وطن عزیز پاکستان جب سے بنا ہے عجیب ہی کشمکش میں مبتلا ہے ،جھوٹ سے سچ اور سچ سے جھوٹ کی طرف گامزن ہے ،کہیں پر بہتری اور ٹھہراﺅ آیا ہی نہیں ہے۔اسے المیہ کہیے کہ بدقسمتی کہ یہاں پر مسند اقتدار پر فائز حکمرانوں سے لے کر ڈکٹیٹروں تک نے اسے حقیقی سکون لینے ہی نہیں دیا ،ہمیشہ مصلحتوں اور مفادات کی چادر میں ہی لپیٹے رکھا ، کبھی بھی کسی بھی جگہ استحکام عطاءنہیں کیا ، ہمیشہ سے ہی اسے دھوکہ ہی دیا اور اس کی بقاءاور سا لمیت سے کھیلا اور نعرہ حب الوطنی، خیر خواہی اور استحکام پاکستان کا لگایا جو کہ صرف ایک نعرہ ہی رہا ،حقیقت کا کبھی بھی کسی دﺅر میں بھی روپ دھارنہ سکا ۔ اس ملک میں حکمرانوں سے لیکر ڈکٹیٹروں تک نے اسے نوچا ،کھایا ،مزہ لیا ،ڈکارمارا اور وہ گیا اور وہ گیا معاملہ کیا ۔ کوئی بھی پاکستان اور قائد اعظم کے ساتھ حقیقی مخلص نہ رہا ،سبھی کسی نہ کسی روپ اور حلیے میں پاکستان اور قائد اعظم کے افکار و تعلیمات سے کھیلتے رہے اور دلچسپ اور شرمناک بات یہ ہے کہ شرمائے ذرا سا بھی نہیں ہیں ۔ قائد کے پاکستان کا اصلی حلیہ بگاڑ کر مصنوعی اور اجڑا چہرہ بنادیا۔جہاں اس ملک کے سیاستدانوں اورلیڈروں نے اس کو نسلی ،لسانی تعصبات میں الجھا کر قوم کو اس میں مبتلاکردیا وہیں ڈکٹیٹروں نے بھی اسے عجیب اور حیران کن الجھنوں میں ڈال کر کہیں کا نہیں چھوڑا ہے ۔ بدامنی ،دہشتگردی کو ملی ہوا بھی انہی کی مہربانیاں ہیں اور جو کچھ ملک میں یہ عجیب و غریب صورتحال اختیار کئے یہاں ہوتا ہے وہ بھی انہیں کا ہی کارنامہ ہے ۔ان سے کچھ بہتر ہوتا نہیں ہے اور اچھا کرنے کی پوزیشن سے یہ قاصرنظر آتے ہیں۔ ملک پاکستان کو اس ڈوبتی معیشت ، ڈانواںڈول صورتحال تک پہنچانے کے یہ سبھی ذمہ دار ہیں ۔ آپ دیکھ لیجئے کہ پاکستان میں جتنی بھی عیاشیاں اور مزے داریاں ہیں یہ کررہے ہیںاور پریشانیاں قوم کے حصے میں آتی ہیں ۔ یہ قوم کا ہی حوصلہ ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تلک 75سال گزرنے کے بعد بھی سن رہی ہے کہ حالات نازک ہیں ۔معیشت وینٹی لیٹر پر ، خطرہ دشمن بہت زیادہ اور اب بھی اسے سہہ رہی ہے کہ 75سالوں میں قائد اعظم کاپاکستان نازک پوزیشن میں آگیا ، معیشت وینٹی لیٹر پر ہے اور دشمن خطر ہ زیادہ اور پاکستان مسلسل پریشانیوں و الجھنوں میں پڑا ہوا ہے اور اگر کچھ بہتر اور بڑھا پھولا ہے تو یہ لوگ ہیں ۔حکمرانوں سے لے کر ڈکٹیٹروں تک ، ان کی اولاد تک اور کچھ بھی نہیں۔سیلاب آئے ،طوفان آئے ،زلزلہ آئے حکمرانوں سے لے کر ڈکٹیٹروں تک ، ایک آفیسر سے لے کر ایک فوجی جوان تک سب نے قوم کی زخموں پر ہمدردی کامرہم ضرورلگایا مگر اس کا پائیدار اور اچھا حل تلاش کرنے کی طرف قدم نہیں بڑھایا۔ان تمام مسائل پرکام نہیںکیا مگر ملک کو کیسے کھانا اورلوٹنا کیسے کے بےشمار پراجیکٹ اورمنصوبے ضرورتشکیل دے دئیے جن کی مختلف شکلیں،صورتیں ،حالتیں آپ کے سامنے ہیں۔میرے خیال میںروشنی ڈالنے کی ضرورت قطعی نہ ، خود بخود ہی آئینے کی طرح عیاں ہے۔ اس ملک عزیز کو کس کس نے نہیں لوٹا ، کس کس نے نہیں نوچا ، کس کس نے نہیں کھایا ، قیام پاکستان سے لے کر اب تک صرف قائد اعظم کے علاوہ سب نے لوٹا ،کھایا اورنوچا اور ترس ذرا سابھی نہ آیاہے۔ کیسے کیسے لوٹا ،کھایا ،نوچا ،چبایا ایک عجب کہانی قوم کو زیادہ بتانے کی ضرورت نہیں ،قوم جانتی ہے مگر کچھ کہہ نہیں پاتی ہے۔وجہ اورکچھ بھی نہیں ہے کہ ہمارے ملک میں شروع سے لے کر اب تک پہلے انگریزوں اور ہندوﺅں کے لگے تالے تھے اور اب ان کے غلاموں کے لگے تالے ہیں۔ لب سلے ہیں او رکچھ کہہ نہیں سکتے۔ سچ بول نہیں سکتے اور جھوٹ منہ سے نکالنا بھی بہت کٹھن لگتاہے ۔ مصلحتو ں اورمفادات کی چادر میں لپٹے برباد سے ہوئے پڑے ہیں ۔ ایک پل چین نہیں ہے اور جی بھی رہے ہیں ۔ ملک برباد ،معیشت برباد ،حالات برباد کرکے پاکستان کوکاٹ چاٹ کر قرضوں کے بوجھ تلے لاد کر قوم کا بچہ بچہ مقروض کرکے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ ، ہنر مند ،وزیر مشیر ،کرنل جنرل بنا کر بیرون ملک جائیدادوں کے انبار لگاکر خود باہر ،اولاد باہر ،جائیداد باہر پاکستان کے حقیقی خیر خواہ بنے بیٹھے ہیں او راس ملک کے رہنے والے غریب ،مفلوک الحال رعایا کا جینا اور دو پل گزارنا دوبھر کئے ہوئے ہیں ۔ عوام کی مہنگائی ،بیروزگاری کے ہاتھوں چیخیں نکل رہی ہیں ،ماں باپ بھوک سے اپنے جگر گوشوں کو ہمراہ خود،خود سے ہی موت کی نیند سلا رہے ہیں ۔ امن ،سکون ،رواداری نام کو بھی نہیں ہے۔ ہر طرف نفرتوں کے بیج بوئے ہوئے ہیں کبھی کوئی غدار تو کبھی کوئی محب وطن ، کبھی کوئی محب وطن تو کبھی کوئی غدار، کیا عجب پیمانے ہیں اس ملک میں ملک سے محبت کو جانچنے کے ، جس کو جب دل کیا فرشتہ بنا دیا ، جب دل کیا شیطان کہلوا دیا ۔ کیا عجب نرالے کھیل رچائے ہوئے ہیں ۔ ایک دوسرے سے آپس میں لڑوانا ، ملکی فضا کو کشیدہ بنانا ، ہماری ہی مشترکہ دین ہے۔ کیا خوب ملک کے بھولے بھالے افرادکو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے۔ جب جس طرف چاہا لگا دیا ، جب جس طرف سے چاہا ہٹا دیا ۔ کل کے چوروں کو پلک جھپکتے ہی آج کا سپاہی بنا دیا اور کل کے سپاہیوں کو آج کا چورکہلوا دیا ۔سوال یہ ہے کہ ایسا کیسے کرلیتے ہو ، کہ کیاکمال عجب کھیل رچاتے ہو ۔ کمال مہارت سے غضب کی ڈگڈگی بجاتے سبھی کو نچاتے ہو اور سب سے بڑی بات بولنے نہیں دیتے،سانس دوبھر کردیتے ہو ، کیا خوب سچ کو جھوٹ اورجھوٹ کو سچ بناتے ہو اور حیران کن حد تک آئین و قانون سے بالا تر، جیسا چاہتے ہوویسا فرماتے ہو۔ بدقسمتی کے ساتھ ملک عزیز کو امریکی زیر اثر چلائے ساتھ یہ اثر زائل بھی کئے ، یہ کردیا ، وہ کردیا ، یہ ہوگیا،وہ ہوگیا، جیسی عجب پھلجڑیاں چھوڑتے محض صرف امریکی خوشنودی میں سبھی ملکی خیر خواہوں کو کبھی اٹھاتے ہواو رکبھی گراتے ہو۔۔۔۔۔کیا عجب کھیل کھیلتے ہوکیا عجب فرماتے ہوکہ آپ کے کیا کہنے۔

