کالم

آزادی… خواب سے تعبیر تک؟

14 اگست 1947،یہ تاریخ صرف ایک دن نہیںبلکہ صدیوں کی قربانیوں، جدوجہد اور بے مثال خواب کی تعبیر کا دن ہے ۔ یہ وہ دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں کو ایک ایسی ریاست ملی، جس کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر رکھی گئی۔ اس ریاست کا مقصد صرف زمینی خطہ حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ ایسے معاشرے کی تشکیل تھی جو عدل، مساوات، رواداری، اور انسانی وقار کا عملی نمونہ ہو۔ مگر آج، جب ہم آزادی کے 78 سال بعد مڑ کر دیکھتے ہیں، تو یہ سوال سر اٹھاتا ہے: کیا ہم نے اس خواب کو تعبیر بخشی؟ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے جو خواب دیکھا، وہ ایک ایسی فلاحی ریاست کا تصور تھا جہاں اسلام کے اصولوں پر مبنی نظامِ عدل قائم ہو۔ ان کے الفاظ میں:”مذہب دل کا نور ،عقل کا چراغ ، عمل کا رہنما اور سیاست کا نگہبان ہے۔”قائداعظم محمد علی جناح نے بھی بارہا واضح کیا:”کام، کام اور صرف کام۔ محنت، خلوص نیت اور ایمانداری سے کام کرو۔”یہی وہ اصول تھے جن کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا۔ مگر افسوس کہ آج یہی رہنما اصول صرف تقریروں اور نصابی کتابوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ پاکستان کرپشن، ناانصافی، اقربا پروری، اور مخصوص طاقتور طبقات کے چنگل میں ہے۔آج بھی ملک کے کئی حصوں میں غیر آئینی جرگے، غیرت کے نام پر قتل، اور قانون شکنی کے واقعات روز کا معمول ہیں۔ طاقتور کو قانون ہاتھ نہیں لگا سکتا، جبکہ کمزور کو انصاف ملنا خواب بن چکا ہے۔ ہمارا آئین، دین، اور تہذیب اس ظلم و جبر کی ہرگز اجازت نہیں دیتے۔اسلام کا واضح حکم ہے:”جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔”عدم برداشت نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھا جاتا ہے۔ اقلیتیں خوف میں زندگی گزارتی ہیں۔ کیا یہی وہ پاکستان ہے جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا؟ کیا یہی وہ قوم ہے جس کی تعبیر کے لیے جناح نے اپنی صحت اور زندگی قربان کر دی؟ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قومی سطح پر احتساب کریں۔ خود سے پوچھیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ صرف نعروں، جھنڈیوں، اور آتش بازی سے نہ قومیں بنتی ہیں، نہ آزادی محفوظ ہوتی ہے۔ آزادی صرف دن منانے کا نام نہیں، یہ ایک طرزِ فکر اور طرزِ عمل کا نام ہے۔ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ:آزادی صرف حکمرانوں کا حق نہیں، ہر پاکستانی کی مشترکہ میراث ہے۔قانون کی بالادستی ہر صورت برقرار رکھی جائے۔اقلیتوں کو وہی حقوق حاصل ہوں جو اسلام اور آئین پاکستان نے انہیں دئیے،سیاست خدمت ہو، کاروبار نہ بنے،تعلیم، تحقیق، اور میرٹ کو ترجیح دی جائے اورم اپنی اناں کو قربان کر کے اجتماعی بہتری کے لیے کام کریں۔آزادی کی حفاظت کے لیے ہمیں اپنی صفیں درست کرنا ہوں گی۔ قومیں قربانی سے بنتی ہیں، اور قربانی صرف میدانِ جنگ میں نہیں، اپنی انا، مفادات اور نفرتوں کو دفن کرنے سے بھی ہوتی ہے۔ ہمیں ایک متحد، مضبوط اور باکردار قوم بن کر ابھرنا ہوگا۔بقول شاعر مشرق
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اللہ اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت بدلنے کا ارادہ اور کوشش نہ کرے اس آزادی کی حفاظت صرف فوج، عدلیہ یا حکومت کی ذمہ داری نہیں، یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے کردار، سوچ، اور رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔ صرف تبھی ہم اس خواب کو مکمل تعبیر دے سکتے ہیں۔ آج 14 اگست کو جب ہم یومِ آزادی مناتے ہیں، جھنڈیاں لہراتے ہیں، قومی نغمے گاتے ہیں، اور توپوں کی سلامی دیتے ہیں، تو ہمیں صرف جشن نہیں بلکہ تجدیدِ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ان اصولوں پر کاربند رہیں گے جن کی بنیاد پر پاکستان قائم ہوا۔ہم ایک ایسا پاکستان تعمیر کریں گے جو ترقی یافتہ، خوشحال، اور مہذب اقوام کی صف میں کھڑا ہو۔ہم اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کریں گے، اور ان کا ازالہ کرنے کیلئے دل و جان سے محنت کرینگے۔ہم اپنے فیصلے خود کریں گے، اور قومی خودمختاری کو ہر قیمت پر برقرار رکھیں گے۔ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ ان 78 برسوں میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ کون سے شعبے پیچھے رہ گئے اور کیوں؟ وہ ممالک جو ہم سے بعد میں آزاد ہوئے، آج ہم سے آگے کیوں نکل گئے؟ وقت آ گیا ہے کہ ہم سنجیدگی سے اپنے قبلے کی سمت درست کریں، اور اپنی رفتار کو تیز کریں۔پاکستان آزاد تھا، آزاد ہے، اور آزاد رہے گا۔ لیکن حقیقی آزادی تبھی ممکن ہے جب ہم بطور قوم بیدار ہوں، اور خواب کو صرف تعبیر نہیں، تعبیر کو حقیقت میں بدلنے کا عمل شروع کر دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے