کالم

اسلامی قوانین اور اللہ کاعذاب

khalid-khan

وطن عزےز پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آےا۔آغاز سے ہی وطن عزےز پاکستان میں اسلامی قوانےن کا عملی نفاذ ناگزےر تھا لیکن 74 سالوں میں اسلامی قوانےن عملی طور پر نافذ نہ ہوسکے۔پاکستان کے آئےن میں اسلامی قوانےن ےقےنا موجود ہیں لیکن اصل معاملہ عملی نفاذ کا ہے ۔ وطن عزےز پاکستان میں اسلامی قوانےن کا عملی نفاذ ہوتا تو حالات اےسے نہ ہوتے۔وطن عزےزپاکستان میںجہاں مہنگائی کا سےلاب ہے ، وہاں ناپ تول میں کمی عام ہے۔ حضرت شعےب علیہ السلام کے قوم میں تےن طرح کے عےوب تھے۔”(الف)وہ لوگ کفر وشرک میں مبتلاتھے اور درختوں کی پوجا کرتے تھے ۔ (ب)ناپ تول میں کمی کرتے تھے اور بےوپار میں بے اےمانی اور دھوکہ کرتے تھے۔ (ج)غنڈا ٹےکس وصول کرتے تھے، راستوں میں بےٹھ کر لوٹ مار کرتے تھے اور لوگوں کے اموال چھینتے تھے۔”اگر آپ بغور مشاہد ہ کرےں تو آپ کو ہمارے ملک میںآخری دو عےوب کے واقعات بہت زےادہ سننے اور دےکھنے کو مل جائےں گے۔ دنےا میں غنڈا ٹےکس کی بنےاد قومِ شعےب ؑ نے رکھی تھی جو آج بھی ہر سطح پر مختلف انداز میں جارہی ہے۔اللہ رب العزت نے اس قوم میں حضرت شعےب علیہ السلام کومبعوث فرماےا اور اپنی قوم کو بہت سمجھاےا ۔ قرآن مجےد فرقان حمےد سورةالاعراف آےات 85،86 میں آتا ہے کہ©”اے میری قوم ! اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا کوئی تمہارامعبود نہیں۔تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل پہنچ چکی ہے ، سو تم ناپ تول پوری طرح کیا کرو اور لوگوں کو چےزےںکم نہ دےا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ کرو، ےہ تمہارے لے بہتر ہے ،اگر تم اےماندار ہو۔ اور ہر راستے پر مت بےٹھا کرو، جو شخص اللہ پر اےمان لاتا ہے، اُسے تم ڈراتے اور راہ حق سے روکتے ہو اور اس میں کھبی عےب ڈھونڈتے ہو۔ اور ےاد کرو! جب کہ تم بہت تھوڑے تھے، پھر اللہ نے تم کو کثےر کردےا اور دےکھو! فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔” اسی طرح سورة ہودآےت نمبر84 میں آتاہے کہ”اے قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو کہ اس اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ناپ تول میں کمی نہ کرو۔میں تم کو آسودہ حال دےکھتا ہوں اور (اگر تم اےمان نہ لاﺅ گے)تو مجھے تمہارے بارے میں اےک اےسے دن کے عذاب کا خوف ہے ، جو تم کو گھےر رہے گا ۔” حضرت شعےب علیہ السلام کے بہت سمجھانے کے بعد بھی وہ اےمان نہیں لائے اور اپنے تےنوںعےوب کو ترک نہیں کیاتو اللہ تعالیٰ نے اُس قوم کو تےن طرح کے عذاب میں مبتلا کیا۔ زمینی بھونچال ، چنگھاڑ، آگ کے بادل ۔ اللہ تعالیٰ نے اُن پر پہلے سخت گرمی مسلط فرمائی اور سات دن مسلسل اُن پر ہوا بند رکھی جس کی وجہ سے پانی اور سایہ بھی ان کی گرمی کم نہ کرسکااور نہ ہی درختوں کے جھنڈ کام آئے ۔ وہ لوگ اس مصےبت سے گھبرا کر بستی سے جنگل کی طرف بھاگے ، وہاں ان پر بادلوں نے ساےہ کرلیا ۔ سب گرمی اور دھوپ کی شدت سے بچنے کےلئے اُس سائے کے نےچے اکھٹے ہوگئے اور سکون کا سانس لیا لیکن پھر چند لمحوں بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنے شروع ہوگئے، زمین بھونچال سے لرزنے لگی اور پھر آسمان سے اےک سخت چنگھاڑ آئی تو اس سے اُن کے کلیجے پھٹ گئے، ان کے جسموں کو تباہ و برباد کردےا اور سب اوندھے گر ے پڑے رہ گئے ۔” ےقےنا برے اعمال کا انجام بہت برا ہے ۔ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ سرور کائنات ﷺ نے بھی اپنی امت کو ہر برائی سے منع کیا ۔ پانچ برائیوں میں امت مسلمہ مبتلا ہوگی تو ان کو دنےا میں بھی سزا ضرور ملے گی۔ عبداللہ بن عمرؓ سے رواےت ہے کہ نبی کرےم ﷺنے فرماےا کہ”پانچ چےزےں اےسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہوگئے تو ان کی سزا ضرور ملے گی ۔ جب بھی کسی قوم میں بے حےائی اعلانےہ ہونے لگتی ہے توان میں طاعون اور اےسی بےمارےاں پھیل جاتی ہیں جو اُن کے گزرے ہوئے لوگوں میں نہیں ہوتی تھیں۔ جب بھی وہ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں تو ان کو قحط سالی ، روزگار کی تنگی اور بادشاہ کے ظلم کے ذرےعے سے سزا دی جاتی ہے ۔ جب وہ اپنے مالوں کی زکواة دےنا بند کرتے ہیں تو ان سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے۔ اگر جانور نہ ہوں تو انہیں کبھی بارش نہ ملے ۔جب وہ اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑتے ہیں تو ان پر دوسری قوموں میں سے دشمن مسلط کردئے جاتے ہیں ،وہ ان سے وہ کچھ چھےن لےتے ہیں جو ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ جب بھی ان کے امام (سردار، بادشاہ، رہنما) اللہ کے قانون کے مطابق فےصلے نہیں کرتے اور جو اللہ نے اتارا ہے ، اسے اختےار نہیں کرتے تو اللہ ان میں آپس کی لڑائی ڈال دےتا ہے۔” قارئےن کرام!اس وقت بے حےائی اعلانےہ اور عام ہوچکی ہے ، ناپ تول کی کمی معمول بن چکا ہے ۔ دودھ ، گوشت، سبزی ، فروٹ سمےت ہر چےز میں ملاوٹ کو سمجھداری اور ہوشےاری سمجھتے ہیں ، اس لئے لوگوں پر روزگار کی تنگی اور ہر شخص پرےشان نظر آتا ہے ۔ جب حکمران اللہ کے قانون کے مطابق فےصلے نہیں کرتے ہیں، تو وہ لوگ آپس میں دست و گرےباں ہوجاتے ہیں ۔ آپ اپنی آنکھےں بند کرکے سوچےںتو آپ پر سب کچھ عےاں ہوجائیگا ۔ آج ہمارے ملک میں جوکچھ ہورہا ہے ، ےہ محض لوگوں کے اپنے اعمال کا نتےجہ ہے ۔ اپنے آپ کو پارسا اور دوسروں کو گناہ گار نہ سمجھےں بلکہ سب اپنے گرےباں میں جھانکیں اور اپنی خطاﺅں پر شرمندہ ہوں ، اللہ رب العزت سے معافی مانگےں اور گناہوں سے سچی توبہ کرےں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے