طالبان رجیم کے زیرِ سایہ پنپتی دہشت گردی یورپ کے لیے سنگین خطرہ بن گئی، یورپی یونین کی خفیہ رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آگئے۔افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں پروان چڑھتی شدت پسندی اور دہشت گردی اب صرف خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے سکیورٹی خطرات یورپ تک پہنچ گئے ہیں۔طالبان رجیم کے زیرِ تسلط افغانستان یورپ کی سکیورٹی کیلئے سنگین چیلنج بن گیا ہے۔ یورپی یونین کی لیک شدہ تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ میں اس حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔23 صفحات پر مشتمل یورپی یونین کی تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ کے مطابق افغانستان سے ابھرتے سکیورٹی خطرات کے باعث یورپی یونین کو پْرتشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ”داعش خراسان” اس وقت پورے یورپ کیلئے سنگین ترین بیرونی خطرہ بن چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ ٹیلیگرام اور ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بارہ سال تک کے کم عمر بچوں کی بھرتی اور برین واشنگ کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔عالمی ماہرین کے مطابق یورپی یونین کی لیک شدہ خفیہ دستاویزات پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتی ہیں کہ منشیات اور دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والی افغان رجیم دنیا میں انتہا پسندی پھیلانے کی بڑی وجہ بن چکی ہے۔ افغان طالبان رجیم کے زیرِ قبضہ افغانستان شدت پسند نیٹ ورکس، ڈیجیٹل ریڈیکلائزیشن اور سرحد پار دہشت گرد خطرات کا مرکز بن چکا ہے۔دورہ برسلز میں افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن نے طالبان پالیسیوں سے یورپ سمیت خطے کو بڑھتے خطرے سے آگاہ کردیا، افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن کے وفد نے یورپی قیادت کو خبردار کیا۔ طالبان کی حکمرانی افغانستان کو ناکام ریاست کی طرف دھکیل رہی ہے، طالبان حکومت کے اثرات براہِ راست یورپ کی سلامتی تک بھی پہنچ رہے ہیں، افغانستان کی سرزمین خطے میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے گروہوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے ۔ وفد کا کہنا ہے کہ اس وقت افغانستان حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے گروہوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، خواتین کے حقوق کی پامالی، امدادی اداروں پر پابندیوں، سیاسی عدم شمولیت بنیادی خطرات ہیں۔ طالبان نے دوحہ معاہدے سمیت تمام وعدے توڑتے ہوئے جامع حکومت بنانے کے بجائے محدود گروہ کو اقتدار دیا، جس سے سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔خطے کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے یورپ، عالمی برادری دباؤ، پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے ذریعے طالبان کو مجبور کرے، صرف سخت اور مربوط عالمی حکمتِ عملی ہی افغانستان کو تباہی سے بچا سکتی ہے۔اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی مرکز نے افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں سے جوہری دہشت گردی کے ممکنہ خطرے سے متعلق سنگین انتباہ جاری کیا ہے۔ تاجکستان سے مبینہ طور پر چوری ہونے والی یورینیم ڈائی آکسائیڈ کی 133 گولیاں افغانستان میں موجود القاعدہ جیسے گروہوں کے ہاتھ لگنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے ڈائریکٹر انسدادِ دہشت گردی کے مطابق جوہری دہشت گردی کا خطرہ اس وقت دنیا کے سامنے موجود سب سے سنگین خطرات میں سے ایک ہے۔ بعض دہشت گرد تنظیمیں ماضی میں بھی جوہری مواد کے حصول کی کوششوں میں ملوث رہی ہیں جبکہ تابکار مواد کی اسمگلنگ اور چوری کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور غیر ملکی جنگجوں کی شمولیت خطے کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اقوام متحدہ، امریکہ، پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک بارہا افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں، جبکہ موجودہ صورتحال کو عالمی امن کیلئے ایک سنگین چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا افغانستان میں القاعدہ کے کئی تربیتی مراکز کام کر رہے ہیں، جن میں سے تین نئے کیمپ ایسے ہیں جہاں القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کے دہشت گردوں کو عسکری تربیت دی جا رہی ہے۔ ٹی ٹی پی کے پاس تقریباً 6,000 جنگجو موجود ہیں، جنہیں مختلف اقسام کے جدید ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہے، جس سے ان کے حملے مزید ہلاکت خیز ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی آزادانہ سرگرمیاں علاقائی سلامتی اور پائیدار امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں، لہٰذا ان گروہوں کی سہولت کاری اور تربیتی نیٹ ورک کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔گزشتہ سال سلامتی کونسل میں پیش کی گئی اقوام متحدہ داعش، القاعدہ اور ٹی ٹی پی سے متعلق جائزہ رپورٹ میں بھی فتنہ الخوارج کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان کا سب سے بڑا دہشت گرد گروپ ہے، جسے افغان طالبان اور القاعدہ دہشت گرد نیٹ ورک کے دھڑوں کی جانب سے آپریشنل اور لاجسٹک سپورٹ حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کی گئی داعش اور القاعدہ/طالبان سے متعلق مانیٹرنگ ٹیم کی 15ویں رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کو دہشت گرد گروپ کے طور پر تصور نہیں کرتے، ان کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔

