کالم

ایک ایران مرجان ستراپی کے اندر بھی تھا

مرجان ستراپی ایرانی نژاد گرافک ناول نگار، مصور، فلم ساز ، دانشور اور مزاحمت کار 56سال کی عمر میں دنیا کے دکھوں سے آزاد ہو گئی۔اب وہ نہ ایرانی ہے ،نہ فرانسیسی ، اب وہ مہاجر بھی نہیں ، وہ ایک انسان کی حیثیت اس جہان کا حصہ بن چکی ہے ، جہاں انسان کو عورت اور مرد میں تقسیم کیئے بغیر دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔ پرکھا بھی کہاں جاتا ہے ،بس رہنے دیا جاتا ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ دوسرے جہان میں مصوری کی گنجائش یا سہولت یا اجازت ہوتی ہے یا نہیں۔ قیاس چاہتا ہے کہ دوسرے جہان میں دنیا والی تنگ نظریاں اور قباحتیں نہیں ہوتی ہوں گی۔میں یہ بھی نہیں جانتا کہ دوسرے جہان میں ناول لکھے اور پڑھے جاتے ہیں یا نہیں؟ اس دوسرے جہان کے بارے میں دنیا بھر میں رہنے والے انسانوں کے جدا جدا تصورات ، الگ الگ خیالات اور طرح طرح کی قیاس آرائیاں بجائے خود ایک شہکار ناول کی طرح دیکھی،پڑھی اور سمجھی جا سکتی ہیں۔پرسیپولیس نام کا چار جلدوں پر مشتمل خودنوشت گرافک ناول مرجان ستراپی کی پہچان ہے۔مرجان ستراپی تہران کے پڑھے لکھے ، متمول اور روشن خیال والدین کی بیٹی تھی۔اسکے والد سول انجینئر تھے ۔جبکہ والدہ ایک معروف فیشن ڈیزائنر تھیں۔ دونوں مارکسسٹ تھے ۔ایران میں رضا شاہ پہلوی کے خلاف جدوجہد کے عروج کے زمانے میں وہ نو دس سال کی بچی تھی۔اسکے ماں باپ شاہ کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرتے ، ننھی مرجان یعنی مرجی سیاست کا شعور نہ ہونے کے باوجود ماں باپ کے ساتھ انقلاب زندہ باد کے نعروں میں اپنی ننھی آواز شامل کرتی۔مرجان کا اصل ہیرو اس کے والد کا بھائی تھا۔وہ ایک انقلابی تھا۔رضا شاہ نے مرجان کے چچا کو قریباً نو سال تک جیل میں بند رکھا تھا ۔جس انقلاب کیلئے مرجان کے مارکسسٹ ماں باپ اور چچا نے عملی جدوجہد میں حصہ لیا تھا،اور رضا شاہ پہلوی کے اقتدار کے خاتمے کی جدوجہد کا حصہ بنے تھے، وہ انقلاب وقوع پذیر ہوتے ہی صرف انقلاب نہ رہا ، وہ اسلامی انقلاب بن گیا۔ اس انقلاب کے بعد ایران کو اندر باہر سے تبدیل کر دیا گیا۔ بچوں کے تعلیمی اداروں کو صنفی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ کر دیا گیا تھا۔بچیوں کیلئے پردہ لازمی قرار دے دیا گیا۔ مرجان ستراپی نے کم عمری ہی میں ایران کی بدلتی ہوئی ،اور بعد ازاں بدل چکی سماجی اقدار میں صنفی تقسیم و تخصیص کے اثرات کا سامنا کیا ۔ ایرانیوں کی زندگی کی ثقافت اور اطوار بالکل تبدیل کر دیئے گئے ۔یہاں تک کے میوزک سننے والی کیسٹوں کو گھر میں چھپا کر رکھنا پڑتا ۔وہ گھر کے باہر مرگ بر امریکہ کے نعرے سنتی اور لگاتی ،اور گھر میں چھپ کر مائیکل جیکسن کے گیت بھی سنا کرتی تھی۔گھروں میں تہران کی معروف دعوتیں بھی چھپ چھپا کر کی جاتیں تھیں ۔ مرجی نے صرف نو سال کی عمر میں رضا شاہ پہلوی کے قہر آلود نظم حکومت کو گرتے اور اسکی جگہ پر ایک نئے نظام کو ابھرتے ہوے دیکھا تھا ۔ اسکولوں کا ماحول اور مناظر تبدیل ہوگئے،نوعمر مرجی ہر ایک سے الجھتی،اپنے انقلابی ہیرو چچا کو کیمونسٹ قرار دے پھانسی دینے کے عمل نے اسکے دل سے اس انقلاب کا وہم دور کر دیا، جسکے لیے اس نے ، لیکن اصل میں اسکے ماں باپ،چچا اور اس نسل کے ایرانیوں نے ان تھک جدوجہد کی تھی اور بے مثال قربانیاں دی تھیں ۔ مرجی ابھی چودہ سال کی تھی کہ اسکے ماں باپ نے اسے تن تنہا آسٹریا کے شہر ویانا پڑھنے کیلئے بھیج دیا ۔ آسودہ حال ماں باپ کا مقصد اپنی روشن خیال بیٹی کو سخت معاشرتی تبدیلیوں اور عراق ایران جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنا تھا۔ویانا میں نوجوان لڑکی مرجان کے تجربات بھی کم ہولناک نہ تھے۔ اسے آسٹریا کے شہر ویانا میں شناخت اور تنفر کی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مرجان ستراپی کہتی ہے کہ ویانا کا قیام میرے لیے؛ "جہنم تھا۔ مکمل جہنم۔ میں ایرانی تھی، کم عمر تھی، لڑکی تھی۔ آسٹریا والے مجھے دہشت گردسمجھتے تھے۔ میں نے خود سے کہا: ٹھیک ہے، اگر تم مجھے اجنبی سمجھتے ہو تو میں سب سے بڑی اجنبی بن کر دکھاؤں گی۔ میں نے پنک لک اپنایا، بال رنگے، ہر اس چیز سے نفرت کا اظہار کیا جو نارمل تھی۔ اندر سے میں مر رہی تھی، سب سے برا دن وہ تھا جب میں بے گھر ہو گئی۔ 3 مہینے سڑکوں پر سوئی لیکن میں نے ماں باپ کو نہیں بتایا۔کیونکہ انہوں نے مجھے بچانے کیلئے بھیجا تھا۔ اگر میں کہتی کہ میں ناکام ہو گئی تو ان کا دل ٹوٹ جاتا۔ ویانا میں کان پڑنے والے نسل پرستانہ تبصروں سے تنگ آکر مرجان نے اپنی شناخت چھپانے کی کوشش بھی کی،لیکن نسل پرستانہ تعصب اور تنگ نظری نے اسے تہران واپس آنے پر آمادہ کر دیا ۔تہران واپس آ کر اس نے آرٹ کی تعلیم مکمل کی ،شادی کا تجربہ کیا اور سیکھا کہ وہ شادی کیلئے نہیں بنی،بھلے طریقے سے طلاق لے کر 1994 میں مستقل طور پر فرانس چلی گئی ۔وہ فرانس جا کر اسی پیرس کا حصہ بنی جہاں انقلاب ایران کے رہبر آیت اللہ خمینی نے عراق سے ملک بدر کر دیئے جانے کے بعد چار ماہ اور کچھ روز قیام کیا تھا۔ رہبر انقلاب پیرس سے ہوائی جہاز پر سوار ہو کر تہران پہنچے تھے۔ اپنی ہجرت کے بعد مرجان ستراپی نے اپنی بقیہ زندگی اسی پیرس میں گزاری۔ انقلاب ایران نے مرجان کو اس وقت مایوس کر دیا تھا جب انقلاب کیلئے سخت جدوجہد کرنے والے اور قید و بند کی اذیتیں برداشت کرنے والے اس کے پیارے چچا کو؛ جو اس نوجوان انقلابی لڑکی کے ہیرو بھی تھے، اسلامی حکومت نے روس کیلئے جاسوسی کرنے والا کیمونسٹ قرار دے کر گرفتار کر لیا اور پھر پھانسی دے ڈالی۔انقلاب ایران کی جدوجہد میں حصہ لینے اور قربانیاں دینے والے بائیں بازو کے ان گنت جانبازوں کو اسی طرح گرفتار کر کے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ۔ پرسیپولیس مرجان ستراپی کا خود نوشت گرافگ ناول اور اس کی عالمگیر شہرت کی وجوہ میں نمایاں تر مقام رکھتا ہے ۔ اس ناول میں مرجان ستراپی کی زندگی کے سارے رنگ ڈھنگ دکھائی دے جاتے ہیں۔مرجی کے بچپن کا ایران، رضاشاہ پہلوی کے خلاف ایرانی عوام کی بلاامتیاز جدوجہد ،انقلاب ،رد انقلاب،سیاسی مزاحمت ، ایران عراق جنگ کی پھیلائی تباہی ، مایوسی، ویانا میں بطور مہاجر تجربات ،جلاوطنی کے مسائل اور صنفی فرق و امتیاز میں ایک عورت کی شناخت چار جلدوں پر مشتمل اس ناول کے موضوعات ہیں ۔اس ناول کا دنیا کی چالیس زبانوں میں ترجمہ کیا گیا،دہائی کی بہترین کتابوں میں شمار کیا گیا۔ سال 2007 میں مرجان ستراپی نے اپنے اس ناول پر اینیمیٹڈ فلم بنائی اور اس فلم کی ہدایت کاری بھی خود ہی کی۔ ایک طرف جہاں یہ فلم دنیا بھر کی توجہ اور ستائش کا عنوان بن رہی تھی تو دوسری طرف ایران کی حکومت نے اس فلم کو اسلام مخالف فلم قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کر دی۔ مرجان ستراپی کی انفرادیت یہ ہے کہ اس نے کامکس کو محض ننھے بچوں کی دلچسپی کے دائرے سے نکال کر حد درجہ گھمبیر اور سنجیدہ سیاسی ادب کے بیان کا حصہ بنا دیا۔وہ بڑے بڑے سانحات ، واقعات و حوادث کو ایک دانشور دل اور دماغ سے دیکھ اور سمجھ کر ایک ننھی بچی کی آنکھ سے دکھانے کا ہنر جانتی تھی۔یہ ہنر مرجان ستراپی کے ساتھ ہی مخصوص خیال کرنا چاہیئے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے