مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو اب چھ دن گزر چکے ہیں اور اس دوران خطے میں کشیدگی جنگ وجدل سے مسلسل بڑھتی ہی جا رہی ہے ایران کے مختلف شہروں میں فضائی حملوں، میزائلوں اور جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑے انسانیت سوز جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اگرچہ مکمل اعداد و شمار ابھی واضح نہیں چونکہ مسلسل بمباری ہو رہی ہے ۔لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس جنگ نے خطے میں عدم استحکام کو مزید گہرا کر دیا ہے۔اور حالات قابو سے باہر نظر آرہے ہیں ایران کی جوابی کارروائیوں نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور خلیجی ممالک، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔رمضان المبارک کے مہینے میں آزمائش اور صبر کے سارے پیمانے لبریز ہوچکے ہیں ۔اس جنگ کا ایک پہلو سیاسی اور عسکری ہے لیکن ایک اور پہلو بھی اب عالمی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ امریکی فوج کے بعض حلقوں میں ایران کے خلاف جنگ کو مذہبی بیانیے کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ برطانوی اخبارکی اس رپورٹ کے مطابق بعض فوجی کمانڈرز نے اپنے ماتحت اہلکاروں کو بتایا کہ یہ جنگ خدا کے منصوبے کا حصہ ہے اور اسے بائبل کی پیشگوئیوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ عالمی سیاست میں مذہب کو جنگی فیصلوں کے ساتھ جوڑنا ہمیشہ خطرناک نتائج کا باعث بنا ہے۔ امریکہ کا آئین واضح طور پر ریاست اور مذہب کی علیحدگی پر زور دیتا ہے لیکن اگر جنگی حکمت عملی میں مذہبی نظریات کو شامل کیا جانے لگے تو اس کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی مداخلت کا شکار رہا ہے۔ عراق، افغانستان، شام اور لیبیا کی جنگیں اس کی واضح مثالیں ہیں ان جنگوں نے نہ صرف لاکھوں جانیں لیں بلکہ پورے خطے کی معیشت اور سماجی ڈھانچے کو بھی تباہ کر دیا۔ آج بھی ان ممالک میں عدم استحکام اور بدامنی کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ایران کے خلاف جاری حملوں نے خلیجی ممالک کو بھی ایک نازک صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ خلیج فارس دنیا کے توانائی کے ذخائر کا ایک بڑا مرکز ہے اور یہاں کسی بھی بڑے تصادم کا اثر براہ راست عالمی معیشت پر پڑتا ہے۔ اگر یہ جنگ پھیلتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹ اور اقتصادی بحران جیسے بڑے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔یورپ، ایشیا اور ترقی پذیر ممالک اسکے سب سے زیادہ متاثرین ہوں گے۔اسکے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے سیاسی اور سماجی اور معاشی اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ اگر ایران کے ساتھ طویل جنگ چھڑ جاتی ہے تو یہ نہ صرف پورے مشرقِ وسطی کو مزید غیر مستحکم کرے گی بلکہ دہشت گردی، مہاجرین کے بحران اور علاقائی تنازعات کو بھی بڑھا سکتی ہے۔
دنیا کو اس وقت ایک اور بڑی جنگ کی نہیں بلکہ سفارت کاری اور مذاکرات کی ضرورت ہے۔ عالمی طاقتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے استعمال سے مسائل کا حل ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ اگر ہر ملک طاقت کے بل بوتے پر اپنی پالیسی مسلط کرنے لگے تو عالمی نظام میں قانون اور اصول کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے اندر بھی اس جنگ پر شدید تنقید سامنے آ رہی ہے۔ امریکی کانگریس کے بعض ارکان نے اس جنگ کو آئینی اور اخلاقی طور پر غلط قرار دیا ہے۔ خاص طور پر ریپبلکن کانگریس مین تھامس میسی نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔انہوں نے کہا:کیا ہم نے مشرقِ وسطی میں ان جنگوں سے کچھ نہیں سیکھا جنہیں ہم نے بھڑکایا اور جن کے نتیجے میں عراق، لیبیا، شام اور افغانستان میں 8 ٹریلین ڈالر کا قرض چڑھ گیا؟انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ خارجہ نے خود یہ بات کہی کہ اسرائیل نے امریکہ کو اس جنگ میں دھکیل دیا۔ ان کے بقول سوال یہ ہے کہ آخر یہ جنگ کس مقصد کے لیے لڑی جا رہی ہے۔تھامس میسی نے امریکی آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین بالکل واضح ہے۔ آرٹیکل ون، سیکشن 8، کلاز 11 کے مطابق جنگ شروع کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے۔ اسی طرح 1973 کی وار پاورز ریزولوشن بھی واضح طور پر کہتی ہے کہ صدر صرف تین صورتوں میں امریکی افواج کو جنگ میں شامل کر سکتے ہیں۔
اول، جنگ کا باضابطہ اعلان۔
دوم، کانگریس کی مخصوص قانونی منظوری۔
یا سوم، ایسا قومی ہنگامی حالات جو کسی حملے کی وجہ سے پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ان میں سے کوئی بھی شرط موجود نہیں ہے۔تھامس میسی نے اپنے حلقے کے عوام کی تشویش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی خاندان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس جنگ سے ان کے گھروں کے اخراجات کیسے کم ہوں گے۔ کیا یہ جنگ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرے گی؟ کیا یہ ان کے اسکولوں اور محلوں کو زیادہ محفوظ بنائے گی؟ کیا یہ رہائش کے اخراجات ادا کرنے میں ان کی مدد کرے گی؟ان کے مطابق ایران کے ساتھ ایک طویل جنگ خطے کو مستحکم نہیں کرے گی بلکہ پہلے ہی پورے خطے کو مزید بھڑکا چکی ہے۔ اس سے دہشت گردی کی نئی نسلیں پیدا ہوں گی اور یورپ اور امریکہ کی طرف مہاجرین کی نئی لہریں بھی آئیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ پہلے ہی اربوں ڈالر خرچ کر چکا ہے اور افسوسناک طور پر چھ امریکی خاندانوں کو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو سپردِ خاک کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے جنگ میں شامل امریکی فوجیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی سلامتی کے لیے دعاگو ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں ایک واضح مشن دیا جائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داری مکمل کرکے گھر واپس آ سکیں۔یہ سوال صرف امریکہ کے اندر نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کو نظر انداز کر کے طاقت کے زور پر جنگیں مسلط کی جائیں تو عالمی نظام کس سمت جائے گا۔ اگر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون چلتا رہا تو پھر دنیا میں کسی اصول کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔ایسی صورتحال میں گوریلا جنگیں اور غیر ریاستی مسلح گروہ مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔ اگر عالمی طاقتیں خود طاقت کے بل بوتے پر فیصلے کریں گی تو چھوٹے اور کمزور گروہ بھی اسی راستے کو اختیار کریں گے۔ اس کا نتیجہ مزید بدامنی اور طویل تنازعات کی صورت میں نکل سکتا ہے۔اسی طرح عالمی طاقتوں کے درمیان طاقت کا توازن بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اگر عالمی نظام کمزور پڑتا ہے تو چین کو تائیوان پر قبضہ کرنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ اسی طرح دیگر طاقتور ممالک بھی جب چاہیں گے کمزور ممالک پر حملہ کر کے ان کی زمین اور وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے۔اسی لیے ضروری ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کو فوری طور پر روکا جائے اور سفارتی مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ جنگ ہمیشہ تباہی لاتی ہے جبکہ امن ہی وہ راستہ ہے جو دنیا کو استحکام اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
کالم
ایران جنگ، مذہبی بیانیہ اور عالمی سیاست کا خطرناک موڑ
- by web desk
- مارچ 7, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 19 Views
- 2 دن ago

