کالم

امریکہ، اسرائیل، ایران کشیدگ۔ تیسری عالمی جنگ کی پیش بندی

مشرقِ وسطیٰ میں آگ لگی ہوئی ہے اور یہ خطہ ایک بار پھر تاریخ کے حساس ترین مرحلے سے گزر رہا ہے اور آگ اور خون کی جنگ جاری ہے امریکی صدر ٹرمپ کو چونکہ نوبل انعام نہیں ملا ہے اس لئیے وہ خون اگل رہا ہے۔ پورا خطہ غیر معمولی اعصابی دباؤ میں داخل ہو چکا ہے اور ہر فریق اپنی حدوں کو آزما رہا ہے ۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کی کیفیت محض میزائلوں اور ڈرونز کی پروازوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ طاقت، نظریے، معیشت اور عالمی توازن کی آزمائش بنتی جا رہی ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ کشیدگی موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا واقعی وہ مرحلہ آ پہنچا ہے جہاں تمام سرخ لکیریں عبور ہو چکی ہیںپورا مشرق وسطی کون کے لپیٹ میں ہے اور اس کے اثرات پورے دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست حملے جس میں امریکہ بھی اپنے تمام تر وسائل استعمال کر رہا ہے جاری اس جنگ نے نئی حقیقت کو جنم دیا ہے۔ برسوں تک ایک غیر تحریری احتیاط برقرار رہی، مگر اب وہ احتیاط کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ اسرائیل ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے، جبکہ ایران اسرائیلی پالیسیوں کو خطے میں عدم استحکام کی جڑ سمجھتا ہے۔ امریکہ اس تمام منظرنامے میں نہ صرف اسرائیل کا اتحادی ہے بلکہ خلیج میں اپنی عسکری موجودگی کے باعث براہِ راست فریق بھی محسوس ہوتا ہے۔ یہی مثلث اس بحران کو معمولی تنازع نہیں رہنے دیتی۔ایران کی حکمت عملی براہِ راست ہمہ گیر جنگ کے بجائے بتدریج دباؤ پر مبنی رہی ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، غزہ میں حماس اور یمن میں حوثی تحریک جیسے عناصر اسے یہ صلاحیت دیتے ہیں کہ وہ مختلف سمتوں سے دباؤ برقرار رکھ سکے۔ اس طرزِ عمل میں فیصلہ کن معرکہ کم اور مخالف کو طویل المدت تھکانا زیادہ اہم ہوتا ہے۔ ایران کے لیے یہ معاملہ صرف جغرافیائی سیاست نہیں بلکہ نظریاتی اور چھ ہزار سالہ تاریخ، تہذیب اور شناخت سے بھی جڑا ہے، اس لیے پسپائی اس کے بیانیے کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلسل دباؤ کی حکمت عملی خود خطرات سے خالی نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی محدود آگ بھی غیر متوقع طور پر پھیل جاتی ہے۔ اسرائیل کے لیے خطرے کا تصور محض عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہے۔ اسی لیے اس کے ردعمل میں بعض اوقات احتیاط سے زیادہ پیش بندی کا عنصر غالب آ جاتا ہے اور یہی عنصر خطے کو مزید غیر یقینی بنا دیتا ہے۔ اگر اسے یہ یقین ہو جائے کہ خطرہ فوری اور ناقابلِ برداشت ہے تو وہ پیشگی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ مگر یہی فیصلہ وسیع تصادم کی چنگاری بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ یہاں امریکہ کی پالیسی سب سے زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ واشنگٹن مکمل لاتعلقی اختیار نہیں کر سکتا، لیکن ایک اور طویل مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اس کے داخلی سیاسی اور معاشی حالات کے لیے بوجھ بن سکتی ہے۔خلیجی ریاستوں کا کردار اس مرحلے پر غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین توانائی کی عالمی منڈی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ بظاہر ان کی ترجیح استحکام ہے، کیونکہ سرمایہ کاری اور معاشی تنوع کا انحصار امن پر ہے۔ مگر یہ خوش فہمی ہوگی کہ اگر تصادم براہِ راست ان کی سلامتی یا توانائی تنصیبات تک پہنچ گیا تو وہ مکمل غیر جانب دار رہ سکیں گی۔ جغرافیہ کبھی مکمل غیر جانبداری کی اجازت نہیں دیتا۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی غیر یقینی صورت حال کا اثر صرف خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی معیشت کو ہلا سکتا ہے۔تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے پہلے ہی عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس مسلسل تیسرے روز مندی کا شکار رہیں، جو سرمایہ کاروں کے خدشات کی عکاسی ہے۔ توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کے لیے ہر ڈالر کا اضافہ صنعتی لاگت اور مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ جنگ کا خدشہ سرمایہ کو محتاط بنا دیتا ہے، اور محتاط سرمایہ ترقی کی رفتار کم کر دیتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی قرض اور افراطِ زر کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اس غیر یقینی صورت حال سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔روس اور چین کا زاویہ بھی اس بحران کو پیچیدہ بناتا ہے۔ روس، جو مغرب کے ساتھ کشیدگی میں مبتلا ہے، امریکی توجہ کی تقسیم کو اپنے لیے فائدہ مند سمجھ سکتا ہے، اور بلند توانائی قیمتیں اسے معاشی سہارا دے سکتی ہیں۔ تاہم وہ مکمل علاقائی انتشار کا خواہاں نہیں ہوگا جو اس کے اپنے مفادات کو نقصان پہنچائے۔ چین کے لیے استحکام ناگزیر ہے، کیونکہ وہ خطے سے بڑی مقدار میں توانائی درآمد کرتا ہے اور اس کی اقتصادی حکمت عملی مسلسل سپلائی چین پر انحصار کرتی ہے۔ بیجنگ کھلے تصادم کے بجائے سفارتی توازن کو ترجیح دے گا، مگر اگر بحران طویل ہوا تو اسے بھی اپنی پوزیشن واضح کرنا پڑ سکتی ہے۔امریکہ کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں اس کی عسکری اور معاشی برداشت کی حد کیا ہے۔ داخلی سیاسی تقسیم اور ماضی کی جنگوں کی تھکن اسے محتاط بناتی ہے۔ اگر وہ پیچھے ہٹتا ہے تو اتحادیوں کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے، اور اگر وہ پوری قوت سے آگے بڑھتا ہے تو ایک غیر یقینی اور مہنگے تصادم میں الجھنے کا خطرہ ہے۔ یہی توازن اس پورے بحران کو نازک بنا رہا ہے۔مشرقِ وسطیٰ اس وقت طاقت کے بے قابو اظہار اور سفارتی تدبر کے درمیان معلق ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ معمولی غلط اندازہ بھی وسیع تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔ تیل کی منڈیاں بے چین ہیں، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس دباؤ میں ہیں اور عالمی معیشت غیر یقینی کے سائے میں کھڑی ہے۔ اصل آزمائش عسکری قوت کی نہیں بلکہ سیاسی بصیرت اور ضبطِ نفس کی ہے۔ اگر تحمل غالب رہا تو بحران محدود رہ سکتا ہے، مگر اگر جذبات اور داخلی دباؤ فیصلوں پر حاوی ہو گئے تو اس کے اثرات سرحدوں سے کہیں دور تک محسوس کیے جائیں گے۔ تاریخ طاقت کے شور کو نہیں، اس کے نتائج کو یاد رکھتی ہے اور نتائج ہمیشہ نعرے لگانے والوں کے حق میں نہیں ہوتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے