کالم

اسلام آباد سے جکارتہ تک ،سفارتی رشتوں کی نئی جہتیں

پاکستان اور انڈونیشیا کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ، اس سال دونوں ممالک کے لیے محض علامتی موقع نہیں بلکہ مستقبل کے اس نئے دور کی شروعات ہے جو باہمی تعاون کو نئی جہت دینے والا ہے۔ ایسے ماحول میں جب خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے اور پاکستان با اثر اور مستحکم ریاست کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، انڈونیشیا کے صدر پرابووسوبیانتو کا 7 برس بعد ہونے والا دور پاکستان غیر معمولی سفارتی اہمیت کا حامل ہے پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں پاکستان کے مضبوط دفاعی تاثر اور علاقائی سیاست میں متحرک کردار نے اس دورے کی معنویت میں مزید اضافہ کر دیا۔ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف،چیف اف آرمی سٹاف ،چیف آف ڈیفنس سروسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ہونے والی ملاقاتیں نہ صرف دوستی کے احترام کا اظہار تھیں بلکہ ان مذاکرات نے دونوں ملکوں کے درمیان مستقبل کے تعاون کا واضح خاکہ بھی پیش کیا۔ تجارت، توانائی، تعلیم، صحت، آئی ٹی، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر کثیر شعبہ جاتی تعاون کے لیے متعدد اہم مفاہمتی یادداشتوں (MoUs)اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اور انڈونیشیا اب تعلقات کو عملی اور معاشی بنیادوں پر مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے انڈونیشی صدر کو پاکستان کا اعلی ترین سول اعزاز "نشان پاکستان” عطا کرکے نہ صرف باہمی دوستی کو سراہا بلکہ دونوں اقوام کے درمیان تاریخی رشتے کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔قائداعظم محمد علی جناح اور صدر سوئیکارنو کے دور سے قائم ہونے والے تعلقاتِ کو دونوں رہنماں نے نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھانے کا عزم کیا۔ملاقات کے دوران علاقائی اور عالمی چیلنجز خصوصا مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال، مشرقی ایشیا میں استحکام، عالمی امن، مسلم یکجہتی اور اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ اقدامات پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔مشترکہ اعلامیے میں دفاعی تعاون بڑھانے، تربیتی تبادلوں اور مشترکہ پیداوار کے امکانات کو وسعت دینے پر اتفاق ظاہر کیا گیا۔ یہ نقطہ اس لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ دونوں ممالک مسلم دنیا میں نمایاں دفاعی صلاحیت رکھتے ہیں اور باہمی تعاون سے مضبوط علاقائی توازن تشکیل دے سکتے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی اور فوجی تربیت جیسے شعبے مستقبل میں مشترکہ اقدامات کے لیے نئی راہیں فراہم کرتے ہیں۔ وزیراعظم ہاس میں پیش کیے جانے والے گارڈ آف آنر اور اعلی سطحی مذاکرات نے دوطرفہ تعلقات کی سنجیدگی اور شفاف سمت کو مزید واضح کیا۔ دونوں ممالک نے نہ صرف مستقبل کے اقتصادی تعاون کی بنیاد مضبوط کی بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کی اہمیت پر بھی زور دیا، کیونکہ پاکستان اور انڈونیشیا دونوں ہی اس عالمی مسئلے سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں۔ قابلِ تجدید توانائی، ٹیکنالوجی اور ماحول دوست منصوبوں کے لیے مشترکہ فریم ورک دونوں ملکوں کو پائیدار ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے ۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI)اور انڈونیشین چیمبر اف انڈسٹری کے درمیان ہونے والا ایم او یو مستقبل کی معاشی سرگرمیوں میں نئی راہیں کھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں اداروں نے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق کیا جو سرمایہ کاری، تجارت اور نجی شعبے کی باہمی شمولیت کو متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ دو طرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر سے آگے بڑھانے کا مشترکہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک اقتصادی ترقی کو تعلقات کی بنیاد بنانے کے خواہش مند ہیں۔انڈونیشی صدر کا یہ دورہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا محض برادر اسلامی ممالک ہی نہیں بلکہ مستقبل میں مضبوط معاشی و سفارتی پارٹنرز بننے کی استعداد رکھتے ہیں۔ سات سال بعد ہونے والا یہ دورہ نئے باب کا آغاز ہے۔ دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور اعلی تعلیم جیسے کلیدی شعبوں میں ہونے والے معاہدے نہ صرف حالیہ تعلقات کو مضبوط کریں گے بلکہ مستقبل کی مشترکہ ترقی کا راستہ بھی ہموار کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے