کالم

قانونی پیچیدکیوں سے جان چھڑانا ہو گی

ہمارے ہاں کا ضابطہ دیوانی 1908 مشکل ترین، مبہم، ناقابل فہم اور تقریبا ایک سو بیس سالہ پرانا چوں چوں کا مربہ ہے۔ زمانے کیساتھ ساتھ اسمیں ترامیم ضرور ہوئیں لیکن کچھ خاص کارگر ثابت نہ ہوئیں۔ عشرے بیت جاتے ہیں ہماری عدالتوں کو کسی ایک نقطے کی تشریح پر اور اگر فرض کریں پچاس ساٹھ سال کی طویل مقدمہ بازی کے بعد ہائی کورٹ کسی ایک خاص نقطے پر پچھلے تمام فیصلوں کو مدنظر رکھنے کے بعد پہنچ ہی جاتی ہے تو پھر فوراً اگلے مرحلے میں عدالت عظمیٰ اکثر ابتدائی دلائل کے بعد عموماً CPLA کی منظوری کے وقت ھائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیتی ہے اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ آخری فیصلہ معزز سپریم کورٹ پچھلے تمام فیصلوں بشمول ھائی کورٹ کو رد کر کے ابتدائی سول جج کے فیصلے کو ہی بحال کر دیتی ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ابتدائی سول کورٹ کے فیصلے اور سپریم کورٹ کے آخری فیصلہ کے دوران کم از کم ایک نسل تو تبدیل ہو چکی ہوتی ہے، بعض اوقات جس فریق کو فوری اور سستا انصاف ملنا چاہئے تھا وہ تو اگلے جہان کو منتقل ہو چکا ہوتا ہے اور حصول انصاف میں اسکے خاندان میں کئی تغیر و تبدل رونما ہو چکے ہوتے ہیں۔ بات صرف فوری اور سستے انصاف کی نہیں بات یہاں قانونی پیچیدگیوں اور بے تحاشہ پروسیجرل مشکلات کی بھی ہے۔ جنہیں عبور کرتے کرتے کئی سال بیت جاتے ہیں۔ چلیں پہلے سی پی سی کے ایک صد اٹھاون سیکشنز کو ہی دیکھ لیں، ماشااللہ ہر ایک سیکشن سے چار چار درخواستیں پیدا ہو رہی ہیں جو اصل مقدمے کے فیصلے میں ہمیشہ کانٹوں بھرے راستے کا کردار ادا کرتی ہیں۔ ان ڈیڑھ سو سے زائد سیکشنز کو صرف پچاس پچپن یا اس سے بھی کم تک لایا جا سکتا۔ پھر شروع ہوتے ہیں آرڈر ون سے آرڈر پچاس تک اور ساتھ درجنوں رولز کے جو دماغ کا دہی بنا دیتے ہیں۔ ایک ایسا آرڈر بھی ہے جس کے سو سے زیادہ رولز ہیں۔ سیکشنز تو سیکشنز ایک ماہر وکیل ان رولز اینڈ آرڈرز کی تشریح کرتے کرتے چکرا جاتا ہے۔ چکرا تو معزز عدالتیں بھی جاتی ہیں کیونکہ جب ان کے آرڈرز کو آگے اپیل کورٹس میں چیلنج کیا جاتا ہے تومیمورینڈم آف اپیل یا نگرانی میں صاف لکھا جاتا ہے کہ عدالت ماتحت کا فیصلہ خلاف قانون، خلاف حقائق، غلط، مفروضوں پر مبنی اور ماضی میں تو بیوقوفانہ تک کہا جاتا تھا (foolish and perverse) اور پھر ساتھ مزید ایک شیڈول دوسرا شیڈول اور شیڈول پر شیڈول۔ انگریز بہادر نے قانون تو کمال کا بنایا لیکن ایسی ایسی بھول بھلیاں، ایسے ایسے گورکھ دھندے اور مشکل ضابطے رکھے کہ حصول انصاف کو جوئے شیر لانے کے برابر کر دیا۔ لاکھوں کروڑوں لوگ تو اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر عدالتوں کا رخ ہی نہیں کرتے کیونکہ نتیجہ انہیں پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انصاف لیتے لیتے رل جائیں گے۔ اکثر فیصلے پلیڈنگ کی غلطیوں کی وجہ سے سائل کے خلاف چلے جاتے ہیں، اسمیں اس بے چارے سائل کا کیا قصور ہے جس نے فیسیں ادا کیں، عدالتوں کے دھکے کھائے اور کئی سالوں بعد ٹیکنیکلی ناک آؤٹ کر کے اسکا دعویٰ جو اسکی غلطی نہیں کسی اور کی غفلت تھی معہ خرچہ خارج ہو جاتا ہے۔ بہت معذرت کے ساتھ، کچھ کام جو صرف عدالت کو دعوی دائری کے پہلے روز کرنا ہوتا ہے، کورٹ فیس یا اس دعوی کے قابل پیش رفت ہونیکے، سال دو سال بعد اسی گرانڈ پر دعوی خارج کر دیا جاتا ہے کہ یہ قابل پیش رفت نہ تھا۔ میرے ایک بڑے مخلص دوست بتاتے تھے کہ انہیں انکے والد کہا کرتے تھے کہ بیٹا کبھی مدعی نہ بننا یہ بڑی گہری بات ہے، وہ بزرگوار انہیں کوئی بزدلی کا سبق نہیں دیتے تھے، حق کے لیئے لڑنا تو پڑتا ہے لیکن اسمیں زمانے کی چھپی تلخ حقیقتیں بھی نظر آتی ہے، انکے تلخ تجربات جو وہ اب اپنی اولاد کو صبر کا درس دیتے اور مستقبل کی پیچیدگیوں سے بچا کا بھی موثر علاج بتا گئے۔ ایک سابق مشہور زمانہ چیف جسٹس آف پاکستان کی زبانی سننے کا موقع ملا کہ قانون کے کسی بھی سیکشن کو جتنی دفعہ انہوں نے پڑھا ہر بار ایک نئی تشریح سمجھ آئی قارئین کرام! یہ قانون کی اچھائی نہیں یہ اسکی بہت بڑی خامی ہے۔ ہم ایک اسلامی ملک ہیں، ہمارا ضابطہ حیات قرآن ہے۔ جس سے ہر طرح کی رہنمائی لی جا سکتی ہے، اسی سے اقلیتوں کے حقوق بھی حاصل ہوتے ہیں، لہذا وقت کا تقاضہ ہے کہ سب سے پہلے اس ضابطہ دیوانی میں ایسی بے رحمانہ بغیر کسی خوف ڈر کے فوری ترامیم کی جائیں جس سے یہ ایک ضغیم بھاری بھر کم کتاب اور وہ بھی مختلف والیومز سے محض ایک ہینڈ بک کی شکل اختیار کر جائے۔ اسمیں صرف مدعی اور مدعا علیہ کا تصور ہو، ضروری ،غیر ضروری پارٹی، دعوی، جواب دعویٰ کے غیر ضروری لوازمات اور پیچیدگیوں کو سرے سے ختم کرنا ہو گا ۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ عدالت بخوبی سمجھ رہی ہوتی ہے کہ اسکے سامنے کھڑا ایک فریق/ سائل پورے حق پر ہے لیکن اسکو انصاف اسلئے نہیں ملتا کہ وہ انصاف لینے کے واسطے عدالت میں تاخیر سے آیا تھا۔ حصول انصاف کی راہ میں سب سے بڑی پیچیدگی قانون معیاد بھی ہے جسے بالکل ختم کر دینا چاہئے۔ ہر دعوے دار کو زندگی میں ایک موقع ایک حق دعویٰ اور صرف ایک اپیل کا ملنا چاہئے چاہے وہ سو سال بعد ہی آئے اور مکمل شنوائی ہو نہ کہ ٹیکنیکل ناک آؤٹ۔ عدالتیں ان خاص حالات میں قانون کے مطابق نہیں بلکہ صرف انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرنیکی مکمل مجاز ہوں۔ اور جو سب سے اہم کام کرنے والا ہے وہ Alternative Dispute Resolution کو ہر حال میں مضبوط کرنا ہے اور جو کیا بھی جا رہا ہے، الگ سے عدالتیں بھی مقرر ہیں لیکن صرف نام کی حد تک۔ ایسے لگتا ہے جیسے جان چھڑانے کا کوئی موقع ملے اور کیس واپس بیجھا جائے۔ اسمیں تمام وکلا کو اسکا پابند کیا جائے کہ وہ فریقین کی مفاہمت میں اپنا فعال کردار ادا کریں ۔ وکلا حضرات فریقین کو سمجھا سکتے ہیں اور اکثریت عوام کی اچھے وکلا کی بات کو ایک اچھی لیگل ایڈوائیس کے طور پر لیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے لائیسنس کے وقت مفاہمت میں اس وکیل کے کردار کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دی جائے بجائے گھسے پٹے سوالات اور پسند ناپسند کے۔ جتنے زیادہ فیصلے مفاہمت کے وکلا کروائیں گے اتنے زیادہ نمبر اور اہلیت۔آخیر میں مجھے میرے ایک محترم سیشن جج صاحب نے ایک مختصر واقعہ سنایا۔سیشن جج مرحوم نظامی صاحب جو ایک درویش صفت جج تھے جب وہ شریعہ کورس کرنے مختلف اسلامی ممالک گئے تو وہ ایک شام مدینہ کے چیف جسٹس کے ہاں چائے پر مدعو تھے۔ دروازے پر گھنٹی بجی تو چیف جسٹس خود باہر گئے اور واپس جب آئے تو انکے ہاتھ میں ایک سفید کاغذ پر لکھی درخواست تھی۔ پوچھنے پر انہوں نے کہا یہ اپیل ہے، سائل دے گیا ہے، کل کی سماعت کا اسے بتا دیا ہے اور یہ اپیل کل فکس ہو جائیگی۔ نظامی صاحب نے بتایا کہ ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہ گئے، کوئی دفتری اوقات کا مسئلہ، رجسٹری برانچ جہاں کوئی ڈائری نمبر لگتا ہے، ابجیکشن فارم۔ماشااللہ ہماری پنڈی اسلام آباد کی دائری برانچ نے تین درجن کے قریب ابجیکشنز و الا پروفارما پہلے سے تیار رکھا ہوتا ہے،کوئی کورٹ فیس نہ ہی پانچ والا دس والا ٹکٹ،پیلا فائل کور نیلا فائل کور، بس سائل آیا،،اپیل پکڑائی اور اگلے دن وہ لگ بھی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے