کالم

ایران، مریکہ کشیدگی ٹرمپ کے بیانات کے تناظر میں

اسرائیلی وزیرِاعظم اور اُن کی چالاک ٹیم نے کمال مہارت سے ایسا جال بُنا کہ امریکی صدر ٹرمپ امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ میں بری طرح پھنس چکے ہیں اور اب وہ بانت بانت کی بولیاں بول رہے ہیں،عالمی سیاست میں بعض اوقات ایسے لمحات آتے ہیں جب طاقتور ممالک کے رہنماؤں کے بیانات محض الفاظ نہیں رہتے بلکہ وہ پورے نظامِ فکر، پالیسی اور تاریخ کی عکاسی بن جاتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کی جانب سے ایران کے حوالے سے دیے جانیوالے بیانات بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ یہ بیانات نہ صرف ایران–امریکہ تعلقات کی نوعیت کو واضح کرتے ہیں بلکہ مغربی دنیا کے سیاسی، اخلاقی اور فکری ڈھانچے کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔اگر ہم ان بیانات کا بغور جائزہ لیں تو سب سے پہلی بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی یا وقتی نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی سلسلے کا حصہ ہے۔ خود امریکی قیادت اس بات کا اعتراف کرتی نظر آتی ہے کہ یہ دشمنی گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں پر محیط ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہ تنازع صرف ایٹمی پروگرام یا کسی ایک پالیسی اختلاف تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں بہت گہری ہیں، جن کا آغاز ایرانی انقلاب 1979 سے ہوتا ہے ۔ 1979 کا ایرانی انقلاب دراصل ایک ایسا موڑ تھا جس نے نہ صرف ایران کے اندرونی نظام کو بدل دیا بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات کو بھی چیلنج کیا۔ یہ انقلاب ایک ایسے وقت میں آیا جب ایران مغربی بلاک کا ایک اہم اتحادی سمجھا جاتا تھا، مگر جیسے ہی اس انقلاب نے امریکہ کے زیرِ اثر نظام کو مسترد کیا، اسی لمحے سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے جنم لیا۔ اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ درست معلوم ہوتا ہے کہ ایران کا مسئلہ اس کے ایٹمی پروگرام سے زیادہ اس کی خودمختار پالیسی اور مغربی اثر و رسوخ سے انکار ہے۔یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے، اور وہ ہے فرقہ وارانہ بیانیہ۔ گزشتہ دہائیوں میں ایک منظم انداز سے یہ تاثر دیا گیا کہ ایران کا انقلاب دراصل ایک فرقہ وارانہ انقلاب ہے جو اہلِ سنت کے خلاف ہے۔ حالانکہ تاریخی اور سیاسی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ایران کی مخالفت دراصل مغربی استعماری نظام سے ہے، نہ کہ کسی مخصوص مذہبی گروہ سے۔ لیکن اس بیانیے کو اس طرح پھیلایا گیا کہ مسلم دنیا، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں، شیعہ–سنی تقسیم کو ہوا ملی۔ اس پروپیگنڈے نے نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو متاثر کیا بلکہ قومی وحدت کو بھی نقصان پہنچایا۔ امریکی قیادت کے حالیہ بیانات اس بات کو مزید واضح کرتے ہیں کہ طاقت کی سیاست میں اخلاقیات کی کوئی خاص حیثیت نہیں ہوتی۔ جب ایک عالمی طاقت کا صدر یہ کہتا ہے کہ وہ کسی ملک کو “پتھر کے دور میں واپس بھیج دے گا” یا “ایک رات میں تہذیب ختم کر دے گا”، تو یہ محض جذباتی بیان نہیں بلکہ ایک ذہنیت کی عکاسی ہے۔ یہ ذہنیت اس یقین پر مبنی ہے کہ طاقت ہی حق ہے اور جو طاقتور ہے وہی فیصلے کرنے کا حق رکھتا ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کے اندازِ گفتگو کو غیر مہذب یا غیر روایتی قرار دیتے ہیں، لیکن اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ انداز نیا نہیں۔ ماضی میں بھی متعدد امریکی صدور نے سخت، دھمکی آمیز یا طاقت پر مبنی زبان استعمال کی ہے۔ مثال کے طور پر ہیری ایس ٹرومین کے دور میں جاپان پر ایٹم بم کا استعمال ایک واضح پیغام تھا کہ امریکہ اپنی برتری قائم رکھنے کیلئے انتہائی اقدامات کر سکتا ہے۔ اسی طرح لنڈن بی جانسن کے دور میں ویتنام جنگ میں وسیع پیمانے پر طاقت کا استعمال کیا گیا، جس نے لاکھوں جانیں لے لیں۔اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے رونالڈ ریگن نے سوویت یونین کو “بدی کی سلطنت” قرار دیا، جو ایک سخت نظریاتی اور محاذ آرائی پر مبنی بیان تھا۔ بعد ازاں جارج ڈبلیو بش نے “شر کا محور” کی اصطلاح متعارف کروائی، جس میں ایران کو بھی شامل کیا گیا۔ یہ بیانیہ نہ صرف سفارتی کشیدگی کو بڑھاتا ہے بلکہ عالمی سطح پر تصادم کی فضا بھی پیدا کرتا ہے۔یہ تمام مثالیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا اندازِ گفتگو دراصل ایک طویل تاریخی روایت کا تسلسل ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج کے دور میں میڈیا کی وسعت نے ان بیانات کو زیادہ نمایاں اور براہِ راست بنا دیا ہے۔یہ تمام صورتحال ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہے: کیا واقعی مغربی دنیا کا نظام انسانی اقدار پر مبنی ہے، یا یہ محض طاقت اور مفادات کا کھیل ہے؟ اگر ہم نوآبادیاتی تاریخ، جنگوں اور عالمی مداخلتوں کا جائزہ لیں تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ اس نظام کی بنیادیں انصاف سے زیادہ طاقت پر قائم ہیں۔ افریقہ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی مداخلتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مغربی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ایران کے معاملے میں بھی یہی اصول کارفرما نظر آتا ہے۔ جب ایران مغربی پالیسیوں کے مطابق چل رہا تھا تو وہ ایک قابلِ قبول ریاست تھا، لیکن جیسے ہی اس نے اپنی آزادانہ پالیسی اپنائی، وہ “مسئلہ” بن گیا۔ اس تناظر میں امریکی بیانات کو دیکھا جائے تو وہ محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایک مسلسل پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور اسے عالمی سطح پر تنہا کرنا ہے۔تاہم اس ساری صورتحال کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ یہ کہ ایران نے ان تمام دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں میں ایک حد تک تسلسل برقرار رکھا ہے۔ معاشی پابندیاں، سفارتی تنہائی اور فوجی دباؤ کے باوجود ایران کا نظام مکمل طور پر نہیں ٹوٹا۔ اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایران نے کسی حد تک اس عالمی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کر لی ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں بعض مبصرین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایرانی انقلاب نے امریکہ کو “شکست” دی ہے۔ اگر اس دعوے کو مکمل طور پر درست نہ بھی مانا جائے، تب بھی یہ حقیقت ہے کہ ایران ایک طویل عرصے سے عالمی دباؤ کے باوجود اپنی شناخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، اور یہی بات امریکہ کیلئے ایک مستقل چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ایران اورامریکہ کشیدگی کو صرف حالیہ بیانات یا وقتی پالیسیوں کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ ایک پیچیدہ تاریخی، سیاسی اور نظریاتی تنازع ہے جس کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے محض اس تنازع کو ایک نئی شدت اور وضاحت دیدی ہے لیکن اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ مسلم دنیا کیلئے اس تمام صورتحال میں سب سے اہم سبق یہ ہے کہ وہ بیرونی بیانیوں کے بجائے اپنے حالات کا خود تجزیہ کرے۔فرقہ وارانہ تقسیم، بیرونی پروپیگنڈا اور داخلی کمزوریوں کو دور کیے بغیر کسی بھی عالمی چیلنج کا مقابلہ ممکن نہیں۔ ایران کا معاملہ ہو یا کسی اور ملک کا۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حقائق کو جذبات سے ہٹ کر سمجھا جائے اور ایک متوازن، حقیقت پسندانہ نقطہ نظر اپنایا جائے ۔ یہی طرزِ فکر نہ صرف عالمی سیاست کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ مسلم دنیا کے اندر اتحاد اور استحکام کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے