امریکی نائب مشیر برائے قومی سلامتی نے کہا ہے کہ پاکستان ایسے میزائل بنا رہا ہے جو جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف بشمول امریکہ کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ایک تقریب سے خطاب میں جان فائز کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے پاکستانی اقدامات اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے مقاصد بارے سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں امریکی نائب مشیر برائے قومی سلامتی کا مزید کہنا ہے کہ اگر کھل کر بات کی جائے تو پاکستان کے اقدامات کو امریکہ کے لئے ایک ابھرتے ہوئے خطرے کے سوا کچھ اور سمجھنا مشکل ہے واضح رہے کہ امریکہ نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام سے متعلق چار کمپنیوں اداروں پر پابندیاں عائد کردی ہیں جن میں نیشنل ڈیویلپمنٹ کمپلیکس( این ڈی سی) اختر اینڈ سنز پرائیویٹ لمیٹڈ’ راک سائیڈ انٹر پرائز اور ایفیلیٹس انٹر نیشنل شامل ہیں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں یا ان کی ترسیل کے ذرائع پر کارروائی کی جائے گی پابندی کے بعد اگر اداروں کی امریکہ میں کوئی جائیداد ہوئی تو وہ منجمد ہو جائے گی اور کوئی امریکی ان اداروں سے تجارت نہیں کرسکے گا پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات سات دہائیوں پر مشتمل ہیں 1947 میں تقسیمِ ہند کے بعد معرض وجود میں آنے والے ملک پاکستان کو بھارت کی جانب سے اپنی سلامتی و آزادی کے جن خطرات کا سامنا تھا ان کے باعث نئی مملکت نے امریکہ کے ساتھ دفاعی اور معاشی معاہدوں کو اپنے تحفظ کا ذریعہ جانا اس تلخ حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ امریکہ کے دوستی کا دم بھرنے کے صلے میں پاکستان کو مخالف بلاک کی جن دھمکیوں اور مضمتوں کا سامنا کرنا پڑا وہ جیسا بھی سہی مشرقی پاکستان میں بھارت نے جو کچھ کیا اس کے ضمن میں اتحادی شراکت داروں کے رویے کی یادیں بھی خوشگوار نہیں کہی جا سکتیں واشنگٹن اسلام آباد دوستی اتار چڑھا کے باوجود ویسی ہی رفاقت ہے جیسی دوستوں کے درمیان اچھے اور برے موڈ کے باوجود قائم و برقرار رہتی ہے تاریخ بار بار یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ ایک خود غرض اور مطلب پرست ریاست ہے امریکی حکومت ایک جانب تو پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے اور دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کرتی ہے تو دوسری جانب اسلام آباد کو کمزور کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتی پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہمیشہ سے امریکی پابندیوں کا نشانہ رہا ہے بھارت نے 1974 میں ایٹمی دھماکہ کرلیا تھا مگر اس کے باوجود امریکی انتظامیہ اس پر مہربان رہی جبکہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہمیشہ اس کی آنکھ میں خار کی طرح چبھتا رہا ہے جس کا بڑا واضح ثبوت پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام سے متعلق کمپنیوں پر پابندیاں ہیں قبل ازیں اکتوبر میں امریکی محکمہ تجارت پاکستان کے میزائل پروگرام میں معاونت کی بنا پر 16 کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کر چکا ستمبر میں بھی امریکی حکومت نے کئی پاکستانی کمپنیوں پر میزائل پروگرام کو مواد فراہم کرنے کی وجہ پابندیاں لگائی تھیں ان میں چین کی تین اور بیلا روس کی ایک کمپنی شامل ہے امریکی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ کمپنیاں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ان کی ترسیل میں ملوث ہیں امریکہ تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خلاف کارروائی کرتا رہے گا امریکہ کی جانب سے بلیسٹک میزائل پروگرام میں مبینہ تعاون کے عمل پر چار کمپنیوں پر پابندی اور امریکی قومی سلامتی کے نائب وزیر جو ناتھن کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ یہ طے شدہ عمل اور منصوبہ بندی کا حصہ ہے اور اس کا مقصد بظاہر پاکستان کو دبا میں لانا اور دباﺅ بڑھانے کے سوا کچھ نہیں اور یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں کیا ہورہا ہے جب بائیڈن انتظامیہ جا رہی ہے بلا شبہ ہمارا ایٹمی اور میزائل پروگرام پاکستانی قوم کے عزم بے مثال کی داستان ہے امریکی پابندیاں اس کا راستہ نہیں روک سکتیں پاکستانی میزائل پروگرام پر بے جا امریکی تشویش اور پابندیاں دونوں ملکوں کے تعلقات اور باہمی اعتماد پر گہرے اثرات مرتب کریں گی جوہری عدم پھیلا پر سخت کنٹرول کا دعوی کرنے والوں کی جانب سے ایک طرف تو کچھ ممالک کے لئے جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کے لئے لائسنسنگ تک کی شرائط کو ختم کردیا جاتا ہے اور دوسری جانب پاکستان کے سائنسی مقاصد کے لئے آلات کی خریداری پر اس قسم کی پابندیاں ان کی معاندانہ اور متعصبانہ روئیے کی واضح مثال ہے اس کی وجہ سے ہتھیاروں کی تعداد علاقائی عدم مساوات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ عدم پھیلا اور علاقائی وعالمی امن وسلامتی کے مقاصد کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے اقوام عالم کو اس سلسلے میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے امریکی پابندیوں کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کے لئے سائنسی شعبوں میں آگے بڑھنے اور دفاعی لحاظ سے خود کو مضبوط بنانے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے مترادف ہے پاکستان کے دفاعی نظام کو پابندیوں کا نشانہ بنانے یا اس حوالے سے شبہات پیدا کرنا اسلام آباد کے ساتھ امتیازی رویہ کا عکاس ہے امریکہ پاکستان کے ساتھ اگر ایک مضبوط شراکت داری استوار کرنا چاہتا ہے تو پھر اسے اپنے روئیے پر نظر ثانی کرنا ہوگی بغل میں چھری منہ میں رام رام کی پالیسی پاکستان کے عوام کے لئے ناقابل قبول ہے واشنگٹن کو سات عشروں سے جاری پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے یہ بات ملحوظ رکھنے کی ہے کہ ان تعلقات کی مختلف جہتوں میں فوجی تعاون معاشی مفادات بین الاقوامی فورموں میں کردار سماجی بہبود اور علاقائی امن و استحکام کے تقاضوں سمیت بہت کچھ آتا ہے جو ایسی ضرورت بن چکا ہے جس پر سرد جنگ کا حصہ نہ بننے کی پاکستانی پالیسی کے باوجود آگے بڑھنا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے بہتر یہی ہوگا کہ امریکی انتظامیہ محض شبہات کی بنیاد پر پاکستان کو پابندیوں کا ہدف بنانے سے اعتراز کرے۔

