دسمبر2022ء کو بے نظیربھٹو شہید کی اٹھارویں برسی منائی جارہی ہے ۔ جمہوریت کی تاریخ پاکستان میں جب بھی لکھی جائے گی بھٹو خاندان کانام اپنی بے مثال لازوال قربانیوںکی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید،بے نظیر بھٹو شہید ، محترمہ نصرت بھٹو ،آصف علی زرداری یہ سب نام ایسے ہیںجنہوں نے جمہوریت کے نظام کی بقا ء کیلئے قربانیاںدیں۔ذوالفقار علی بھٹو نہ ہوتے تو پاکستان اٹیمی طاقت کبھی نہ بنتا۔محسن پاکستا ن ڈاکڑقدیر خان مرحوم نے ہمیشہ یہی کہا کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو شہید مجھ سے نہ رابطہ کرتے اور مجھے پاکستان آنے کی دعوت دیتے تو کبھی یہ اتنا بڑا کام ہوتا ۔بے نظیر بھٹو شہید کی ذات ایک مثالی قومی لیڈ ر تھی جن کی بہاردی قربانیوں سے ہی پاکستان میں دوبارہ جمہوریت کا آغاز ہوا۔اُن کی گیارہ سالہ جلا وطنی کی زندگی،اپنی جماعت کی قیادت کرنا اور بین الاقوامی سطح پر جس طرح جمہوریت کا مقدمہ اُنھوں نے لڑا ۔وہ خواتین کیلئے نہ صرف پاکستان بلکہ مسلم دُنیا میں اور بین الاقوامی سیاست میں ایک رول ماڈ ل بن گئیں۔ ضیا ء الحق دور میںجس بہادری سے اُس نے جمہوریت کی جدوجہد کیلئے مشکلات دیکھیں۔جمہوریت کیلئے ایک طویل جنگ وجدوجہد ماں بیٹی نے لڑی اور پھر بے نظیربھٹو شہید جو اپنے باپ کی شہادت کے بعد والدہ کے ساتھ دوبئی منتقل ہوگئی تھیں وہ 1986 ء میں واپس آیں تو ایئر پورٹ پر لاکھوں کا جم غفیر اِن کے اِستقبال کیلئے کھڑاتھا۔17 اگست 1988ء کو سانحہ بہاولپور کے بعد پھر جنرل اسلم بیگ نے فوج کی قیادت سنبھالی اور ایک شفاف وغیر جانبدارانہ الیکشن 1988 ء میں کروائے اور پیپلز پارٹی کو چاروں صوبوں سے بھاری اکثریت کے ساتھ قوم نے خوش آمدید کہا۔ وہ سولہ نومبر1988 ء پاکستان کی اورمسلم اُمہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں مگر اِن کے اردگرد سازشوں کا جال مسلسل چلتارہا اور دونوں بار اِن کو پانچ سال حکومت نہ کرنے دی گئی۔ وہ قوم کیلئے روٹی کپڑا مکان کے پیپلزپارٹی کے نعرے کیلئے اپنے دونوں اقتدار میں کام کرتی رہیں ۔ پاکستان کی واحد سیاسی شخصیت جسکی نہ صرف پیپلز پارٹی والے بلکہ اِن کی شہادت کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے قائد بھی اِن کا نام انتہائی ادب واِحترام سے لیتے ہیں۔اِن کی جمہوریت کیلئے لازوال قربانیوں کی وجہ سے مُلک کی سیاسی تاریخ میں اِن کا نام ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔پارٹیوں پر عروج وزوال آتے رہتے ہیں مگر پیپلز پارٹی کے ورکرز ،جیالے اور قائد بھٹو شہید وبے نظیر شہید کے دیوانوں کی منزل صرف اور صرف پاکستان کو بھٹو شہید وبے نظیر بھٹو شہید کی نظریاتی اساس کے ساتھ منسلک ہے۔ بے نظیر بھٹو چاروں صوبوںکی زنجیر تھیں۔وہ ایک بین الاقوامی لیڈر تھیںجس کی سیاسی بصیرت ،وژن اور جمہوریت کیلئے اُن کی لازوال قربانیوںکو پوری دُنیا میںاحترام سے دیکھا جاتا ہے ۔ پندرویں برسی بی بی کی آگئی مگر اُن کے قاتلوںکاپانچ سال اقتدار میںرہنے کے باوجود نہ پتہ چل سکا۔بیرون مُلک سے تحقیقاتی ٹیمیں بلُائی گئیں مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔ صدرِ آصف علی زرداری بھی اپنی تقاریر میں کئی باریہ کہتے رہے کہ میںبی بی کے قاتلوںکو جانتاہوں مگربتایا نہیںکہ قاتل کون ہیں ؟ بھٹو خاندان نے جمہوریت کی خاطر جس طرح قربانیاں دی ہیں پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی سیاسی خاندان نے اتنی قربانیاں نہیںدی ہوںگی۔خارجہ پالیسی،ملکی سیاست اور بین الاقوامی سیاست میںاُن کا منفرد مقام تھا۔اُن کی صلاحیتوں ،ذہانت اور لیڈرشپ خوبیوں کے اُن کے مخالفین بھی مانتے تھے۔ سلا م اس دھرتی کی عظیم بیٹی کو جس نے اپنی جان کا نذرانہ دیکر حقِ وفا کا رشتہ نبھادیا جس کا نعرہ تھاجمہوریت بہترین انتقام ہے۔
سرِشام کس نے سِتم کیاکہ ہر ایک دِل کو رُلا دیا
میری اِرضِ پاک پہ یک بہ یک کوئی آسمان گرادیا
کالم
دُختر مشرق، بے نظیر بھٹو ایک بہادر لیڈر !
- by web desk
- دسمبر 28, 2025
- 0 Comments
- Less than a minute
- 94 Views
- 5 مہینے ago

