اداریہ کالم

آزاد خارجہ پالیسی پاکستان کی بنیادی ضرورت

وزیراعظم پاکستان کے دورہ روس کی بازگشت پوری دنیا میں ابھی تک شنوائی دے رہی ہے اور پاکستان کے اچانک رویہ بدلنے اور روس کے دورہ کی دعوت کو قبول کرکے عین جنگی ماحول میں روس کا دورہ کرنے کے عمل کونہ صرف عمیق نگاہوں سے دیکھاجارہاہے بلکہ اس پرابھی تک تبصرے جاری ہیں اور پاکستان کے دلیرانہ اقدام کو دنیاحیرت کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے کیونکہ اقوام عالم کی نظروں میں پاکستان کو امریکی بلاک کاحصہ سمجھاجارہاہے جبکہ خود امریکی پاکستان کوایک طفیل ریاست کے طورپرلیتے چلے آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دورے کی بازگشت ابھی تک شنوائی دے رہی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ روسی قیادت نے پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی کا اظہار کیا ہے ، آئندہ دنوں میں روس کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون پر کام ہو گا ، افغانستان میں صورتحال سے متعلق روس اور پاکستان کی سوچ کا زاویہ ایک ہے، روس بھی افغانستان میں امن کا خواہاں ہے،ہ وزیراعظم عمران خان اور پیوٹن مابین ملاقات میں افغانستان، مقبوضہ کشمیر اور خطے کے امن پر بات کی گئی۔ہم جب ماسکو پہنچے تو پاکستان میں تبصرے شروع ہو گئے ، ایک بحث چلی کہ روس کا دورہ کرنا چاہیے تھا یا نہیں ہونا چاہیے تھا، یہ تنقید غلط ہے کہ ہم نے بغیر سوچے سمجھے روس کا دورہ کیا،بھارت کے میڈیا پر تو صف ماتم چھایا ہوا تھا،روس جانے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کیا، ہمارے سابق چار فارن سیکرٹریز بھی موجود تھے، ہم نے چار ایسے سفارتکاروں کو دعوت دی جنہوں نے ماسکو میں وقت گزارے،ہم چاہتے ہیں کہ ڈپلومیٹک اسپیس کو بڑھایا جائے،روس میں بہت مفصل گفتگو ہوئی ہے،ہمارا فوکس تھا کہ ڈائس پورہ محدود ہے لیکن اہم ہے،یوکرین میں موجود طلباءکو واپس لانے کےلئے توجہ دینی ہے،ہم یوکرین میں طلباءسے مسلسل رابطے میں ہیں، طلباءکی آسانی کےلئے ایمبیسی کو شفٹ کیا ہے، ایمبیسی اس لئے شفٹ کی کہ طلباءکو پولینڈ منتقل کرنا آسان ہو گا، ہمارے تین ہزار کے قریب اسٹوڈنٹس کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا ہے، پاکستانی طالب علم کی ہلاکت کی خبر غلط ہے ایسا بالکل نہیں ہے، ہم یوکرین میں تمام پاکستانیوں کی پوری مدد کریں گے، وزیراعظم نے واضح کہا کہ ہم نے اب کسی کے مسئلے میں نہیں پڑنا، ہمارے امریکہ سے بھی بہت اچھے تعلقات ہیں،روس کے دورے سے پہلے امریکہ سے ہائی لیول رابطہ کیا گیا،انہوں نے معصومانہ سا سوال کیااس کا ہم نے مودبانہ جواب دیا، ہمیں پاکستان کے مفاد کو آگے لے کر چلنا ہے۔وزیراعظم پاکستان کے روس کے دورہ کو رکوانے کے لئے امریکہ نے خفیہ سفارتکاری کے عمل کو بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور کوشش کی کہ وزیراعظم پاکستان اپنے اس دورے کو موخر کردیں مگر امریکہ کی تما م تر کوششوں کے باوجود وزیراعظم پاکستان نے نہ صرف یہ دورہ کاچ میابی کے ساتھ مکمل کیا بلکہ روس کے ساتھ مستقبل کے مشترکہ اہداف کاتعین بھی کیا اور امریکی حکا م پر کھلے عام یہ واضح کردیاکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آزادانہ بنیاد پر استوار کی جائے گی اوراس حوالے سے کوئی دباﺅ خاطر میں نہ لایاجائے گا۔یقینا وزیراعظم کایہ اقدام نہ صرف عوامی امنگوں کی عکاسی کرتاہے بلکہ اس بات کاثبوت ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ کوکسی ایک کیمپ تک محدودنہیں رکھناچاہتابلکہ ایک آزاد اور خودمختارمملکت کے طورپرپروان چڑھاناچاہتاہے۔ یقینا یہ ایک اچھا عمل ہے ۔قیام پاکستان کے بعد روس وہ پہلاملک تھا جس نے وزیراعظم پاکستان کوماسکوکے دورے کی دعوت دی مگر اس وقت کے وزیراعظم خان لیاقت علی خان نے طے شدہ شیڈول کومنسوخ کرکے بعد میں آنیوالی امریکی دورے کی دعوت کوقبول کرتے ہوئے واشنگٹن کادورہ کیا۔اس عمل نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بے حد متاثرکیا اور ماسکوکا جھکاو¿ بھارت کی طرف ہوتا چلا گیا جس کی وجہ سے برصغیر کے دو اہم ممالک دو الگ الگ کیمپوں کا حصہ بن کر رہ گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی دور حکومت میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو آزادانہ خطوط پر استوار کرنے کیلئے سیٹو اور سینٹو جیسے اہم دفاعی معاہدوں سے علیحدگی اختیار کی ،گوکہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات دوستانہ بنیاد پر قائم چلے آرہے ہیں مگر پاکستانی عوام کی نزدیک امریکی دوستی قابل اعتبارنہیں اور امریکہ پاکستانی افواج کو کرائے کے سپاہی کے طور پر استعمال کرنے کا خواہش مند ہے ۔ پاکستان نے سویت افغان جنگ کے دوران اور نائن الیون کے بعدامریکہ کا کھل کر ساتھ دیا مگر اس کے ثمرات پاکستان تک صحیح طور پر نہیں پہنچے ۔ موجودہ حکومت نے آزاد خارجہ پالیسی کے خواب کو حقیقت کے روپ میں ڈھالنے کیلئے جو قدم اٹھایا ہے یقینا اس میں اس کو کامیابی نصیب ہوگی اور اس کے ثمرات ملک وقوم کے حق میں بہتر ثابت ہوں گے ، اگر امریکی خواہش پر وزیر اعظم پاکستان اس دورہ کو ملتوی کرتے تو اس کا فائدہ نہ ہوتا اور مستقبل میں ہم کولہو کے بیل کی طرح چلتے رہتے اس لئے امید ہے کہ پالیسی سا زادارے خارجہ پالیسی کو آزادانہ خطوط پر جاری رکھنے کا عمل زندہ رکھیں گے ۔
پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا امکان تشویشناک خبر
یوکرین پر روس کے حملے کے بعد پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 9.59 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے جس کا اطلاق یکم مارچ 2022 سے ہوگا۔حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12.03 روپے فی لیٹر تک ریکارڈ اضافہ کیا تھا، جس کا اطلاق 16 فروری سے پٹرول کی قیمت 159.86 روپے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر ہے۔16 فروری کو خام تیل کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل یومیہ تھی۔یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ ہوا جو 2014 کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔صنعتی ماہرین کا کہنا تھا کہ روس نے 2014 میں کریمیا کے خلاف اس وقت جارحیت کی تھی جب اس نے پٹرولیم مصنوعات کے ذریعے فنڈز اکٹھے کیے تھے،ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس شیل آئل بھی ہے لیکن یہ مہنگا ہے تاہم امریکا اسے عالمی منڈی میں لانے کی کوشش کر سکتا ہے تاکہ روسی ریونیو کو نقصان پہنچانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جا سکے۔ملک میں اس وقت مہنگائی کی شرح میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے جس کی وجہ پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ بتایا جاتا ہے ۔ اب امکان یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مزید 10روپے اضافے کی توقع ہے ، ان حالات میں غریب آدمی کا جینا مزید دوبھر ہوجائے گا۔ اس لئے حکومت کو تیل پیدا کرنے والے دوست ممالک سے رابطوں میں تیزی لانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں پیٹرول کی قیمتوں کو ایک سطح پر رکھ کر مہنگائی کے بڑھتے ہوئے طوفان کو روکا جاسکے ۔
27فروری پاک فضائیہ کا یوم امتیاز
27فروری 2019کا دن پاکستان ایئر فورس کی تاریخ میں ایک روشن اور اجلے دن کی طرح ہمیشہ یادگار رکھا جائے گاکہ جب بھارتی ایئر فورس کے لڑاکا طیار و ں نے سرحد پار کرکے پاکستانی حدود میں ایئر سٹرائیک کرنے کی کوشش کی تھی اور جنگلات میں کچھ بم گراکر واپس اپنے ملک میں بھاگ گئے تھے ۔ یہ ایئر سٹرائیک 26فروری 2019کو کی گئی تھی اسی رات کو یہ فیصلہ کرلیا گیا تھا کہ بھارت اس سٹرائیک کا پوری طاقت کے ساتھ جواب دینا ہے ۔ چنانچہ اگلے روز جب بھارتی طیاروں نے پاکستان کی سرحدوں کو ایک بار پھر عبور کرنے کی کوشش کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے پاکستانی فضائیہ نے دو بھارتی طیاروں کو مار گرایا تھا جس میں سے ایک کا پائلٹ سکوارڈن لیڈر ابھی نندن گرفتار ہوگیا مگر پاکستان نے امن کی خواہش کو برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف اس پائلٹ کو چائے پلائی بلکہ اس کی میڈیکل ٹریٹمنٹ کرتے ہوئے اسے واپس بھیجوادیا ، یہ عمل دنیا کی تمام طاقتوں کیلئے ایک جواب تھا کہ پاک فضائیہ اپنی فضاو¿ں کی حفاظت کرنا بخوبی جانتی ہے اور ابھی نند ن کا یہ چائے کا کپ نہ صرف پاک بھارت بلکہ پوری دنیا میں مشہور ہوا ، ہم خطے میں امن سے رہنا چاہتے ہیں اور ایئر فورس کو اس کی کامیابیوں پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

güvenilir kumar siteleri