کالم

مجرموںکو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے

اسلام کے پانچ اراکین ہیں اور چھٹا "روٹی” ہے۔اگر یہ چھٹا نہ ملے تو یہ پانچ بھی ختم ہو جاتے ہیں۔جنوبی ایشیا کے ممالک میں شامل پاکستان ، بنگلہ دیش ، افغانستان ، بھوٹان ، بھارت اور مالدیپ کی ایک تہائی آبادی بھوک کا شکار ہے عالمی معاشی بحران حکمرانوں کے حاصل کردہ قرضوں اور کرپشن سے اس خطے میں غربت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ حکمرانوں کے کاروبار میں دن بدن بے شمار اضافہ ہو رہا ہے ہر شہری کی زبان پر حکمرانوں کی کرپشن کی داستانیں سنائی دیتی ہیں غریب آدمی کا بچہ بھوک اور غربت کی وجہ سے مررہا ہے۔ موجودہ حکمران ملک کو تباہی کے دہانے پر لے جاچکے ہیں ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی غربت اور بےروزگاری کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے حکمران جھوٹے وعدے کرکے عوام کو بے وقوف بنانے پر تلے ہوئے ہیں پورا ملک مہنگائی کے عذاب سے دوچار ہے مگر حکمران اب بھی عوام کو سبز باغ دکھانے سے باز نہیں آرہے ۔ عوام سے جھوٹے وعدے کرکے مکر جانا موجودہ حکمرانوں کا وطیرہ ہے۔قوم سے جھوٹے وعدے کرکے ووٹ لینے والے اقتدار میں رہنے کےلئے نئے نئے حربے استعمال کر رہے ہیں۔ جمہوریت کے گیت گاکر ذہنی عیاشی کرناہمارا قومی مزاج بن چکا ہے کہ محض بیان بازی میں ہم سب سے آگے ہیں بڑے بڑے ہوٹلوں مختلف انواع واقسام کے کھانے کیمرے کے سامنے سجاکر ہم ملک میں غذائی بحران کا رونا روتے ہیں عالی شان بنگلوں کے ائیر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر ہم عوام کی غربت کے گیت گاتے ہیں اور نئی گاڑیوں کا دھواں اڑا کر عوام کے آنکھوں میں دھول ڈالتے ہوئے ہم ملک میں توانائی کے بحران کا ذکر زور وشور سے کرتے ہیں بین الاقوامی سطح کے سیمینارز میںیہ فلسفہ جھاڑتے ہیں کہ ملک عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا مگر ملک کو غیر مستحکم کرنے کا ذمہ دار بھی ہم ہی ہوتے ہیں برصغیر کا دیوالیہ ایک کمپنی نے نکال دیا اور آج سینکڑوں کمپنیاں قوموں کو نگل رہی ہیں قوم کا دیوالیہ نکلتا ہے اور کمپنیوں کے مالکان کی توندیں باہر نکلتی ہیں اور ان کی گردنیں موٹی ہوتی جاتی ہیں ۔ اقوام کے وسائل لوٹ کر ان کو بھوکا مارنے کا پروگرام ملٹی نیشنل کمپنیوںکے پاس ہے اور مقامی ملوں اورکمپنیوں کے مالکان ان کے طفل بچے ہیں جو کبھی آٹے کا بحران پیدا کرتے ہیں اور کبھی چینی اور کبھی سیمنٹ کا اور سب سے بڑا سامراج بیگناہ انسانوں پر ہزاروں منوں کے حساب سے بارود پھینک کر ان کے وسائل اور منڈیوں پر قبضہ کر تا ہے اور ان پر خون کے بادل برساتا ہے جس کے نتیجے میں خون کی ندیاں بہتی ہیں، شہر اجڑتے ہیں اور ملک تباہ ہوتے ہیں سرمایہ دارانہ نظام کا چمپئن امریکہ ہے اور یہ دنیا میں امن کا بھی علمبردار ہے اور اپنا شمار انسانیت کے رکھوالوں میں کرتاہے اسے یہ غم کھایا جارہا تھا کہ عراق میں ڈیڑھ سو کے قریب عراقی عوام کو قتل کیا گیا ہے اور اس غم کو ہلکا کرنے کیلئے اس نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد عراقیوں کو خون میں نہلادیا اور اس سوال کا جواب کوئی نہیں دیتا ہے کہ اٹھارہ لاکھ سے ذائد افغانیوں کو جہاد کے نام پر قتل کرواکر کونسا امن قائم کیا گیا؟۔امریکہ موت کا سوداگر ہے او اسکی کی معیشت کا دارومدار اسلحہ کی فروخت پر ہے دنیا میں اگر امن ہوگا اور دوممالک آپس میں لڑینگے نہیں تو وہ کھائےگا کیا؟ یہی وجہ ہے کہ وہ قوموں کو لڑاتا ہے اور انسانیت کو تقسیم کر کہ شکار کرتا ہے اور جو اسکے راستہ میں رکاوٹ بنتا ہے تو اسکو تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے صدام حسین کا جرم یہ تھا کہ اس نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ ©©©©©©©© ” عرب کا تیل عربوں کیلئے ہے“ اسی لیئے اسے سولی پر چڑھادیاگیا دنیا میں جنگ اور خانہ جنگی کی فضا امریکہ اور اسکے حواری ممالک مزاحمتی تحریکوں کو شکست دینے میں مصروف ہیں اس کی کوشش ہے کہ بحر ہند کو اسٹریٹجک تنازعات کا سٹیج اور ایشیا پر بالادستی کیئے لانچنگ پیڈبنادیا جائے اور اس مقصدکیلئے اس نے انتہاپسندوں اور دہشت گردوں جدید اسلحہ سے مسلح کیا ہے اور مقدس عنوانات کے تحت وہ سامراجی عزائم کو پورہ کرنے کیلئے قومی املاک کو تباہ کرتے ہیں اور دینی تشحص کو پامال کرتے ہیں اور قومی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں ۔ سوچنے کا مقام ہے کہ یہ عناصر قومی فورسز کو نشانہ کیوںبناتے ہیں ؟ اور ملک میں بڑے منصوبوں پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کو اغوا کر کے قتل کیا جاتا ہے ؟کیا کبھی انہوںنے سامراجی مفادات کو بھی نقصان پہنچایاہے؟کڑوا سچ یہ ہے کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے لبادے میں سامراجی کھیل کھیلا جارہا ہے اور سامراج چند مفاد پرستوں کو نوازتا ہے جن کاطرز حیات عوام کے ساتھ میل نہیں کھاتا ہے اور عوام بےچارے ”ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات“کا نمونہ بنتے چلے جاتے ہیں زرعی ملک ہونے کے باوجود ستر فیصد زمینیں بنجر ہیں اور جو تھوڑا بہت حصہ کاشت ہورہا ہے اس کا طریقہ کار بھی غیر سائنسی ہے اور تسلط اس پر سرمایہ دار اور جاگیردار کا ہے اور عوام اسکے ثمرات سے دور ہیں جسکے نتیجے میں غربت، مہنگائی اور بھوک کو فروغ مل رہا ہے ایک عام آدمی کے خیال میں اس کا واحد حل یہ ہے کہ تمام ملوں اور کارخانوں کو قومی تحویل میں لیا جائے اور ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کر کے غریب عوام کی کمائی پر ہاتھ صاف کرنے والے مجرموںکو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے