کسے معلوم نہےں کہ وطن عزیز میں ایک گروہ ایسا ہے جن کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ ہر ممکن ڈھنگ سے پاکستان کو مطعون کیا جا ئے اور اس ضمن میں وطن دشمنوں کا یہ ٹولہ نہ تو کسی اخلاقیات کا قائل ہے اور نہ ہی کوئی مذہبی اور انسانی ضابط ان کے آڑے آتا ہے تبھی تو 18 اگست کو منظور پشتین اور علی وزیر نے اسلام آباد میں پاکستان مخالف ایک ناکام جلسہ کیا جس میں بیرونی ایجنڈے پر کار فرما ہوتے ہُوئے پاکستان کے خلاف خوب زہر اُگلا ۔یاد رہے کہ غیور قبائلی عوام سے مکمل مسترد ہونے کے بعد اِن شر پسند عناصر نے پاکستان میں بسنے والے غیر قانونی افغانیوں کو اکھٹا کر کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی ناکام کوشش کی اور اپنے آقا¶ں کو خوش کرنے کے لئے سوشل میڈیا ویڈیوز بنوانے کے لیے پاکستان مخالف یاوہ گوئی کی جسے پوری پاکستانی عوام نے یکسر مسترد کرتے ہُوئے اپنے شدید غم و غصّے کا اظہار بھی کیا ۔دوسری طرف 19 اگست کو شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میںایک ترقیاتی منصوبے پر کام کرنے والے مزدور جب کام کر کے گھر واپس جا رہے تھے تو ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے اِس گاڑی کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 11 مزدور جاں بحق ہو گئے جبکہ دو مزدور شدید زخمی و¿ہوئے یاد رہے کہ اِ س گاڑی میں کل 16 مزدور سوار تھے ۔ایسے بے کس مزدورں کی زندگی چھینے کا مکروہ عمل کوئی انسان یا مسلمان تو نہےں کر سکتا اس قبیح حرکت کا مرتکب بہر کیف انسان تو کسی طور نہےں کہلا سکتا ۔ مبصرین کے مطابق یہ بات یہاں بالکل واضح نظر آتی ہے کے ٹی ٹی پی دہشت گردوں کا معصوم اور نہتے مزدوروں کو ٹارگٹ کرنا اُنکی پاکستان اور عوام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور یہ دہشت گردی کا واقعہ ترقی کے اِن دشمنوں کی اصلیت کو قبائلی عوام کے سامنے عیاں کرتا ہے ۔سنجیدہ حلقوں کے مطابق یہ محض ایک اتفاق نہیں کے جمعہ کو پی ٹی ایم اسلام آباد میں غیر قانونی افغانیوں کو استعمال کر کے ملک دشمن تقریریں کر رہی تھی اور دنگا فساد کر رہی تھی جبکہ دوسری طرف اگلے ہی دن انہی کے ساتھی (ٹی ٹی پی) افغانی نِژاد دہشت گردوں کو استعمال کر کے معصوم قبائلی مزدوروں کو جو کہ ملک کی ترقی میں حصہ لے رہے تھے کو بڑی سفاکی سے دہشت گردی کا نشانہ بنا رہی تھی- ٹی ٹی پی نے دن کی روشنی میں اس واردات میں معصوم لوگوں کا خون بہایا، جبکہ رات کی تاریکی میں انکے ساتھی(پی ٹی ایم کے سوداگر) وہاں غم زدہ خاندانوں کے پاس جا کر اور سوشل میڈیا پر ریاست مخالف بیانیہ اور جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے میں مصروفِ عمل ہیں اور سیکورٹی فورسز کے خلاف زہر اُگلنا شروع ہو چکے ہیں ۔
واضح ہو کہ اِس سارے خون خرابے میں ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کا مقصد صرف اور صرف قبائلی علاقوں میں غیر قانونی افغانیوں کو استعمال کر کے انتشار اور امن و امان کی صورتِ حال کو خراب کرنا ہے تاکہ وہاں پر ترقیاتی عمل کو روکا جا سکے کیونکہ قبائلی علاقوں میں ترقی آنے سے ان دونوں شر پسند عناصر کا باہر سے آنے والے ڈالرز کا بزنس بند ہو جاتا ہے۔ایسے میں غالبا وقت آ گیا ہے کے حکومت وقت اِن دہشت گرد عناصر اور انکے ہاتھوں استعمال ہونے والے افغانی نِژاد دہشت گردوں اور احسان فراموش غیر قانونی افغانی شر پسندوں کی مکمل سرکوبی کرے تاکہ پاکستان بالخصوص قبائلی اضلاع میں ترقی اور خوش حالی کے سفر کو آگے بڑھایا جا سکے
اسی تناظر میں مبصرین نے اس امر کو بھی اہم قرار دیا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے ٹی ٹی پی کے اندر باہمی اختلافات شدید تر ہو گئے ہےں اور ان میں باقاعدہ لڑائی شروع ہو چکی ہے۔اسی ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نور ولی محسود گروپ نے خوست میں گل بہادر گروپ پر حملے کے بعد جماعت الاحرار پر باقاعدہ حملے شروع کر دےے ہےں ۔اسی تناظر میں یہ بات اہم ہے کہ نور ولی محسود نے اسد آفریدی کو قلعہ سیف اللہ پر حملے کے بارے ٹی ٹی پی کے راز افشاءکرنے پر ولایت کے منصب سے فوری ہٹا دیا تھااور بعدازاں مختلف بیانات جاری کرنے پر نورولی محسود نے اسد آفریدی کو راستے سے ہٹانے کیلئے اسکے سر کی قیمت باقاعدہ طور پر مقرر کی تھی۔اسی سلسلے میں محسود گروپ کے کارندوں نے اسد آفریدی کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔
غیر مصدقہ تفصیلات کے مطابق دوست محمد عرف اسد آفریدی افغانستان کے لال پورہ میں ایک فضائی حملے میں مارا جا چکا ہے۔اس ضمن میں یہ بات یاد رہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے انکار کے باوجود، مارے گئے رہنما نے کئی کارروائیوں کا کریڈٹ بھی لیا تھا، جن میں گزشتہ ماہ بلوچستان کے علاقے ژوب میں پاکستانی فوجی چوکی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔اس کے علاوہ اس نے ٹی ٹی پی کی مرکزی شوری پر ڈی آئی خان ڈسٹرکٹ کے قائم مقام گورنر کے عہدے سے برطرف کرنے پر تنقید کی تھی۔واضح ہے کہ ٹی ٹی پی اور اس کے دھڑے جماعت الاحرار کے درمیان ژوب حملے کے بعد اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور اس کی وجہ سے آفریدی کو شیڈو گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ٹی ٹی پی نے آفریدی کو حملے سے متعلق ان کے بیانات پر خبردار کیا تھا
اس تمام پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے باخبر ذرو¿ائع کا اصرار ہے کہ وقت کی ضرورت ہے کہ پاک مخالف تمام شرپسندوں کو نکیل ڈالی جائے تاکہ ریاست کی رٹ پوری طرح بحال ہو سکے۔
کالم
یہ ملک دشمن ایجنڈا ،کس کا۔۔۔؟
- by web desk
- اگست 22, 2023
- 0 Comments
- Less than a minute
- 318 Views
- 3 سال ago

