شہزاد سلیم سرخرو ہو گئے

3,398

تحریر
ایس کے نیازی

چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس گلزار احمد خان صاحب کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ڈی جی نیب لاہور برادرم شہزاد سلیم کی ڈگری کے خلاف دائر درخواست سماعت کے بعد خارج کر دی ہے۔ شہزاد سلیم بالآخر سرخرو ہوئے اور ملک کی سب سے بڑی عدالت کے قابل ترین چیف جسٹس کی سربراہی میں بننے والے بنچ سے سرخرو ہوئے۔ اب نہ الزام کی گنجائش ہے نہ کسی اگر مگر کا کوئی امکان۔ سپریم کورٹ سے سرخرو شہزاد سلیم اب وقت کی عدالت میں بھی سرخرو ہیں۔
شہزاد سلیم میرے دوست ہیں۔ میرے ان سے کچھ شکوے بھی ہیں مگران سے دیرینہ تعلق ہے۔ ان پر الزام لگا تو میں نے اپنے ٹی وی چینل روز نیوز پر اپنے پروگرام سچی بات میں ان کا خصوصی انٹرویو کیا۔یہ ان کا پہلا انٹرویو تھا۔میں جانتا تھا وہ ایک دیانتدار آدمی ہیں اور انہیں اس جھوٹے کیس میں الجھایا گیا ہے۔ اس لیے اس کیس سے بری ہونے کے بعد میں خوش بھی ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ جناب عزت مآب چیف جسٹس گلزار احمد خان نے ایک دیانت دار افسر کے دامن پر لگا دھبہ صاف کر دیا۔ جسٹس گلزار احمد خان بہت قابل اور ایماندار جج ہیں اور یہ گواہی میں اس لیے نہیں دے رہا کہ ان سے میری قرابت داری ہے بلکہ یہ گواہی میں ان کے کردار اور اہلیت کی بنیاد پر دے ر ہا ہوں اور جو لوگ قانون کی دنیا سے وابستہ ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں جناب چیف جسٹس آف پاکستان کی اہلیت اور قابلیت اور دیانت داری غیر معمولی اور مثالی ہے۔
شہزاد سلیم صاحب قانون اور وقت کی عدالت میں سرخرو ہو گئے ۔میں انہیں مبارک دیتا ہوں اور دل کی گہرائیوں سے ان کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں۔لیکن میرا خیال ہے وہ خود تو قانون اور وقت کی عدالت میں سرخرو ہو گئے لیکن ہمیں ، اس ملک کو ، اس معاشرے کو ، اور اس کے سوچنے سمجھنے والے طبقات کو ضمیر کی عدالت میں کھڑاا کر گئے ہیں اور اس عمل نے ایسے سوالات چھوڑ دیے ہیں جن پر ہمیں بطور قوم غور کرنے کی ضرورت ہے۔میں یہ سوالات اس قوم ، اس کی پارلیمان اور اس کے سنجیدہ فکر افراد کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
1.۔ شہزاد سلیم صاحب کی یہ کردار کشی کیوں ہوئی؟ کیا اس کی وجہ یہی نہیں کہ ایک دیانت دار افسر نے کسی دبائو کے آگے جھکنے سے انکار کیا ہو گا؟ تو کیا یہ باقی تمام افسران کے لیے ایک پیغام نہیں ہے کہ اگر کسی نے اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرنے کی کوشش کی تو اس کا دامن جھوٹے الزامات سے داغدار کر دیا جائے گا؟
2۔ دیانت دار ہونا ایک بات ہے اور عدالتوں کی کارروائی سامنا رکھنے کی ہمت کرنا ایک دوسری بات ہے۔ کیا اس واقعے کے بعد دیگر افسران کے مورال پر اثر نہیں پڑے گا؟ ہر افسر تو شہزاد سلیم جیسا حوصلہ مند نہیں ہو گا۔ کچھ ایسے بھی ہوں گے جو سوچیں گے کہ الزام لگے گا ، عزت اچھلے گی اور پھر ایک طویل قانونی کارروائی شروع ہو جائے گی جو سالوں چلے گی تو اتنے مسائل سے الجھنے کی مجھے کیا ضرورت ہے؟ اس سوچ سے افسران کے رویوں میں ایک خاص سوچ جنم لے گی۔ کیا حکومت اور متعلقہ اداروں کو اپنے افسران کی نفسیاتی کیفیت کا کچھ علم ہے اور وہ اس چیلنج سے نبٹنے کا کوئی منصوبہ رکھتے ہیں؟
3۔ ایک افسر پر الزام لگتا ہے۔ اس کی پگڑی اچھلتی ہے۔ اس کا میڈیا ٹرائل ہوتا ہے۔ اس کی تضحیک کی جاتی ہے۔ یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ افسر کے لیے بھی اور اس کے اہل خانہ کے لیے بھی۔ اس کے بیوی بچے بھی ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے انہیں بھی یہ جعلی ڈگری کا طعنہ سننا پڑا ہو تو کیا اس کا اب کوئی ازالہ بھی ہو گا یا متعلقہ افسر کا بری ہو جانا ہی کافی سمجھا جائے گا؟ جنہوں نے اس افسر کی کردار کشی کی کیا وہ اس شدت سے معافی مانگیں گے جس شدت سے انہوں نے جھوٹا الزام اچھالا تھا؟ کیا ازالہ حیثیت عرفی کی کوئی صورت موجود ہے؟ ایسی صورت جو واقعی ازالہ کر سکے؟
4۔ شہزاد سلیم صاحب پر الزام لگا اس دوران ان کی ترقی بھی متاثر ہوئی۔ اس محکمہ جاتی نقصان کے ازالے کی کیا صورت ہے؟ کیا اس پر کوئی غور کرے گا؟
5۔ انسان کا ایک مادی وجود ہوتا ہے ایک روحانی وجود ہوتا ہے۔ جھوٹے الزام سے کسی کی کردار کشی کی جائے تو اس کی روح بھی گھائل ہوتی ہے۔اس کے مداوے کی کیا صورت ہے؟
یہ پانچ سوال بہت اہم سوالات ہیں۔ ان پر توجہ دی جانی چاہیے۔ افسران سے اگر ہم دیانت داری سے کام کروانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے جائز معاملات کا دفاع کرنا ہو گا۔ اگر افسران کو اسی طرح بے آسرا چھوڑ دیا گیا کہ جو جی چاہے ان پر دبائو ڈالے ، ان کی کردار کشی کرے ، ان کی عزت اچھالے اور سب الزام جھوٹ ثابت ہو جانے پر بھی نہ کوئی شرمندہ ہو ، نہ کوئی معافی مانگے ، نہ کسی کو ندامت ہو تو پھریاد رکھیے کہ ہر افسر اتنے آہنی اعصاب کا مالک نہیں ہوتا کہ شہزاد سلیم کی طرح ڈٹ کر کھڑا ہو جائے۔
آپ کا فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔شہزاد سلیم خود تو ڈٹے رہے لیکن ہم سب کو کٹہرے میں کھڑا کر گئے۔