اداریہ کالم

آئی ایم کی نئی کڑی شرائط،خدا خیر کرے

بجٹ کی آمد آمد ہے اورحکومت نئے بجٹ کی تیاری کر رہی ہے،عوام بھی امید لگائے بیٹھی ہے کہ اسے اس بجٹ میں ریلیف ملے گا ،عوام کی یہ امید بے جا بھی نہیں ہے کہ یہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بلند بانگ نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے،لیکن دوسری طرف آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور مسلسل مداخلت کے باعث آسانی سے ریلیف مل پائے گا یا نہیں۔اب آئی ایم ایف نے قرض اور بجٹ مذاکرات سے پہلے معاشی چیلنجز ظاہر کر تے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں ٹیوب ویل کی سبسڈی ختم کردی جائے، توانائی اصلاحات کے بغیر پاکستانی معیشت خطرات سے دوچار رہے گی، آئندہ بجٹ میں توانائی کے شعبے میں مقررہ بجٹ سے تجاوز خطرناک ہوسکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت کو آئندہ بجٹ میں توانائی شعبے کے لیے پالیسی گائیڈ لائن فراہم کردی ہے، آئندہ مالی سال بجلی اور گیس کے ریٹ بروقت طے کیے جائیں جبکہ آئندہ بجٹ میں بجلی اور گیس کا سرکلر ڈیٹ بڑھنے نہ دینے کی ہدایت بھی کی ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی گائیڈ لائن میں آگاہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں ٹیوب ویل کی سبسڈی ختم کردی جائے اوراسی طرح صنعتوں کےلئے بجلی کی سبسڈی اور گیس کے رعایتی نرخ ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ توانائی اصلاحات کے بغیر پاکستانی معیشت خطرات سے دوچار رہے گی،آئندہ بجٹ میں توانائی کے شعبے میں مقررہ بجٹ سے تجاوز خطرناک ہوسکتا ہے ۔ مالی سال بجلی اور گیس کے بلوں میں وصولی بہتر بنانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ ادھر حکومت نے نئے بجٹ پر آئی ایم ایف کےساتھ بنیادی اہداف طے کرلیئے ہیں،ٹیکس اہدایت بڑھانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔ایف بی ار کو 9500 کی بجائے 11 ہزار 110 ارب روپے ٹیکس جمع کرنا ہوگا، وزارت خزانہ کے مطابق نئے مالی سال میں 1700 ارب روپے ٹیکس محصولات بڑھانا ہوں گی، تاجروں سے یکم جولائی 2024 سے ایڈوانس ٹیکس کی وصولی شروع ہوگی، ٹیکس ایمنسٹی کی اجازت نہیں ہوگی، کوئی ٹیکس چھوٹ نہیں دی جائیگی، کسی شعبے کو کوئی خصوصی رعایت بھی نہیں ملے گی، کاروباری اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا حجم بڑھایا جائے گا، پٹرولیم لیوی کے تحت 1800 ارب روپے کی وصولی کی جائے گی جوصارفین سے کی جائے گی، کرائے پر لگنے والے ٹیکس میں اضافہ کیا جائے گا، ہول سیل، پرچون اور زرعی امدن کو ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔کسی حکومتی شعبے کو ضمنی گرانٹ نہیں ملے گی۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین بجٹ اہداف میں بڑے پیمانے پر تبدیلی پر اتفاق رائے طے پا جانے کے علاوہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کومزید معاشی اصلاحات کی یقین دہانی کرادی ہے، بجٹ میں کوئی نئی ٹیکس ایمنسٹی، چھوٹ یا رعایت نہیں دی جائے گی،جبکہ آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کو سفارش کی ہے کہ وہ نگراں دور کی معاشی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رکھے۔ اس ضمن میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے ماہرین کے درمیان گزشتہ روز ملاقات ہوئی جس میں معاشی اعدادو شمار سمیت اہم ڈیٹا پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دستاویز کے مطابق پرائمری سرپلس کا ہدف جی ڈی پی کا ایک فیصد کے مساوی رکھنے کی تجویز ہے، ری ٹیل، ہول سیل، رئیل اسٹیٹ، زرعی شعبے سمیت کئی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا عزم کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت سے جس طرح معاشی اصلاحات کا عمل تیز کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے ،یہ بظاہر کھلی مداخلت اور کڑی شرائط عوام کش ثابت ہوں گی۔ دوسری طرف آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ نگراں حکومت نے سیاسی نقصان کی پرواہ کیے بغیر معاشی اقدامات کیے، پرائمری سرپلس کا ہدف حاصل کرنے کےلئے سخت کوشش کی، قرضے کم کرنے کےلئے اقدامات کیے گئے، اور ان معاشی پالیسیوں کے باعث بیرونی آمدن بحال ہوئی۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام نگراں حکومت کی پالیسیوں سے بری طرح نالا ں ہے ،جن کی وجہ سے عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ہے،گزشتہ سال بھی بجلی کے بلوں کی وجہ سے کئی روز تک پاکستان بھر میںاحجاج ہوتا رہا تھا تو آج بھی آزاد کشمیر میںصورتحال ایسی ہی صورتحال پیدا ہو چکی ہے،بجلی اور سستا آٹا کو لے کر کشمیر کے عوام تنگ آمد بجنگ آمد ہو چکے ہیں ،پولیس اور شہریوں کی ہاتھ پائی اور تشدد کے واقعات میں ایک پولیس اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے،پاکستان کے اندر لوگ بھی پہلے ہی ستائے بیٹھے ہیں،گرمی کا زور بڑھتے ہی یقینا بجلی کے بل بھی جب بڑھے گے تو عوام لاوا بھی ابلے گا۔ایک آزاد اورخود مختار ملک جس طرح آئی ایم ایف کی ڈکیٹشن پہ چل نکل ہے اس سے بھلائی کی بجائے تباہی کا خطرہ ہے،حکومت اس ضمن میں سخت فیصلوں کی زیبائش و آرائش کی بجائے حعوام کو ساتھ لے کر چلے،عوام کی جیب پر کٹ لگانے کی بجائے اپنی شاہ خرچیوں پر کٹ لگائے،مفت بجلی اور تیل اُڑانے کے دروازے بند کرے،کفائت شعاری اعلانات کی حد تک نہیں بلکہ عملی طور اپنائیں تو مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
وزیراعظم کا عرب ٹی وی کو انٹرویو
عرب میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میںوزیراعظم شہباز شریف کا ایک بار پھر اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں ہم عالمی معاشی انقلاب لا سکتے ہیں۔کویت، قطر، یواے ای اور ترکیہ بھی آئی ٹی و سرمایہ کاری شعبوں میں پارٹنر بن سکتے ہیں۔ بلاشبہ پاکستان اور سعودی کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں، پاک سعودیہ تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، پاکستان اور سعودی عرب خطے کی ترقی وخوشحالی میں شراکت دار ہیں، دورہ سعودی عرب میں ولی عہد محمد بن سلمان سے وزیراعظم کی ملاقات مثبت رہی تھی۔سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے حوالے اطلاعات ہیں،امید ہے وہ جلد پاکستان تشریف لے آئیں
گے۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر سعودیہ سمیت دیگر شراکت داروں سے جامع بات کی ، میرے دورہ سعودی عرب کے بعد سعودی وزیرخارجہ وفد کے ہمراہ پاکستان آئے، سعودی وفد نے پاکستان میں سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کی جو نتیجہ خیز رہی۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جدید آلات اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم زرعی پیدوار بڑھاسکتے ہیں، آئی ٹی کے شعبے میں سعودی عرب نے نمایاں خدمات انجام دیں، آئی ٹی کے شعبے میں پاکستان سعودی عرب کے تجربات سے فائدہ حاصل کرسکتا ہے،پاک سعودیہ مشترکہ تعاون سے نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت دیں گے، تربیت حاصل کرنے کے بعد پاکستانی ہنرمند سعودی عرب میں کام کرسکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ہنر مند ریونیوپاکستان بھجیں گے تو معیشت بہتر ہوگی، کویت، قطر، یواے ای اور ترکیہ بھی آئی ٹی وسرمایہ کاری شعبوں میں پارٹنر بن سکتے ہیں، چین ہمارا عظیم دوست ہے وہ بھی اس میں پارٹنربن سکتا ہے۔ پاکستان کواس وقت جس بڑے معاشی بحران کا سامنا ہے، وہ دوست ممالک کے ساتھ ملک کر اور ان کے تعاون سے کم کیا جا سکتا ہے،حکومت پرامید ہے کہ وہ جلد اس بحران سے نکلنے کے قابل ہو جائیں گے،حکومت کی تما تر توجہ معیشت کی بہتری پر ہے، معیشت کی بہتری کے لیے اصلاحات اور بنیادی نظام کی تبدیلی کے لیے پرعزم بھی ہے۔، مختلف شعبوں میں اصلاحات کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کرسکتا ۔ معاشی انقلاب انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے سیکٹر پر توجہ دینے سے لایا جانا ممکن ہے۔دنیا اسی ڈگر پر چل رہی ہے۔وزیر اعظم سعودی ولی عہد کی قیادت کی کی اگر تعریف کر رہے ہیں تو وہ غلط نہیں ہے کہ انہوں نے سعودی عرب میں بہت کام کیا اور آٹھ سالوں میں ملک کا نقشہ ہی بدل دیا ہے،ان کی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے سعودی عرب نے بہت ترقی کی ہے اور سعودی عرب میں تعمیر ترقی کے نئے در کھل چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے