اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان واقع فیض آباد ایک بار پھر شور و احتجاج کی گونج میں ڈوب گیا ہے۔ تحریکِ لبیک پاکستان (TLP) کا تازہ مظاہرہ، جسے غزہ مارچ کہا جا رہا ہے، ایک بار پھر حکومت اور مذہبی جماعتوں کے درمیان اعتماد کے بحران کو
آشکار کر گیا ہے۔ بظاہر یہ احتجاج فلسطین کے مسئلے پر حکومت کے مبینہ نرم موقف کے خلاف ہے، مگر اس کے اثرات صرف سیاست تک محدود نہیں۔ پورا شہری معاشرہ اس کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ گزشتہ روز سے جڑواں شہروں میں حالات غیر معمولی ہیں۔ راستے بند، کنٹینرز کھڑے، انٹرنیٹ معطل، اور خوف و بے یقینی فضا میں گہرے بادلوں کی طرح چھائے ہوئے ہیں۔ اس ہنگامہ آرائی کے باعث اسکول بند کر دیے گئے، والدین اپنے بچوں کو گھروں تک محدود رکھنے پر مجبور ہیں۔دفاتر پہنچنا ایک امتحان بن گیا ہے۔ مریض ایمبولینسوں میں تاخیر سے ہسپتال پہنچ رہے ہیں،اور کئی شادی بیاہ یا جنازوں میں شریک ہونے والے شہری راستوں میں پھنسے دکھائی دیتے ہیں۔ گلی محلوں میں سبزی پھل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔یہ محض سیاسی احتجاج نہیں رہا، بلکہ روزمرہ زندگی کی رگوں میں بوجھ اور بے چینی بن کر سرایت کر چکا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ TLPنے اجازت لیے بغیر مارچ کا اعلان کیا اور قانون کی خلاف ورزی کی، جبکہ TLP کہتی ہے کہ ان کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے اور ان کے کارکنوں کو بلاجواز گرفتار کیا گیا۔یہی وہ الزام اور جواب کا سلسلہ ہے جو برسوں سے ملک کے امن کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ریاست کبھی سختی دکھاتی ہے، کبھی مصالحت کرتی ہے۔ اور نتیجہ ہمیشہ ایک سا رہتا ہے کہ عوام پس جاتے ہیں، سڑکیں بند ہو جاتی ہیں، اور روزمرہ زندگی مفلوج ہو جاتی ہے۔ پاکستان جیسے حساس ملک میں مذہب، سیاست اور ریاست کے تعلق کو سمجھداری سے سنبھالنا ضروری ہے۔ احتجاج ہر شہری کا حق ہے، مگر جب احتجاج شہریوں کے بنیادی حقوق، تعلیم، صحت، نقل و حرکت اور تحفظ کو متاثر کرے تو یہ حق ایک ذمہ داری بھی بن جاتا ہے۔فیض آباد کے کنٹینرز صرف راستے نہیں روک رہے، یہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کی علامت بن چکے ہیں۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت طاقت سے نہیں، تدبر اور مکالمے سے مسئلہ حل کرے۔TLPاگر واقعی اسلامی جذبے کی نمائندہ ہے تو اسے امن و نظم کو اپنی دعوت کا حصہ بنانا ہوگا۔یہ ملک احتجاجوں سے نہیں، اتحاد، عدل اور عقل سے چلے گا۔ ریاست کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہے، اور عوام کا اعتماد صرف انصاف اور شفافیت سے جیتا جا سکتا ہے۔احتجاج وقتی غصے کو ظاہر کرتا ہے، مگر حل ہمیشہ گفت و شنید میں چھپا ہوتا ہے۔ یہ وقت تصادم نہیں، توازن کا وقت ہے تا کہ ایمان بھی سلامت رہے، اور امن بھی۔
کالم
احتجاج یا امتحانِ ریاست؟
- by web desk
- اکتوبر 13, 2025
- 0 Comments
- Less than a minute
- 120 Views
- 5 مہینے ago

