کالم

نظام کی بربادی اور عوام کی بے بسی !

پاکستان کی سیاست ایک ایسا بند گلی بن چکی ہے جہاں ہر دروازہ اقتدار کے لیے کھلتا ہے، مگر عوام کے لیے کوئی راستہ نہیں نکلتا۔ ملک پر وہی پرانے چہرے، وہی پرانے نعرے، اور وہی پرانے دعوے مسلط ہیں، لیکن حقیقت میں حالات مزید بدتر ہو رہے ہیں۔ جمہوریت کے نام پر جو کھیل ہو رہا ہے، وہ کسی سیاسی سرکس سے کم نہیں۔ عوام کا مینڈیٹ کب کا روندہ جا چکا، پارلیمنٹ بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے، عدلیہ پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں، اور ادارے ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہیں۔ملک کی معیشت قرضوں کی زنجیروں میں جکڑی جا چکی ہے، اور اس پر دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ ”ہم نے حالات بہتر کر دیے ہیں۔” حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی کے لیے دال روٹی کا حصول ایک چیلنج بن چکا ہے۔ بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ مگر اقتدار میں بیٹھے لوگ اب بھی دعووں اور وعدوں کے سہارے عوام کو بہلانے میں مصروف ہیں۔ملک میں قانون سازی عوام کے مفاد کے بجائے مخصوص طبقات کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی جاتی ہے۔ جو بھی حق اور سچ کی آواز بلند کرتا ہے، اسے خاموش کرانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ عدلیہ جو کبھی انصاف کی علامت تھی، آج ”فیصلے” کرنے کے بجائے ”اشارے” دیکھنے پر مجبور ہے۔ انصاف کا یہ عالم ہے کہ طاقتور دنوں میں رہا ہو جاتا ہے اور کمزور سالوں تک اپنی باری کا انتظار کرتا ہے۔ مہنگا انصاف صرف ان کے لیے ہے جو اسے خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں، جبکہ عام آدمی کے لیے عدالتوں کے دروازے بند نظر آتے ہیں۔فرقہ واریت کی آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی۔ سیاست، مساجد، تعلیمی ادارے، اور سوشل میڈیا سب اس زہر سے بھر چکے ہیں۔ دہشت گردی کبھی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ ہر کچھ عرصے بعد کوئی سانحہ ہوتا ہے، مذمتی بیانات دیے جاتے ہیں، مگر پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے، گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو۔تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے لاوارث ہو چکے ہیں۔ سرکاری اسکول اور اسپتال بدحالی کی تصویر پیش کر رہے ہیں۔ نجی تعلیمی ادارے فیسوں کے نام پر لوٹ مار کر رہے ہیں اور اسپتالوں میں علاج اتنا مہنگا ہو چکا ہے کہ غریب آدمی دوا لینے کے بجائے بیماری کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتا ہے۔میڈیا جو کبھی جمہوریت کا چوتھا ستون تھا، اب طاقتور حلقوں کا آلہ کار بن چکا ہے۔ آزادی ااظہار پر قدغنیں لگ چکی ہیں، اور جو اختلاف کی جرات کرے، اسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آزاد صحافت اب ماضی کی داستان بنتی جا رہی ہے، اور عوام صرف وہی سننے پر مجبور ہیں جو دکھایا جاتا ہے۔پڑوسی ممالک پر بھی ہم کبھی اعتماد نہیں کر سکے۔ کبھی امن مذاکرات، کبھی جنگی بیانات، کبھی تجارتی معاہدے، تو کبھی سرحدوں پر کشیدگی—یہ سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہماری اپنی داخلی کمزوریاں ہمیں زیادہ نقصان پہنچا رہی ہیں یا بیرونی دشمن؟ جو ملک اندر سے کمزور ہو، اسے باہر سے کمزور کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔یہ تمام مسائل پاکستان کےلئے نئے نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ یہ کب تک چلتا رہے گا؟ عوام کب تک صرف تقریروں، وعدوں اور دعووں سے بہلائے جاتے رہیںگے؟ کیا پاکستان واقعی ایک خودمختار ملک ہے یا یہ چند مخصوص قوتوں کے تجربہ گاہ میں تبدیل ہو چکا ہے؟”یہاں انصاف وہی ہے جو طاقتور کو راس آئے، سیاست وہی ہے جو چند خاندانوں میں گھومے، اور ترقی وہی ہے جو صرف فائلوں میں نظر آئے۔”پاکستان کو اگر واقعی ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے تو ان مسائل پر صرف باتیں کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب یہ ملک ایک ایسی کہانی بن جائے گا جسے دنیا ”عبرت” کے نام سے یاد کریگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے