کالم

کشمیر کی زرخیز دھرتی کا ناز

کشمیر کی دھرتی قدرتی حسن، دلکش وادیوں اور سرسبز پہاڑوں کے ساتھ ساتھ علمی، فکری اور عملی صلاحیتوں سے مالا مال افراد پیدا کرنے کے حوالے سے بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہ خطہ ہمیشہ ایسے افراد کو جنم دیتا رہا ہے جو اپنی محنت، ذہانت، استقامت اور کردار کی مضبوطی کی بدولت نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے معاشرے اور خطے کے لیے بھی ایک روشن مثال بنے۔ انہی درخشاں ستاروں میں ایک نام ریاض نوید بٹ کا بھی ہے، جو ضلع کوٹلی کی تحصیل کھوئی رٹہ کے ایک متوسط مگر باوقار گھرانے میں پیدا ہوئے اور اپنی قابلیت، جدوجہد اور اصول پسندی کے بل بوتے پر کامیابی کی بے شمار منازل طے کیں۔ان کی شخصیت ذہانت، متانت، بردباری اور مسلسل محنت کا حسین امتزاج ہے۔ وہ ابتدا ہی سے ایک سنجیدہ، معاملہ فہم اور مقصدی سوچ رکھنے والے انسان رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز سٹوڈنٹ سیاست سے کیا اور کالجوں سے لے کر یونیورسٹی لیول تک اپنی قیادت کی صلاحیتوں اور اصولی سیاست کے ذریعے ایک منفرد مقام بنایا۔ لاہور یونیورسٹی سے وکالت کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے قانون کے شعبے کو بطور پیشہ اختیار کیا اور مختصر عرصے میں ہی انہوں نے ایک قابل، دیانت دار اور محنتی وکیل کے طور پر اپنی شناخت قائم کر لی۔ ان کی قانونی بصیرت، آئین و قانون پر گہری نظر اور مدلل اندازِ گفتگو نے انہیں نہ صرف عام سائلین بلکہ قانونی حلقوں میں بھی عزت و احترام دلایا۔ انہی صلاحیتوں اور اصولی کردار کے اعتراف کی وجہ سے وہ آزاد جموں و کشمیر بارکونسل کے وائس چیئرمین رہے وہ بار کونسل کے دوسرے وائس چیئرمین اور ضلع کوٹلی سے تعلق رکھنے والے پہلے وائس چیئرمین تھے آزاد کشمیر کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور پھر قائم مقام ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے اس کے علاوہ آزاد کشمیر احتساب بیورو کے ڈپٹی چیف پراسیکیوٹر جنرل بھی رہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل آزاد کشمیر جیسے اہم اور باوقار عہدے پر فائز ہونے کا موقع ملا، ہمیشہ کشمیر کے مسئلے کو اپنی زندگی کا ایک اہم مشن سمجھا۔ کشمیر کی تحریک کے لیے ہر پلیٹ فارم پر متحرک رہنے کے قائل ہیں اور اس مقصد کے لیے کبھی مصلحت یا ذاتی فائدے کو آڑے نہیں آنے دیا۔ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف سیمینارز، مذاکروں اور تقاریب کا انعقاد کیا اور قومی و بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو مدلل انداز میں پیش کیا۔کبھی اقتدار کے ایوانوں سے قربت کو اپنی ترقی کا ذریعہ نہیں بنایا۔ اس حقیقت پر قائم رہے کہ جو حکمران آئینی اور قانونی دائرے سے باہر ہو اس سے فاصلہ رکھنا ہی اصول پسندی ہے۔ ان کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو ان کا صحافت اور تحریر سے گہرا تعلق ہے۔ کچھ عرصہ صحافتی دنیا میں گزارا اور ایک باشعور مبصر کے طور پر معاشرتی، سیاسی اور قانونی موضوعات پر قلم اٹھایا۔ وہ ہمیشہ قلم کو ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے حق، انصاف اور عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے استعمال کرتے رہے۔اسی دوران وہ کچھ عرصے کے لیے برطانیہ بھی مقیم رہے جہاں انہوں نے محنت مزدوری کو بھی عزت کے ساتھ قبول کیا مگر بچوں اور خاندان سے دوری انہیں زیادہ دیر وہاں نہ روک سکی۔ ان کا ماننا تھا کہ صرف بہتر تعلیم ہی نہیں بلکہ بچوں کی اخلاقی، سماجی اور چو تہذیبی تربیت بھی والدین کی براہِ راست نگرانی میں ہی ممکن ہے اسی سوچ کے تحت وہ واپس کشمیر لوٹے جہاں انہوں نے نہ صرف اپنی اولاد کو اعلی اور معیاری تعلیم دلوائی بلکہ ان کی ایسی تربیت کی جو انہیں معاشرے کے لیے مفید انسان بنا سکے۔ آزاد کشمیر کے مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں، بالخصوص نوجوانوں کی اعلی معیاری تعلیم کو وہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ جب تک نوجوان تعلیم، شعور اور اخلاقی اقدار سے لیس نہیں ہوں گے تب تک خطہ حقیقی ترقی نہیں کر سکتا اسی لیے وہ نوجوانوں کی رہنمائی، حوصلہ افزائی اور ان کے لیے بہتر تعلیمی مواقع کی فراہمی کے لیے ہمیشہ فکری اور عملی طور پر متحرک نظر آتے ہیں۔ گزشتہ دنوں میری ان سے ملاقات ہوئی، جس میں ان کے بیٹے ڈاکٹر رضوان بٹ بھی موجود تھے جو لندن کے علاقے لوٹن کے ایک ہسپتال میں میڈیکل کنسلٹنٹ ہیں ۔ ریاض نوید بٹ آج اپنے کنبے، قبیلے، علاقے اور بالخصوص نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہیں ۔ میرے نکتہ نظر کے مطابق اگر میرٹ ہو تو ایسے افراد کو اعلی عدلیہ کا جج اور آزاد کشمیر کی اسمبلی میں ہونا چاہیے تھا تاکہ وہ اپنے علاقے اور خطے کی بہتر انداز میں نمائندگی اور خدمت کر سکتے لیکن بدقسمتی سے ہمارے خطہ آزاد کشمیر میں سیاست کے تقاضے اکثر قابلیت اور دیانت کے بجائے برادری، قبیلہ، علاقائیت، چاپلوسی اقربا پروری اور پیسے سے وابستہ نظر آتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے