کالم

انسانی سمگلنگ روکنے کا حکومتی عزم

شہبازشریف حکومت کا انسانی سمگلروں کو نشان عبرت بنانے کا فیصلہ بجا طور پر قابل تحسین ہے ، حالیہ دنوں میں انسانی سمگلنگ کے بھیانک کھیل کے نتیجے میں جس طرح سے درجنوں پاکستانی نوجوان اپنی جان اور مال سے ہاتھ دھو بیٹھے وہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ قابل مذمت بھی ، اس حقیقت سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں کہ غیر قانونی طور پر پاکستانی نوجوانوں کو مغربی ممالک بھیجنے کا سلسلہ ہرگز نیا نہیں بلکہ یوں کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ مکروہ دھندہ سالوں سے نہیں دہائیوں سے جاری وساری ہے یعنی کہ ماضی کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مجرمانہ غفلت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج بھی یہ گھناونا کاروبار مسلسل جاری وساری ہے،درپیش صورت حال کو کنڑول کرنے کیلئے وزیر اعظم پاکستان ذاتی دلچیسپی لے رہے ہیں ، مثلا وفاقی حکومت نے فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی کو ہدایت کی ہے کہ وہ پوری قوت سے انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کےخلاف کریک ڈاون جاری رکھے ، حوصلہ افزا یہ ہے کہ ایف آئی اے نے ایک ماہ کے اندر 185 انسانی سمگلرز اور ایجنسٹس کو گرفتار کرکے ان کےخلاف قانونی کاروائی کا آغاز کردیا ، مذید پیش رفت یہ سامنے آئی کہ ریڈ بک می شامل 38انتہائی مطلوب انسانی سمگلرز بھی دھر لیے گے ، ادھر آئی ایف اے نے حال ہی میں رونما ہونے والے یونان کشتی حادثہ میں ملوث ایجنسٹس بھی گرفتار کرلیے ، ایف آئی اے نے اپنے ادارے میں چھپی کالی بھیڑوں کے خلاف اقدمات اٹھاتے ہوئے 20اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان سے تفتیش شروع کردی ہے مزید یہ کہ سال 2023 کے یونان کشتی حادثہ میں ملوث 15 اشتہاریوں اور 15ماسٹر مائنڈز کو بھی حوالات پہنچ چکے ، ادارے نے وزیر اعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر انسانی سمگلنگ میں ملوث ملزمان کی45کروڈ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کرلی ہیں، وفاقی حکومت نے اس مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کے 7 کروڈ کے بنک اکاونٹس کو منجمند کردیا ، وزیر اعظم پاکستان کی خاص ہدایت پر انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف نہ صرف پاکستان کے ا ندر قانونی کاروائی جاری ہے بلکہ بیرون ملک میں چھپے ملزمان کو گرفتار کرکے پاکستان لانے کے لیے 20ریڈ نوٹسز جاری کیے جاچکے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں کہ بعض سرکاری اہلکار بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر انسانی سمگلنگ کے اس دھندے میں ملوث نہ ہوں چنانچہ حکومت نے مکمل تحقیقات کے بعد ایف آئی اے کے 38اہلکاروں کو ملازمت سے فارغ کردیا ، اس ضمن میں ناقص تفتیش اور موثر پیروی نہ کرنے والے 12 ڈپٹی ڈائر یکٹرز کو چارج شیٹ کرکے رپورٹس وزارت داخلہ کو بھجوائی جاچکی ہیں ، ایف آئی اے کی زونل سطح پر بھی کاروائی جاری ہے ، اس سلسلے میں 4 زونل ڈائریکڑز سے وضاحت طلب کی گی ہے ، سال 2024میں ہونے والے لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث30اہلکاروں کےخلاف محکمانہ کاروائی بھی جاری وساری ہے ، وزیر اعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت کی روشنی میں ڈی جی ایف آئی اے احمد اسحاق جہانگیر کی جانب سے انسانی سمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں اور ان کے کارندوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں، ڈی جی ایف آئی اے نے ملک کے تمام ائیرپورٹس پر تعینات افسران اور اہلکاروں کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ ایجنٹوں کی کڑی نگرانی کی جائے ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے کا عملہ اس بات کو یقینی بنائے کہ پاکستان میں موجود ایجنٹ کسی طور ملک سے بھاگنے نہ پائیں ، وطن عزیز میں انسانی سمگلنگ کا دھندہ کئی دہائیوں سے جاری وساری ہے ، ماضی میں ایسے بے شمار واقعات رپورٹ ہوچکے کہ کیسے معصوم پاکستانی نوجوانوں کو مغربی ممالک کی پرتعیش زندگی کے خواب دیکھا کر نہ صرف ان کے اور ان کے خاندان کو جمع پونجی سے محروم کیا گیا بلکہ اب تک سینکڑوں ہمارے نوجوان زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ، بلاشبہ ایسے دالخراش واقعات کی تحقیق کی جائے تو مرنے والوں کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچی گی ، اب متاثرہ خاندانوں کا حکومت سے یہ مطالبہ کسی طور پر غیر مناسب نہیں کہ پاکستان کے مستقبل کے معماروں کو سمندر برد کرنے والے عناصر کےخلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے ، ایسا نہیں ہونا چاہے کہ ماضی کی طرح کسی بڑے سانحہ کے بعد ایف آئی اے اور ہمارے دیگر قانون نافذکرنے والے ادارے متحرک ہوں مگر جب واقعہ پرانا ہوجائے تو ایک بار پھر فرائض سے غفلت و لاپرواہی کو وطیرہ بنا لیا جائے، انسانی سمگلنگ کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ یہ دھندہ عالمی ہنسائی کا باعث بن رہا ہے ، غیر قانونی طور مغربی ممالک میں جانے والے پاکستانیوں کو جب بھی کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو عالمی میڈیا نے اس کی بھرپور کوریج کی ، یہ بات ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مغربی معاشروں میں انسانی جان کی قدر وقیمت مسلمہ ہے ، ایسا ممکن نہیں کہ ان کی سرزمین پر درجنوں افراد ایک ہی حادثہ میں جان گنوا دیں اور میڈیا خاموش تماشائی بنا رہے ، اس ضمن میں ایک تجویز یہ ہے کہ ایک طرف انسانی سمگلروں کو موت کی سزا دےکر نشان عبرت بنایا جائے جبکہ دوسری جانب عام شہریوں میں اس مکروہ کھیل کا حصہ نہ بنے کا شعور بیدار کیا جائے تاکہ عام آدمی خود اس دھندے کے خلاف اٹھ کھڑا ہو ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے