کالم

ایران امریکہ رسہ کشی

ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستانی ثالثی میں مزاکرات جاری ہیں امریکی صدر ٹرمپ ایرانی قیارت کو ڈرا دھمکا کر اپنی مرضی کا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ معاہدہ ہو جائے گا۔ روزانہ وہ ایران کے خلاف مختلف بیانات دے رہے ہیں ۔ اس طرح انہوں نے ایران کے خلاف پراپیگنڈہ اور سوشل میڈیا وار شروع کر رکھی ہے جس سے وہ اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ امریکہ ایران بات چیت میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں ۔ پچھلے دنوں وہ کئی بار پاکستان ائے اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں۔ اپنی شٹل ڈپلومیسی جاری رکھتے ہوے انہوں نے پاکستان کے کئی دورے کئے عمان کی قیادت سے بھی ملاقات کی ۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹین سے بھی ملے جنہوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ روس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی۔ ایرانی وزیر خارجہ چینی قیادت سے ملاقات کیلئے چین گئے ۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں ایک اعلی سطحی وفد نے پاکستان کی ثالثی میں اسلام اباد میں طویل مزاکرات کئے لیکن دونوں جانب سے یورینیم کی فزودگی اور کئی دیگر معاملات میں لچک نہ دکھانے کی وجہ سے مزاکرات ناکام ہو گئے ۔ لیکن وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کامیاب سفارت کاری کے زرلعے مزاکرات کے دوسرے دور کے لئے صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت کو قریب لانے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ادھر اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن نے بتایا کہ ابنائے ہرمز میں ایرانی ناکہ بندی کے سبب تقریبا 1500 جہاز اور عملے کے 20 ہزار افراد پھنس کر رہ گئے ہیں۔ امریکی انتظامیہ میں بیانیہ کا فقدان ہے۔ مارکو روبیو نے پہلے جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا بعد میں تردید کر دی ۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ہم نے پاکستانی قیادت کے کہنے پر اپریشن ایپک فیوری اور اپریشن فریڈم ختم کیا۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ کے بار بار بیانات بدلنے کی وجہ سے مسلہ پیدا ہوا ہے ۔ پاکستان کی ثالثی میں امریکی تجاویز ایران کو پہنچا دی گئی ہیں ۔ صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ روببیو کو ایرانی جواب کا بڑی بے تابی سے انتظار ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے باوجود ایک دوسرے کے جہازوں کی پکڑ دھکڑ اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے دوسری طرف امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کا دعوی بھی کیا جا رہا ہے۔ امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ 14 نکاتی ڈرافٹ پر کام جاری ہے جن میں یورینیم کی افزائش کی حوالگی آبنائے ہرمز کو کھولنے کی تفصیلات کے بارے میں ایک پیج کے ڈرافٹ پر کام ہو رہا ہے اخبار نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ اگلے ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام اباد میں مزاکرات ہو سکتے ہیں۔ ادھر صدر ٹرمپ نے دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران پر خوفناک اپریشن پلس کیا جائے گا جس میں اور بھی بہت سی چیزیں شامل ہوں گی ۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس سفارت کاری کی وجہ سے پاکستان کی اہمیت بین الاقوامی طور پر بہت بڑھ گئی ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ اپنی تقریروں میں با بار ہاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریفیں کرتے ہیں۔ دونوں فریقوں کی جانب سے سخت بیانات کے باوجود پاکستانی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے بحال ہیں ۔ مغربی میڈیا خبر دے رہا ہے کہ یورینیم کی فزودگی ایران پر معاشی پا بندیوں کا خاتمہ ابنائے ہرمز سمیت دیگر معاملات پر بات ہو رہی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ پاکستانی ثالثی میں امریکہ ایران کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے تحت کسی درمیانی راستے کو اپناتے ہوے کوئی معاہدہ کرلیں گے ۔دنیا کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے اسی میں دونوں فریقوں کا فائدہ ہے اگر امریکہ اور ایران کے درمیان یہ رسہ کشی جاری رہتی ہے تو سیاسی تجزیہ کار اور مبصرین دنیابھر کی معیشتوں کی تباہی اور تیسی عالمی جنگ کی نوید سنا رہے ہیں۔ ابھی تک یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ کب ہوگا ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے