کالم

رمضان کی ایک صدا

ربِ انی مغلوب فانتصِر۔ اے میرے رب! میں مغلوب ہوں، پس تو میری مدد فرما۔یہ الفاظ قرآن کی سورة قمر میں حضرت نوح کی زبان سے ادا ہوئے تھے۔ وہ وقت جب حق تنہا تھا اور باطل اپنے جبر اور طاقت کے گھمنڈ میں مست تھا۔ آج یہ دعا محض آیت نہیں بلکہ ایک احساسِ محرومی، استقامت اور ایمان کی علامت ہے۔ ایسے حالات میں جب انصاف کی آنکھ پر پٹی باندھ دی گئی ہو اور طاقت کے ایوان عوامی حق کو دبانے پر لگے ہوں، یہی دعا ہمارے دلوں کی ترجمانی کرتی ہے ۔ یکم رمضان کو میں دبئی کے ایک علاقے میں ایک حجام کی دکان پر گیا۔ وہاں مجھے سرائے عالمگیر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ملا، جو بظاہر ایک عام مزدور تھا اور اپنی محنت سے زندگی گزار رہا تھا۔ لیکن اس کے الفاظ نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ اس نے بتایا کہ وہ 8فروری کو ووٹ ڈالنے کیلئے ڈٹ کے کھڑا ہوا تھا وہ کسی سے نہیں ڈرتا، کسی کے دبا یا دھمکی کے سامنے نہیں جھکا اس کے الفاظ میں ایک عزم، ایک بے خوفی اور ایک غیر معمولی جرت تھی۔یہ منظر یاد دلاتا ہے کہ حقیقی طاقت کسی عہدے یا اقتدار میں نہیں بلکہ عوام کی سوچ، ان کے عزم اور ان کے ایمان میں ہے۔ایک مزدور، جسکے ہاتھ میں صرف کینچی اور کنگھی تھی، اپنے ووٹ کے حق کیلئے ڈٹا ہوا تھا، ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ جبر کے سامنے سر نہ جھکانا بھی ایمان ہے۔ یہ وہی کیفیت ہے جو حضرت نوح نے محسوس کی تھی اور آج بھی ہم اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہیں۔یہ دن یکم رمضان، ہمارے لئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ رمضان کا مہینہ صرف روزے رکھنے کا نہیں بلکہ دل و دماغ کو صاف کرنے، نیتوں کو درست کرنے اور دعاؤں کو آسمان تک پہنچانے کا مہینہ بھی ہے۔ آج میں اپنی دعاؤں میں ایک خاص دعا بھی شامل کر چکا ہوں: کہ میرے قائد کو صحت دے اور سب کو برباد کر دے۔ یہ دعا محض ذاتی نہیں بلکہ ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو حق کیلئے ڈٹے ہیں، جو استقامت دکھا رہے ہیں، اور جو جبر کے سامنے سر نہیں جھکاتے۔دبئی کے اس حجام کی دکان میں جو منظر دیکھا، وہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عوام کا عزم، ان کی جرات اور ان کی بیداری کسی جبر یا طاقت کے ایوان سے نہیں کچلی جا سکتی۔ آج بھی ہزاروں، لاکھوں لوگ اپنے گھروں میں، سڑکوں پر، سوشل میڈیا پر، اور محفلوں میں یہی سوچ رہے ہیں کہ آخر انصاف کب آئے گا؟ آخر کب وہ دن آئے گا جب ہر ووٹر کی آواز برابر سنی جائے گی؟
یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ کسی بھی سیاسی یا سماجی تحریک کی اصل طاقت اسکے کارکن اور عوام کی ہمت میں چھپی ہوتی ہے۔ اگر وہ ڈٹے رہیں، اپنے حق کیلئے پرعزم رہیں تو تحریک کبھی مر نہیں سکتی۔ اسی لیے یہ ضروری ہے کہ ہم صرف دعا نہ کریں بلکہ اپنے عمل سے بھی ثابت کریں کہ ہم حق پر ہیں، اخلاق اور اصول کی بنیاد پر کھڑے ہیں، اور کسی جبر کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ دبئی سعودی عرب اور پوری دنیا میں یہ مزدور اپنے گھر والوں سے دور کتنی محنت کرتے ہیں انہیں حکمرانوں کے تیار خریدنے پر کوئی اعتراض نہیں بس وہ اپنے لیے دو کی روٹی مانگتے ہیں اور وہ دو وقت کی روٹی ان ممالک نے ان کو مہیا کرتی ہے ان کی اصل ڈیمانڈ یہ ہے یہ ان کے گھر والے محفوظ رہیں امن رہے ہیں شانتی رہے۔رمضان کی روح ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ مظلوم کی فریاد کبھی ضائع نہیں جاتی۔ آج، اس یکم رمضان پر، ہم دعا کرتے ہیں کہ ہمارے دلوں کی سچائی کو پہچانا جائے، ظلم کا جبر ختم ہو، اور ہر فرد کو اپنے حق کیلئے کھڑا ہونے کی ہمت ملے۔ اس حجام نے اپنی جرات سے یہ واضح کیا کہ سچائی اور ہمت کی کوئی قیمت نہیں، اور کوئی طاقت اسے دبانے کی استطاعت نہیں رکھتی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف جذبات اور دعاؤں سے کام نہیں چلتا۔ ہمیں نظم و ضبط، حکمت اور صبر کے ساتھ اپنے حق کیلئے جدوجہد کرنی ہوگی۔ نفرت اور انتشار کبھی بھی حق کو سرخرو نہیں کرتے۔ اگر واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہر فرد کو ذمہ داری کے ساتھ اپنی آواز بلند کرنی ہوگی، اپنے کردار سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اخلاقی برتری رکھتا ہے۔ ریاست صرف حکومت کا نام نہیں، بلکہ ہر شہری کا حق ہے۔ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، غداری نہیں لیکن اختلاف کے ساتھ ذمہ داری اور قانون کی پاسداری ضروری ہے۔ دبئی کے اس چھوٹے مزدور نے ہمیں یہ سکھایا کہ کسی خوف، دھمکی یا دبا کے بغیر بھی ہم اپنے حق کے لیے کھڑے ہو سکتے ہیں۔رمضان المبارک ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی مدد ہر مظلوم کے ساتھ ہے۔ جیسے آج میں نے اپنی دعاؤں میں اپنے قائد کے لیے صحت کی دعا کی اور دشمنوں کیلئے تباہی کی التجا کی، یہ ایک اظہارِ یقین ہے کہ حق اور استقامت کی حمایت آسمان سے بھی ہو سکتی ہے۔ یہ دعا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مظلوم کبھی تنہا نہیں ہوتا، اور انصاف دیر سے آتا ہے مگر کبھی نہیں چھوٹتا۔یہ کالم اس حقیقت کا عکاس ہے کہ ایک مزدور، ایک ووٹر، ایک عام شہری ہر وہ شخص جو حق کے لیے ڈٹا ہے، اسی کیفیت کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھ سکتا ہے جو حضرت نوح نے دکھائی تھی۔ طاقتور اور جابر عارضی ہوتے ہیں، مگر عوام کی آواز مستقل اور مضبوط رہتی ہے۔آج یکم رمضان کے اس دن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری استقامت، ہماری دعا اور ہمارا ایمان ہی ہمیں آگے لے جائے گا۔ چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، چاہے طاقت کے ایوان کتنے ہی دبا ڈالیں، مگر عوامی عزم اور بیداری کبھی مٹائی نہیں جا سکتی۔آخر میں وہی دعا دہراتا ہوں:ربِ اِنِی مغلوب فانتصِر۔یہ صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی صدا ہے، ایک کیفیت کی علامت ہے، امید کی آخری کرن ہے اور اسی کرن کے ذریعے اندھیروں کو چیر کر روشنی کا راستہ پیدا ہوتا ہے ۔ آج دبئی کے اس چھوٹے حجام نے اور آج کی میری دعائیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ استقامت، ایمان، اور حق پر ڈٹے رہنے کی ہمت ہی حقیقی طاقت ہے، اور یہی وہ کرن ہے جو ہر ظلم، ہر جبر اور ہر منفی طاقت کو شکست دے سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے