.پی ایس ایل۔۔۔۔ آپریشن رد الفساد کا ثمر ہے تحریر۔سردار خان نیازی

205
sk niazi
سردار خان نیازی

حلقہ احباب

پی ایس ایل اپنے عروج پر ہے۔ کھیل کے میدان پھر سے آباد ہو رہے ہیں، روٹھی خوشیاں لوٹ آئی ہیں، گلی کوچوں میں گہما گہمی ہے اور پہلی مرتبہ پی ایس ایل کے سارے میچز پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ کہنے کو یہ کرکٹ ہے لیکن یہ صرف کرکٹ نہیں ہے۔ یہ روشن، مستحکم اور خوشحال پاکستان کا ابتدائیہ ہے۔ مجھے اس موقع پر اللہ کا شکر ادا کرنا ہے۔ میں اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے افواج پاکستان کی قربانیوں کے طفیل ہمیں یہ دن دکھائے کہ آپریشن رد الفساد کامیاب ہوا اور فساد کی جگہ اب امن نے لے لی۔

متعلقہ خبریں

سرامک اور شیشے سے بنا ہواوے کا سات کیمرے والا فون

امریکا کی وجہ سے ہی جوہری ہتھیار بنانے پڑ رہے ہیں، شمالی…

یہ جو زندگی کی رونقیں ہمیں لوٹتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے اور ایک صبح روشن ہم پر طلوع ہو چکی ہے،اس سویرے میں غازیوں کے جذبے اور شہیدوں کا لہو جگمگا رہا ہے۔مجھے وہ دن یاد ہے جب آپریشن رد الفساد شروع ہوا تھا۔ سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا ہر پاکستانی آپریشن رد الفساد کا سپاہی ہے اور پھر قوم کے ہر فرد نے ایسا کر کے دکھایا۔ قوم اپنی افواج کی پشت پر ڈٹ کر کھڑی ہو گئی اور بہادر افواج نے جانوں کے نذرانے پیش کر کے اپنی قوم کو امن کی دولت لوٹا دی۔یہ دولت آسانی سے نہیں ملی۔ بہت سے بانکے سجیلے جوان تہہ خاک چلے گئے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے، لہو جو ہے شہید کا وہ قوم کی زکوٰة ہے۔میں آج پی ایس ایل کا میچ دیکھ رہا ہوں اوراللہ کا شکر ادا کر رہا ہوں جس نے ہمیں ایک ایسی پیشہ ورانہ مہارت کی حامل، بہادر، شجاع اور جواں ہمت فوج دی ہے جو

مشکل سے مشکل گھڑی میں بھی اس قوم کی آبرو کی حفاظت کرتی ہے۔
جنہوں نے چاہا تھا کہ پاکستان میں کرکٹ کے میدان ویران ہو جائیں آج وہ بد خواہ دیکھ رہے ہیں کہ کھیلوں کے میدان آباد ہو چکے ہیں۔ جنہوں نے چاہا تھا پاکستان عالمی برادری سے کٹ جائے آج وہ دیکھ رہے ہیں دنیا اپنی ٹریول ایڈوائزریز میں پاکستان کو ترجیح دینے لگی ہے، ملک میں امن لوٹ آیا ہے، ایک مشکل ترین پراکسی پاکستان پر مسلط کی گئی اور پاکستان اس پراکسی میں سے کامیاب و کامران ہو کر نکلا۔ کندن بن کر نکلا۔
آپریشن رد الفساد نے فساد کو رد کر دیا ہے۔ملک کو امن کی راہ پر ڈال دیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی عسکری سفارتکاری نے پاکستان کے بارے میں دنیا کے بیانیے کو بدل دیا ہے۔داخلی سطح پر بھی حالات بدل چکے ہیں۔ کہاں وہ وقت تھا کراچی میں امن کا خواب دیکھنا بھی ممکن نہیں رہا تھا اور جرائم کی عالمی درجہ بندی میں چھٹے نمبر پر تھا اور کہاں اب یہ وقت ہے کراچی واقعی روشنیوں کا شہر بن چکا ہے اور امن سے اس کے درودیوار منور ہو رہے ہیں اور اب وہ چھٹے نمبر کی بجائے اکیانوے نمبر پر جا چکا ہے۔ خوف کے بادل شہر سے چھٹ چکے اور امن و سکون کی دولت ایک عرصے بعد اس شہر کو نصیب ہوئی۔
پاکستان اس وقت دنیا میں معتبر ملک ہے۔ کرتارپور راہداری اقلیتوں سے حسن سلوک اور باوقار فارن پالیسی کا وہ ثبوت ہے جس کی دنیا بھر تعریف کر رہی ہے۔ سکھ، ہندو، بد ھ مت اور دیگر مذاہب کے پیروکار اپنے مقدس مقامات کی سیاحت کے لیے آرہے ہیں اور پاکستانیوں کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر جا رہے ہیں۔پاکستان کا ایک باوقار اور ذمہ دار ریاست کا تاثر مستحکم ہورہا ہے اور پاکستان جنوبی ایشیا کی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دنیا میں اپنا آپ منوا رہا ہے


دنیا میں بہت سے ممالک میں داخلی شورش اور دہشت گردی کے مسائل نے جنم لیا۔ ہمارے سامنے کئی ممالک دیکھتے ہی دیکھتے اس کی وجہ سے خانہ جنگی کا شکار ہوئے اور تباہ ہو گئے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے آپریشن رد الفساد کے ذریعے اس فساد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ دہشت گردوں کی سرکوبی کی، ان کے سہولت کاروں کی سرکوبی کی، ان کے نیٹ ورک ختم کیے اور بالآخر آج یہاں امن لوٹ آیا ہے اور یہاں بین الاقوامی کرکٹ کے میچز ہو رہے ہیں۔ اور پی ایس ایل اب دوبئی میں نہیں اپنے ملک میں اپنے شائقین کے سامنے ہو رہا ہے۔
یہ غیر معمولی کامیابی ہے۔ اور اس کا سہرا آپریشن رد الفساد کو جاتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے ہماری افواج ہمارے دفاع کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ کر موجود ہیں۔