لاہور۔ (اے پی پی):مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے بغیر تقسیمِ ہند کا ایجنڈا نا مکمل ہے،مسئلہ کشمیر پر پوری پاکستانی قوم متحد ہے ، بھارت مظالم،جبر اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو دبا نہیں سکتا، مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جانا چاہیے،انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم رکوانے کیلئے اپنا موثر کردار ادا کریں،ڈیجیٹل میڈیا اور جدید ذرائع کے ذریعے بھارتی پراپیگنڈے کا بھرپور اور موثر جواب دیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے بدھ کے روز پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ(پی آئی ڈی) لاہور کے زیرِ اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پرکشمیر تنازع: دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان علاقائی استحکام کے چیلنجزکے موضوع پر منعقدہ راونڈ ٹیبل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی لاہور شفقت عباس نے میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔راونڈ ٹیبل ڈسکشن میں نامور صحافیوں، تجزیہ کاروں، ماہرین اور دانشوروں نے شرکت کی،جن میں مجیب الرحمن شامی،سلمان غنی، نجم ولی خان،ملک سلمان،طارق غوری،نوراللہ، سجاد پرویز، ڈاکٹر فوزیہ ہادی علی،ڈاکٹر ارشا سلیم میر،ملک شکیل اور دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔مقررین نے مسئلہ کشمیر، علاقائی امن و سلامتی اور جنوبی ایشیا پر اس کے اثرات پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔معروف صحافی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ پاکستان کی مستقل،اصولی اور سفارتی جدوجہد کے باعث مسئلہ کشمیر آج بھی عالمی سطح پر زندہ ہے۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد بھارت پر پاکستان کا دبائو برقرار ہے اور پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت کا لوہا منوا لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 5 فروری ہمیں نئے عزم اور نئی جدوجہد کی دعوت دیتا ہے اور وہ دن ضرور آئے گا جب مسئلہ کشمیر حل ہو گا۔انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے وزارتِ امورِ کشمیر،پارلیمانی کشمیر کمیٹی اور حکومتِ آزاد کشمیر کو مزید متحرک اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں،روس یوکرین جنگ اس کی واضح مثال ہے،جہاں ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں مگر مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔ پاکستان کبھی جنگ کی بات نہیں کرتا،تاہم اگر جنگ مسلط کی جائے تو اپنا دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد اس وقت کے بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی کو لاہور آنا پڑا اور بھارت کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔پاکستان مذاکرات کا حامی ہے،لیکن دفاعی تیاری بھی ناگزیر ہے۔سینئر صحافی و تجزیہ کار سلمان غنی نے کہا کہ پاکستان دفاعی اعتبار سے خود انحصاری کی منزل حاصل کر چکا ہے،اب وقت آ گیا ہے کہ معاشی خود انحصاری کی جانب تیزی سے پیش رفت کی جائے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے بغیر تقسیمِ ہند کا ایجنڈا ادھورا ہے۔مسئلہ کشمیر پر پوری قوم متحد ہے اور سول و ملٹری قیادت میں کوئی ابہام نہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں تحریکِ آزادی کو دبانے کیلئے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے،مگر کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو کچلنے میں ناکام رہا۔کشمیریوں نے اپنی بے مثال قربانیوں سے اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور شفقت عباس نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں موقع ملے گا،پاکستان اس اہم مسئلے کو پوری دنیا میں اجاگر کرتا رہے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل میڈیا اور جدید مواصلاتی ذرائع کے ذریعے بھارتی پراپیگنڈے کا موثر اور مدلل جواب دیا جائے گا۔بھارت طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو دبا نہیں سکتا اور اسے بالآخر مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا۔سینئر صحافی نجم ولی خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پوری قوم متحد ہے۔پاکستان نے سیاسی، فکری اور سفارتی سطح پر اس مسئلے کو زندہ رکھا ہوا ہے اور یہ مسئلہ اپنی منطقی انجام کی جانب بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہا ہے،یہ حقیقت پاکستان نے واضح کر دی ہے کہ بھارت جنگ نہیں جیت سکتا۔یوتھ فورم فار کشمیر کے نمائندے طارق غوری نے کہا کہ پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے،اس رشتے کو کوئی طاقت توڑ نہیں سکتی۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر م…
پاکستان
مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے بغیر تقسیمِ ہند کا ایجنڈا نا مکمل،ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے بھارتی پراپیگنڈے کا بھرپور اور موثر جواب دیا جائے گا،مقررین
- by Daily Pakistan
- فروری 5, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 106 Views
- 6 دن ago

