بین الاقوامی فورم برکس کا اہم اجلاس 22 سے24اگست تک جوہانسبرگ میں جا ری ہے،اس فورم میں برازیل، روس، چین اور انڈیا جیسے ممالک حصہ لیتے ہیں ۔اس بار اس اجلاس کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں توسیع پر غور کیا جائے گا۔برکس میں نئے اراکین کو مدعو کیا جا رہا ہے ۔ سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات، مصر اور ارجنٹین جیسے ممالک برکس میں شامل ہونا چاہتے ہیں ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ چین اسے برکس کا رکن بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ رواں اجلاس میں بھی پاکستان کے غیرسرکاری نمائندوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔یقینا مودی کے لئے یہ ایک کوفت والا ماحول ہے کہ وہ کیسے چین کی کوششوں کو روکے۔تاہم اس موقع پربھارتی وزیراعظم کوایک اور سبکی کا بھی سامنا ہے۔ نریندر مودی 15ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کےلئے جنوبی افریقہ کے دورہ پرہیں۔دوسری طرف مسلم لائرز ایسوسی ایشن اور جنوبی افریقہ کشمیری ایکشن گروپ نے مشترکہ طور پر نیشنل پراسیکیوٹنگ اتھارٹی اور جنوبی افریقہ کی پولیس کے پاس مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانیت کے خلاف جرائم پر مودی کو گرفتار کرکے انکے خلاف مقدمہ چلانے کیلئے ایک شکایت درج کرا دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق 600صفحات پر مشتمل شکایت میں گواہان کے ریکارڈ اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں درج ہونیوالی 200سے زائدایف آئی آرز کوبھی شامل کیاگیا ہے۔ شکایت میں اغوا، تشدد، عصمت دری، ماورائے عدالت قتل، آتشزدگی کے حملوں اور سیاسی رہنماﺅں اور بے گناہ شہریوں کی غیر قانونی گرفتاریوں کے تفصیلی شواہد موجود ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں نافذ انسداد دہشت گردی کے نام نہاد کالے قوانین کے تحت بھارتی فوجیوں کو گزشتہ 22 سال سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جواب دہی سے استثنیٰ حاصل رہا ہے ۔بھارتی فوج کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق مقدمات کی فائلوں کی نقول بھی شکایت کے ساتھ لگائی گئی ہیں جن میں مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے کیسز کی تحقیقات کیلئے بین الاقوامی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیاگیا ہے ۔شکایت میں مزیدکہا گیا کہ روم سٹیٹیوٹ کے آرٹیکل 25(3) کے تحت ہم ہیگ میں عالمی عدالت انصاف تک اس کیس کولے جانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک متنازعہ شخصیت ہے ،وزیراعظم بننے سے قبل گجرات فسادات کی وجہ سے اس پر امریکہ میں داخلے پر پابندی تھی۔گجرات فسادات کی وجہ سے اسے قصاب کے نام سے نوازا گیا ،تب وہ ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ تھے۔اس انتہا پسند اور متشدد سوچ والے کردار کو جب وزیراعظم چنا گیا تو اس سے یہ بات بھی واضح ہونے لگی کہ بھارت واقعی ایک ہندو ریاست میں ڈھل چکی ہے،بعد کے واقعات نے ان خدشات کو سچ ثابت کیا۔کشمیر میں جو کچھ ہوا وہ دنیا کے سامنے ہے اسی لئے برکس اجلاس کے موقع پر ان کے خلاف 600صفحات پر مشتمل ایک بڑی اور مستند حقائق کے ساتھ شکایت درج کرائی گئی ہے۔مودی اقتدار کو طول دینے لئے انتہاپسند کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے،جیسے دوسری ٹرم کے لئے اس نے پلوامہ کا فالس فلیگ آپریشن رچایا تھا،ایک بار پھر الیکشن نزیدیک آرہے ہیں تو کسی نئے ڈرامے کا خدشہ ہے، اس ضمن میں خود بھارت کے اندر مودی خلاف آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں۔جیسے بھارت کے معروف وکیل پرشانت بھوشن نے خبردار کیا ہے کہ مودی حکومت 2024میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے قبل پلوامہ حملے جیسا ایک اور جعلی آپریشن کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔پرشانت بھوشن نے نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی عوام کو خبردارکیا کہ مودی حکومت ایک اور پلوامہ یا بالاکوٹ حملے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے تاکہ بھارتی ووٹروں کو 2024کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی طرف راغب کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ اس بار فرقہ وارانہ ایجنڈے کے تحت بی جے پی کے بنیادی ووٹروں میں قوم پرستی کے جذبے کو تقویت دی جائے گی۔انہوں نے سامعین کو ایودھیا میں رام مندر پر منظم ریاستی دہشت گردی کے تحت حملے کےلئے تیار رہنے کے لئے کہا ہے جس کے ذریعے بی جے پی فرقہ وارانہ بنیادوںپر ووٹوں کو اپنی طرف راغب کرے گی۔ایڈووکیٹ بھوشن نے پلوامہ واقعے کے حوالے سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک کے بیانات کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا کہ مودی حکومت نے حملے سے متعلق حقائق کو چھپایا۔14 فروری 2019 کو مقبوضہ جموں وکشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے قافلے کی ایک بس کو بارود سے بھری گاڑی نے دھماکے سے اڑادیا تھا جس کے نتیجے میں 40سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے جن میں بھاری تعداد سکھوں کی تھی۔ بہت سے سیاسی ماہرین اور حتیٰ کہ بھارتی سیاستدانوں کا خیال ہے کہ پلوامہ حملہ مودی حکومت نے الیکشن جیتنے کےلئے کیا تھا۔پرشانت بھوشن نے حملے کے بعد 3گھنٹے تک خاموش رہنے پربھارتی وزیر اعظم سے جواب طلب کیا اور ستیہ پال ملک کی طرف سے واقعے کے بارے میں مطلع کرنے پر انہیں خاموش رہنے کی ہدایت دینے کے پیچھے وجہ پوچھی۔ انہوں نے سامعین کو بتایاکہ مودی حکومت نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا وعدہ کیاتھا جووہ پورا کرنے میں ناکام رہی۔وہ رپورٹ پانچ سال گزرنے کے بعد بھی سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے بھارتی میڈیا پر بھر پور تنقید کی اور کہاکہ ٹی وی اینکروں نے اس حملے پر بے شرمی سے بھارت کے مفاد پر سمجھوتہ کر کے اپنے آقاﺅںکے اشارے پر کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ حملے میں مارے گئے فوجیوں کو انصاف نہیں ملا اور مودی حکومت نے انتخابی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ان کے قتل پر سیاست کی۔بھوشن نے خبردار کیا کہ مودی حکومت آزاد جموں و کشمیر میں دوسری سرجیکل اسٹرائیک کرے گی جس طرح بی جے پی نے 2019کے لوک سبھا انتخابات سے قبل بالاکوٹ میں ایک بے بنیاد ایئرسٹرائک کرکے حالات کو اپنے حق میں موڑ دیا تھا۔بھوشن نے کہاکہ نریندر مودی یا تو پورے بھارت کو منی پور کی طرح تقسیم کر دیں گے یا پھرپلوامہ 2اوربالاکوٹ 2کر کے عوام میں قوم پرستی کے جذبات بھڑکائے گی ۔ انہوں نے کہا یہ لوگ انتخابات جیتنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں اور کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔مودی سرکار سیاسی مفاد کی خاطر ملک کی انسانی حقوق کی قدریں بھی پامال کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک ماہر میری لالر نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ نریندر مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کے کارکن اور دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جی این سائبابا کی مسلسل نظربندی ایک غیر انسانی اور احمقانہ عمل ہے۔انسانی حقوق کے کارکنوں کی صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لالر نے جنیوا میں اس بات کا کھل اظہار کیا کہ جی این سائبابا بھارت میں دلت اور آدیواسی لوگوں سمیت اقلیتوں کے حقوق کے دیرینہ کارکن ہیں اوران کی مسلسل نظربندی شرمناک ہے۔انہوں نے کہاکہ ان کی نظربندی سے ایک ایسی ریاست کی عکاسی ہوتی ہے جو ایک تنقیدی آواز کو خاموش کرانے کی کوشش کرتی ہے۔دہلی یونیورسٹی میں انگریزی کے سابق پروفیسر سائی بابا پانچ سال کی عمر سے ریڑھ کی ہڈی کے عارضے اور پولیو میں مبتلا ہیں اور وہ ویل چیئر استعمال کرتے ہیں۔ انہیں2014میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2017میں انہیں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یواے پی اے کے تحت متعدد الزامات میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بارہا انکے خلاف مقدمہ چلانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ 2021میں جبری نظربندی کے بارے میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے انکی نظر بندی کو جابرانہ قرار دیا تھا۔میری لالر نے کہا کہ جیل میں سائی بابا کی حالت تشویشناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نظربندی کے دوران سائی بابا کی صحت بری طرح بگڑ گئی ہے اس لیے انہیں رہا کیا جائے۔

