔ بس چار چائے کے چمچ شہد کو ایک کپ گرم پانی میں ملائیں، اسے ٹھنڈا ہونے دیں اور پھر پی لیں۔ یہ میٹھا تو ہوگا مگر بیماری سے بچانے میں موثر بھی ثابت ہوگا۔

سرکے کا پینا

اگر ہیضے کی وجہ کسی قسم کا بیکٹریا انفیکشن ہے تو سیب کا سرکہ اس مسئلے پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس کے اندر اینٹی بایوٹیکس خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح یہ سرکہ آنتوں میں مروڑ کی روک تھام کے لیے بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔

ایپل ساس (سیب کی چٹنی)کو آزما کر دیکھیں

ایپل ساس میں پیکٹین نامی ایک جز پایا جاتا ہے جو آنتوں کے سرگرمیوں کو بہتر کرتا ہے، ایپل ساس کو ڈبل روٹی یا بریڈ کے ایک خشک سلائیس پر پھیلا کر کھائیں تو یہ ہیضے کی شکایت میں کمی کے ساتھ ساتھ ایسی غذا ہے جو معدے کو نقصان نہیں پہنچاتی۔

مخصوص غذا کا استعمال

کیلے، سادہ چاول، ایپل ساس، خشک سلائیس اور چائے، یہ غذائیں ہیضے کے شکار ہونے کی صورت میں استعمال کرنا محفوظ ہوتا ہے اور آپ کے جسم کو توانائی سے محروم ہونے سے بھی بچاتی ہیں۔

لسی یا چھاچھ کا ایک گلاس

لسی یا چھاچھ بھی ہیضے پر قابو پانے کا ایک نسخہ مانا جاتا ہے۔ بس ایک یا دو چائے کے چمچ خشک ادرک ایک گلاس لسی یا چھاچھ میں ملائیں اور دن میں تین سے چار بار استعمال کریں۔

اجوائن کی چائے کا لطف اٹھائیں

ہیضے کے ساتھ آپ کو شکار بنانے والی آنتوں کی مروڑ پر قابو پانے اور غیر اطمینان بخش کیفت کے حوالے سے اجوائن کی چائے کو بھی آزما کر دیکھیں۔ ایک چائے کا چمچ اجوائن کو ایک کپ ابلے ہوئے پانی میں ڈالیں اور پھر پندرہ منٹ تک ڈھانپ کر رکھیں۔ اسے پینے سے پہلے کچھ دیر کے لیے اچھی طرح ہلا بھی لیں۔

سیاہ چائے بھی بہترینسیاہ چائے یا دودھ کے بغیر چائے میں ایسا نامیابی جز پایا جاتا ہے جو آنتوں میں ہیضے کے باعث بننے والے عناصر کے خلاف سرگرم ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں آنتوں میں ہونے والی سوجن یا ورم کو سکون ملتا ہے، خاص طور پر بلیک بیری یا رس بیری کے پتوں کی چائے ہیضے میں کمی لانے کے لیے بہترین مانی جاتی ہے، تاہم اس سے ہٹ کر ہربل چائے کا استعمال بھی بہترین ہوتا ہے۔

بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کو درپیش مشکلات.

عام طور پر لوگ دائیں ہاتھ سے تمام کام کرتے ہیں اور اس ہاتھ میں بائیں کے مقابلے میں طاقت بھی زیادہ ہوتی ہے لیکن دنیا میں ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کا بایاں ہاتھ دائیں سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور وہ ہر کام اسی سے کرتے ہیں تاہم ایسے لوگوں کو زندگی کے مختلف مراحل میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لکھنے میں مشکل: عام طور پر دائیں ہاتھ سے لکھنے والوں کو زیادہ مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا لیکن جب انہیں لکھائی اسپائرل قسم کی کاپی پر کرنا پڑے تو انہیں کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ انہیں اس پر لکھتے وقت اپنے ہاتھ کو اسٹیل اسپائرل پر رکھنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ان کی لکھائی کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح جو ٹیچرز بائیں ہاتھ سے لکھتے ہیں وہ بورڈ کے دائیں جانب کھڑے ہوتے ہیں جس سے وہ طلبا پر نظر نہیں رکھ پاتا۔ گٹار بجانے میں مشکل: عام طور پر بنائے گئے گیٹار کی ساخت سیدھے ہاتھ والوں کے لیے مناسب ہوتی ہے لیکن جب بائیں ہاتھ والا یہی گٹار استعمال کرتا ہے تو اسے بایاں ہاتھ استعمال کرنے میں مشکل ہوتی ہے اور مجبوری میں سیدھا ہاتھ استعمال کرتا ہے جس سے وہ جلدی تھک جاتا ہے۔ اشیا کا استعمال: عام طور پر بال پین، ناپنے والا ٹیپ، گھڑیاں اور یہاں تک کہ گیمز کھیلنے والا کونسول اپنی ساخت کے اعتبار سے صرف دائیں ہاتھ والوں کے لیے بنایا جاتا ہے اور جب بائیں ہاتھ والا اسے استعمال کرتا ہے تو اسے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بال پین اسی وقت زیادہ بہتر کام کرتا ہے جب اسے بائیں سے دائیں جانب لکھا جائے لیکن جب بائیں ہاتھ والا اسے استعمال کرتا ہے تو بال پین کی سیاہی کا فلو کم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ناپنے والی ٹیپ بائیں ہاتھ والوں کے لیے اوپر سے نیچے کی جانب نظر آتی ہے جب کہ اینا لاگ گھڑیوں پر وقت دیکھنے میں بائیں ہاتھ والوں کو مشکل پیش آتی ہے۔ گیمزکونسول کی اکثر کیزدائیں جانب ہوتی ہیں جو بائیں ہاتھ والوں کومجبور کردیتی ہے کہ وہ اپنے کمزور ہاتھ کو استعمال کریں۔ قینچی کا استعمال: قینچی کا بائیں ہاتھ سے استعمال انتہائی مشکل ہوتا ہے جب کہ اس کے دونوں بلیڈ اس طرح بنے ہوتے ہیں کہ اسے صرف دائیں ہاتھ والا ہی استعمال کرسکتا ہے۔ ٹن اوپنر: کسی ٹن کو کھولنے کے لیے استعمال ہونے والے ٹین اوپنر کی ساخت بھی ایسی ہے کہ جو صرف دائیں ہاتھ والا ہی استعمال کرسکتا ہے جب کہ بائیں ہاتھ والا شخص سیدھا ہاتھ استعمال کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اسکول میں ڈیسک: دنیا بھر کے کم و بیش سب ہی اسکولوں میں بنائے گئے ڈیسک کا بازو دائیں طرف ہوتا ہے جس پر کاپی رکھ کر دائیں ہاتھ والے بآسانی لکھ سکتے ہیں لیکن بائیں ہاتھ والوں کو ان پر کاپی ہر لکھنے میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی لیے ان کی لکھائی متاثر ہوتی ہے۔ سوشل اقدار کو ادا کرنے میں پریشانی: دنیا کے اکثر مذاہب میں کھانے اور ہاتھ ملانے کے لیے دائیں ہاتھ کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے بائیں ہاتھ کا استعمال کرتے ہیں جنہیں معاشرے میں لوگ بری نظروں سے دیکھتے ہیں لیکن یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کی امریکی صدر براک اوباما اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون دونوں ہی لیفٹی ہیں۔ بٹن لگانا: بٹن سیدھے ہاتھ سے لگائے جاتے ہیں اور جب یہی بٹن بائیں ہاتھ والا لگانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے سخت ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے

نیم کے 6 فوائد

برصغیر پاک و ہند میں نیم کے پیڑ کثرت سے پائے جاتے ہیں جو ہمیں جہاں تپتی دھوپ میں گھنی چھاؤں فراہم کرتے ہیں وہیں اس کے ایسے فوائد بھی ہیں جو عام طور پر ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں جن میں درج ذیل ہیں۔ زمین کی زرخیزی میں اضافہ ؛ نیم كا درخت کم پانی میں پروان چڑھتا ہے اور یہ زمین کی زرخیزی میں بڑھاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ پانی كے ضیاع اور زمین کے كٹاؤ كو بھی روكتا ہے۔ کیڑے مارنے کی قدرتی دوا؛ نیم میں موجود قدرتی اجزا اسے کیڑے مار دواؤں کا قدرتی نعم البدل بھی بناتے ہیں، بھارت سمیت کئی ممالک میں اس کا استعمال فصلوں کو کیڑوں سے بچانے کے لئے بھی ہوتا ہے اس سے ناصرف فصلوں پر اچھا اثر پڑتا ہے بل کہ ان فصلوں سے حاصل ہونے والی خوراک کیمیائی اجزا سے پاک ہوتی ہے۔ نیم بہترین جراثیم کش دوا ؛ نیم كے درخت كا ہر حصہ بیج ، پھل ، تیل، چھال ، جڑ بطور دافع عفونت اور دافع جراثیم كے طور پر استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر بیج سے نکلنے والا تیل قدرتی جراثیم كش صفات ركھتا ہے۔ نیم کے پتوں کو پانی میں ابال کر اس سے نہانے سے مختلف قسم کی داغ اور چنبل سمیت دیگر جلدی بیماریوں اور خارش سے نجات ملتی ہے۔ اس کے علاوہ نیم کے پتے ابال کر پینے سے اسہال کے مریض کو فائدہ ہوتا ہے۔ امراض قلب کے لئے اکسیر؛ نیم كے پتے کئی امراض میں اکسیر ہیں، پتوں سے كشید كردہ اجزاء جہاں ملیریا كے علاج میں نہایت سودمند ہوتے ہیں وہیں یہ خون میں كولیسٹرول كی مقدار كم كركے دل كی شریانوں كی تنگی کو دور بھی کرتے ہیں جس سے دل كے دورے کا خدشہ کم ہوتا ہے۔ بہترین بیوٹیشن؛ نیم كے پتے خواتین کے حسن و جمال کو برقرار رکھنے، چہرے کی جھریوں کے خاتمے اور چمک دار جلد کے لئے بھی استعمال كئے جاتے ہیں۔ بنائیں اپنے بال مضبوط اور چمکدار؛ نیم کا تیل بالوں کی خشكی دور اور انہیں لمبا كرنے میں بھی معاون ہے، بالوں کو مضبوط اور صحت مند کرنے کیلئے نیم کے تیل سے بالوں کی جڑوں میں مالش کری

نیند نہ پوری کرنے کے نقصانات. نئی طبی تحقیق

کیا آپ جسمانی وزن میں اضافے سے پریشان ہیں تو ہوسکتا ہے کہ اسکی وجہ خوراک نہیں بلکہ نیند کی کمی ہو۔یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسین اور دی سلیپ ریسرچ سوسائٹی کی مشترکہ تحقیق کے مطابق جو بالغ افراد چھ گھنٹے سے بھی کم سوتے ہیں ان کے موٹے ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق میں بتایاگیا ہے کہ نیندکی کمی آپ کی جسمانی خوبصورتی، مزاج، صحت غرض ہر چیز پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔تاہم محققین کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی سے جسم و ذہن پر طاری ہونے والی تھکاوٹ جسمانی وزن میں اضافے اور بیماریوں کے خلاف جسم میں سرگرم مدافعتی نظام کوکمزور کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ان کاکہنا تھا کہ چھ گھنٹے سے کم نیند چہرے پر جھریوں کا باعث بنتی ہے اورآنکھوں کے گرد حلقے بھی بدنمائی میں اضافہ کردیتے ہیں مگر زیادہوقت تک جاگنے کے نتیجے میں جسمانی میٹابولزم کی رفتار سست ہوتی ہے اور کھانا ہضم نہیں ہوپاتا جبکہ آپ مزید کیلیوریز مسلسل جسم کا حصہ بنارہے ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں موٹاپا خودکار طور پر آپ کو شکار کرلیتا ہے۔خیال رہے کہ اس سے پہلے یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ نیند کی کمی سے مردوں میں دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جسکی وجہ بلڈپریشر میں اضافہ ہوتا ہے۔

مچھلی کھانے والے افراد ڈپریشن کے مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں.نئی تحقیق

لاہور: ایک نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ زیادہ مچھلی کھانے والے افراد ڈپریشن کے مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔تقریبا ڈیرھ لاکھ افراد پر کی گئی 26 تحقیق کے جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ جو افراد اپنی غذا میں مچھلی کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں ڈپریشن کا شکار ہونے کے امکانات دوسرے افراد کے مقابلے میں 17 فیصد کم ہے۔ تحقیق کاروں کے مطابق اس کی ایک ممکنہ وجہ مچھلی میں موجود چربی کی ایک خاص قسم (فیٹی ایسڈ) کا ہونا ہے جو دماغ کے مختلف حصوں کو فعال رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ذہنی صحت کے حوالے سے کام کرنے والے ایک فلاحی ادارے ، مائنڈ کے مطابق یہ تحقیق انسان کی غذا اوراس کے مزاج پر کی جانے والی دیگر تحقیق میں مدد دے گی۔وبائی امراض اور سماجی صحت کے جرنل میں چینی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ مچھلی کے استعمال اور ڈپریشن پر اس سے پہلے بھی بہت سی تحقیق کی جا چکی ہے، لیکن ان کے نتائج واضح نہیں تھے۔جب انھوں نے مختلف تحقیقات کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ مچھلی کھانے کے مثبت اثرات پر یورپ میں تو بہت تحقیق کی گئی ہے لیکن دنیا کے دوسرے حصوں میں ابھی اس پر کام ہونا باقی ہے۔ اس پہلے سے کی گئی تحقیق سے کوئی ایک نتیجہ اخذ کرنا متنازعہ ہوسکتا تھا، اس لیے انھوں نے سنہ 2001 میں کی گئی ان تمام متعلقہ تحقیقات کے اعدادوشمار کو جمع کر کے کچھ نئے نتائج دریافت کیے ہیں۔ان اعدادوشمار کے حساب سے معلوم ہوا کہ مچھلی کے استعمال اور ذہنی صحت کا ایک اہم تعلق ہے اور اس کے اثرات مرد اور عورت دونوں پر یکساں ہوتے ہیں۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کی یہ نتائج ان اثرات کی وجہ سے حتمیٰ نہیں ہے، لیکن اس سے بہت سی دلچسپ باتیں سامنے آئی ہیں کہ آخر کیوں مچھلی ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے؟ایک ممکنہ توجیہ یہ ہے کہ مچھلی میں موجود اومیگا تھری دماغ میں موجود دو ڈوپامائن اور سیروٹونن جیسے کیمیائی مادوں کی فعالیت میں اہم کردار اد کرتا ہے۔ یہ کیمیائی مادے ڈپریشن کے مرض سے ایک تعلق رکھتے ہیں۔

Google Analytics Alternative